وجود

... loading ...

وجود

انیس بیس کا فرق۔۔ (علی عمران جونیئر)

اتوار 08 دسمبر 2019 انیس بیس کا فرق۔۔ (علی عمران جونیئر)

دوستو، نئے سال کی آمد آمد ہے ،بس کچھ ہی دن باقی ہیں جس کے بعد نیاسال شروع ہوجائے گا،دسمبر کا ایک عشرہ آج پورا ہورہا ہے، باقی دوعشرے رہ گئے، ان دوعشروں میں ریڈی میڈشاعروں کو اچانک سے یاد آئے گا کہ دسمبر جارہا ہے،طرح طرح کی تُک بندیاں ہوں گی، شاعری کی ـــ’’واٹ‘‘ لگائی جائے گی۔۔ پھر دسمبر کے آخری ہفتے میں نئے سال کی آمد پر نئے نئے عزائم سامنے آئیں گے،سال ختم ہوتے ہی مبارک بادوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جو جنوری کے آخر تک جاری رہے گا۔۔ لوگوں کی اکثریت مثبت سوچ کے ساتھ نئے سال کو خوش آمدید کہے گی، لیکن باباجی کا کہنا ہے کہ۔۔ جانے والے سال اور آنے والے سال میں اتنا کچھ خاص بدلاؤ نہیں آئے گا، جانے والے اور آنے والے سال میں بس انیس،بیس کا ہی فرق ہے۔۔

باباجی کے متعلق تو آپ لوگ اب کافی کچھ جاننے لگ گئے ہوں گے، یہ ہمارے عمررسیدہ ایسے دوست ہیں جو زندگی کے کافی نشیب و فراز دیکھ چکے ہیں،تجربے کی بھٹی میں تپ تپ کر نہ صرف ڈارک براؤن ہوچکے ہیں بلکہ ’’کندن‘‘ بھی ہوگئے ہیں۔۔ باباجی کی’’باریک‘‘ باتیں جب ہمارے دل کو لگتی ہیں تو ہم اپنے احباب سے ضرور شیئر کرتے ہیں۔۔ ان کی باتیں اور واقعات اتنے ’’لذیذ‘‘ اور پرلطف ہوتے ہیں کہ دل چاہتا ہے بندہ سنتا ہی چلا جائے، آئے روز بعد نماز عشا ان کے ساتھ انہی کے گھر میں بیٹھک لگتی ہیں جہاں ہمارے علاوہ ہمارے پیارے دوست بھی موجود ہوتے ہیں۔۔ہمارے پیارے دوست اور باباجی کی آپس میں کبھی بنتی نہیں، یوں سمجھ لیں کہ دونوں کا آگ پانی کا معاملہ ہے۔۔ایک دوسرے کو دیکھ کر ’’چوکنا‘‘ ہوجاتے ہیں۔۔لیکن ہماری موجودگی کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے کو برداشت بھی کرلیتے ہیں۔۔جب یہ دونوں موجود ہوتے ہیں تو جگت بازی اور باریک باتوں کا ایسا سماں بندھ جاتا ہے کہ دل بیساختہ واہ واہ کہتا ہے۔۔باباجی فرماتے ہیں۔۔جب کبھی کوئی مورخ پاکستان کی تاریخ لکھے گا تو وہ لکھے گا کم ہنسے گا زیادہ۔۔وہ مزید فرماتے ہیں کہ ماہر نفسیات ایک ایسا شخص ہوتا ہے جو آپ سے وہی سوال انتہائی مہنگے داموں پوچھتا ہے جو آپ کی بیوی مفت میں پوچھتی ہے۔۔۔ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں کہ ۔۔اگر آپ کے دوستوں کی تعداد سر کے بالوں کے برابر ہے تو اکڑیں نہیںان کی ضرورت پڑنے پر آپ خود کو گنجا پائیں گے ۔۔وہ مزید فرماتے ہیں۔۔اس ملک کی اصل بدقسمتی تو یہ ہے کہ ملک چلانے کے قابل لوگ تو حکومت میں ہونے کے بجائے سوشل میڈیا پر بیٹھے ہیں۔۔ہمارے پیارے دوست کا ہی کہنا ہے کہ۔۔فرض کریںاگر آج سقراط دوبارہ پیدا ہوجائے اورفیس بک جوائن کرلے تو وہ تو اپنے نام کے اقوال پڑھ پڑھ کے دوبارہ زہر کا پیالہ پی لے گا۔۔

بات ہورہی تھی،دسمبر اور اس کی سرد شاموں کی۔۔ابھی ایک ماہ پہلے کی ہی بات ہے۔۔کسی سوتے ہوئے کو جگانا ہوتا تھا تو پنکھا بند کردیتے تھے اب یہی کام پنکھا چلا کر کیا جاسکتا ہے۔۔باباجی فرماتے ہیں کہ۔۔ جو لوگ خود گھر کو تالا لگانے کے بعد دو بار تالا کھینچ کردیکھتے ہیںوہ لوگ کسی پہ بھروسہ نہیں کرسکتے۔۔انہی کا فرمان عالی شان ہے کہ۔۔اگر اس قوم سے سیاسی گفتگو کا حق چھین لیا جائے تو یہ قوم گونگی ہوجائے گی۔۔۔۔بچوں کے معروف کردار انکل سرگم سے جب پوچھا گیا کہ نیاسال کیسے منانا چاہیئے؟؟ تو انکل سرگم کا کہنا تھا کہ۔۔نیا سال ویسے ہی منانا چاہیے جیسے انگریز مناتا ہے اس لیے کہ مال بھی انگریز کا اور سال بھی انگریز کا۔ ہمارا تو صرف وہی حال ہے کہ مہنگائی کا جال ہے، پانی گیس کا کال ہے، مہنگا آٹا دال ہے، امیر یہاں خوش حال ہے اور روتا غریب کا بال ہے۔ بقول سرگم اگر مہنگائی کا یہی عالم رہا تو غریب کی حالت عنقریب ایسی ہو جائے گی جیسے ایک صاحب کسی کے گھر گئے اور وہاں بلی کو دیکھ کر بولے، آپ کی بلی تو بالکل شیر لگ رہی ہے، کیا کھلاتے ہیں آپ اس بلی کو؟۔۔ وہ صاحب بولے، جناب یہ بلی نہیں شیر ہی ہے، بیچارے کو وزیر اعظم کے لنگر ہاؤس سے کھانا ملتا ہے۔۔۔ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ۔۔دسمبر کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ گیس کی لوڈشیڈنگ بڑھ جاتی ہے۔۔اور مرغا بھی ہانڈی سے نکل کر کہتا ہے کہ ۔۔بہن جی!آپ کی گیس نہیں آ رہی تھی تو اتنی سخت سردی میں میری وردی کیوں اْتار دی؟؟

باباجی کی باتیں ہورہی ہیں تو ان کا مزید تعارف بھی کراتے چلیں۔۔معصوم اتنے ہیں کہ دودھ والے سے کہنے لگے، ایک کلو بھینس کا دودھ دے دو۔۔دودھ والے نے کہا،تمہارا برتن چھوٹا ہے۔۔کہنے لگے، تو پھر بکری کا دودھ دے دو۔۔نوجوانی میں اپنی گرل فرینڈ سے ملنے ان کے گھر پہنچ گئے۔۔دروازے پر دستک دی،اندر سے نسوانی آواز آئی، کون؟؟ باباجی نے کہا، میں۔۔اندر سے نسوانی آواز نے دوبارہ پوچھ لیا کہ۔۔میں کون؟؟۔۔باباجی مسکراکرکہنے لگے۔۔لے دس،کملی توں ’’پینو‘‘ ہور کون۔۔۔ماسٹر صاحب نے کاہلی پر مضمون لکھ کر لانے کو کہا۔۔باباجی کی کاپی چیک کی تو تمام صفحات خالی تھے۔۔۔آخری صفحے پے لکھا تھا۔۔اسے کہتے ہیں کاہلی۔۔باباجی تو باباجی ان کی زوجہ ماجدہ بھی باباجی سے کسی طور کم نہیں۔۔ایک روز باباجی سے کہنے لگیں۔۔ آپ نے جو گلاب کی قلم لگائی تھی اس کی جڑ ابھی تک پیدا نہیں ہوئی۔۔ باباجی نے حیران ہوکر پوچھا۔۔ تمہیں کیسے معلوم؟ وہ کہنے لگیں۔۔ میں روزانہ اس کو نکال کر دیکھتی ہوں۔۔۔جب باباجی کی منگنی ہوئی تو ایک روز وہ کہنے لگیں۔۔ میں شادی کے بعد تمہارے سارے دکھ بانٹ لوں گی۔۔باباجی نے کہا، لیکن مجھے تو کوئی دکھ ہی نہیں۔۔وہ بولیں۔۔ میں شادی کے بعد کی بات کررہی ہوں۔۔

دسمبر کراچی میں شادیوں کا سیزن بھی ہوتا ہے، جتنی شادی پورے سال نہیں ہوپاتیں اسی ماہ سرانجام پاتی ہیں۔۔ایک روز ہم اپنے ایک عزیز کی شادی میں جانے کی تیاری کررہے تھے، باباجی نے موقع کی مناسبت سے ہمیں مخاطب کیا اور کہنے لگے۔۔جب بھی شادی پر جاؤ تو یہ 5 نصیحتیں لازمی یاد رکھنا۔۔رشیئن سلاد سب سے پہلے اپنی پلیٹ میں بھرلوکیوں کہ یہ ایک بارختم ہوگئی تو دوبارہ نہیں ملتی۔۔دوسرا پوائنٹ، آئس کریم، قلفی، قلفہ، فیرنی، کسٹرڈ،سلاد جب بھی ڈالو،بڑی پلیٹ میں ڈالو، کیوں کہ چھوٹی پلیٹ میں کم چیز بھی زیادہ لگتی ہے اور بڑی پلیٹ میں زیادہ بھی کم ہی لگے گا۔۔اپنی پلیٹ میں دو،تین چمچ ایکسٹرا سجا کر رکھنا،دیکھنے والے یہی سمجھیں کہ ایک پلیٹ میں باقی کے دوتین لوگ بھی مل کر کھائیں گے۔۔اگر شادی میں ریگولربوتل رکھی گئی ہیں تو پہلے جلدی سے دو بوتلوں کو تھوڑی تھوڑی پی کر وہیں سامنے رکھیں اور تیسری بوتل کو مزے لے لے کر ختم کریں،کیوں کہ پہلی دو کم مقدار والی بوتل کو جھوٹا سمجھ کر کوئی بھی نہیں پیئے گااور پھر آرام سے حسب ضرورت ان دونوں بوتلوں کو بھی پی لیں۔۔اور آخر میں سب سے اہم نصیحت، زیادہ بوٹیاں کھانے کے لیے آدھا نان ہاتھ میں پکڑ کر اب باری باری ہر بوٹی کو اس نان پر رکھ کر کھائیں تاکہ لوگ یہی سمجھیں گے کہ آپ نان بھی ساتھ کھا رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

مضامین
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

ہندوتوا کی حجاب کے خلاف مہم وجود منگل 16 جون 2026
ہندوتوا کی حجاب کے خلاف مہم

عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر