وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

چین اور بھارت کے درمیان جنگ کا دوسرا راؤنڈ

پیر 14 ستمبر 2020 چین اور بھارت کے درمیان جنگ کا دوسرا راؤنڈ

بظاہر چین اور بھارت کے سفارتی ذرائع بین الاقوامی میڈیا کو ’’سب اچھا ہوجائے گا‘‘۔ کی رپورٹ گزشتہ دو ماہ سے مسلسل دے رہے ہیں لیکن حقیقت احوال یہ ہے کہ ابھی تک چین اور بھارت کے سرحدی محاذ پر ایسا کچھ بھی نہیں ہوسکا ہے جسے سفارتی لحاظ سے سب اچھا تو بہت دور کی بات ہے، صرف ’’کچھ اچھا ‘‘ ہی قرار دیا جاسکے ۔ چین کی جانب سے وادی لداخ میں بھارتی فو ج کی جبری بے دخلی کے واقعہ کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک کڑوا گھونٹ سمجھ کر اپنے حلق سے اُتارلیا تھا ،اس موہوم سی اُمید پر کہ چین وادی گلوان تک پیش قدمی کرنے کے بعد بھارتی سرحد کے جانب اپنے بڑھتے ہوئے قدم روک دے گا۔ لیکن چین کے بارے میں بھارتی قیادت نے جتنے بھی اندازے قائم کیے تھے وہ ایک ایک کر کے غلط ثابت ہوتے جارہے ہیں ۔ اَب اسے آپ بھارتی پالیسی سازوں کی ناکامی کہیں یا پھر چین کے بارے میں برتی جانے والی روایتی بھارتی ’’عسکری غفلت‘‘ ۔بہرحال چین کے بھارتی سرحد کی جانب بڑھتے ہوئے قدم رکنے کے بجائے مزید تیزی کے ساتھ آگے کی جانب بڑھتے ہی جارہے ہیں ۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اَب چین کے نشانے پر معروف بھارتی سرحدی ریاست ارونا چل پردیش آچکا ہے ۔ جس کے بارے میں چین کی وزارت خارجہ نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ ’’ارونا چل پردیش چین کے علاقہ تبت کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس پر بھارت کسی بھی قسم کا حقِ ملکیت نہیں رکھ سکتا‘‘۔ چین کے اِس دعوی نے بھارتی قیادت کے خطہ میں برسوں سے جاری توسیع پسندانہ عزائم کو شدید نوعیت کا دھچکا پہنچایا ہے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ارونا چل پردیش کے سرحدی علاقہ میں چین اور بھارت کے مابین 45 برس کی طویل ترین مدت کے بعد آپس میں فائرنگ کے تبادلہ کا واقعہ بھی پیش آیاہے ۔حالانکہ چین اور بھارت کی سرحد کے درمیان یہ ہی وہ منفرد سرحدی علاقہ تھا جہاں کسی بھی نازک ترین صورت حال میں فائرنگ نہ کرنے کا معاہدہ برسوں قبل چین اور بھارت کے مابین طے پایا تھا۔ لیکن 45 سال بعد اِس علاقہ میں فائرنگ کی گونج نے اس معاہدہ کے حصے ،بخئے اُڈھیڑ کر رکھ دیے ہیں اور دونوں طرف کے سرحدی علاقوں، خاص طور پر بھارتی سرحد کے ساتھ بسنے والے مکینوں کو دہلا کر رکھ دیاہے اور اَب اِن سرحدی علاقوںمیں رہنے والی بھارتی عوام کی جانب سے بھی حفظِ ماتقدم کے طورپر جنگی تیاریاں کی جانے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں ۔ بھارتی سرحد سے متصل سرحدی علاقہ کے مکینوں کا اصرار ہے کہ ’’اُن کی حکومت امن آتشی اور نارمل حالات کے بارے میں جتنے چاہے راگ الاپتی رہے لیکن وہ بخوبی جانتے ہیں کہ چینی افواج بھارتی سرحد کے ارد گرد یوں ہی جمع نہیںہوئی ہے۔اَب یقینا چینی افواج بہت جلد بھارت کے اندر بھی عسکری کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے‘‘۔ یعنی چین اور بھارت کی سرحدوں پر رہنے والے اَن پڑھ ،گنوار اور جاہل لوگ مستقبل میں چینی عسکری کارروائی کا بھرپور ادراک رکھتے ہیں لیکن بھارتی قیادت اپنے ملک کے عوام کو میڈیا کے ذریعے مسلسل یہ دلاسے دینے میں مصروف ہے کہ وادی لداخ اور ارونا چل پردیش میں حالات مکمل طورپر اُس کے کنٹرول میں ہیں اور حالات تیزی کے ساتھ امن و امان کی طرف لوٹ رہے ہیں ۔ جبکہ زمینی حقائق میڈیا پر کیے جانے والے بھارتی دعووں کے یکسر برعکس کچھ اور ہی چغلی کھارہے ہیں ۔
یاد رہے کہ چین کی سرحد کے ساتھ منسلک بھارتی ریاست ارونا چل پردیش کو بھارتی قیادت جنگی اعتبار سے ہمیشہ سے ایک محفوظ ریاست تصور کرتی آئی ہے کیونکہ اِس ریاست کا تمام تر مواصلاتی انتظام بھارت کے انتظامی و عسکری اداروں کے پاس ہی رہاہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ گزشتہ ایک سے ماہ سے مسلسل چین، ارونا چل پردیش کے اردگر د بھاری تعداد میں گولہ بارود اور عسکری تنصیبات منتقل کرتا جارہاہے۔ چینی لبریشن آرمی کی ارونا چل پردیش کے اردگرد وسیع پیمانے پر تعیناتی سے سرحدی کشیدگی اس وقت اپنی انتہائی حدوں کو چھورہی ہے ۔ جس کا ہلکا سا اندازاروز بہ بروز اس سرحدی علاقہ میں ہونے والے فائرنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات سے بھی بخوبی لگایا جاسکتاہے۔ اس سرحدی علاقہ میں ہونے والے فائرنگ کے حالیہ واقعات کے بارے میں چین کی جانب سے سرکاری طورپر کہا گیا ہے کہ ’’فائرنگ کے واقعات میں بھارتی افواج براہ راست ملوث ہے اور انہوں نے جان بوجھ کر اپنی فائرنگ کا نشانا چینی افواج کو بنانے کی کوشش کی ہے ،جس کا بھرپور انداز میں بھارت کو جواب دے دیا گیا ہے ۔اس یاددہانی کے ساتھ کہ چین ارونا چل پردیش پر اپنے دعویٰ سے کسی صورت دست بردار نہیں ہوگا اور بھارت کو ایک انچ بھی چینی علاقہ میں پیش قدمی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘‘۔ چین کے سفارتی ذرائع کی طرف سے جاری ہونے والے اس طرح کے سلگتے ہوئے بیانات بھارت کے خلاف چین کے عسکری عزائم کو بھرپور انداز میں واضح کرتے ہیں ۔ چین کے جانب سے پے درپے جاری ہونے والی سفارتی بیانات میں چھپی ہوئی آتش بے کنار کو دیکھنے کے بعد عسکری ماہرین کی ایک بڑی اکثریت بھی اَب تو یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی ہے کہ چین ارونا چل پردیش میں بھی بہت جلد بھارتی افواج کے خلاف ایک بڑی عسکری کارروائی کرنے کا سنجیدہ ارادہ رکھتاہے۔ حالانکہ اِس بار بھارتی افواج چینی افواج کے حملہ کو روکنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے ۔لیکن پھر بھی خدشات یہ ہی ظاہر کیے جارہے ہیں اِس علاقہ میں موسمیاتی حالات کی تبدیلی بھی عسکری کارروائی کی شدت کو کئی گناہ تک بڑھا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ سرد موسم میں بھارتی افواج ہمیشہ ہی سے اپنی مخالف افواج کے لیے ایک تر نوالہ ثابت ہوئی ہے ۔جبکہ بھارت کے مقابلہ میں چینی افواج ایک پیشہ ورانہ سپاہ ہے جو ہر طرح کے سرد موسم میں کثیر المقاصد نوعیت کی عسکری کارروائی کرنے کی بھرپورصلاحیت رکھتی ہے ۔
بھارت کے لیے اپنی ساری توجہ چین سے ملحقہ سرحد پر مرکوز رکھنا اس لیے بھی ناممکن ہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے بھارت بری طرح سے کورونا وائرس کے نرغے میں آیا ہوا ہے۔ اس وقت کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک میں بھارت کا شمار دوسرے نمبر پر ہوگیا ہے یعنی صرف امریکا ہی وہ واحد ملک ہے جہاں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد بھارت سے زیادہ ہے۔ وگر نہ دنیا کے ہر ملک سے زیادہ کورونا وائرس کے مریض بھارت میں بڑی تیزی کے بڑھ رہے ہیں اور روزانہ کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کے حوالے سے بھارت نئے عالمی ریکارڈ بنا رہاہے ۔ کورونا وائرس نے بھارت کی معیشت کو اوندھے منہ زمین پر دے مارا ہے اور وہ بھارتی معیشت جس کے بارے میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی چند ماہ پہلے لہک لہک کر فرمایا کرتے تھے کہ ’’اُن کے ملک کی معیشت 2030 تک دنیا کی تین بڑی معیشتوں میں سے ایک بن جائے گی ‘‘۔ آج وہی بھارتی معیشت کورونا وائرس کی ہلاکت خیزی کے باعث اپنی تاریخ کی نچلی ترین گراوٹ سے گزررہی ہے ۔مثال کے طور پر بھارت کے اندر لاتعداد کھرب پتی کمپنیز نے مزید سرمایہ کاری سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ بھارتی حکومت کے خود جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون میں ختم ہونے والی سہ ماہی میں ملک کی معیشت میں تشویشناک حد تک مندی دیکھنے میں آئی ہے جو کہ گزشتہ 24سال میں معیشت کی بدترین سطح ہے۔پچھلے دو سال سے ملک میں بیروزگاری کی شرح 45برسوں میں سب سے زیادہ تھی اور معاشی نمو کی شرح گر کر 4.7فیصد تک آ چکی تھی۔ ملک میں پیداوار گر رہی تھی اور بینکوں پر قرضوں کا بوجھ بہت بڑھ چکا تھا۔
ایک انڈین تھنک ٹینک کے پیش کردہ اعدادوشمار کے مطابق بھارت بھر میں معیشت کچھ اس طرح سے گر رہی ہے کہ جیٹ ایئرویز بند ہو چکی ہے ، ایئر انڈیا کو 7600کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ نیزبھارت سینچ رنگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل) جو بھارت کی نمبر ون ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی ہے اس کی 54000ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں ،جبکہ ہندوستان ایروناٹکس (ایچ اے ایل) کے پاس ملازمین کو تنخواہ دینے کے لیے رقم نہیں ہے، پوسٹل ڈیپارٹمنٹ کو 15000کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ،اس کے علاوہ ملک میں دو ملین سے زیادہ گھر جو تیس بڑے شہروں میں بنائے گئے تھے ،انہیں اَب خریدنے والا کوئی نہیں ہے ۔ نیز ٹیلی کمیونی کیشن کی ایک بڑی کمپنی ’’ٹاٹا ڈوکومو‘‘ بینک کرپٹ ہو کر ختم ہو چکی ،جبکہ سیمنٹ، انجینئرنگ کنسٹرکشن، رئیل اسٹیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایک بڑی کمپنی بند ہو چکی ہے ۔
علاوہ ازیں’’آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن‘‘ جسے بھارتی حکومت نے 1956ء میں قائم کیا تھا اور جس نے ملک بھر میں 11ہزار کلومیٹر پائپ لائن بچھائی ہے آج تاریخی زوال کا شکار ہے۔جبکہ ملک کا اندرونی قرضہ 500کھرب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور ریلوے برائے فروخت ہے۔اس کے علاوہ لال قلعے تک کو کرایہ پر دے دیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ اور بہت سے تاریخی اثاثے بیچنے کی تیاریاںکی جارہی ہیں ۔نیز بھارت کی بڑی کار کمپنی موروتی کی پروڈکشن نہ ہونے کے برابر ہو چکی ہے کمپنی کی 55ہزار کروڑ نئی کاریں فیکٹریوں میں کھڑی ہیں ان کا خریدار کوئی نہیں ہے۔جبکہ ملک میں گڈز اینڈ سروسز ٹیکس 18فیصد سے بڑھ کر 28فیصد ہونے سے کنسٹرکشن انڈسٹری تباہی کا شکار ہے کئی بلڈرز خودکشیاں کر چکے ۔ دوسری جانب انڈین ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کے ادارے آرڈیننس فیکٹری بورڈ کے پاس اپنے ڈیڑھ لاکھ ملازموں کو تنخواہیں دینے کیلئے پیسے نہیں ہیں ۔جبکہ ملک کے تمام بڑے ہوائی اڈے ایڈانی کمپنی کو بیچ دیے گئے ہیں اور کیفے کافی ڈے ’’سی سی ڈی‘‘ کمپنی جس کے ملک بھر میں 1752کیفے تھے قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے اس کے چیئرمین وی جی سدھارتھ نے خودکشی کر لی ہے۔
کورونا وائر س کی مخدوش صورت حال ،بھارتی معیشت کی ابتر حالت اور وادی لداخ ،گلوان اور اروناچل پردیش میں اعصاب جمادینے والی سردی کی آمد کے ساتھ ہی چین اور بھارت کے مابین دو ماہ قبل شروع کی جانے والے جنگ کا دوسرا راؤنڈ شروع ہونے کو ہے ۔ چین اور بھارت کے درمیان جنگ کا یہ دوسرا مرحلہ بھارتی قیادت کے لیے کس درجہ خوفناک اور بھیانک خواب میں تبدیل ہونے والا ہے، شاید ابھی برہمن قیادت کو اس کا کچھ اندازا ہی نہیں ہے ۔ بہرحال اندازا ہو یا نہیں لیکن چین کے ہاتھوں ایک بڑی تباہی بھارت کے سرحدی علاقوں میں شروع ہوا ہی چاہتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
کون کہتاہے وجود اتوار 25 جولائی 2021
کون کہتاہے

اپنا دھیان رکھنا وجود اتوار 25 جولائی 2021
اپنا دھیان رکھنا

محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!! وجود هفته 24 جولائی 2021
محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!!

اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں وجود هفته 24 جولائی 2021
اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے وجود بدھ 21 جولائی 2021
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

مساوات، قربانی اور انعام وجود بدھ 21 جولائی 2021
مساوات، قربانی اور انعام

’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی

’’ بک رہا‘‘ عید ۔۔ وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ بک رہا‘‘ عید ۔۔

افغانستان میں نئی جنگ ! وجود منگل 20 جولائی 2021
افغانستان میں نئی جنگ !

امن کادرس وجود منگل 20 جولائی 2021
امن کادرس

تیسری عالمگیر جنگ 2034 امریکا میں بیسٹ سیلز ناول وجود منگل 20 جولائی 2021
تیسری عالمگیر جنگ 2034 امریکا میں بیسٹ سیلز ناول

خلافت ِ عثمانیہ کی بنیاد وجود پیر 19 جولائی 2021
خلافت ِ عثمانیہ کی بنیاد

اشتہار

افغانستان
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے وجود هفته 24 جولائی 2021
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل وجود بدھ 21 جولائی 2021
افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل

وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا وجود هفته 17 جولائی 2021
وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا

پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام وجود هفته 17 جولائی 2021
پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام

طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا وجود پیر 12 جولائی 2021
طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا

اشتہار

بھارت
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت وجود اتوار 25 جولائی 2021
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت

پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی وجود هفته 24 جولائی 2021
پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی

بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں وجود بدھ 21 جولائی 2021
بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں

افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا وجود پیر 12 جولائی 2021
افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا

نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ وجود پیر 12 جولائی 2021
نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ
ادبیات
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟

بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب وجود جمعرات 17 جنوری 2019
بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب

14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا وجود پیر 10 دسمبر 2018
14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے وجود جمعرات 08 نومبر 2018
شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے
شخصیات
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے وجود جمعه 08 جنوری 2021
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے

ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر وجود پیر 23 مارچ 2020
ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر

امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری وجود منگل 01 جنوری 2019
امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں وجود بدھ 26 دسمبر 2018
سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

ماضی کی رہنما خواتین وجود پیر 14 مئی 2018
ماضی کی رہنما خواتین