وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کورونا، پاگلوں کا بھرم ابھی باقی ہے !

جمعه 03 اپریل 2020 کورونا، پاگلوں کا بھرم ابھی باقی ہے !

دنیا کے پاگل یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک نئی دنیا تخلیق کرسکتے ہیں، جس میں بیماریاں، موسم ، ماحول اور غذائیں اُن کے کنٹرول میں ہو۔ بل گیٹس نے 13؍ مارچ 2020ء کو اپنے چار اہداف بیان کیے تھے، وہ تازہ کرتے ہیں:
۱۔عالمی صحت (گلوبل ہیلتھ)
۲۔ ماحولیاتی تبدیلیاں (کلائیمیٹ چینج)
۳۔ ترقی (ڈیولپمنٹ)۴۔ ایجوکیشن (ایجوکیشن)

یہ اہداف اپنے ناموں سے کتنے خوش نما ، متاثر کن اور انسان دوست لگتے ہیں۔ مگر یہ تمام اہداف بل گیٹس فطرت کی کاریگری میں مداخلت اور اپنے خاکے میں ڈھالنے کے لیے متعین کرتا ہے۔ کورونا وائرس عالمی صحت کے ایجنڈے کے ذیل میں دنیا کی نئی صورت گری کررہا ہے۔ صرف اسے سمجھ لینے سے ہی اندازا ہو جاتا ہے کہ دنیا کتنا بھیانک روپ دھار رہی ہے اور اس کی تخلیق میں کوشاں لوگ کتنے سفاک ، شقی القلب اور درندہ صفت ہیں۔ بل گیٹس کے عزائم 1992 میں اقوام متحدہ کی ’’ایجنڈا 21‘‘ نامی کانفرنس اور 2010 کی کیلیفورنیا میں منعقدہ ٹی ای ڈی کانفرنس سے خطاب کے ذریعے پوری طرح عیاں ہو جاتے ہیں،(جس کا تذکرہ گزشتہ کالم میں ہوچکا ہے)۔گلوبل ہیلتھ کے نام پر بل گیٹس کی جاری سرگرمیوں کا احاطہ کیا جائے تو دو پہلوؤں سے وہ دنیا میں بالکل مختلف اور فطرت سے باغیانہ اہداف سے جڑا ہوا ہے۔ ان میں سے ایک جینیاتی طور پر تبدیل شدہ فصلیں اُگانے کا خوف ناک منصوبہ ہے۔

اس منصوبے کے ذریعے بیج میں تبدیلیاں لائی جارہی ہیں اور پورے کارخانہ قدرت کو ہی تبدیل کیا جارہا ہے۔ اسے ایک اصطلاح ’’جی ایم فوڈ‘‘ (Genetically modified foods)سے زیر بحث لایا جاتا ہے۔ کارخانۂ قدرت کے انمول خزانے کی فطری ، قدرتی اور حقیقی اشیاء کے’’ ڈی این اے‘‘ کو جینیاتی انجینئرنگ کے مختلف طریقوں سے بدل کر مختلف اور تغیر پزیر بیجوں اور نسلوں کی فصلیں پیدا کی جارہی ہیں۔ فطرت سے چھیڑ چھاڑ کے ساتھ جاری اس جنگ کو بھی ایک بہت مقدس ورق میں لپیٹا گیا ہے جسے بل گیٹس دنیا میں بھوک کے خاتمے کے لیے ضروری خیال کرتا ہے۔ مگر درحقیقت یہ سارا ایک کاروبار ہے۔ یہ سب فوڈ سیفٹی ، قواعد ، نشانات (لیبل) ، ماحولیاتی اثرات ،طریقۂ تحقیق اورکچھ جی ایم بیج پلانٹ کی تمام نئی اقسام کے ساتھ مختلف کارپوریشنوں کے زیر ملکیت پودے پالنے والوں کے حقوق سے مشروط ہیں۔اس پورے کھیل کو سائنسی ، حفظانِ صحت کے عین مطابق اور کسی خطرے سے پاک باور کرانے کے لیے بل گیٹس کا وہی خیراتی ادارہ ’’بِل اینڈ میلینڈاگیٹس فاؤنڈیشن‘‘سائنس دانوں اور صحافیوں کو باقاعدہ خریدتا ہے۔ا س طریقۂ کا ر کا ایک معمولی مشاہدہ آپ اپنے شہر کراچی میں کرسکتے ہیں۔ جہاں قدرتی دودھ کے خلاف اور کارخانوں کے بنائے دودھ کے حق میں باقاعدہ ایک مہم چلائی جارہی ہے جس کا حصہ ڈاکٹر ٹیپو سلطان اور ڈاکٹر قیصر سجاد جیسے لوگ بن گئے ہیں۔ یہ سب ایک منافع بخش نفسیات سے رچائے جانے والے منصوبے ہوتے ہیں۔یہاں اس بے ہودگی کی تفصیلات بیان کرنے کا موقع نہیں۔

آمدم برسرِ مطلب!بل گیٹس کے اس مکروہ، متعفن اورمذموم کھیل کے خلاف گھانا کی ایک نیوز سائٹ نے خبر لگاتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے چار سو ڈاکٹرز ، سائنس دان اور صحافیوں کو خریدا گیا ہے جو جینیاتی طور پر تبدیل شدہ فصلیں اُگانے کے حق میں باقاعدہ مہم چلا رہے ہیں۔یہ مہم کیا اورکس لیے تھی، ذرا تفصیل جان لیں۔افریقا میں ایک منصوبہ جینیاتی طریقے سے تبدیل کرکے ایک مصنوعی بیج سے چاول اُگانے کا بنایا گیا۔ مہم کے ذریعے اس منصوبے کو قابل قبول بنانے کے لیے افریقا میں بھوک کے خاتمے کی آڑ لی گئی۔ لیکن اس کے ذریعے جس اصل منصوبے کو پورا کیا گیا وہ امریکا کی زرعی کمپنیوں کے لیے افریقا کی منڈیوں کا حصول تھا۔
بھوک کے خاتمے کی آڑ میں افریقا کے مقامی کسان کو بے روزگار کردیا گیا اور بل گیٹس اس پورے منصوبے کا مددگار رہا۔ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ اس چاول کا نام ’’گولڈن رائس‘‘ رکھا گیا جسے ’’Monsanto ‘‘نامی کارپوریشن تیار کرتی ہے، جس میں بل گیٹس پانچ لاکھ حصص رکھتا ہے۔ کمال یہ ہے کہ جب کسان بے روزگار ہو کر خودکشی کررہے تھے، مصنوعی بیج قدرتی زمین کو اگلی نسلوں کے لیے بیکار کررہے تھے۔ افریقی منڈیاں امریکی کارپوریشنز کی جھولی میں گررہی تھیں، مقامی طور پر بھوک میں اضافہ ہورہا تھا تو گیٹس فاؤنڈیشن کے زر خریدچار سو سائنسدان ، ڈاکٹرز اور صحافی افریقا میں بھوک کے خاتمے اور ترقی کے گیت گارہے تھے۔مائیکرو سوفٹ کے بانی کے مختلف منصوبے جنوب مشرقی ایشیا میں بھی یہی ہلچل مچا رہے ہیں۔ بل گیٹس ان حرکتوں کے کثیر الجہتی تناظر میں ہی شیطان کے طور پر ایک ’’برانڈ‘‘ بنتا ہے۔

بل گیٹس کے نام کے ساتھ انسان دوستی کا ایک دھوکا چپکا ہوا ہے ، مگر وہ اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لیے انسان دشمنی میں کسی حد تک بھی گرنے کو تیار رہتا ہے۔ مثال دیکھیے! بل گیٹس کی فاؤنڈیشن ڈائن کورپ نامی ایک کمپنی میں سرمایہ کاری کرتی ہے، یہی کمپنی عراق جنگ میں عسکری سازوسامان فروخت کرتی ہے۔ اس کمپنی پر الزامات کی فہرست نہایت طویل ہے۔ یہ کمپنی افغانستان میں مختلف بچوں کو نسوانی لباس پہنا کر رقص کروانے میں ملوث رہی ۔ ضرورت مند لڑکوں کو چند پیسوں کے عوض ایک دفعہ اس طرح کے رقص کی ترغیب دے کر حاصل کی جانے والی یہ ویڈیوز پھر پاکستان میں مختلف لبرل لکھاریوں کے ہاتھوں ’’خام مواد‘‘ بن جاتی ہے جو اسے افغانستان کی مختلف تعبیروں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ دھندا مستقل جاری ہے۔ اسی کمپنی پر بوسنیا میں جنسی غلامی کے دھندے کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔ اس کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ میں لوگوں کو غلام بنا کررکھنے جیسے مکروہ دھندے میں بھی اسے ملوث سمجھا جاتا ہے۔ ڈائن کورپ میں بل گیٹس کی سرمایہ کاری کا ایک پہلو یہ ہے کہ جب امریکا نے عراق پر اپنا قبضہ مکمل کر لیا تو انسانوں کا یہ مسیحا حرکت میں آیا۔ اُس نے عراق سے مختلف فصلوں کے نمونے لے کر اُسے محفوظ کیا۔ اب وہ ان بیجوں میں مختلف جینیاتی تبدیلیاں لا کر مستقبل میں ہر قسم کی فصلوں پر اپنا اجارہ چاہتا ہے۔ یہ کھیل جاری ہے جس کے تحت چاول ، کھجور اور گندم سے لے کر تمام انسانی ضروریات پر محیط فصلوں کو وہ اپنے مصنوعی بیجوں سے آبیاری دینا چاہتا ہے۔ یوں خدا کی زمین کی نمی ، زرخیزی اور نامیاتی ترکیب کو وہ اپنے کھیل کا حصہ بنا دینا چاہتا ہے۔

بل گیٹس کی جانب سے بیجوں سے چھیڑ چھاڑ اور قدرتی فصلوں کو انسانی منصوبے میں ڈھالنے کا یہ منصوبہ اس لیے تفصیل سے بیان کیا گیا تاکہ یہ امر سمجھ میں آسکے کہ وہ وائرسزکے ساتھ بھی اسی نوع کی چھیڑچھاڑ میں ملوث ہے۔ فصلوں میں تبدیلی کو وہ جس بھوک کے خاتمے اور انسانی ضروریات کی تکمیل کے لیے ناگزیرقرار دیتا ہے، وائرس سے بھی وہ یہی ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس ضمن میںا س کا سب سے بڑا ہدف آبادی ہے۔ اس کے نزدیک انسانی آبادی حد سے زیادہ ہے۔ اسے کنٹرول کرنے کے لیے ایک طرف آبادی کو مختلف طریقوں سے کم کرنا ضروری ہے تو دوسری طرف مستقبل کی نسل کی تولیدی صحت کو اپنے قابو میں رکھنا ضروری ہے۔ اس دو جہتی منصوبے کویہ دو طرح سے پورا کررہا ہے، وائرس اور ویکسین۔ اس منصوبے کے خدوخال کو اگلی تحریر پر اُٹھا رکھتے ہیں، اہم بات یہ ہے کہ کورونا وائرس اس بڑے منصو بے کا ایک ہتھیار ہے۔ جسے خوف زیادہ تقویت دے رہا ہے۔ دنیا کو اپنی ڈھب پر دیکھنے والے ان پاگلوں کو ہم اپنی بے خوفی اور شعور سے ہی شکست دے سکتے ہیں۔ جب تک یہ نہیں ہوگا ان کا بھرم باقی رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں