وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کچھ داغ اچھے نہیں ہو تے!

منگل 28 مئی 2019 کچھ داغ اچھے نہیں ہو تے!

امریکی گلو کار ڈریک گراہم نے اپنی البم ” اسکارپیو” کا گانا ” کی کی ،ڈویو لومی؟“ جون 2018 کے اواخر میں ریلیز کیا، امریکی مزاحیہ اداکار ” شیگی“ نے 29 جون کو اپنے انسٹا گرام اکاﺅنٹ پر ایک ویڈیو شیر کی جس میں اس نے چلتی گاڑی سے اتر کر اس گانے پر لب ہلائے اور اپنے فالوورز کو چیلنج دیا کہ وہ بھی ایسا کرکے دکھائیں، شیگی کے فالوورز کی تعداد 20 لاکھ سے بھی زیادہ ہے، دیکھتے ہی دیکھتے یہ ویڈیو وائرل ہو گئی، دیوانگی کے متوالے نوجوان دنیا بھر میں ایسی ہی حرکات پر مبنی اپنی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے لگے اور اسے ” کی کی چیلنج “ کا نام دے دیا گیا، پولینڈ سے تعلق رکھنے والی معروف سیاحتی ویڈیو بلاگر ایوازوبیک ( Eva Zu Beek ) ان دنوں پاکستان میں ہی تھی ، وہ قریب آٹھ ماہ پاکستان میں رہی اور اس نے پاکستان کے قدرتی حسن پر متعدد ویڈیوز ریکارڈ کیں اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں، اس نے سبز قمیض اور سفید پاجامہ پہن کر ڈریک گراہم کے گانے پر پرفارم کیا فرق یہ تھا کہ یہ گانا ایک خالی جہاز میں فلمایا گیا اور پولش حسینہ نے چلتی کار کے بجائے کھڑے طیارے سے اتر کر کی کی چیلنج پورا کیا، اس نے یہ ویڈیو اگست کے دوسرے ہفتے میں اپنے انسٹا گرام اکاﺅنٹ پر پوسٹ کی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی، عمومی طور پر پاکستانیوں کو اس پولش حسینہ کی یہ ادا بہت پسند آئی لیکن دیکھنے والوں میں کبچھ” باگڑ بلّے“ بھی شامل تھے، 15 اگست کی صبح قومی اخبارات میں قومی احتساب بیورو کے ترجمان کا یہ بیان شائع ہوا کہ چیئرمین نیب جسٹس( ر) جاوید اقبال نے اس ویڈیو کا نوٹس لے لیا ہے اور نیب کی جانب سے پی آئی اے کی انتظامیہ کو خط لکھا گیا ہے کہ وہ جواب دے کہ اس وی لاگر کو رن وے پر کھڑے قومی ائیر لائن کے طیارے تک رسائی کیسے حاصل ہوئی اور اُسے ایسی اٹھکیلیاں کرنے کی اجازت کس نے دی۔ ایوانے سٹ پٹا کر فوراً ہی معافی مانگ لی، میں نے جب یہ خبر پڑھی تو سوچا کہ نیب کتنا فارغ بیٹھا ہے؟ شاید ملک میں ہر قسم کی بدعنوانی ختم ہوچکی، رشوت ستانی کے سارے بازاروں میں ٹھنڈ پڑ چکی، قومی خزانے سے لوٹی گئی ساری رقوم برآمد ہوچکی اورسارے لیٹرے جیلوں میں چکی پیس رہے ہیں، پھر ذہن جھٹکا اور ایک لمحے کیلئے سوچا کہ چلو کیا برا ہے اگر ہر بے احتیاطی پر دامن پکڑے جانے کی روایت قائم ہوہی رہی ہے تو ” لٹیس ہوپ فاراے بیٹر ٹومارو“ مگر بیڑہ غرق ہو اس خوش گمانی کا، یہ بندے کو کہیں کا نہیں چھوڑتی۔ یہ تو عقدہ اب کھلا ہے کہ جس وقت پولش حسینہ “کی کی چیلنج” پورا کررہی تھی اس وقت خود موصوف چیئرمین نیب عمران ہاشمی کو بوس وکنار میں شکست دینے کا چیلنج پورا کرنے میں مصروف عمل تھے، موصوف ملزمان کی سر سے پاﺅں تک تفتیش پر یقین رکھتے ہیں پھر چاہے بیچ میں کچھ بھی آجائے ……..یا ……..( آڈیو میں سنسر ہوگیا تھا، قائدین خالی جگہیں خود پُر کرلیں)۔
چیئرمین نیب کے خلاب تین چار روز قبل نشر ہونے والی ویڈیو اور آڈیو کال میں جو خاتون دکھائی اور سنائی دے رہی ہیں اب ان کے حوالے سے کچھ بھی راز نہیں رہا صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اور ان کا شوہر دونوں بدعنوان ہیں انہوں نے لوگوں کے کروڑوں روپے نوسربازی کرکے ہڑپ لئے، ان کے خلاف قریب 46 مختلف ایف آئی آرز درج ہیں، نیب کو بھی متعدد شکایتیں موصول ہوتی رہیں اور مجموعی طور پر ان کے خلاف 6ریفرنسز بنائے جاچکے ہیں، یہ خاتون اور ان کا شوہر نہایت چلتے پُرزے معلوم ہوتے ہیں، انہوں نے مختلف بااثر حلقوں میں تعلقات بنا رکھے تھے، خاتون خود اب خم ٹھونک کر سامنے آچکی ہیں اور دعوے دار ہیں کہ چیئرمین نیب نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا، بلیک میل کرکے ناجائز خواہشات پوری کرنے پر مجبور کیا، ان پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے اور ان کے پاس مزید ویڈیوز بھی ہیں جو بھی چاھے ان ویڈیوز کی تصدیق کرواسکتا ہے کہ یہ اصلی ہیں یا جعلی، خاتون بھی دھائی دے رہی ہیں کہ انہیں انصاف دلوایا جائے، محترمہ خود جنوری سے مئی کے دوران چار ماہ جیل میں تھیں اور شوہر فاروق نول اب بھی جیل میں ہیں بہرحال حقائق کچھ بھی ہوں لوگوں کو خاتون کے بارے میں جاننے سے زیادہ دلچسپی یہ جاننے میں ہے کہ چیئرمین نیب کس حکیم سے استفادہ کرتے ہیں۔
پیپلزپارٹی اور ن لیگ دونوں کو اچانک چیئرمین نیب سے ہمدردی ہوچلی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب کو انصاف ملنا چاہئے، وہ اشاروں کنایوں میں اس ویڈیو کے افشاءہونے کی ذمہ داری براہ راست وزیر اعظم پر ڈال رہے ہیں، اس کی کڑیاں طاہر اے خان سے ملائی جارہی ہیں جن کے چینل نے یہ ویڈیو نشر کی اور وہ خود وزارت اطلاعات کے حوالے سے وزیر اعظم کی مشاورتی ٹیم میں شامل تھے، اس ویڈیو کے نشر ہونے کے بعد وزیر اعظم نے ان سے اظہار لاتعلقی کردیا ہے۔
اس اسکینڈل کے سامنے آنے سے پہلے پورے ایک ہفتے سے چیئرمین نیب کی کالم نگارجاوید چودھری سے ہونے والی ملاقات کا چرچا تھا، جاوید چودھری نے اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو کو کالم کی شکل میں دو اقساط میں تحریر کیا اور اس میں ایسی بہت سے باتیں رقم کیں جن پر لے دے جاری تھی کہ اچانک یہ اسکینڈل سامنے آگیا۔ جاوید چودھری کو دیئے گئے حسین نواز کے اُس انٹرویو کے حوالے سے پہلے ہی کئی کہانیاں سینہ بہ سینہ سفر کرتی رہی ہیں جس میں حسین نواز نے کہا تھا” الحمد اللہ پارک لین والے فلیٹس ہمارے ہیں“ لہٰذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس مرتبہ بھی انکی چیئرمین نیب سے ملاقات، اس ملاقات کی رودادپر مبنی کالمز اور پھر اچانک اس ویڈیو اور آڈیو کا سامنے آنا سب محض اتفاق ہے، یقیناً یہ سب ایک ہی تسبیح کے چند دانے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ یہ دانے پھیر کون رہا ہے اور یہ تسبیح ہے کس کے ہاتھ میں؟
اس خاکسار نے اس حوالے سے کی گئی صحافیانہ جستجو کے ذریعے حاصل شدہ معلومات کے مختلف ٹکڑوں کو جوڑ کر معمہ حل کرنے کی کوشش کی اور یہی نتیجہ قائم کرپایا کہ خود وزیر اعظم یا ایوان وزیر اعظم کے اس معاملے میں ملوث ہونے کا ذرا بھی امکان نہیں،بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس اسکینڈل کے افشاءہونے کے پیچھے شریف خاندان ہے وہ ماضی میں خواتین کو اس طرح کے اسکینڈلز بنانے کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں، عائشہ گلالئی اور ریحام خان اسکی تازہ مثالیں ہیں لیکن میری ناقص اطلاعات کے مطابق اس بار وہ ملوث نہیں بلکہ اس ڈرامےکا ایک اہم کردار ایک رئیل اسٹیٹ مافیا ڈان ہیں جن کی پشت پر ایک بڑے سیاسی خاندان کے داماد ہیں، اس خاندان کے قریب تمام ہی افراد اب دنیا سے جاچکے ہیں۔ جاوید چودھری، طاہر اے خان ، نجم سیٹھی اور احمد نورانی و دیگر چند کرداروں سے تفتیش کی جائے تو اصل ” گروگھنٹالوں“ کے ناموں کی تصدیق ہوسکتی ہے۔
اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو اس سوال کی زیادہ اہمیت نہیں رہ جاتی کہ اس اسکینڈل کو بریک کرنے کے پیچھے ہے کون، اس سے بڑا سوال ہے کہ یہ ویڈیو اور آڈیو اصلی ہے یا نقلی؟ اصلی اور نقلی کی سند بھلے ہی فراننسک ٹیسٹ کے بعد جاری ہوتی ہو لیکن انسان کو اللہ نے عقل سلیم عطا کی ہے ، وہ خود بھی جان سکتا ہے کہ اس میں کتنی سچائی ہے۔مجھ سمیت کوئی ایک بھی پاکستانی ایسا نہیں ہوگا جسے ان برقی شواہد کے اصلی ہونے میں کوئی شک ہو، اب اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ حقیقی شواہد ہیں تو پھر ہونا کیا چاہئے، کیا وہی جو حکومیت کررہی ہے، چیئرمین نیب پر اندھے اعتماد کا اظہار یا پھر تحقیقات؟
اس سوال کا جواب دینے سے پہلے قارئین کو یہیں روک کر اس معاملے میں پنہاں ایک گھمبیر بحران کی نشاندہی کرتا چلوں تو بے محل نہیں۔ خاتون طیبہ نول بڑی دیدہ دلیری سے دعویدار ہیں کہ ان کے پاس اور بھی ویڈیوز اور آڈیوز ہیں اور سب اصلی ہیں، اس خاتون کا پندرہ سال کا بیٹا ہے، اسے خود یہ احساس بھی نہیں کہ ساری دنیا کو چھوڑو اس کا اپنا بیٹا یہ ویڈیوز اور آڈیوز دیکھ سن کر کیا رائے قائم کرے گا، ان میں جس طرح یہ خاتون جسٹس ( ر) جاوید اقبال کو لُبھاتی اور دعوت عیش دیتی نظر آرہی ہیں اس سے ان کی مجبوری کا بخوبی علم ہوجاتا ہے ، ابھی دو ہفتے قبل ہی کراچی کے علاقے گلستان جوہر کی رہائشی ایک خاتون کا معاملہ سوشل میڈیا پروائرل ہوا تھا جو دہائی دے رہی تھیں کہ ان کی پندرہ سالہ بیٹی کو کسی نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے اور پولیس تعاون نہیں کررہی، جبران ناصر اور وقار ذکاءاس معاملے میں پڑے اور ایک دوسرے سے الجھ بھی پڑے بعدازاں یار لوگ خاتون کی ایک ایسی ویڈیو کھوج لائے جس میں وہ اسی مبینہ ” ریپسٹ“ کے ساتھ بوس و کنار اور رقص میں مصروف نظر آئیں اور انکی یہی پندرہ سالہ” بچی“ برابر والی نشست پر ماحول سے لطف اندوز ہوتی دکھائی دی۔ غضب خدا کا یہ ہو کیا گیا ہے ہماری ماﺅں کو ؟ یورپ اور امریکہ جہاں کی فحاشی و بے حیائی دنیا کیلئے ” معیار ‘ ہے وہاں بھی مائیں اپنے جوان بچوں کے سامنے ایسی حرکات نہیں کرتیں اس کیلئے گوشہ تنہائی کی تلاش کی جاتی ہے گویا پچھلے بارہ پندرہ سالوں میں ماں بننے والی ایک پود ایسی ہے جس کے اخلاقی معیارات تشوشناک حد تک پست ہوچکے ہیں اور اگر ہمارے مصلحین، اساتذہ ، سیاسی رہنماﺅں ، علمائے کرام اور قلمکاروں نے نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت سے مزید غفلت برتی تو خدانخواستہ جلد ہم بے غیرتی کے میدان میں باقی دنیا کو پیچھے چھوڑ جائیں گے پھر ایسی مائوں کی گود میں پلنے والی نسل سے اپنی ننھی “زینبوں” اور ” فرشتوں” کو بچانا ممکن نہ رھے،شاید آپ کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی ہو، اگر نہیں تو تیار رہئے آپ کی بیٹی کا نام زینب یا فرشتے نہ بھی ہو پھر بھی اُس کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں۔
اب آیئے واپس چلتے ہیں اسی سوال کی جانب کہ ہونا کیا چاہئے؟قومی احتساب بیورو کے ترجمان نے اپنے چیئرمین کی ایماءپر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ کسی بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہوں گے، ماشاءاللہ ، ان سے کوئی پوچھے کہ حضرت اب کیسی بلیک میلنگ آپ تو گنگا نہا بھی چکے، شاید کئی بار نہائے، آپ نے خاتون اور اس کے شوہر کو جیل بھی کروادی اب بچا کیا ہے، اگر کچھ بچا ہے تو وہ ہے آپ کی اخلاقی پوزیشن، آپ کا کردار اور آپ کا دامن۔ملزمان تو قانون کے حوالے ہوچکے چیئرمین نیب آپ ہوں یا کوئی اور اب معاملہ عدالتوں کے سپرد ہے آپ اپنا جواب تو دیں۔
انگریزی کی کہاوت ہے
You make yourself accountable and your sub-ordinates will hold themselves
( آپ خود محاسبے کیلئے تیار رہیئے تو اپنے ماتحتوں کو بھی تیار پائیں گے)
اب اگر نیب کا کوئی افسر کسی ملزمہ کو لیکر کسی گیسٹ ھاوس یافارم ھاوس میں مدھوش پڑا ہو گا تو چیرمین کے پاس کتنی اخلاقی جرات ہو گی کہ اس سے جواب طلبی کر سکے؟؟؟؟                       حکومت کے پاس مقررہ میعاد کی تکمیل سے قبل چیئرمین نیب کو عہدے سے برخاست کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں لیکن تحقیقات سے تو کوئی نہیں روک سکتا، وزیر اعظم کو چاہئے وہ فوراً ایف آئی آے کو اس معاملے کی مکمل انکوائری کرنے کا حکم دیں اور اچھی شہرت کے حامل کسی افسر کو تفتیشی افسر مقرر کیا جائے جو نہ صرف چیئرمین نیب سے تفتیش کرے بلکہ اس خاتون سے بھی اور طاہراے خان ، جاوید چودھری، چودھری غلام حسین، نجم سیٹھی، احمد نورانی وغیرہ سے بھی تفتیش کی جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے، چیئرمین نیب کے خلاف ” زنا بالرضا“ کے شواہد پائیہ تکمیل کو پہنچیں تو نہ صرف ان کے خلاف سرکاری مدعیت میں مقدمہ درج کیا جائے بلکہ یہ خاتون بھی ملزمہ کے طور پر اس مقدمے میں ملوث کی جائے اور مقدمہ عدالت کے سپرد کردیا جائے، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی پتہ لگا لیا جائے کہ اسکینڈل کو افشاءکروانے والے اصل لوگ کون تھے اور ان کے مقاصد کیا تھے-
کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ چیئرمین نیب کو کچھ بھی کہا گیا تو ملک میں چوروں کے احتساب کے عمل کو دھچکا پہنچے گا لہٰذا اس اسکینڈل کو ”پی“ لیا جائے یہ قطعاً درست نہیں، جاوید اقبال ناگزیر نہیں کیا وہ تاقیامت زندہ رہنے والے ہیں ان کی جگہ کوئی بھی آسکتا ہے کوئی فرق نہیں پڑتا، کچھ کا خیال ہے کہ یہ جسٹس ( ر) جاوید اقبال کی نجی زندگی کا ایک پہلو اور ان کا ذاتی معاملہ ہے، یقیناً ہوتا اگر یہ خاتون اور اس کا شوہر نیب کے روبرو زیر تفتیش نہ ہوتے۔
محتسب اعلیٰ جس منصب پر بیٹھے ہیں انہیں سب سے بلند اخلاقی حیثیت کا حامل ہونا چاہئے اور یہ منصب کڑے احتساب کا تقاضہ کرتا ہے، حضورا کرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ تم سے پہلے کی قومیں اس لئے برباد ہوگئیں کہ جب کوئی طاقتور جرم کرتا تھا تو ایسے چھوڑ دیا جاتا تھا، جس شخص کو کوئی بھی عورت شہوت دلاکر کپڑے اتروا لے وہ اس منصب پر بیٹھنے کا حق نہیں رکھتا،ھمیں سمجھنا ہو گا کہ  سیکھنے اور کھیل کود کے دوران بچوں کے کپڑوں پر لگ جانے والے داغ ضرور اچھے ہوتے ہوں گے مگر وہ نہیں جو بڑے بوڑھوں کے دامن پر لگ جائیں۔ مجھے امید نہیں کہ اس معاملے میں کچھ ہو گا بھی کیونکہ ھمارا پورا معاشرہ سمجھوتوں پہ استوار ھے ھر ایک کے پر دوسرے کے سامنے جلتے ہیں اور سب ھی ایک دوسرے سامنے کانے ہیں-
مجھے پولش وی لاگر یاد آرہی ہے، اسے اس اسکینڈل کا علم ہوا ہوگا تو ہنستے ہنستے پیٹ پکڑ کر دوہری ہوگئی ہو۔ پوچھتی ہو گی ” او کون لوگ ہو تم اوئے”


متعلقہ خبریں