وجود

... loading ...

وجود
منگل 21 اپریل 2026

انیس بیس کا فرق۔۔ (علی عمران جونیئر)

اتوار 08 دسمبر 2019 انیس بیس کا فرق۔۔ (علی عمران جونیئر)

دوستو، نئے سال کی آمد آمد ہے ،بس کچھ ہی دن باقی ہیں جس کے بعد نیاسال شروع ہوجائے گا،دسمبر کا ایک عشرہ آج پورا ہورہا ہے، باقی دوعشرے رہ گئے، ان دوعشروں میں ریڈی میڈشاعروں کو اچانک سے یاد آئے گا کہ دسمبر جارہا ہے،طرح طرح کی تُک بندیاں ہوں گی، شاعری کی ـــ’’واٹ‘‘ لگائی جائے گی۔۔ پھر دسمبر کے آخری ہفتے میں نئے سال کی آمد پر نئے نئے عزائم سامنے آئیں گے،سال ختم ہوتے ہی مبارک بادوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جو جنوری کے آخر تک جاری رہے گا۔۔ لوگوں کی اکثریت مثبت سوچ کے ساتھ نئے سال کو خوش آمدید کہے گی، لیکن باباجی کا کہنا ہے کہ۔۔ جانے والے سال اور آنے والے سال میں اتنا کچھ خاص بدلاؤ نہیں آئے گا، جانے والے اور آنے والے سال میں بس انیس،بیس کا ہی فرق ہے۔۔

باباجی کے متعلق تو آپ لوگ اب کافی کچھ جاننے لگ گئے ہوں گے، یہ ہمارے عمررسیدہ ایسے دوست ہیں جو زندگی کے کافی نشیب و فراز دیکھ چکے ہیں،تجربے کی بھٹی میں تپ تپ کر نہ صرف ڈارک براؤن ہوچکے ہیں بلکہ ’’کندن‘‘ بھی ہوگئے ہیں۔۔ باباجی کی’’باریک‘‘ باتیں جب ہمارے دل کو لگتی ہیں تو ہم اپنے احباب سے ضرور شیئر کرتے ہیں۔۔ ان کی باتیں اور واقعات اتنے ’’لذیذ‘‘ اور پرلطف ہوتے ہیں کہ دل چاہتا ہے بندہ سنتا ہی چلا جائے، آئے روز بعد نماز عشا ان کے ساتھ انہی کے گھر میں بیٹھک لگتی ہیں جہاں ہمارے علاوہ ہمارے پیارے دوست بھی موجود ہوتے ہیں۔۔ہمارے پیارے دوست اور باباجی کی آپس میں کبھی بنتی نہیں، یوں سمجھ لیں کہ دونوں کا آگ پانی کا معاملہ ہے۔۔ایک دوسرے کو دیکھ کر ’’چوکنا‘‘ ہوجاتے ہیں۔۔لیکن ہماری موجودگی کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے کو برداشت بھی کرلیتے ہیں۔۔جب یہ دونوں موجود ہوتے ہیں تو جگت بازی اور باریک باتوں کا ایسا سماں بندھ جاتا ہے کہ دل بیساختہ واہ واہ کہتا ہے۔۔باباجی فرماتے ہیں۔۔جب کبھی کوئی مورخ پاکستان کی تاریخ لکھے گا تو وہ لکھے گا کم ہنسے گا زیادہ۔۔وہ مزید فرماتے ہیں کہ ماہر نفسیات ایک ایسا شخص ہوتا ہے جو آپ سے وہی سوال انتہائی مہنگے داموں پوچھتا ہے جو آپ کی بیوی مفت میں پوچھتی ہے۔۔۔ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں کہ ۔۔اگر آپ کے دوستوں کی تعداد سر کے بالوں کے برابر ہے تو اکڑیں نہیںان کی ضرورت پڑنے پر آپ خود کو گنجا پائیں گے ۔۔وہ مزید فرماتے ہیں۔۔اس ملک کی اصل بدقسمتی تو یہ ہے کہ ملک چلانے کے قابل لوگ تو حکومت میں ہونے کے بجائے سوشل میڈیا پر بیٹھے ہیں۔۔ہمارے پیارے دوست کا ہی کہنا ہے کہ۔۔فرض کریںاگر آج سقراط دوبارہ پیدا ہوجائے اورفیس بک جوائن کرلے تو وہ تو اپنے نام کے اقوال پڑھ پڑھ کے دوبارہ زہر کا پیالہ پی لے گا۔۔

بات ہورہی تھی،دسمبر اور اس کی سرد شاموں کی۔۔ابھی ایک ماہ پہلے کی ہی بات ہے۔۔کسی سوتے ہوئے کو جگانا ہوتا تھا تو پنکھا بند کردیتے تھے اب یہی کام پنکھا چلا کر کیا جاسکتا ہے۔۔باباجی فرماتے ہیں کہ۔۔ جو لوگ خود گھر کو تالا لگانے کے بعد دو بار تالا کھینچ کردیکھتے ہیںوہ لوگ کسی پہ بھروسہ نہیں کرسکتے۔۔انہی کا فرمان عالی شان ہے کہ۔۔اگر اس قوم سے سیاسی گفتگو کا حق چھین لیا جائے تو یہ قوم گونگی ہوجائے گی۔۔۔۔بچوں کے معروف کردار انکل سرگم سے جب پوچھا گیا کہ نیاسال کیسے منانا چاہیئے؟؟ تو انکل سرگم کا کہنا تھا کہ۔۔نیا سال ویسے ہی منانا چاہیے جیسے انگریز مناتا ہے اس لیے کہ مال بھی انگریز کا اور سال بھی انگریز کا۔ ہمارا تو صرف وہی حال ہے کہ مہنگائی کا جال ہے، پانی گیس کا کال ہے، مہنگا آٹا دال ہے، امیر یہاں خوش حال ہے اور روتا غریب کا بال ہے۔ بقول سرگم اگر مہنگائی کا یہی عالم رہا تو غریب کی حالت عنقریب ایسی ہو جائے گی جیسے ایک صاحب کسی کے گھر گئے اور وہاں بلی کو دیکھ کر بولے، آپ کی بلی تو بالکل شیر لگ رہی ہے، کیا کھلاتے ہیں آپ اس بلی کو؟۔۔ وہ صاحب بولے، جناب یہ بلی نہیں شیر ہی ہے، بیچارے کو وزیر اعظم کے لنگر ہاؤس سے کھانا ملتا ہے۔۔۔ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ۔۔دسمبر کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ گیس کی لوڈشیڈنگ بڑھ جاتی ہے۔۔اور مرغا بھی ہانڈی سے نکل کر کہتا ہے کہ ۔۔بہن جی!آپ کی گیس نہیں آ رہی تھی تو اتنی سخت سردی میں میری وردی کیوں اْتار دی؟؟

باباجی کی باتیں ہورہی ہیں تو ان کا مزید تعارف بھی کراتے چلیں۔۔معصوم اتنے ہیں کہ دودھ والے سے کہنے لگے، ایک کلو بھینس کا دودھ دے دو۔۔دودھ والے نے کہا،تمہارا برتن چھوٹا ہے۔۔کہنے لگے، تو پھر بکری کا دودھ دے دو۔۔نوجوانی میں اپنی گرل فرینڈ سے ملنے ان کے گھر پہنچ گئے۔۔دروازے پر دستک دی،اندر سے نسوانی آواز آئی، کون؟؟ باباجی نے کہا، میں۔۔اندر سے نسوانی آواز نے دوبارہ پوچھ لیا کہ۔۔میں کون؟؟۔۔باباجی مسکراکرکہنے لگے۔۔لے دس،کملی توں ’’پینو‘‘ ہور کون۔۔۔ماسٹر صاحب نے کاہلی پر مضمون لکھ کر لانے کو کہا۔۔باباجی کی کاپی چیک کی تو تمام صفحات خالی تھے۔۔۔آخری صفحے پے لکھا تھا۔۔اسے کہتے ہیں کاہلی۔۔باباجی تو باباجی ان کی زوجہ ماجدہ بھی باباجی سے کسی طور کم نہیں۔۔ایک روز باباجی سے کہنے لگیں۔۔ آپ نے جو گلاب کی قلم لگائی تھی اس کی جڑ ابھی تک پیدا نہیں ہوئی۔۔ باباجی نے حیران ہوکر پوچھا۔۔ تمہیں کیسے معلوم؟ وہ کہنے لگیں۔۔ میں روزانہ اس کو نکال کر دیکھتی ہوں۔۔۔جب باباجی کی منگنی ہوئی تو ایک روز وہ کہنے لگیں۔۔ میں شادی کے بعد تمہارے سارے دکھ بانٹ لوں گی۔۔باباجی نے کہا، لیکن مجھے تو کوئی دکھ ہی نہیں۔۔وہ بولیں۔۔ میں شادی کے بعد کی بات کررہی ہوں۔۔

دسمبر کراچی میں شادیوں کا سیزن بھی ہوتا ہے، جتنی شادی پورے سال نہیں ہوپاتیں اسی ماہ سرانجام پاتی ہیں۔۔ایک روز ہم اپنے ایک عزیز کی شادی میں جانے کی تیاری کررہے تھے، باباجی نے موقع کی مناسبت سے ہمیں مخاطب کیا اور کہنے لگے۔۔جب بھی شادی پر جاؤ تو یہ 5 نصیحتیں لازمی یاد رکھنا۔۔رشیئن سلاد سب سے پہلے اپنی پلیٹ میں بھرلوکیوں کہ یہ ایک بارختم ہوگئی تو دوبارہ نہیں ملتی۔۔دوسرا پوائنٹ، آئس کریم، قلفی، قلفہ، فیرنی، کسٹرڈ،سلاد جب بھی ڈالو،بڑی پلیٹ میں ڈالو، کیوں کہ چھوٹی پلیٹ میں کم چیز بھی زیادہ لگتی ہے اور بڑی پلیٹ میں زیادہ بھی کم ہی لگے گا۔۔اپنی پلیٹ میں دو،تین چمچ ایکسٹرا سجا کر رکھنا،دیکھنے والے یہی سمجھیں کہ ایک پلیٹ میں باقی کے دوتین لوگ بھی مل کر کھائیں گے۔۔اگر شادی میں ریگولربوتل رکھی گئی ہیں تو پہلے جلدی سے دو بوتلوں کو تھوڑی تھوڑی پی کر وہیں سامنے رکھیں اور تیسری بوتل کو مزے لے لے کر ختم کریں،کیوں کہ پہلی دو کم مقدار والی بوتل کو جھوٹا سمجھ کر کوئی بھی نہیں پیئے گااور پھر آرام سے حسب ضرورت ان دونوں بوتلوں کو بھی پی لیں۔۔اور آخر میں سب سے اہم نصیحت، زیادہ بوٹیاں کھانے کے لیے آدھا نان ہاتھ میں پکڑ کر اب باری باری ہر بوٹی کو اس نان پر رکھ کر کھائیں تاکہ لوگ یہی سمجھیں گے کہ آپ نان بھی ساتھ کھا رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ وجود - منگل 21 اپریل 2026

ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو وجود - منگل 21 اپریل 2026

صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف وجود - منگل 21 اپریل 2026

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان وجود - منگل 21 اپریل 2026

عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

مضامین
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار وجود منگل 21 اپریل 2026
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار

انسان ہونا آسان نہیں! وجود منگل 21 اپریل 2026
انسان ہونا آسان نہیں!

مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ وجود منگل 21 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ

آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش وجود پیر 20 اپریل 2026
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش

مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد وجود پیر 20 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر