وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

خلیفہ کا بیٹا

جمعرات 08 اکتوبر 2020 خلیفہ کا بیٹا

ایک درویش اور اس کا چیلا کسی دور کے شہر میں جارہے تھے ، ایک سنسان جگہ سے گزرتے ہوئے چیلے نے درویش سے کہا ڈر لگ رہا ہے ۔درویش نے رکے بغیر کہا ڈر کو پھینک دو ۔سکون میں رہو گے ۔سچ ہے درویشی دنیا سے بے رغبتی ،لالچ، کینہ،حسد اور حرص سے بے نیازی میں پوشیدہ ہے ۔
صدیوں پہلے ایک تاجر کے گھر کی دیوار اچانک گر گئی ۔بے پردگی سے اسے بڑی پریشانی لاحق ہوئی اور وہ اسے دوبارہ بنوانے کے لیے کسی مزدور کی تلاش میں نکلا اور اس چوراہے پر جاپہنچا جہاں درجنوں مزدور کام کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ ان میں ایک نوجوان سب سے الگ تھلگ کھڑا تھا ۔ اس کے چہرے پر بلاکی کشش اور ایک آسودگی تھی۔ شکل و صورت سے وہ مزدورکے بجائے کسی اچھے خاندان کا چشم و چراغ لگ رہا تھا۔ نہ جانے کیا افتادپڑی کہ وہ مزدور بن گیا ،اس کے ایک ہاتھ میں تھیلا اور دوسرے ہاتھ میں تیشہ تھا وہ بھی کام کا منتظرتھا ۔تاجرنے اسی نوجوان سے پوچھا :کیا تم کام کرو گے‘‘؟نوجوان نے اثبات میں سرہلایا۔ فطری تجسس کے باعث اس نے نوجوان سے کہا ۔تم مزدور تو نہیں لگتے۔ اس نے ترت جواب دیا، میں کون ہوں کیا ہوں تمہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے کسی کی ٹوہ میں رہناکوئی اچھی بات نہیں۔ تاجرنے کہا میرے گھرکی دیوارگرگئی ہے تمہیں وہ تعمیرکرنا ہوگی ۔نوجوان کہنے لگا، ٹھیک ہے! میں کام کرنے کو تیار ہوں، اتنی اجرت لوں گا، لیکن میری تین شرطیں ہیں اگر تمہیں منظور ہوں تو میں کام کرنے کے لیے تیار ہوں، پہلی شرط یہ ہے کہ تم میری مزدوری پوری ادا کرو گے ،دوسری شرط یہ ہے کہ مجھے سے میری طاقت اور صحت کے مطابق کام لو گے اور تیسری شرط یہ ہے کہ نماز کے وقت مجھے نماز ادا کرنے سے نہیں روکو گے۔
تاجر نے کہا مجھے کوئی اعتراض نہیں، یہ تینوں شرطیں قبول ہیں۔ وہ اسے ساتھ لے کر گھر آگیا، نوجوان کو کام سمجھایا اور وہ خود کسی ضروری کام سے باہر چلا گیا۔جب تاجر واپس آیا تو دیکھا کہ اس نوجوان نے کام مکمل کرلیا تھا حالانکہ اسے لگ رہا تھا شاید یہ دیوار دو دنوںمیں مکمل ہوگی اس نے عام مزدوروں سے دوگنا کام اچھے اندازمیں کیا تھا ۔وہ خوش ہوگیا۔ تاجر نے بخوشی اس کی اجرت ادا کی اور وہ سلام کرکے چلا گیا۔ کچھ ماہ بعد پھرکسی کام کروانے کی ضرورت پڑی تو تاجر اس نوجوان کی تلاش میں دوبارہ اسی چوراہے پر گیا لیکن اسے وہ نوجوان کہیں نظر نہ آیا۔ اس نے دوسرے مزدوروں سے اس کے بابت دریافت کیا تو انہوں نے اس نوجوان کے بارے میں ایک حیرت انگیز بات بتائی ۔ایک مزدور کا کہنا تھا نوجوان ہفتے میں صرف ایک دن مزدوری کرتا ہے اس کا مطلب تھا وہ زندہ رہنے کیلئے کھانا کھاتا تھا ۔یقینا وہ عام مزدور نہیں بلکہ کوئی بڑا آدمی ہوگا۔ یہاں تو عموماً لوگ کھانے کیلئے جیتے ہیں ۔شادی بیاہ کی تقریبات میں کھانے کی میزوںپر جو طوفان ِ بدتمیزی بپاہوتاہے وہ آپ سب کے سامنے ہے۔ کھانے سے بے رغبتی ،اولیاء کرام کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ تاجرنے ان سے اس کا پتہ معلوم کیا ۔وہ مطلوبہ جگہ پہنچا تو دیکھا کہ وہ نوجوان پتھریلی زمین پر سر کے نیچے ایک اینٹ رکھے لیٹا ہواتھا۔ تاجر نے آوازدی وہ بے حس و حرکت پڑارہا، تیسری آوازپر بھی اس نے آنکھیں نہ کھولیں تو تاجر نے اسے ہلایا مزدورنوجوان تو سخت بخار میں تپ رہا تھا تھا۔ تاجر نے قریب پڑے ہوئے گھڑے سے پانی لیا اور اپنے رومال سے اس کی پیشانی پر پٹیاں کرنے لگا، بخارکو کم کرنے کا یہ ایک تیزبہدف نسخہ قدیم زمانے سے مروج ہے ۔ تھوڑی دیر بعد نوجوان نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھول دیں ۔ تاجر نے اس سے کہا ، بھائی!تو یہاں اکیلا ہے تنہائی بھی ایک بہت بڑاآزارہے ۔اور اوپر سے تم بیمار بھی ۔اگر پسند کرو تو میرے ساتھ میرے گھر چلو اور مجھے اپنی خدمت کا موقع دو۔ اس نے تڑپ کر کہا ایسا نہ کہو تنہائی آزار نہیں قرب الہی کا ایک ذریعہ ہے ۔بندہ اللہ سے لو لگالے تو تنہائی ایک نعمت محسوس ہوتی ہے ۔میں کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہتا۔میں جہاں ہوں بالکل ٹھیک ہوں۔نوجوان کے کئی مرتبہ انکار کے باوجود تاجرکے مسلسل اصرار پر وہ اس کے ساتھ جانے کے لیے مان گیا۔اس نے کہا میری ایک شرط ہے کہ تم مجھے کچھ بھی کھلانے کی ضد نہیں کروگے ۔ تاجرنے اس کی یہ شرط منظور کر لی اور اسے اپنے گھر لے آیا۔مزدورنوجوان تین دن تاجرکے گھر قیام پزیر رہا لیکن اس نے نہ تو کسی چیز کا مطالبہ کیا اور نہ ہی کوئی چیز لے کرکھائی بس اپنے ایک تھیلے سے کچھ جو اور کبھی سوکھی روٹی کے ٹکرے پانی میں بھگوکرکھا لیتا ۔ چوتھے روز اس کے بخار میں شدت آگئی تو اس نے اشارے سے تاجر کو اپنے پاس بلایا اور کہنے لگا،’’آپ کی مہربانی اور میزبانی کااجر تو اللہ دے گا ،لیکن میں آپ کا مشکورہوں بھائی !لگتا ہے کہ اب میراآخری وقت قریب آگیا ہے، وعدہ کرو تم میری وصیت پر عمل کروگے ۔ تاجر نے اثبات میں سرہلایا تو مزدورنوجوان نے تاجر کا ہاتھ تھام کرکہاجب میری روح جسم سے نکل جائے تو میرے گلے میں رسی ڈالنا اور گھسیٹتے ہوئے باہر لے جانا اور اپنے گھر کے اردگرد چکر لگوانا اور یہ صدا دینا کہ لوگو! دیکھ لو اپنے رب تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والوں کا یہ حشر ہوتا ہے‘‘۔شاید اس طرح میرا رب عزوجل مجھے معاف کر دے۔ تاجر اس کی وصیت سن کر سناٹے میں آگیا، وہ روتے روتے کہنے لگا یہ تم نے مجھے کس امتحان میں ڈال دیاہے میں ایسا نہ کر سکوں گا۔
مزدور نوجوان نے کہا انکار مت کرو تم میرے ساتھ وعدہ کرچکے ہوں۔ اب تم نے میری وصیت پر عمل نہ کیا تو اس عہدشکنی پرمیں تمہیں کبھی معاف نہ کروں گا اور ہاں غور سے سنو جب تم مجھے غسل دے چکو تو مجھے انہی کپڑوں میں دفن کر دینا پھر بغداد میں خلیفہ ہارون الرشید کے پاس جانا اور یہ قرآن مجید اور انگوٹھی انہیں دینا اور میرا یہ پیغام بھی دینا کہ ’’اللہ عزوجل سے ڈرو! کہیں ایسا نہ ہو کہ غفلت اور نشے کی حالت میں موت آجائے اور بعد میں پچھتانا پڑے،لیکن پھر اس سے کچھ حاصل نہ ہوگا‘‘۔
وہ نوجوان دیکھتے ہی دیکھتے تاجر کی آنکھوں کے سامنے یہ وصیت کرنے کے بعد انتقال کر گیا۔ تاجر اس کی موت کے بعد کافی دیر تک آنسو بہاتا رہا ۔کئی گھنٹے وہ ملول وپریشان بیٹھارہاپھر اس نے ایک قریب عالم ِ دین سے اس عجیب وغریب وصیت کے بارے میں بتایا توعالم ِ دین نے تاجر سے کہا تم مرحوم سے وعدہ کرچکے ہو تمہیں اس کی وصیت پر عمل کرناہوگا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی تاجر نے اس کی وصیت پوری کرنے کے لیے ایک رسی لی اور اس کی گردن میں ڈالنے کا قصد کیا تو کمرے کے ایک کونے سے ندا آئی ۔ ایسا نہ کرنا ورنہ بربادہوجائو گے ۔مرحوم کے گلے میں رسی مت ڈالنا ، کیا اولیاء ایسے سلوک کے حقدار ہوتے ہیں ؟ یہ آواز سن کر تاجر کے رونگٹے کھڑے ہوگئے، اس کے بدن پر کپکپی طاری ہوگئی۔ تاجرنے مزدور نوجوان کے پاؤں کو بوسہ دیا اس کی تدفین سے فراغت کے بعد تاجر اس کے قرآن پاک کا نسخہ اور انگوٹھی لے کر خلیفہ کے محل کی جانب روانہ ہو گیا۔وہاں جا کر تاجرنے اس نوجوان کا واقعہ ایک کاغذ پر لکھا اور محل کے داروغہ سے خلیفہ ہارون الرشید کو ملنے کی اجازت چاہی ۔داروغہ نے تاجر کو جھڑک دیا اور اندر جانے کی اجازت دینے کے بجائے اپنے پاس بٹھا لیا، ایک دربان نے شاہی انگوٹھی پہچان کر خلیفہ کو تمام ماجرا سناڈالا ۔ خلیفہ نے فی الفور تاجر کو اپنے دربار میں طلب کیا اور کہنے لگا ، کیا تم مجھے اتنا ظالم سمجھ بیٹھے ہو ۔ مجھ سے ملنے کے بجائے رقعے کا سہارا لیا ؟ تاجر نے عرض کیا اے خلیفہ اللہ تعالیٰ آپ کا اقبال بلند کرے ، میں کسی ظلم کی فریاد لے کر نہیں آیا بلکہ ایک پیغام لے کر حاضر ہوا ہوں۔ خلیفہ نے پوچھا کون سا پیغام،کیسا پیغام ؟
تاجر نے وہ قرآن مجید اور انگوٹھی نکال کر اس کے سامنے رکھ دی۔ خلیفہ ہارون الرشید دونوں چیزوں دیکھتے ہی اٹھ کرکھڑا ہوگیا۔ بڑے مضطرب اندازمیں بے قرار ہوکر پوچھا ، یہ چیزیں تجھے کس نے دی ہیں ؟
تاجر نے عرض کی ، ایک گارا بنانے والے مزدور نے۔ خلیفہ نے ان الفاظ کو تین بار دُہرایا، گارا بنانے والا مزدور،گارا بنانے والا مزدور،گارا بنانے والا مزدور۔ اور یہ کہتے ہوئے خلیفہ کی آنکھیں چھلک پڑیں ا۔ کافی دیر کے بعد تاجرسے پوچھا ، وہ گارا بنانے والا مزدور اب کہاں ہے ؟
تاجر نے جواب دیا ، وہ مزدور تو اپنے خالق ِ حقیقی سے جا ملا۔ یہ سن کر خلیفہ کی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں پھرکہا ہائے میرا لخت ِ جگر اور بے ہوش ہو کر گر گیا اور عصر تک بے ہوش رہا۔ تاجر اس دوران حیران وپریشان وہیں موجود رہا درباری تاجر کو کوسنے لگے کہ تم نے کیسی خبرسنائی ہے خلیفہ کا روتے روتے بُراحال ہوگیا ہے ۔اب تمہاری خیرنہیں ،تاجر پریشان ہوگیا ،دل ہی دل میں اللہ سے مدکاطالب ہوا ۔پھر جب خلیفہ ہارون الرشید کوکچھ ہوش آیا تو تاجرکو طلب کیا اس سے دریافت کیا ، اس کی وفات کے وقت تم اس کے پاس تھے ؟ تاجر نے ڈرتے ڈرتے اثبات میں سر ہلا دیا تو کہنے لگا، اس نے تجھے کوئی وصیت بھی کی تھی ؟ تاجر نے اسے نوجوان کی وصیت بتائی اور وہ پیغام بھی دے دیا جو اس نوجوان نے خلیفہ کے لیے چھوڑا تھا۔
جب خلیفہ نے یہ ساری باتیں سنیں تو مزید غمگین ہو گیا اور اپنے سر سے عمامہ اتار دیا ، اپنے کپڑے چاک کر ڈالے اور بڑے دل سوز لہجے میںکہنے لگا ، اے مجھے نصیحت کرنے والے ! اے میرے لخت جگر ، زاہد وپارسا! اے میرے شفیق!۔۔۔۔۔۔ اس طرح کے بہت سے القابات خلیفہ ہارون الرشید نے اس مرنے والے نوجوان کو دے ڈالے، ا س کا چہرہ انتہائی رنجیدہ ، غم سے ایسے لگ رہاتھا جیسے برسوںکا مریض ہو خلیفہ کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بھی بہہ رہے تھے ۔ محل کے اندر سے بھی دبی دبی سسکیوںکی آوازیں آنے لگیں ۔ یہ سارا معاملہ دیکھ کر تاجرکی حیرانی اور پریشانی میں مزید اضافہ ہوگیا کہ خلیفہ ایک عام سے مزدور کے لیے اس قدر غم زدہ کیوں ہے ؟ اس کا نوجوان سے کیا رشتہ ہے ؟خلیفہ نے میری طرف اشارہ کرکے کہا تاجر ہمارا مہمان ہے۔ اس کے آرام کا مکمل خیال رکھا جائے۔ یہ کہہ کرخلیفہ محل کے اندر چلاگیا محل سے سسکیوںکی آواز وںمیں اضافہ ہوتاچلاگیا۔ آدھی رات کا وقت ہوگا،جب خلیفہ نے تاجر سے اس نوجوان کی قبر پر لے جانے کی خواہش ظاہر کی ۔خلیفہ ہارون الرشید چادر میں منہ چھپائے میرے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ جب ہم قبرستان میں پہنچے تو میں نے ایک قبر کی طرف اشار ہ کر کے کہا عالی جاہ! یہ اس نوجوان کی قبر ہے۔ یہ سنتے ہی خلیفہ ہارون الرشید اس کی قبر سے لپٹ کر رونے لگا۔ پھر کچھ دیر رونے کے بعد اس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہو کرفاتحہ خوانی کرنے لگا ۔ خلیفہ ہارون الرشید قبرسے اٹھا ۔اس نے کپڑوں سے مٹی جھاڑتے ہوئے تاجر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کرکہا ۔شاید تم نہیں جانتے یہ نوجوان میرا بیٹا تھا ، میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور میرے جگر کا ٹکڑا تھا ، ایک دن یہ رقص وسْرود کی محفل میں گم تھا کہ مکتب میں کسی بچے نے یہ آیت کریمہ(،پ۷۲، الحدید۶۱) تلاوت کی ، کیا ایمان والوں پر ابھی وہ وقت نہ آیا کہ اللہ کی یاد کے لیے ان کے دل جھک جائیں‘‘۔جب اس نے یہ آیت سنی تو اس کی حالت غیرہوگئی وہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے تھر تھر کانپے لگا اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔ اس نے اپنے کپڑے پھاڑ دالے اور یہ پکار پکار کر کہنے لگا،’’کیوں نہیں ؟ کیوں نہیں‘‘؟ اور یہ کہتے ہوئے محل سے باہر نکل گیا۔ ہم نے سوچا یہیں کہیں ہوگا آجائے گا پھرکئی سال بیت گئے، ہم نے اسے بہت تلاش کیا لیکن ہمیں اس کے بارے میں کوئی خبر نہ ملی ۔آج تم نے اس کی وفات کی خبر دی ہے ۔ (حکایات الصالحین،ص ۷۶ ماخوذ ایم سرورصدیقی کی زیر طبع کتاب کے چنداوراق)


متعلقہ خبریں