وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

امریکا ٹیکنالوجی میں چین کو نشانا بنارہا ہے

اتوار 10 فروری 2019 امریکا ٹیکنالوجی میں چین کو نشانا بنارہا ہے

برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ گزشتہ ہفتے واشنگٹن پہنچے جہاں ان کی کئی ( ترجمہ: عبدالرحیم)ملاقاتوں میں ایک اہم سوال زیر غور تھا کہ آیا برطانیا چین سے اپنے تعلقات کو خطرہ میں ڈال کر ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست پر رضامندی ظاہر کر دے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ چین کی سرکردہ ٹیلی مواصلات اکیوپمنٹ تیار کرنے والی کمپنی کو اگلی جنریشن ( 5G) کمپیوٹر او ر نیٹ ورکس تیار کرنے پر پابندی عائد کر دے۔ برطانیہ واحد امریکی حلیف نہیں ہے جو دباؤ محسوس کر رہاہے۔ پولینڈ میں حکام پر امریکا کا دباؤ ہے کہ ہواوی کو اپنی ففتھ جنریشن(5G) نیٹ و رک تیار کرنے پر پابندی عائد کر دیں۔ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے کہا ہے کہ مستقبل میں امریکی فوجی دستوں کی تعیناتی جس میں مستقل اڈہ فورٹ ٹرمپ کا قیام بھی شامل ہے ،کا انحصار پولینڈ کے فیصلے پر ہے۔
گزشتہ موسم بہار میں امریکی حکام کا ایک وفد جرمنی پہنچا جہاںیورپ کی اہم آپٹک لائنیں آپس میں ملتی ہے اور ہوا وی کمپنی وہ سوئچز تیا ر کرنا چاہتی ہے جن سے پورا سسٹم کام کرنے لگتاہے۔ ان کا پیغام تھا کہ نیٹو اتحاد کو سکیورٹی خطرہ سستا چینی ٹیلی کام اکوپمنٹ استعما ل کرنے کے اقتصادی فائدہ سے زیا دہ اہم ہے۔ گزشتہ برس امریکاچوری چھپے اور دھمکی دیکر عالمی مہم چلارہاہے تاکہ ہوا وی اور دوسری چینی کمپنیوں کو پلمبنگ کی دوبارہ تیاری سے روکے جو انٹرنیٹ کو کنٹرول کرتا ہے۔ اسے35 سال قبل تھوڑا تھوڑا کرکے مکمل کیا گیا تھا۔امریکی انتظامیہ کا موقف ہے کہ دنیا اسلحہ کی نئی دوڑ میں مصروف ہے جس کا تعلق روایتی دوڑ ہتھیاروں کی بجائے ٹیکنالوجی سے ہے لیکن اس سے امریکاکی قومی سلامتی کو اتنا ہی خطرہ لاحق ہے ۔ایسے دور میں ایٹمی ہتھیاروں کو چھوڑ کر سب سے زیادہ طاقتور ہتھیار سائبر کنٹرولڈ ہیں۔ جو ملک بھی 5G میں برتری حاصل کرے گا، اسے اس صدی کے زیادہ حصے تک اقتصادی ، انٹیلی جنس اور فوجی برتری حاصل ہوگی۔
5G کی طرف پیش رفت ہوچکی ہے۔ ڈالاس اور اٹلانٹا جیسے امریکی شہروں میں نقش اول کی تیاری جاری ہے۔ یہ تبدیلی ارتقائی کی بجائے انقلابی ہوگی۔ صارفین پہلے یہ دیکھنا چاہیں گے کہ آ یا یہ نیٹ ورک زیادہ تیز رفتار ہے۔ ڈیٹا کو سیل فون نیٹ ورکس پر بھی تقریبا فوراڈاؤن لوڈ ہونا چاہئے۔ یہ پہلا نیٹ ورک تیار کر لیا گیا ہے جو سنسرز، روبوٹس، خود کار گاڑیوں اور دوسری ڈیوائسز میں استعمال ہوگا جو مسلسل ایک دوسرے کو بڑی مقدار میں ڈیٹا فراہم کریں گے جس کے نتیجہ میں فیکٹریاں، تعمیراتی جگہیں اور پورے شہر بھی کم سے کم انسانی مداخلت سے چلیں گے۔ اس سے ورچوئل ریئلٹی اور مصنوعی ذہانت کے آ لات کا زیادہ استعمال ہوگا۔ لیکن جو چیز صارفین کیلئے اچھی ہے،وہ انٹیلی جنس سروسز اور سائبر حملہ آوروں کیلئے بھی اچھی ہے ۔5G سسٹم سوئچز اور روٹرز کا طبعی نظام ہے لیکن اس کا زیادہ انحصار پیچیدہ سافٹ ویئر کی تہہ در تہہ پر ہے جنہیں بہت زیادہ حالات کے مطابق ڈھا لا جا سکتا ہے اور تازہ ترین معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں۔ایسے طریقوں سے (جوصارفین کودکھائی نہیں دیتیں) جس طرح آئی فون خود بخود تازہ ترین معلومات فراہم کرتاہے جبکہ چارجنگ رات کے وقت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے جو بھی اس نیٹ ورک کو کنٹرول کرے گا، وہ معلومات کے بہاؤ کوکنٹرول کرے گا اور صارفین کے علم کے بغیر ڈیٹا اور راستہ تبدیل کر سکے گا اورنقل بھی تیار کرسکے گا۔
موجودہ اورسابق اعلیٰ امریکی حکام،انٹیلی جنس آفیسرز اور اعلیٰ کمیونیکشنز ایگزیکٹیو کے ساتھ انٹرویو کرنے کے بعد یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ممکنہ5G کے بارے میں ٹرمپ وہائٹ ہاؤس میں حساب لگایا گیا ہے کہ اسلحہ کی اس دوڑ میں جیتنے والا ایک ہونا چاہیے اور پیچھے رہ جانے والے کو راستے سے ہٹایا دیاجائے۔ کئی ماہ سے وہائٹ ہاؤس ایک ایگزیکٹیو آرڈر تیار کررہاہے جوآنے والے ہفتوں میں متوقع ہے جس کے تحت امریکی کمپنیوں پرپابندی ہوگی کہ وہ اہم ٹیلی مواصلات نیٹ ورکس میں چین میں تیار ہونے والا اکوپمنٹ استعمال نہ کریں۔ موجودہ قواعد کے تحت صرف گورنمنٹ نیٹ ورکس سے ایسے اکوپمنٹ پرپابندی عائد ہے۔امریکا میں چینی ٹیکنالوجی کے بارے میں طویل عرصے سے پریشانی پائی جاتی ہے اور یہ خوف لاحق ہے کہ چینی ٹیلی کام اینڈ کمپیوٹنگ نیٹ ورکس میں “بیک ڈور ” لگاسکتے ہیں جس سے چینی سیکورٹی سروسز امریکا کی فوجی،حکومت کی اورکارپوریٹ کمیونیکیشنز کا سلسلہ منقطع ہوسکتا ہے۔ امریکی کمپنیوں اور سرکاری اداروں میں چینیوں نے بارہا سائبر مداخلت کی ہے اورشکوک پائے جاتے ہیں کہ ہیکرز چین کی وزارت اسٹیٹ سیکورٹی کیلئے کام کررہے ہیں لیکن تشویش میں مزیداضافہ ہوا ہے کیونکہ دنیا بھر کے ممالک نے فیصلہ کرناشروع کردیا ہے کہ کون سے اکوپمنٹ فراہم کرنے والے اپنا5Gنیٹ ورک تیار کریں گے۔
ہواوی کمپنی پروائٹ ہاؤس کی توجہ ٹرمپ انتظامیہ کی چین کے خلاف سخت کارروائی سے ہے جس کے تحت چینی اشیاء پر محصول سرمایہ کاری کی پابندیاں اورمتعدد چینی باشندوں پر فرد جرم عائد کرنا ہے جن پر ہیکنگ اورسائبر جاسوسی کرنے کے الزامات ہیں ۔صدر ٹرمپ نے چین پر ہمارے ملک کو “دھوکا دینے “اور امریکا کے نقصان پرزیادہ طاقتور ہونے کی سازش کرنے کا الزام لگایا ہے۔تاہم بعض ممالک نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ آیا امریکی مہم واقعی قومی سیکورٹی کے بارے میں ہے یا اس کا مقصد چین کو برتری حاصل کرنے سے روکنا ہے۔صدر ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جان آربولٹن نے اس اہم اقتصادی مسئلے پرقابو پانے کے سلسلے میں کہا ہے کہ چین نہ صرف اقتصادی توازن کو بہتر بنائے بلکہ ان قواعد کی پابندی کرے جوہرملک کرتا ہے اورمستقبل میں سیاسی/فوجی قوت میں عدم توازن کو روکے۔ انہوں نے واشنگٹن ٹائمز کو بتایا کہ دونوں پہلوؤں کا ایک دوسرے سے تعلق ہے۔سانفورڈ سی برنسٹن جوایک انوسٹمنٹ مینجمنٹ اورریسرچ فرم کے ہانگ کانگ میں ٹیلی تجزیہ نگار کرس لین نے کہا ہے کہ ہربات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے او ر ان سمارٹ شہروں کا مرکزی اعصابی نظام آپ کا 5Gنیٹ ورک ہوگا۔
نیا سرخ خوف
ہواوی کمپنی کے بارے میں خوف زیادہ تر نظری ہے۔ اصل تشویش چینی کمپنی ہواوی کی بڑھتی ہوئی تکنیکی بالادستی کے بارے میں ہے۔ علاوہ ازیں چین کے نئے قوانین پریشان کن ہیں جن کے تحت ہواوی کمپنی چینی حکومت کی درخواستوں پر عمل کرتی ہے۔ہواوی کمپنی کے بانی رین زینگ فی نے اس امر کی تردید کی کہ ان کی کمپنی نے کبھی چین کیلئے جاسوسی کی۔انہوں نے کہا کہ میں ایسا کوئی کام نہیں کروں گا جس
سے کسی دوسرے ملک کو نقصان پہنچے۔آسٹریلیا نے گزشتہ سال ہواوی کمپنی اورایک اورچینی مینوفیکچرر ZTEکو 5G اکوپمنٹ فراہم کرنے پرپابندی عائدکی۔برطانیاکے حکام نے کہا کہ ہواوی کمپنی نے پرانے طرز کے نیٹ ورکس میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے اوربرطانوی باشندوں کو ملازم رکھا ہواہے کہ وہ ان کو تیار کریں اور پھر چلائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہواوی کمپنی آدھی یا اس سے زائد دنیا کے نیٹ ورکس چلائے گی اور اسے امریکا اور اس کے حلیفوں کے نیٹ ورکس سے کسی نہ کسی طرح جوڑے گی۔

شکوک و شبہات کا بڑھنا
اس ماہ پولینڈ کی حکومت نے جاسوسی کے سلسلے میں دو اعلیٰ چینی باشندوں کو گرفتار کرلیا۔ ان میں ایک سابق انٹیلی جنس اہلکار پبوٹر در بجلو اور دوسرا ہواوی کمپنی کا ملازم وانگ ویجنگ ہے۔ یہ گرفتاریاں سب سے ٹھوس ثبوت ہیں جو ہوا وی کمپنی کو جاسوسی سرگرمیوں میں ملوث کرتی ہے ۔تاہم ہوا وی کمپنی نے وانگ ویجنگ کو فوری طور پر برطرف کردیا جس پر چینی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے کام کرنے کا الزام تھا۔ایک سینئر امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ واضح مثال ہے کہ کس طرح چینی حکومت ہوا وی کے وسیع گلوبل نیٹ ورک کے اندر معلومات کے حصول کے لیے خفیہ طور پر افراد کو مامور کرتی ہے۔امریکا کی سائبر سیکورٹی کے ماہرین نے ہواوی کمپنی کے خفیہ کوڈ کے ذریعہ کونا کونا چھان مارا تاکہ بیک ڈورکا پتہ چلایا جاسکے۔ ان کی اطلاع کے بعد امریکی اور برطانوی اہلکاروں نے ہواوی کی استعداد کے بارے میں تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ہواوی کمپنی کو شین زین میں کمپنی کے ہیڈ کوارٹرز سے بعض نیٹ ورکس تک رسائی حاصل ہے اور ان کو کنٹرول کرتی ہے۔
تاہم محتاط جائزہ کے بعد ہوا وی کمپنی نے اپنے نیٹ ورک کنٹرول سافٹ ویئر میں جو کوڈ نصب کر رکھا ہے، وہ نہ تو دشمنی پر مبنی ہے اور نہ ہی وہ خفیہ ہے۔ یہ اس نظام کا حصہ ہے جو ریموٹ نیٹ ورکس کو تازہ ترین معلومات فراہم کرتا ہے اور کسی خرابی کا پتہ چلانا ہے لیکن بعض صورتوں میں شراکتی ادارہ کے ڈیٹا سینٹرز کے آس پاس ٹریفک کو رواں کرسکتا ہے جہاں فرمیں اپنے نیٹ ورکس کو مانیٹر اور کنٹرول کرتی ہیں اور اس کی محض موجودگی کو ثبوت کے طور پر پیش کیا جارہا ہے کہ ہیکرز یا ہواوی کمپنی اکوپمنٹ کو لاکھوں نیٹ ورکس میں داخل ہونے کے لئے استعمال کرسکتی ہے۔
امریکاجو الزام چین کی ہوا وی کمپنی پر لگا رہا ہے ،وہ خود بھی دوسروں کے معاملات کی ٹوہ میں رہتا ہے۔ 2010 میں نیشنل سیکورٹی ایجنسی نے خفیہ طور پر ہواوی کے ہیڈ کوارٹرز میں نقب زنی کی جسے ’’شاٹ دیو‘‘ کوڈ کا نام دیا گیا ۔ اس کا انکشاف سابق ایجنسی کنٹریکٹر ایڈورڈ جے سنوڈن نے جو آج کل ماسکو میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے ،کہا ہے کہ دستاویزات سے واضح ہے کہ نیشنل سیکورٹی ایجنسی شکوک و شبہات کو ثابت کرنے کی تلاش میں ہے کہ ہواوی کمپنی کو پیپلز آرمی خفیہ طور پر کنٹرول کرتی ہے۔ ہواوی کے بانی رین ژینگ فی نے کبھی بھی طاقتور آرمی یونٹ کو نہیں چھوڑا۔ سنوڈن کی دستاویزات سے واضح ہے کہ نیشنل سیکورٹی ایجنسی کا ایک اور مقصد ہواوی کمپنی کی ٹیکنالوجی کو بہتر طور پر سمجھنا اور ممکنہ بیک ڈورزکو تلاش کرنا ہے۔ اس طریقے سے جب ہواوی کمپنی امریکی حریفوں کو اکوپمنٹ فروخت کرتی ہے تو نیشنل سیکورٹی ایجنسی ان ممالک کے کمپیوٹرز اور ٹیلیفون نیٹ ورکس کوہدف بناسکے گی تاکہ کڑی نگرانی کی جاسکے اور اگر ضروری ہو تو جارحانہ سائبر اقدامات کیے جاسکیں۔دوسرے لفظوں میں امریکا ہواوی کمپنی کے ساتھ وہی کرنے کی کوشش کررہا ہے جس کے بارے میں اب اسے تشویش ہے کہ ہواوی کمپنی امریکہ کے ساتھ کرے گی۔
عالمی مہم
2013 میں برطانیا میں ہواوی کمپنی کی بڑھتی برتری کے بارے میں شورمچا تو ملک کی طاقتور انٹیلی جنس اینڈ سیکورٹی کمیٹی نے جو ایک پارلیمانی ادارہ ہے چائنیز سائبر حملوں کی بناء پر ہواوی کمپنی پر پابندی عائد کرنے کے حق میں دلائل دیے جس کا رخ برطانوی حکومت کی طرف تھا۔ اس خیال کو مسترد کردیا گیا لیکن برطانیہ نے ایسا نظام قائم کیا جس کے تحت ہواوی کمپنی سے کہا گیا کہ وہ اپنا ہارڈویئر اور خفیہ کوڈ ملک کی کوڈ بریکنگ ایجنسی GCHQ کو فراہم کرے۔جولائی میں برطانیہ کی نیشنل سائبر سیکورٹی سینٹر نے پہلی مرتبہ اعلان کیا کہ ہواوی کمپنی کے موجودہ طریق کار اور نئے 5G نیٹ ورک کی پیچیدگی اور محرکات کے بارے میں سوالات کا مطلب ہے کہ کمزوریوں کو تلاش کرنا مشکل ہوگا۔
عین اسی وقت ٹیلی مواصلات کے ایگزیکٹوز کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں میں نیشنل سیکورٹی ایجنسی نے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا ہواوی کمپنی کو امریکی 5G نیٹ ورکس کے پارٹس کے لئے بولی دینے کی اجازت دے جائے۔&T AT او ر ویری زون کمپنیوں نے دلائل دے کہ امریکہ میں ’’ ٹسٹ بیڈ‘‘ قائم کرنے کی اجازت دینے میں فائدہ ہے کیونکہ اسے اپنے نیٹ ورکنگ سافٹ ویئر کے لئے خفیہ کوڈ کو ظاہر کرنا پڑے گا۔ ہواوی کمپنی کو بولی دینے کی اجازت سے نیٹ ورکس قائم کرنے کی لاگت میں بھی کمی آئے گی۔ اس وقت کے نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل ایڈمرل مائیکل ایس راجرز نے اس اقدام کی منظوری نہیں دی اور ہواوی کمپنی کا راستہ روک دیا گیا۔جولائی 2018 میں برطانیہ، امریکا اور ’’FIVE EYES ‘‘ کے دوسرے ارکان کا انٹیلی جنس تبادلے کے اتحاد کا سالانہ اجلاس ہیلی فیکس (نوا سکوٹیا) ہوا جس میں چینی ٹیلی مواصلات کمپنیاں ہواوی اور 5G نیٹ ورکس میں ایجنڈے میں سرفہرست تھے۔ انہوں نے مغرب میں نیا نیٹ ورکس تیار کرنے سے ہواوی کمپنی کو روکنے کے لئے مشترکہ اقدامات کا فیصلہ کیا ۔
امریکی حکام دنیا بھر میں اپنے حلیفوں پر واضح کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ چین کے ساتھ جنگ محض تجارت کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کی سرکردہ جمہوریاؤں اور کلیدی ناٹو ارکان کے قومی تحفظ کی جنگ ہے۔امریکی انٹیلی جنس اداروں کے سربراہوں نے سینیٹ کے سامنے ہواوی کمپنی سمیت چینی ٹیلی کام کمپنیوں کی 5G سرمایہ کاریوں کو خطرہ کے طور پر پیش کیا ہے۔


متعلقہ خبریں


شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن، پاک فوج کے 4 جوان شہید،4دہشتگرد ہلاک وجود - پیر 13 جولائی 2020

خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں 4 جوان شہید ہوگئے جبکہ 4 دہشت گرد ہلاک کر دئیے گئے ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں انٹیلی جنس اطلاعات پر آپریشن کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے کی ناکہ بندی کے دوران دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی اور سیکیورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلے میں ٹھکانے میں موجود 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردوں سے کی فائرنگ...

شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن، پاک فوج کے 4 جوان شہید،4دہشتگرد ہلاک

اسٹیٹ بینک کے 15کمرشل بینکوں پر بھاری جرمانے وجود - پیر 13 جولائی 2020

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزی پر 15 کمرشل بینکوں پر جرمانے عائد کر دیے گئے ۔ جرمانے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق بھی کیے گئے ۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق 15 بینکوں پر قوانین کی خلاف ورزی پر 1 ارب 68 کروڑ روپے کے بھاری جرمانے کیے گئے ہیں ۔ ان بینکوں پر مارچ سے جون 2020 کے دوران جرمانے کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے بینکوں پر جرمانے عوام کے سامنے لانے کا سلسلہ جولائی 2019 سے شروع کیا تھا۔ اسٹیٹ بینک نے تمام پندرہ بینکوں کے ناموں کی...

اسٹیٹ بینک کے 15کمرشل بینکوں پر بھاری جرمانے

جماعت اسلامی کا کے الیکٹرک کے خلاف وزیراعلیٰ ہاؤس دھرنے پر غور وجود - پیر 13 جولائی 2020

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اگر تین دن میں شہر میں لوڈ شیڈنگ کی صورتحا ل بہتر نہیں ہوئی توگورنر ہاؤس، وزیر اعلیٰ ہاؤس پر دھرنا اور پوری شاہراہ فیصل کو بھی بند کرسکتے ہیں،جماعت اسلامی نے ادارہ نورحق میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے مانیٹرنگ سیل قائم کردیا ہے ،بجلی کی قیمتوں میں 3روپے اضافے کا کراچی دشمن فیصلہ واپس لیا جائے ،گزشتہ 15سال کی نجکاری کا فارنزک آڈٹ کیا جائے ،کے الیکٹرک کا لائسنس فوراًمنسوخ کر کے اسے قومی تحویل میں لیا جائے اور تمام اسٹی...

جماعت اسلامی کا کے الیکٹرک کے خلاف وزیراعلیٰ ہاؤس دھرنے پر غور

کراچی کے لیے پانی کا منصوبہ کے فورفیز ون تاخیر کا شکار وجود - پیر 13 جولائی 2020

شہر قائد کے لیے 260 ملین گیلن پانی کا منصوبہ کے فور فیز ون تاخیر کا شکار ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے کے فور منصوبے سے متعلق وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا، خط صوبائی سیکرٹری پلاننگ نے وفاقی سیکرٹری پلاننگ کو لکھا جس میں بتایا گیا ہے کہ کے فور منصوبہ خاص وجوہات اور ڈیزائن کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے ۔خط کے متن کے مطابق منصوبہ ساز کمپنی نیسپاک مسئلے کے حل کے لیے رابطے میں ہے ، سندھ حکومت نے کمپنی کو ڈیزائن کے ازسر نو جائزہ لینے کا کہا تھا۔سندھ حکومت نے موقف اختیار کیا کہ نیسپا...

کراچی کے لیے پانی کا منصوبہ کے فورفیز ون تاخیر کا شکار

واپسی نہ کرتے تو ایک جج اپنے جرم کا اعتراف نہ کرتا،مریم نواز وجود - پیر 13 جولائی 2020

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہاہے کہ انتقام کو دیکھتے ہوئے بھی ہم اگر آج کے دن، دو سال پہلے واپسی کا کٹھن فیصلہ نہ کرتے تو آج ایک جج اپنے جرم کا اعتراف نہ کرتا۔ نواز شریف کو سزا سنائے جانے کے بعد 13 جولائی 2018 کو وطن واپسی کے حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے مریم نواز نے کہاکہ جب میری والدہ زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا تھیں اور ووٹ اپنی عزت کی جنگ لڑرہاتھا عین اس وقت سزاسنانے کے پیچھے جو مقاصد تھے وہ آج سب پہ عیاں ہوچکے ہیں۔نہ قوم جان سکتی کہ کیسے بے گناہ نواشریف کو دباؤ...

واپسی نہ کرتے تو ایک جج اپنے جرم کا اعتراف نہ کرتا،مریم نواز

ایتھوپین ایئرلائن نے 5 پاکستانی پائلٹس کے لائسنس کی تحقیقات شروع کردیں وجود - پیر 13 جولائی 2020

امریکا، یوکے اور یورپی یونین کے بعد ایتھوپین ائر لائن نے بھی 5 پاکستانی پائلٹس کے لائسنس کو مشکوک قرار دیتے ہوئے سول ایوی ایشن سے وضاحت طلب کرلی ہے۔ذرائع کے مطابق پائلٹس کے مشتبہ لائسنس کے معاملے پر ایتھوپین ائرلائن نے فضائی بیڑے میں شامل جہازوں کو آپریٹ کرنے والے 5 پاکستانی پائلٹس کی اسناد اور لائسنسز سے متعلق کوائف طلب کیے ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ وضاحت ایتھوپین سفارت خانے نے وزارت خارجہ کے توسط سے بذریعہ فیکس طلب کی ہے۔ فیکس کے متن کے مطابق پاکستانی پائلٹوں کے مشتبہ لائسنسز ک...

ایتھوپین ایئرلائن نے 5 پاکستانی پائلٹس کے لائسنس کی تحقیقات شروع کردیں

دوحہ معاہدے پر عملدر آمد ہونا بہت اہم ہے ، ترجمان افغان طالبان وجود - پیر 13 جولائی 2020

ترجمان افغان طالبان کا کہنا ہے کہ دوحہ معاہدے پرعملدر آمداور بین الافغان مذاکرات کاشروع ہونا بہت اہم ہے ۔افغان طالبان نے کہا کہ اگرکوئی پہلے جنگ کاخاتمہ اور پھرمذاکرات چاہتاہے تو یہ غیر منطقی بات ہے ۔ترجمان افغان طالبان نے کہا کہ جنگ اس لیے جاری ہے کیونکہ اسکے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی حل نہیں ہے ۔افغان طالبان نے کہا کہ غیرذمہ دارانہ بیانات اور الزامات مسئلے کوحل نہیں کرسکتے ۔ ترجمان افغان طالبان نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی اور بین الافغان مذاکرات ہی مسئلے کا منطقی حل ہیں۔

دوحہ معاہدے پر عملدر آمد ہونا بہت اہم ہے ، ترجمان افغان طالبان

برطانیاکی دوسوسالہ تاریخ میں پہلی بار میجر جنرل کا کورٹ مارشل وجود - پیر 13 جولائی 2020

برطانیا کی 200 سالہ تاریخ میں پہلی بار دھوکہ دہی کے جرم میں برطانوی فوج کے حاضرسروس میجر جنرل کا کورٹ مارشل کر دیا گیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانوی فوج کے حاضر سروس میجر جنرل نک ویلش کو بچوں کی تعلیم پر حد سے زائد اخراجات کے جرم میں فوجی عدالت نے چارج لگا کر کورٹ مارشل کر دیا۔برطانوی قانون کے مطابق بچے کی تعلیم پر سالانہ 23ہزار پاونڈز سے زائد رقم خرچ نہیں کر سکتے جبکہ نک ویلش نے 50 ہزار پاونڈز خرچ کیے ۔واضح رہے کہ نک ویلش برطانوی افواج اور وزارت دفاع کے اہم عہدوں...

برطانیاکی دوسوسالہ تاریخ میں پہلی بار میجر جنرل کا کورٹ مارشل

کیمرہ مین کی حرم مکی کے کبوتروں کی تصاویر بناکر اس پہلوکواجاگرکرنے کی کوشش وجود - پیر 13 جولائی 2020

سعودی عرب کے ایک پیشہ ور فوٹو گرافر بدر العتیبی نے حرم مکی میں کبوتروں کی نقل وحرکت اور ان کی وجہ سے ماحول میں ہونے والی خوبصورتی کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرکے مسجد حرام کے اس پہلو کو اجاگر کرنے کی منفرد کوشش کی ہے ۔عرب ٹی وی کے مطابق مکہ معظمہ کی ام القری یونیورسٹی میں قانون کے طالب علم بدر العتیبی نے بتایا کہ فوٹو گرافی کا شوق چھ سال قبل پیدا ہوا۔پہلے پہل اس نے موبائل کیمرے سے اپنا شوق پورا کرنے کی کوشش کی مگر بعد میں اس نے ایک پیشہ ور فوٹو گرافر بننے کے لیے دوستوں...

کیمرہ مین کی حرم مکی کے کبوتروں کی تصاویر بناکر اس پہلوکواجاگرکرنے کی کوشش

جنوبی افریقہ کا گرجا گھر میدان جنگ بن گیا،200افرادیرغمال بنالیے وجود - پیر 13 جولائی 2020

عیسائیت کے مختلف فرقوں کے درمیان قیادت کے تنازع نے جنوبی افریقہ کے گرجا گھر کو میدان جنگ بنا دیا۔ اسلحے سے لیس 30 حملہ آوروں نے رات گئے زوربیکوم کے گرجا گھر پر دھاوا بول دیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں سیکورٹی گارڈ دم توڑ گیا۔گھنٹوں کے مذاکرات کے بعد پولیس نے یرغمال بنائے گئے افراد کو حملہ آوروں کے چنگل سے چھڑا لیا۔ درجنوں حملہ آوروں کو گرفتار کرکے اسلحہ تحویل میں لے لیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق چرچ کے باہر گولیاں برسادیں، چرچ میں موجود 200 افراد کو یرغمال بنالیا اور فائرنگ کے نتیجے میں...

جنوبی افریقہ کا گرجا گھر میدان جنگ بن گیا،200افرادیرغمال بنالیے

تہران کی گیس فیلڈ میں پراسرار دھماکے ، عمارتیں لرز اٹھیں وجود - پیر 13 جولائی 2020

ایران کے دارالحکومت تہران میں پراسرار دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ تہران میں ایک گیس فیلڈ میں ہونے والے دھماکے میں عمارتیں لرز اٹھیں۔ اس دھماکے میں کم سے کم ایک شخص زخمی بھی ہوا۔میڈیارپورٹس کے مطابق تہران میں فائر بریگیڈ کے ترجمان جلال المالکی نے کہا کہ تہران کی بلدیہ میں فائر اینڈ سیفٹی سروسز کے پچیسواں نظام کی رہائشی عمارت میں ایک دھماکہ ہوا۔ انہوں نے نے مزید کہا کہ فائر فائٹرز فورا جائے وقوعہ پر پہنچے ۔ فائر بریگیڈ کو اطلاع دی گئی تھی کہ ایک پرانی عمارت کے تہ خانے میں جو ساٹ...

تہران کی گیس فیلڈ میں پراسرار دھماکے ، عمارتیں لرز اٹھیں

جاپان میں متعین امریکی میرینز میں بھی کرونا کی وبا پھیل گئی ،60فوجی متاثر وجود - پیر 13 جولائی 2020

جنوبی جاپان میں دو جزائر میں متعین امریکی میرینز میں بھی کرونا کی وبا پھیل گئی ،میڈیارپورٹس کے مطابق اوکیناوا حکام کا کہنا تھا کہ جنوبی جاپان میں دو فوجی اڈوں میں کرونا پھیلنے سے دسیوں فوجی اس کا شکار ہوئے ۔ حکام نے اس حوالے سے امریکی فوج سے تمام تر تفصیلات سامنے لانے کو کہا ۔اوکیناوا کے صوبے کے عہدیداروں نے کہا کہ وہ صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ چند درجن کیسزحال ہی میں سامنے آئے ہیں کیونکہ امریکی فوج نے اصل تعداد ظاہر نہ کرنے کو کہاہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ یہ وبا میرین کور فوٹ...

جاپان میں متعین امریکی میرینز میں بھی کرونا کی وبا پھیل گئی ،60فوجی متاثر