وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

بھارت کی چین کے خلاف محاذ آرائی

پیر 18 مئی 2020 بھارت کی چین کے خلاف محاذ آرائی

بھارت انتہائی تیزی سے چین کے خلاف ایک ”ہائبرڈ جنگ“ میں شدت لارہا ہے۔ کیا ہمارے کان کھڑے ہیں، ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں؟اس محاذ پر نظر آنے والی کارروائیوں کی کچھ جھلکیاں انتہائی دلچسپ ہیں۔
٭ایل اے سی (لائن آف ایکچوئل کنٹرول) پر چین کے خلاف بھارت کی تازہ جھڑپیں
٭بھارت میں ایک اقتصادی قوم پرستی کا چین کے خلاف اُبھار، جس میں چینی کمپنیوں کو بھارتی معاشی متن سے ہٹا کر حاشیوں میں ڈالا جارہا ہے۔
٭ بھارت ورلڈ ہیلتھ اسمبلی (ڈبلیو ایچ اے) کی قیادت کے خواب کی تعبیر کی دہلیز پر کھڑا ہے، جہاں اگلے دنوں میں کورونا وبا کے پھیلاؤ کی چین پر ذمہ داری ڈالتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا جانا ہے،امریکا اس کا محرک ہے اور بھارت اس مطالبے کا سب سے بڑا حامی بننے والا ہے۔
یہ چین بھارت تنازع کے ابتدائی مناظر ہیں جس کے پس منظر میں امریکی حمایت کے ساتھ ایک ہائبرڈ جنگ کے بڑھتے پھیلتے خدشات کا لامتناہی سلسلہ ہے۔ بھارت کے اندرونی ذرائع اور فیصلہ سازوں کے تیور یہ بتارہے ہیں کہ بھارت اپنے نئے دوست امریکا کے ساتھ پوری وفاداری دکھانے پر آمادہ ہے۔
یوں لگتا ہے کہ برکس(BRICS) اڈھرنے لگے گا۔ دنیا کی پانچ بڑی معیشتوں برازیل، رشیا، انڈیا، چائنا اور ساؤتھ افریقا پر قائم برکس کے اچھے دن ہوا ہو رہے ہیں۔ابھی ہمارے کانوں میں وہ رس گھولتی آوازیں گونج رہی ہیں جو اس نوزائیدہ تجارتی بلاک کو کھیل بدل اور عالمی تعلقات کی نئی اُتھل پتھل کا سرشار کردینے والامتبادل بتاتی تھیں۔ اب یہ آوازیں ارضی حقائق کے سنگین شور میں ڈب رہی ہیں۔ برکس کے مقدر اور مستقبل پر تاسیس کے ابتدائی دنوں سے ہی چین اور بھارت کے درمیان لاینحل اختلافات کے سائے تھے، مگر تب اسے نظرانداز کرنے کی کچھ وجوہات بھی تھیں۔ امریکا نے بھارت کے ساتھ ایک لاجسٹک ایکسچینج میمورنڈم آف ایگریمنٹ (ایل ای ایم او اے) کر رکھا ہے۔ اس معاہدے کے بعد کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے کہ بھارت امریکاکا ایک جنگی اتحادی بن چکا ہے۔ یہ معاہدہ امریکا کو بھارتی فوجی ڈھانچے کو معاملہ بہ معاملہ استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس کے بعد امریکا نے بھارت کو چین کے مقابل ایک طاقت بنانے کی حکمت عملی پر پورے زوروشور سے کام کیا ہے۔ اس موقع پر پینٹاگون کے ہند بحرالکاہل کی اُس تزویراتی رپورٹ کا مکرر مطالعہ کرنا چاہئے جویکم جون 2019ء کو سرکاری طور پر جاری ہوئی تھی۔ یہ رپورٹ بنیادی طور پر چین کے گھیراؤ پر مبنی ایک طویل المیعاد حکمت عملی کا امریکی تناظر مہیا کرتی ہے۔رپورٹ کا جوہری مطالعہ واضح کرتا ہے کہ امریکا اس نئی حکمتِ عملی میں بھارت کو ایک بنیادی شراکت دار کے طورپر جزوِ لاینفک سمجھتا ہے۔وہ سی پیک کے ذریعے ایفرو ایشین سمندر تک رسائی کے خواب کو چکنا چور کرنا چاہتا ہے۔اس پورے تناظر میں پاکستان لکیر کی دوسری طرف سمجھا گیا ملک ہے۔ چنانچہ اس پورے کھیل میں خشکی میں محصور نیپال تک کا ذکر ہے، مگر پاکستان اس پورے متن سے نمایاں طور پر غائب ہے۔پاکستان کوئی ایسا ملک نہیں جو نظرانداز کیا جاسکے۔ وہ سی پیک کا جز ہے۔ایک جوہری ملک ہے۔ دنیا کی بڑی آبادیوں میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان امریکا سے اتحاد کی ایک غلیظ تاریخ کا بھی حصہ ہے۔ یہاں تک کہ اب بھی وہ افغانستان کے خارجی راستے پر کھڑااُس کے مفادات کی چوکیداری کررہا ہے۔ چین بھارت اختلافات میں پاکستان بھارت اختلافات کے باعث پاکستان کے پاس ایک منطقی راستے کا استدلال ہے۔ جس نے چین سے پاکستان کے تعلقات کو ایک ایسی دوستی میں تبدیل کیا ہے جسے امریکا اس حکمت عملی میں نظرانداز نہیں کرسکتا،مگر ہم جانتے ہیں کہ امریکا نے افغانستان میں پاکستان سے کیا کروایا۔ ہم امریکی صدر بش اور وزیر خارجہ کولن پاول کو کیسے بھولیں جنہوں نے پاکستان کے صدر اور اس وقت کے فوجی سربراہ پرویز مشرف کو کہا تھا اس جنگ میں آپ ہمارے دوست ہوں گے یا دشمن۔اس جنگ میں ورجینیاکے امریکی اٹارنی جنرل کا وہ جملہ قومی غیرت پر تازیانہ بن کر تازہ رہتا ہے کہ پاکستانی پیسوں کے لیے اپنی ماں کو بھی بیچ دیتے ہیں۔ امریکا کی سرد جنگ کے بعدسب سے بڑی جنگ چین کے خلاف شروع ہوچکی ہے جس کا ایک حصہ خود پاکستان کی اپنی سرزمین اور معاشی و ریاستی مفادات سے جڑا ہوا ہے، اس سے متعلق پینٹا گون کی سب سے اہم رپورٹ پاکستان کے ذکر سے بھی خالی ہو، تو اس کا کیا مطلب ہے؟یہ سوال یہی رہنے دیں کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات اس تناظر میں ایک الگ موضوع کا عنوان بنتے ہیں، یہاں صرف بھارت کی چین سے ہائبرڈ جنگ میں شدت ہی مطالعہ کا بنیادی موضوع ہے۔ الغرض بھارت اس پورے کھیل میں امریکی مفادات سے جڑ کر اپنی فوجی سہولتوں کو امریکا کے لیے مہیا کرنے کے ایک ایسے معاہدے کا حصہ ہے، جس کی امریکا سے پہلے بھارت کے تزویراتی شراکت دار روس نے بھی مخالفت کی ہے۔
چین کے خلاف بھارتی کردار میں شدت کے ماحول کو نریندر مودی کے جنگی پاگل پن نے بہت تقویت دی ہے۔ یہ کوئی مزاق نہیں کہ چین کے ساتھ بھارت جھڑپوں پر اُتارو ہوگیا ہے۔دونوں ممالک میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے لداخ میں کنٹرول لائن (ایل اے سی) کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ اس کے علاوہ سکم کے قریب ڈوکلام کی جھڑپیں یادداشتوں میں 2017 کی تین ماہ کی طویل کشیدگی کو اجاگر کرتی ہیں۔ یہ چین کی میزبانی میں نوویں برکس کانفرنس کے ایام تھے، جب دونوں ممالک اس کشیدگی سے دوچار ہوئے۔ لداخ میں پھر صورتحال اتنی کشیدہ بیان کی جارہی ہے کہ چین نے اس مقام پر اپنے ہیلی کاپٹروں سے اڑانیں بھری ہیں اور جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے اپنے جنگی طیاروں کی پروازیں کی ہیں۔چین بھارت جھڑپوں کے اس پسِ منظر میں بھارت کی جانب سے چینی کمپنیوں کو دیوار سے لگانے کی کوششوں پر دھیان دیں، صاف طور پر محسوس ہوگا کہ بھارت کی اقتصادی قوم پرستی کی تمام لچھے دار کوششیں عملاً چین مخالف محرکات سے لتھڑی ہوئی ہیں۔ نیو دہلی اس وقت لکسمبرگ سے دُگنے رقبے (461,589 ہیکٹرز) پر مشتمل ایک زمین پر ترقیاتی کام کرنے لگا ہے جو صرف اس مقصد سے منتخب کی گئی ہے کہ چین سے کاروبار کو باہر دھکیل کر سرمایہ کاروں کو زیادہ بہتر پیشکشوں کے ساتھ یہاں کے لیے راغب کیا جاسکے۔ یہ مشرقی ایشیائی ریاست سے جنوبی ایشیائی ریاست کی جانب ترغیب کا ایک جال ہوگا، جس میں غیر ملکی کمپنیوں کو پھانسا جائے گا۔ یہ ٹرمپ کی چین مخالف تجارتی جنگ کو تقویت دینے کے لیے غیر ملکی کمپنیوں کی زبردست حوصلہ افزائی کرنے والے منصوبے کی نقاب کشائی کررہا ہے۔ یہاں اس خطے میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کے لیے امریکی دباؤ اور ترغیبات کے ساتھ دو ہی راستے موجود ہوں گے۔اپنے وطن واپس جائیں یا پھر ایک امریکا نواز دوست ملک بھارت میں اپنی دُکان سجائیں۔یہ بات بھی مدنظر رہنی چاہئے کہ بھارت چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کا پرزور مخالف ہے،وہ اِسے سی پیک کا ہی ایک جڑواں بچہ قرار دیتا ہے۔ امریکا چین کے معاشی منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے تنازع کشمیر کی موجودگی میں بھارت سے بہتر کوئی حلیف نہیں پاسکتا۔
امریکا بھی بھارت کی نرم طاقت میں اضافہ کررہا ہے۔ بھارت رواں ماہ ورلڈ ہیلتھ اسمبلی (ڈبلیو ایچ اے کی گورننگ باڈی) کی قیادت سنبھالنے والا ہے۔ اس موقع پر دو محاذ کسی نہ کسی طرح کھل سکتے ہیں۔ اولاً: کوروناوائرس کے حوالے سے چین کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز۔ ثانیاً:بھارت تائیوان کی اس درخواست کو منظور کرنے کی طرف مائل ہو سکتا ہے جس میں اُس نے ڈبلیو ایچ اوکے اجلاسوں میں شرکت کی اجازت طلب کررکھی ہے۔ یہ کوئی بعید از قیاس خیال نہیں۔ بھارت کے اس جانب میلان کو چین نے اچھی طرح بھانپ لیا ہے جب ہی تو نئی دہلی میں چینی سفارت خانے نے بھارتی قیادت کو یاددلایا کہ اس طرح کی کوئی بھی کوشش”ایک چائنا“ کے اُصول کی صریح خلاف ورزی ہوگی۔ اب یہاں امریکی نقطہ نظر کو سمجھنا چاہئے۔ امریکا اپنے نئے شراکت دار بھارت کی نیابت (پراکسی) کو چین کے خلاف استعمال کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ یہ اس کے لیے چین سے ہاری جانے والی ورلڈ وار سی (کووڈ۔19 کو مغربی ذرائع ابلاغ میں چین کے خلاف ورلڈ وار سی قرار دیا جارہا ہے جسے ترتیب میں دوسری جنگ عظیم کے بعد کی جنگ کے طور پر دیکھا جارہا ہے)میں اپنے دوست ملکوں کے کھوئے ہوئے اعتماد کو جیتنے کا ایک موقع ہوگا۔
سارے نقطے ملا لیں!بھارت امریکا کے ساتھ مل کر چین کے خلاف اپنی ہائبرڈ جنگ کو توسیع اور شدت دیتا ہوا نظر آتا ہے۔ وہ امریکا کے ایک جامع عالمی تزویراتی شراکت دار کے طور پر ڈکار رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے فروری میں بھارتی دورے سے اس کی حیثیت کو جامے سے باہر کرنے اور مودی کی اکڑفوں کو چین کے خلاف زبردست طریقے سے استعمال کرنے کے جنون کو شدت دی ہے۔ بھارت چین کے خلاف بروئے کار ہے۔ کیا یہ کسی کو نظر آرہا ہے کہ بھارت نے امریکی ہاتھ پر اپنے دستانے چڑھا لیے ہیں۔یہ سب کچھ پاکستان کے خلا ف بھی آستینیں چڑھانے جیسا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں