... loading ...
اپوزیشن اتحادپی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ کے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزب اختلاف کا کوئی رکن شریک نہیں ہوگا، اپوزیشن کی عدم شرکت کے بعد اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے لکھا ہے کہ عمران خان اکثریت کا اعتماد کھوچکے ہیں، ان کے ہاتھ سے سب کچھ نکل چکا ہے ،اس وقت ملک میں کوئی بھی حکومت نہیں ہے ،اس لئے نئے انتخابات کا اعلان کیا جانا چاہیے ۔سکھر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عمران خان کے خطاب میں ان کی شکست جھلک رہی ہے ، ان کے بقول سینیٹ الیکشن میں بولی لگی، وہ اپنے ارکان کو بکائو مال کہہ رہے ہیں، کل وہ اسی بکائو مال سے اعماد کا ووٹ لیں گے ۔ جب عدم اعتماد ہوا تھا تو جن لوگوں نے اپنی وفاداریاں بیچی تھی تو اس وقت عمران خان نے کہا تھا کہ ان کی ضمیر آواز ہے آج اپنی پارٹی کے لوگوں ووٹ نہ دینے پر بکنے سے کیوں تعبیر کر رہے ہیں۔جو دعوے آج تک وہ کرتے رہے ہیں آج ان سب دعوئوں کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کس کے خلاف لوگوں کو نکالیں گے ؟ اپوزیشن اتحاد کے خلاف؟، کیوں اور کس بات پر؟، اگر آپ نے ایسا کیا تو لوگ آپ سے پوچھیں گے کہ آپ نے 1 کروڑ نوکریاں دینے کی بات کی اور 30 لاکھ کو نکال دیا۔انہوں نے کہا کہ لوگ آپ سے پوچھیں گے اداروں سے کارکنوں کو نکال کر ان اداروں کو کمزور کیوں کیا، آٹا، چینی، گھی اور پیٹرول مہنگا کیوں کیا، اب لوگو آپ سے پوچھیں گے ، آپ نہیں پوچھ سکتے ۔انہوں نے کہاکہ عمران خان سے اب معیشت کی تباہی اور اداروں کو کمزور کرنے سے متعلق پوچھا جائے گا، لوگ ان سے غریب آدمی کی زندگی اجیرن کرنے کا پوچھیں گے ۔انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے نام پر لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے ، گھروں سے محروم کردیا ہے اور کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے ۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو مورد الزام ٹھہرایا، الیکشن کمیشن نے وضاحت کے ساتھ عمران خان کی تقریری کو غیر منطقی کہا اور ہم سمجھتے ہیں الیکشن کمیشن کو مود الزام ٹھہرانا اور سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے بات کرنا اصل موضوع نہیں ہے ۔الیکشن کمیشن کو اگر انہوں نے مورد الزام ٹھہرایا ہے تو فارن فنڈنگ کیس پر دبائو ڈالنے کے لیے کیا ہے ، ہم ان کے تمام چالوں کو جانتے ہیں، ہم آپ کو جان چکے ہیں لہٰذا قوم کو مزید بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔صدر پی ڈی ایم نے کہا کہ(آج)ہفتہ کوقومی اسمبلی میں اپوزیشن کا کوئی رکن نہیں جائے گا اور اس بات کی ایک رکن کو کہہ کر دیکھیں کہ وہ وہاں کیا ڈراما بازی کر رہے ہیں تاکہ صورت حال واضح ہو۔انہوں نے کہا کہ یہ حواس باختگی ہے ، اب ان کے ہاتھ سے سب کچھ نکل چکا ہے اور پاکستان میں اس وقت کوئی حکومت نہیں ہے اس لیے فوری طور پر نئے انتخابات کا اعلان کر کے عوام کی حقیقی نمائندہ حکومت کو آنا چاہیے ۔یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہاکہ کہ 8 مارچ کو اجلاس طلب کر لیا گیا وہاں فیصلے ہوں گے ۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ قومی اسمبلی میں حکومتی اجلاس سے ان کا بیانیہ اور اس کی اہمیت ختم ہوجائے گی، یک طرفہ کارروائی ہو رہی ہیں اور آج تک جعلی اکثریت سے حکومت کرتے رہے ہیں، اب اس کے جعلی ہونا واضح ہو کر بے نقاب ہو گا۔انہوں نے کہاکہ جب سے ہم نے احتجاج شروع کیا، ہواوں کا رخ بدلنا شروع ہوگیا۔
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...
اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...
سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...
14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...
عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...
آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...
گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...
کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...