وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نئی دہلی ایک ’’ارضی دوزخ‘‘

پیر 02 مارچ 2020 نئی دہلی ایک ’’ارضی دوزخ‘‘

کہتے ہیں کہ دلّی اَب تک سات بار اُجڑی ہے اور سات بار بسی ہے لیکن اِس بار اجڑنے والے شہر کا نام دلّی نہیں دہلی ہے ۔ بھارت کے ارباب و اختیار نے سوچا ہوگا کہ دلّی بار بار اُجڑ جاتی ہے تو پھر کیوں نہ اِس شہر خراب حال کا نام ہی تبدیل کردیا جائے تاکہ اِس بدقسمت دیار کو پھر سے اُجاڑا نہ جا سکے ۔ یوں دلّی کے دل والوں نے اپنی دانست میں دلّی کا نام بدل کر نئی دہلی رکھ دیا۔ مگر شاید اُنہیں معلوم نہ تھا کہ فقط شہر کا نام بدلنے سے ہی نصیب نہیں بدلتا ۔ بلکہ قسمت بدلنے کے لیے شہر کے ارباب و اختیار کو اپنے اعمال و افعال،افکار و نظریات کے بدلنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔ دلّی کو نئی دہلی بنانے والوں نے اِس شہر کو سنوارنے کے لیے کیا کچھ نہ کیا ،جگہ جگہ سبزے کی آب یاری کی ،بلند و بالا عمارتیں تعمیر کیں ،فراٹے مارتی جدید میٹرو ٹرین اور بسیں چلائیں ،چم چماتی ہوئی سڑکیں بنائیں اگر کچھ نہ کرسکے تو وہ یہ کہ دہلی میں بسنے والے لاکھوں لوگوں کے ذہنوں میں ایک دوسرے کے لیے احترام کا رتی بھر جذبہ نہ پیدا کرسکے ، مذہبی ہم آہنگی کی رائی کے دانے برابر جوت نہ جگا سکے اورمروت و رواداری کا کوئی چھوٹا سا ایسا پُل نہ بناسکے ،کہ جس پر چل کر نئی دہلی کے باسی ایک دوسرے کے ساتھ بلاتفریق و مذہب سماجی رشتہ قائم کرسکیں۔جس کا آج یہ منفی نتیجہ برآمد ہورہا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کا دارلخلافہ نئی دہلی ،دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور امریکا کے سربراہ ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد کے عین موقع پر سلگتی ہوئی ایک’’ ارضی دوزخ ‘‘کا منظر پیش کررہا ہے ۔

نام نہاد سیکولر بھارت جو ہمیشہ سے اپنے پڑوس میں نفرت ،دہشت اورتخریب کاری کے شعلے بھڑکا کر بڑے اطمینان سے اپنے ہاتھ سینکاکرتا آیا ہے ، اَب اُسی بھارت کے عین قلب یعنی نئی دہلی میں مذہبی منافرت کی آگ کا دہکتا ہوا الاؤ پوری طرح سے سلگ چکاہے اور انتہا پسند بھارتی کوڑھ مغزوں کی ہندوانہ تنگ نظری اور جہالت کی شاہ کار حکمت عملی ملاحظہ ہوکہ بجائے دہلی میں تیزی سے بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں کو پیار ،محبت ،اَمن و آشتی کے پانی سے بجھانے کے اِس آگ پر مسلم دشمنی کا پیٹرول چھڑکنے پر مصروف ہیں ۔پاکستانی نہیں بلکہ بھارتی میڈیا میں پیش کی جانے والی رپورٹوں کے مطابق بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں مسلم کش فسادات میں اَب تک جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 42 سے زائد ہوگئی ہے اور 350 سے زائد شدید زخمی ہیں۔ اِس وقت دہلی کی سڑکوں پر پولیس کی سرپرستی میں انتہا پسند ہندوؤں کا باقاعدہ راج قائم کروادیا گیا ہے۔ہندو راشٹریہ سیوک کے مسلح جتھوں نے بڑی تعداد میں مسلمانوں کی دکانیں اور گھر نذر آتش کردیے ہیں جبکہ متعدد مساجد اور مزارات کو بھی شہید کردیا گیا ہے۔شہر میں شدید کشیدگی برقرار ہے اورنئی دہلی ایک جنگ زدہ علاقے کا اندوہ ناک منظر پیش کررہا ہے اور شہر میں جگہ جگہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات ہونے کے باوجود بھی بیشتر متاثرہ علاقوں میں دکانیں اور دفاتر مکمل طور پر بند ہیں،شہر کے تمام تعلیمی اداروں میں ہونے والے امتحانات ملتوی کردیئے گئے ہیں ۔پرتشددفسادات اور خون آشام ہنگاموں کے باعث دہلی شہر کی صورتحال اس قدر خراب ہوچکی ہے کہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے والی ایمبولینسوں پر بھی ہندو توا کے مسلح جتھوں کی جانب سے جان لیواحملے کیے جارہے ہیں۔
حالات کی سنگینی ملاحظہ ہو کہ رات کے دبیز اندھیرے میں ایک درخواست گزار نے ڈرتے ڈرتے عدالت عالیہ سے زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے تحفظ فراہم کرنے کی استدعا کی ،جس پر دہلی ہائی کورٹ نے رات کے آخری پہر میں جسٹس ایس مرلی دھر کے گھر پر اِس درخواست کی ہنگامی سماعت کی اور پولیس کو ایمبولینس اور زخمیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم جاری فرمایا۔جس کی پاداش میںبھارتی سرکار کی طرف سے اگلی صبح جسٹس ایس مرلی دھرکے کا جبری تبادلہ کردیا گیا ۔ دوسری جانب جواہر لال یونی ورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ دہلی کے نو منتخب وزیراعلیٰ ا روند کجریوال کے گھر کے باہر جمع ہوکرتشدد کے مرتکب افراد کے خلاف سخت سے سخت انتظامی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جبکہ فسادات اور ہنگاموں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے ساتھ بھی زبردست مار ،پیٹ کی جارہی ہے اور انہیں روک کر کہاجارہا ہے کہ علاقہ کی کوریج کرنے سے قبل اپنا ہندو توا ثابت کرو ۔عالمی صحا فتی تنظیموں کے مطابق بھارتی پولیس دہلی میں صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بُری طرح سے ناکام رہی ہے۔علاوہ ازیں دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے اپنی انتظامی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ’’ نئی دہلی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، بھارتی پولیس صورتحال قابو پانے کی کوشش بھی نہیں کررہی ہے۔ کرفیو کے نفاذاورفوج کوطلب کرنے کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھ چکا ہوں لیکن ابھی تک مجھے کہیں سے بھی اطمینان بخش جواب نہیں مل رہا ہے ‘‘۔

 

سادہ لفظوں میں کہا جائے تو اِس وقت پورا دہلی شہر ہی بارود کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکا ہے اور نام نہاد سیکولر بھارت کا نیرو یعنی وزیراعظم نریندر مودی اپنی مسند ِ اقتدار پر استراحت فرما کر سکھ اور چین کی بانسری بجارہا ہے اور بی جے پی کے بدمست انتہاپسندحواری خوف و دہشت کی دُھن پر موت کا شرمناک رقص کر نے میں مصروف ہیں ۔ شاید نریندر مودی اور امیت شاہ اپنی دانست میں خیال کیے بیٹھے ہیں کہ دہلی میں بھڑکنے والی ہولناک آگ میں فقط دہلی کے مسلمان ہی جلیں گے ۔ حالانکہ وہ نہیں جانتے نفرت کی آگ کے شعلے جب بے قابو ہوجائیں تو وہ پھر اُن ہاتھوں کو بھی جلا کر خاکستر کردیتے ہیں، جنہوں نے اِن شعلوں کو بھڑکایا ہوتا ہے ۔ کیونکہ نفرت کے نام پر بھڑکنے والی آگ کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ،کوئی نظریہ نہیں ہوتا اور کوئی عقیدہ نہیں ہوتا۔ویسے بھی جو لوگ نہیں جانتے اُنہیں ہم بتاتے چلیں کہ ماضی میں سات بار جب جب دلّی اُجڑی تھی ،اُس کے ساتھ ہی ہر بار پوراہندوستان بھی اُجڑ گیا تھا لہٰذا آٹھویں بار بھی جب دہلی اُجڑے گا تو اِس کے ساتھ ساتھ پورا ہندوستان بھی اُجڑ جائے گا۔ لیکن کیا آٹھویں بار دہلی پھر سے بس سکے گا فی الحال اِس متعلق یقین سے کچھ نہیں جاسکتاکیونکہ یہ باتیں ہمارے سوچنے کی نہیں ہیں بلکہ بھارت کے اُن ڈیڑھ ارب لوگوں کے سوچنے کی ہیں جنہوں نے اپنے دیش کا نصیب نریندر مودی کے قاتل ہاتھوں میں تھمادیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں