وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ذِکر جب چھڑ گیا کراچی کی روحانی بالیدگی کا

پیر 01 مارچ 2021 ذِکر جب چھڑ گیا کراچی کی روحانی بالیدگی کا

ہماری دانست میں یہ جملہ جس اہلِ نظر نے بھی کہا ہے ، بالکل درست ہی فرمایاہے کہ ’’ہر شہر کاصرف ایک جسم ہی نہیں بلکہ اُس کی ایک روح بھی ہوتی ہے‘‘۔یعنی شہر صرف ظاہری لحاظ سے ہی نہیں بلکہ باطنی طورپر بھی خوب صورت اور بدصورت ہوسکتے ہیں۔لہٰذا پری تمثال کہلانے کا حق فقط اُسی شہر کو ہوتا ہے ،جس شہر کا جسم اور روح بیک وقت ظاہری اور روحانی بالیدگی سے پوری طرح سے مزین ہوں ۔ اہلِ نظر کے اس معنوی کلیہ کے مطابق کراچی شہر بھی جسم اور روح کا ایک مجموعہ ہوا۔یوں سمجھ لیجئے کہ جب ہم کراچی کو’’ روشنیوںکا شہر ‘‘قرار دیتے ہیں تو اس سے مراد،اس شہر کی ظاہری خوب صورت ہوتی ہے اور جب کراچی کو ’’پاکستان کا دماغ ‘‘ کہتے ہیں تو اس کا مطلب شہر کراچی کی باطنی و روحانی دلکشی مراد لیتے ہیں۔بدقسمتی سے گزشتہ چالیس برسوں میں تعصب ، انارکی ، بدامنی،فرقہ واریت اور قتل و غارت گری نے شہر کراچی کے فقط جسمانی وجود کو ہی زخم ،زخم نہیں کیا، بلکہ اس شہر بے مثال کی روحانی معصومیت و بالیدگی کو بھی مکمل طور پر آلودہ کردیا تھا ۔ یاد رہے کہ کراچی شہر کی ٹوٹی سڑکیں اور لڑکھڑاتے پل،اُبلتے گٹر اور باس مارتی گلیاں،بے ہنگم ٹریفک کا اژدھام اور جگہ جگہ کھڑے ہوئے کچرے کے فلک بوس پہاڑ،اس شہر ِ لاوارث کی ظاہری ابتری کے خوف ناک مناظر ہی تو ہیں ۔نیز بے روزگاری ،بھتہ خوری، چائنہ کٹنگ اور سرکاری دفاتر میں اقربا پروری جیسے متعصبانہ انتظامی عوامل شہر کراچی کے ’’مادی جسم‘‘ پرحالیہ حکمرانوں کی جانب سے لگائے جانے والے وہ بدنما اور بدصورت داغ ہیں ، جن کے علاج اور مسیحائی کے لیئے اہلیان کراچی، کئی برسوں سے ریاستِ پاکستان کی طرف اُمید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں ۔اَب یہ تو خداہی جانے کہ وفاق پاکستان ،سندھ حکومت کے ساتھ مل کر، شہر کراچی کو لاحق اِن تمام سیاسی و انتظامی عوارض کا مداوا کربھی سکتاہے یا نہیں ۔

بہرکیف اگر خوش نیتی سے وفاقی حکومت اِن مسائل میں سے آدھے سیاسی و انتظامی مسئلے بھی حل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یقینا، بیمار و لاچار کراچی کے پژمردہ چہرہ کی کچھ رونق تو ضرور بحال ہوہی جائے گی ۔لیکن واضح رہے کہ یہ بندوبست کراچی کی جسمانی صحت کی بحالی کا مژدہ جاں فزا ،تو ضرور ثابت ہوگا ۔مگر کراچی کی روحانی صحت کی بحالی اور بالیدگی کے لیے جن مثبت اقدامات کی ضرورت ہے ،وہ کسی بھی سیاسی ،وفاقی یا صوبائی حکومت کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔کیونکہ کراچی شہر کی زخمی روح کی رفوگری کرنے کے لیے موقع پرست ’’سیاسی بزرچمہروں‘‘ کے بجائے دبستانِ علم و اَدب سے ایسے چنیدہ اور اخلاص میں گندھے ،دردِ دل رکھنے والے، باشعور، ذہین و فطین چارہ گروں کی ضرورت ہے ،جن کے دستِ مسیحائی ، شہر کی پیشانی پر رکھنے سے ہی کراچی کی روح میں اُتر جائے تاثیر مسیحائی کی۔ ہماری مراد شہر کراچی میں علم و ادب کے محافل ،عالمی مشاعروں ،تنقیدوں نشستوں اور ادبی بیٹھکوں کے زیادہ سے زیادہ انعقاد سے ہے۔تاہم شہر میں جب بھی علم وادب کے حوالے سے کسی بھی سنجیدہ کاوش کا تذکرہ ہوگا تو سب سے پہلے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کا نام ہی لیا جائے گا۔ ویسے کہنے کو تو پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں آرٹس کونسل قسم کے ادبی و تہذیبی اداراے باافراط پائے جاتے ہیں لیکن ملک بھر میں علم و ادب اور قومی تہذیب کے فروغ میں جو کردار آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے حصے میں آیا ہے، وہ صرف قابلِ ستائش ہی نہیں بلکہ قابلِ تقلید بھی ۔

یاد رہے جس دوران شہر کراچی لہولہان کیا جارہا تھا تو عین اُسی وقت آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی بھی اُجڑے دیار کا آسیب زدہ منظر پیش کررہا تھااور ایک وقت تو اس ثقافتی ادارہ پر ایسا بھی آیا تھا ،جب آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے دروازوں کو بدتہذیبی اور خوف کے تالوں سے مقفل کردیا گیا تھا۔ مگر پھر محمد احمد شاہ کی صورت میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کو پہلا منتخب صدر میسر آگیا۔یاد رہے کہ محمد احمد شاہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے لیئے ایک ’’خدائی انعام ‘‘ ثابت ہوئے اور اپنی مدت صدارت کے چند برسوں میں ہی آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی پرانی ادبی وثقافتی رونقیں واپس لوٹادیں۔ محمد احمد شاہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی ترقی کے لیئے کیا اہمیت و حیثیت رکھتے ہیں ،اُس کا اندازہ صرف اس ایک بات سے بخوبی لگایا جا سکتاہے کہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے عہدیداران کے انتخاب کے لیے ہر برس باقاعدگی سے جمہوری انداز میں انتخابات منعقد ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی حیران کن طور پر محمد احمد شاہ گزشتہ بارہ برسوں سے مسلسل بطور صدرباآسانی منتخب ہوتے آرہے ہیں ۔یوں سمجھ لیجئے کہ محمد احمد شاہ نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی بحالی و ترقی کے لیے جس قدر کارہائے نمایاں انجام دے دیئے ہیں ،اُن کی موجودگی میں یقین سے کہا جا سکتاہے کہ شاید اگلے چند برسوں تک بھی محمد احمد شاہ کی جگہ کسی اور شخصیت کا بطور صدر منتخب ہوناناممکن ہی رہے گا۔دراصل محمد احمد شاہ نے بطور صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کو علمی ،ادبی اور سماجی تقریبات کاایسا منفرد ثقافتی گہوارہ بنادیا ہے کہ پاکستانی سماج میں پائے جانے والے تمام رنگ آرٹس کونسل کی ایک عمارت کی چھت تلے جب چاہیں ملاحظہ کیئے جاسکتے ہیں ۔
کچھ عرصہ قبل ایسا ہی ایک مظاہرہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی عمارت میں عالمی حمد و نعت کانفرنس اور نعتیہ مشاعرہ کی صورت دیکھنے میں آیا۔ جب ’’ ادارہ چمنستانِ حمدونعت ویلفیئر ٹرسٹ پاکستان ‘‘ کے زیرِ اہتمام پہلی دوروزہ عالمی حمد و نعت کانفرنس انعقاد پذیر ہوئی ۔ عالمی ادبی کانفرنسوں ،عالمی مشاعروں کے جلو میں عالمی حمد و نعت کانفرنس ، ایسا منفرد علمی ،ادبی و تہذیبی ذائقہ ہے ،جس سے محمد احمد شاہ جیسی شخصیت ہی اہلیانِ کراچی کو روشناس کروا سکتی تھی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے جس ادبی و مذہبی انداز میں عالمی حمد و نعت کانفرنس اور نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں کیا گیا وہ ایک ایسا انوکھا اور یادگار تجربہ تھا ،جو شاید ہی کبھی آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے سامعین و ناظرین پر وارد ہوا ہو۔واضح رہے کہ ’’ ادارہ چمنستانِ حمدونعت ویلفیئر ٹرسٹ پاکستان ‘‘ کے روح رواں معروف محقق،نعت خواں اور نعت گو شاعر طاہر سلطانی اور ان کے ہمدم دیرینہ لیاقت علی پراچہ ہیں ۔جس طرح طاہر سلطانی کراچی کے ادبی حلقہ میں مشہور و معروف ہیں بالکل اسی مصداق لیاقت علی پراچہ کا شمار بھی شہر کراچی کی اُن گنی چنی سماجی شخصیات میں ہوتا ہے ،جنہوں نے اپنے ناتواں کاندھوں پر مذہبی یگانگت اور تہذیبی ہم آہنگی کا بھاری پتھر انتہائی استقامت اور بہادری کے ساتھ اُٹھایا ہوا ہے۔جبکہ فروغِ حمدونعت کے حوالے سے بھی لیاقت علی پراچہ کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، سال میں تین یا چار حمدیہ اور نعتیہ مشاعرے ان کی رہائش گاہ پر ضرور ہوتے ہیں۔

بقول معروف شاعر و تنقید نگار جناب اختر سعیدی کے کہ’’ طاہر سلطانی کے نام میں’’شاعرِ حمدونعت‘‘ کا لاحقہ، غیر ضروری نہیںہے۔ بلاشبہ انہوں نے اپنی زندگی، فروغِ حمد و نعت کے لئے وقف کردی ہے‘‘۔واضح رہے کہ طاہر سلطانی 1970 سے اس میدان میں سرگرمِ عمل ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے’’بزمِ عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ ‘‘کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ جب کام کا دائرہ بڑھنے لگا تو انہوں نے ’’ادارہ چمنستانِ حمد و نعت ‘‘کی 1990 میں میں بنیاد ڈال دی۔بلاشبہ شہر کراچی کی روحانی بالیدگی کی نشوونما میں طاہر سلطانی اور لیاقت علی پراچہ جیسی شخصیات کا کردارخاص اہمیت کا حامل ہے اور آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ہونے والی حالیہ عالمی حمد و نعت کانفرنس اس بات کی محکم دلیل بھی ہے۔یاد رہے کہ اس تقریب کی مجلس صدارت محترم ڈاکٹر ریاض مجید، محسن اعظم محسن ملیح آبادی کے ذمہ تھی۔ جبکہ دیگر مسند نشینوں میں ڈاکٹر حافظ محمد سہیل شفیق، الحاج محمد رفیع پردیسی، تابش الوری، ساجد رضوی تھے۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر سہیل شفیق اور ڈاکٹر محمد طاہر قریشی نے انجام دیئے۔ خطبہٗ استقبالیہ طاہر سلطانی نے دیا ۔نیز معروف شاعر تابش الوری نے مختلف قراردادیں، نفاذ ِ اردو کے حوالے سے، حمدو نعت کے فروغ کے لئے حکومتی سرپرستی، حمد ونعت کانفرنسز اور دیگر ایوارڈ اور اجراء کے حق میںپیش کیں، جو بھاری اکثریت سے منظور کر لی گئیں۔

سب سے خاص بات اس تقریب میں پیش کیے جانے والے مختلف مقالات اور اُن کے موضوعات تھے ۔جیسے آن لائن مقالہ کینیڈا سے تنویر پھول صاحب نے پیش کیا جس کا عنوان تھا ’’ دیارِ مغرب میں آفتابِ حمد کی کرنیں‘‘۔جبکہ دوسرا مقالہ پروفیسر انوارالحق شیخ نے’’تعارف ادارہ چمنستان ِ حمد ونعت ‘‘ پیش کیا۔ تیسرا مقالہ ڈاکٹر محمد طاہر قریشی نے ’’ پاکستانی فلمی شاعری میں حمدیہ عناصر‘‘ پیش کیا۔چوتھا مقالہ نوید حسین اقبال نے بعنوان ’’ صنفِ حمد کا تجزیاتی مطالعہ ‘‘ پیش کیا۔نیز ایک مقالہ ڈاکٹر داؤد عثمانی نے ’’محسن کاکوروی کی نعتوں میں حمدیہ عناصر ‘‘ پر بھی پیش کیا۔علاوہ ازیں ڈاکٹر ریحانہ تبسم فاضلی نے مقالہ بعنوان ’’کراچی کے شعراء کی حمدیہ شاعری ‘‘ کا خلاصہ در خلاصہ پیش کیا۔جبکہ ڈاکٹر عزیز احسن کا مقالہ ڈاکٹر سہیل شفیق نے پیش کیا جس کا عنوان تھا ’’ قرآن اور بائبل میں حمد و مناجات ‘‘۔ پروفیسر صدف چنگیزی نے ’’دبستانِ وارثیہ کی حمدیہ شاعری ‘‘ پر عمدہ کلام کیا۔ اسی طرح ڈاکٹر سید ضیاء الدین نعیم نے نہایت وقیع اور پر مغز گفتگو کی، ڈاکٹر نسیم سحر نے مقالہ بعنوان ’’پنجاب میں حمدیہ شاعری ‘‘پیش کرنا تھا ۔ ڈاکٹر شہزاد احمد نے مقالہ بعنوان’’اردو حمدیہ شاعری میں شاعرات کا کردار ‘‘ پیش کیا۔آخر میں محسن اعظم محسن ملیح آبادی نے شرکاء سے خطاب کیا۔ جس کے بعد حمدیہ و نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ غرض اس پہلی دوروزہ عالمی حمد و نعت کانفرنس میں فکر کی دل بستگی ،روح کی بالیدگی اور ذوق کی تسکین کے لیے وہ سب کچھ تھا ،جس کی کوئی باذوق سامع اور ناظر تمنا کر سکتا تھا۔ یقینا اس کاوش پر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی انتظامیہ اور ’’ ادارہ چمنستانِ حمدونعت ویلفیئر ٹرسٹ پاکستان ‘‘ کے جملہ اراکین و منتظمین خاص مبارک باد اور ستائش کے مستحق ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں