وجود

... loading ...

وجود

امریکا ٹیکنالوجی میں چین کو نشانا بنارہا ہے

اتوار 10 فروری 2019 امریکا ٹیکنالوجی میں چین کو نشانا بنارہا ہے

برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ گزشتہ ہفتے واشنگٹن پہنچے جہاں ان کی کئی ( ترجمہ: عبدالرحیم)ملاقاتوں میں ایک اہم سوال زیر غور تھا کہ آیا برطانیا چین سے اپنے تعلقات کو خطرہ میں ڈال کر ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست پر رضامندی ظاہر کر دے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ چین کی سرکردہ ٹیلی مواصلات اکیوپمنٹ تیار کرنے والی کمپنی کو اگلی جنریشن ( 5G) کمپیوٹر او ر نیٹ ورکس تیار کرنے پر پابندی عائد کر دے۔ برطانیہ واحد امریکی حلیف نہیں ہے جو دباؤ محسوس کر رہاہے۔ پولینڈ میں حکام پر امریکا کا دباؤ ہے کہ ہواوی کو اپنی ففتھ جنریشن(5G) نیٹ و رک تیار کرنے پر پابندی عائد کر دیں۔ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے کہا ہے کہ مستقبل میں امریکی فوجی دستوں کی تعیناتی جس میں مستقل اڈہ فورٹ ٹرمپ کا قیام بھی شامل ہے ،کا انحصار پولینڈ کے فیصلے پر ہے۔
گزشتہ موسم بہار میں امریکی حکام کا ایک وفد جرمنی پہنچا جہاںیورپ کی اہم آپٹک لائنیں آپس میں ملتی ہے اور ہوا وی کمپنی وہ سوئچز تیا ر کرنا چاہتی ہے جن سے پورا سسٹم کام کرنے لگتاہے۔ ان کا پیغام تھا کہ نیٹو اتحاد کو سکیورٹی خطرہ سستا چینی ٹیلی کام اکوپمنٹ استعما ل کرنے کے اقتصادی فائدہ سے زیا دہ اہم ہے۔ گزشتہ برس امریکاچوری چھپے اور دھمکی دیکر عالمی مہم چلارہاہے تاکہ ہوا وی اور دوسری چینی کمپنیوں کو پلمبنگ کی دوبارہ تیاری سے روکے جو انٹرنیٹ کو کنٹرول کرتا ہے۔ اسے35 سال قبل تھوڑا تھوڑا کرکے مکمل کیا گیا تھا۔امریکی انتظامیہ کا موقف ہے کہ دنیا اسلحہ کی نئی دوڑ میں مصروف ہے جس کا تعلق روایتی دوڑ ہتھیاروں کی بجائے ٹیکنالوجی سے ہے لیکن اس سے امریکاکی قومی سلامتی کو اتنا ہی خطرہ لاحق ہے ۔ایسے دور میں ایٹمی ہتھیاروں کو چھوڑ کر سب سے زیادہ طاقتور ہتھیار سائبر کنٹرولڈ ہیں۔ جو ملک بھی 5G میں برتری حاصل کرے گا، اسے اس صدی کے زیادہ حصے تک اقتصادی ، انٹیلی جنس اور فوجی برتری حاصل ہوگی۔
5G کی طرف پیش رفت ہوچکی ہے۔ ڈالاس اور اٹلانٹا جیسے امریکی شہروں میں نقش اول کی تیاری جاری ہے۔ یہ تبدیلی ارتقائی کی بجائے انقلابی ہوگی۔ صارفین پہلے یہ دیکھنا چاہیں گے کہ آ یا یہ نیٹ ورک زیادہ تیز رفتار ہے۔ ڈیٹا کو سیل فون نیٹ ورکس پر بھی تقریبا فوراڈاؤن لوڈ ہونا چاہئے۔ یہ پہلا نیٹ ورک تیار کر لیا گیا ہے جو سنسرز، روبوٹس، خود کار گاڑیوں اور دوسری ڈیوائسز میں استعمال ہوگا جو مسلسل ایک دوسرے کو بڑی مقدار میں ڈیٹا فراہم کریں گے جس کے نتیجہ میں فیکٹریاں، تعمیراتی جگہیں اور پورے شہر بھی کم سے کم انسانی مداخلت سے چلیں گے۔ اس سے ورچوئل ریئلٹی اور مصنوعی ذہانت کے آ لات کا زیادہ استعمال ہوگا۔ لیکن جو چیز صارفین کیلئے اچھی ہے،وہ انٹیلی جنس سروسز اور سائبر حملہ آوروں کیلئے بھی اچھی ہے ۔5G سسٹم سوئچز اور روٹرز کا طبعی نظام ہے لیکن اس کا زیادہ انحصار پیچیدہ سافٹ ویئر کی تہہ در تہہ پر ہے جنہیں بہت زیادہ حالات کے مطابق ڈھا لا جا سکتا ہے اور تازہ ترین معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں۔ایسے طریقوں سے (جوصارفین کودکھائی نہیں دیتیں) جس طرح آئی فون خود بخود تازہ ترین معلومات فراہم کرتاہے جبکہ چارجنگ رات کے وقت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے جو بھی اس نیٹ ورک کو کنٹرول کرے گا، وہ معلومات کے بہاؤ کوکنٹرول کرے گا اور صارفین کے علم کے بغیر ڈیٹا اور راستہ تبدیل کر سکے گا اورنقل بھی تیار کرسکے گا۔
موجودہ اورسابق اعلیٰ امریکی حکام،انٹیلی جنس آفیسرز اور اعلیٰ کمیونیکشنز ایگزیکٹیو کے ساتھ انٹرویو کرنے کے بعد یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ممکنہ5G کے بارے میں ٹرمپ وہائٹ ہاؤس میں حساب لگایا گیا ہے کہ اسلحہ کی اس دوڑ میں جیتنے والا ایک ہونا چاہیے اور پیچھے رہ جانے والے کو راستے سے ہٹایا دیاجائے۔ کئی ماہ سے وہائٹ ہاؤس ایک ایگزیکٹیو آرڈر تیار کررہاہے جوآنے والے ہفتوں میں متوقع ہے جس کے تحت امریکی کمپنیوں پرپابندی ہوگی کہ وہ اہم ٹیلی مواصلات نیٹ ورکس میں چین میں تیار ہونے والا اکوپمنٹ استعمال نہ کریں۔ موجودہ قواعد کے تحت صرف گورنمنٹ نیٹ ورکس سے ایسے اکوپمنٹ پرپابندی عائد ہے۔امریکا میں چینی ٹیکنالوجی کے بارے میں طویل عرصے سے پریشانی پائی جاتی ہے اور یہ خوف لاحق ہے کہ چینی ٹیلی کام اینڈ کمپیوٹنگ نیٹ ورکس میں “بیک ڈور ” لگاسکتے ہیں جس سے چینی سیکورٹی سروسز امریکا کی فوجی،حکومت کی اورکارپوریٹ کمیونیکیشنز کا سلسلہ منقطع ہوسکتا ہے۔ امریکی کمپنیوں اور سرکاری اداروں میں چینیوں نے بارہا سائبر مداخلت کی ہے اورشکوک پائے جاتے ہیں کہ ہیکرز چین کی وزارت اسٹیٹ سیکورٹی کیلئے کام کررہے ہیں لیکن تشویش میں مزیداضافہ ہوا ہے کیونکہ دنیا بھر کے ممالک نے فیصلہ کرناشروع کردیا ہے کہ کون سے اکوپمنٹ فراہم کرنے والے اپنا5Gنیٹ ورک تیار کریں گے۔
ہواوی کمپنی پروائٹ ہاؤس کی توجہ ٹرمپ انتظامیہ کی چین کے خلاف سخت کارروائی سے ہے جس کے تحت چینی اشیاء پر محصول سرمایہ کاری کی پابندیاں اورمتعدد چینی باشندوں پر فرد جرم عائد کرنا ہے جن پر ہیکنگ اورسائبر جاسوسی کرنے کے الزامات ہیں ۔صدر ٹرمپ نے چین پر ہمارے ملک کو “دھوکا دینے “اور امریکا کے نقصان پرزیادہ طاقتور ہونے کی سازش کرنے کا الزام لگایا ہے۔تاہم بعض ممالک نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ آیا امریکی مہم واقعی قومی سیکورٹی کے بارے میں ہے یا اس کا مقصد چین کو برتری حاصل کرنے سے روکنا ہے۔صدر ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جان آربولٹن نے اس اہم اقتصادی مسئلے پرقابو پانے کے سلسلے میں کہا ہے کہ چین نہ صرف اقتصادی توازن کو بہتر بنائے بلکہ ان قواعد کی پابندی کرے جوہرملک کرتا ہے اورمستقبل میں سیاسی/فوجی قوت میں عدم توازن کو روکے۔ انہوں نے واشنگٹن ٹائمز کو بتایا کہ دونوں پہلوؤں کا ایک دوسرے سے تعلق ہے۔سانفورڈ سی برنسٹن جوایک انوسٹمنٹ مینجمنٹ اورریسرچ فرم کے ہانگ کانگ میں ٹیلی تجزیہ نگار کرس لین نے کہا ہے کہ ہربات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے او ر ان سمارٹ شہروں کا مرکزی اعصابی نظام آپ کا 5Gنیٹ ورک ہوگا۔
نیا سرخ خوف
ہواوی کمپنی کے بارے میں خوف زیادہ تر نظری ہے۔ اصل تشویش چینی کمپنی ہواوی کی بڑھتی ہوئی تکنیکی بالادستی کے بارے میں ہے۔ علاوہ ازیں چین کے نئے قوانین پریشان کن ہیں جن کے تحت ہواوی کمپنی چینی حکومت کی درخواستوں پر عمل کرتی ہے۔ہواوی کمپنی کے بانی رین زینگ فی نے اس امر کی تردید کی کہ ان کی کمپنی نے کبھی چین کیلئے جاسوسی کی۔انہوں نے کہا کہ میں ایسا کوئی کام نہیں کروں گا جس
سے کسی دوسرے ملک کو نقصان پہنچے۔آسٹریلیا نے گزشتہ سال ہواوی کمپنی اورایک اورچینی مینوفیکچرر ZTEکو 5G اکوپمنٹ فراہم کرنے پرپابندی عائدکی۔برطانیاکے حکام نے کہا کہ ہواوی کمپنی نے پرانے طرز کے نیٹ ورکس میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے اوربرطانوی باشندوں کو ملازم رکھا ہواہے کہ وہ ان کو تیار کریں اور پھر چلائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہواوی کمپنی آدھی یا اس سے زائد دنیا کے نیٹ ورکس چلائے گی اور اسے امریکا اور اس کے حلیفوں کے نیٹ ورکس سے کسی نہ کسی طرح جوڑے گی۔

شکوک و شبہات کا بڑھنا
اس ماہ پولینڈ کی حکومت نے جاسوسی کے سلسلے میں دو اعلیٰ چینی باشندوں کو گرفتار کرلیا۔ ان میں ایک سابق انٹیلی جنس اہلکار پبوٹر در بجلو اور دوسرا ہواوی کمپنی کا ملازم وانگ ویجنگ ہے۔ یہ گرفتاریاں سب سے ٹھوس ثبوت ہیں جو ہوا وی کمپنی کو جاسوسی سرگرمیوں میں ملوث کرتی ہے ۔تاہم ہوا وی کمپنی نے وانگ ویجنگ کو فوری طور پر برطرف کردیا جس پر چینی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے کام کرنے کا الزام تھا۔ایک سینئر امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ واضح مثال ہے کہ کس طرح چینی حکومت ہوا وی کے وسیع گلوبل نیٹ ورک کے اندر معلومات کے حصول کے لیے خفیہ طور پر افراد کو مامور کرتی ہے۔امریکا کی سائبر سیکورٹی کے ماہرین نے ہواوی کمپنی کے خفیہ کوڈ کے ذریعہ کونا کونا چھان مارا تاکہ بیک ڈورکا پتہ چلایا جاسکے۔ ان کی اطلاع کے بعد امریکی اور برطانوی اہلکاروں نے ہواوی کی استعداد کے بارے میں تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ہواوی کمپنی کو شین زین میں کمپنی کے ہیڈ کوارٹرز سے بعض نیٹ ورکس تک رسائی حاصل ہے اور ان کو کنٹرول کرتی ہے۔
تاہم محتاط جائزہ کے بعد ہوا وی کمپنی نے اپنے نیٹ ورک کنٹرول سافٹ ویئر میں جو کوڈ نصب کر رکھا ہے، وہ نہ تو دشمنی پر مبنی ہے اور نہ ہی وہ خفیہ ہے۔ یہ اس نظام کا حصہ ہے جو ریموٹ نیٹ ورکس کو تازہ ترین معلومات فراہم کرتا ہے اور کسی خرابی کا پتہ چلانا ہے لیکن بعض صورتوں میں شراکتی ادارہ کے ڈیٹا سینٹرز کے آس پاس ٹریفک کو رواں کرسکتا ہے جہاں فرمیں اپنے نیٹ ورکس کو مانیٹر اور کنٹرول کرتی ہیں اور اس کی محض موجودگی کو ثبوت کے طور پر پیش کیا جارہا ہے کہ ہیکرز یا ہواوی کمپنی اکوپمنٹ کو لاکھوں نیٹ ورکس میں داخل ہونے کے لئے استعمال کرسکتی ہے۔
امریکاجو الزام چین کی ہوا وی کمپنی پر لگا رہا ہے ،وہ خود بھی دوسروں کے معاملات کی ٹوہ میں رہتا ہے۔ 2010 میں نیشنل سیکورٹی ایجنسی نے خفیہ طور پر ہواوی کے ہیڈ کوارٹرز میں نقب زنی کی جسے ’’شاٹ دیو‘‘ کوڈ کا نام دیا گیا ۔ اس کا انکشاف سابق ایجنسی کنٹریکٹر ایڈورڈ جے سنوڈن نے جو آج کل ماسکو میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے ،کہا ہے کہ دستاویزات سے واضح ہے کہ نیشنل سیکورٹی ایجنسی شکوک و شبہات کو ثابت کرنے کی تلاش میں ہے کہ ہواوی کمپنی کو پیپلز آرمی خفیہ طور پر کنٹرول کرتی ہے۔ ہواوی کے بانی رین ژینگ فی نے کبھی بھی طاقتور آرمی یونٹ کو نہیں چھوڑا۔ سنوڈن کی دستاویزات سے واضح ہے کہ نیشنل سیکورٹی ایجنسی کا ایک اور مقصد ہواوی کمپنی کی ٹیکنالوجی کو بہتر طور پر سمجھنا اور ممکنہ بیک ڈورزکو تلاش کرنا ہے۔ اس طریقے سے جب ہواوی کمپنی امریکی حریفوں کو اکوپمنٹ فروخت کرتی ہے تو نیشنل سیکورٹی ایجنسی ان ممالک کے کمپیوٹرز اور ٹیلیفون نیٹ ورکس کوہدف بناسکے گی تاکہ کڑی نگرانی کی جاسکے اور اگر ضروری ہو تو جارحانہ سائبر اقدامات کیے جاسکیں۔دوسرے لفظوں میں امریکا ہواوی کمپنی کے ساتھ وہی کرنے کی کوشش کررہا ہے جس کے بارے میں اب اسے تشویش ہے کہ ہواوی کمپنی امریکہ کے ساتھ کرے گی۔
عالمی مہم
2013 میں برطانیا میں ہواوی کمپنی کی بڑھتی برتری کے بارے میں شورمچا تو ملک کی طاقتور انٹیلی جنس اینڈ سیکورٹی کمیٹی نے جو ایک پارلیمانی ادارہ ہے چائنیز سائبر حملوں کی بناء پر ہواوی کمپنی پر پابندی عائد کرنے کے حق میں دلائل دیے جس کا رخ برطانوی حکومت کی طرف تھا۔ اس خیال کو مسترد کردیا گیا لیکن برطانیہ نے ایسا نظام قائم کیا جس کے تحت ہواوی کمپنی سے کہا گیا کہ وہ اپنا ہارڈویئر اور خفیہ کوڈ ملک کی کوڈ بریکنگ ایجنسی GCHQ کو فراہم کرے۔جولائی میں برطانیہ کی نیشنل سائبر سیکورٹی سینٹر نے پہلی مرتبہ اعلان کیا کہ ہواوی کمپنی کے موجودہ طریق کار اور نئے 5G نیٹ ورک کی پیچیدگی اور محرکات کے بارے میں سوالات کا مطلب ہے کہ کمزوریوں کو تلاش کرنا مشکل ہوگا۔
عین اسی وقت ٹیلی مواصلات کے ایگزیکٹوز کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں میں نیشنل سیکورٹی ایجنسی نے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا ہواوی کمپنی کو امریکی 5G نیٹ ورکس کے پارٹس کے لئے بولی دینے کی اجازت دے جائے۔&T AT او ر ویری زون کمپنیوں نے دلائل دے کہ امریکہ میں ’’ ٹسٹ بیڈ‘‘ قائم کرنے کی اجازت دینے میں فائدہ ہے کیونکہ اسے اپنے نیٹ ورکنگ سافٹ ویئر کے لئے خفیہ کوڈ کو ظاہر کرنا پڑے گا۔ ہواوی کمپنی کو بولی دینے کی اجازت سے نیٹ ورکس قائم کرنے کی لاگت میں بھی کمی آئے گی۔ اس وقت کے نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل ایڈمرل مائیکل ایس راجرز نے اس اقدام کی منظوری نہیں دی اور ہواوی کمپنی کا راستہ روک دیا گیا۔جولائی 2018 میں برطانیہ، امریکا اور ’’FIVE EYES ‘‘ کے دوسرے ارکان کا انٹیلی جنس تبادلے کے اتحاد کا سالانہ اجلاس ہیلی فیکس (نوا سکوٹیا) ہوا جس میں چینی ٹیلی مواصلات کمپنیاں ہواوی اور 5G نیٹ ورکس میں ایجنڈے میں سرفہرست تھے۔ انہوں نے مغرب میں نیا نیٹ ورکس تیار کرنے سے ہواوی کمپنی کو روکنے کے لئے مشترکہ اقدامات کا فیصلہ کیا ۔
امریکی حکام دنیا بھر میں اپنے حلیفوں پر واضح کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ چین کے ساتھ جنگ محض تجارت کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کی سرکردہ جمہوریاؤں اور کلیدی ناٹو ارکان کے قومی تحفظ کی جنگ ہے۔امریکی انٹیلی جنس اداروں کے سربراہوں نے سینیٹ کے سامنے ہواوی کمپنی سمیت چینی ٹیلی کام کمپنیوں کی 5G سرمایہ کاریوں کو خطرہ کے طور پر پیش کیا ہے۔


متعلقہ خبریں


نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع وجود - اتوار 25 جنوری 2026

پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن وجود - هفته 24 جنوری 2026

بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مضامین
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟ وجود اتوار 25 جنوری 2026
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں! وجود اتوار 25 جنوری 2026
بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا وجود اتوار 25 جنوری 2026
ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا

بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس وجود اتوار 25 جنوری 2026
بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس

ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب وجود هفته 24 جنوری 2026
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر