وجود

... loading ...

وجود

امریکا ٹیکنالوجی میں چین کو نشانا بنارہا ہے

اتوار 10 فروری 2019 امریکا ٹیکنالوجی میں چین کو نشانا بنارہا ہے

برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ گزشتہ ہفتے واشنگٹن پہنچے جہاں ان کی کئی ( ترجمہ: عبدالرحیم)ملاقاتوں میں ایک اہم سوال زیر غور تھا کہ آیا برطانیا چین سے اپنے تعلقات کو خطرہ میں ڈال کر ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست پر رضامندی ظاہر کر دے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ چین کی سرکردہ ٹیلی مواصلات اکیوپمنٹ تیار کرنے والی کمپنی کو اگلی جنریشن ( 5G) کمپیوٹر او ر نیٹ ورکس تیار کرنے پر پابندی عائد کر دے۔ برطانیہ واحد امریکی حلیف نہیں ہے جو دباؤ محسوس کر رہاہے۔ پولینڈ میں حکام پر امریکا کا دباؤ ہے کہ ہواوی کو اپنی ففتھ جنریشن(5G) نیٹ و رک تیار کرنے پر پابندی عائد کر دیں۔ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے کہا ہے کہ مستقبل میں امریکی فوجی دستوں کی تعیناتی جس میں مستقل اڈہ فورٹ ٹرمپ کا قیام بھی شامل ہے ،کا انحصار پولینڈ کے فیصلے پر ہے۔
گزشتہ موسم بہار میں امریکی حکام کا ایک وفد جرمنی پہنچا جہاںیورپ کی اہم آپٹک لائنیں آپس میں ملتی ہے اور ہوا وی کمپنی وہ سوئچز تیا ر کرنا چاہتی ہے جن سے پورا سسٹم کام کرنے لگتاہے۔ ان کا پیغام تھا کہ نیٹو اتحاد کو سکیورٹی خطرہ سستا چینی ٹیلی کام اکوپمنٹ استعما ل کرنے کے اقتصادی فائدہ سے زیا دہ اہم ہے۔ گزشتہ برس امریکاچوری چھپے اور دھمکی دیکر عالمی مہم چلارہاہے تاکہ ہوا وی اور دوسری چینی کمپنیوں کو پلمبنگ کی دوبارہ تیاری سے روکے جو انٹرنیٹ کو کنٹرول کرتا ہے۔ اسے35 سال قبل تھوڑا تھوڑا کرکے مکمل کیا گیا تھا۔امریکی انتظامیہ کا موقف ہے کہ دنیا اسلحہ کی نئی دوڑ میں مصروف ہے جس کا تعلق روایتی دوڑ ہتھیاروں کی بجائے ٹیکنالوجی سے ہے لیکن اس سے امریکاکی قومی سلامتی کو اتنا ہی خطرہ لاحق ہے ۔ایسے دور میں ایٹمی ہتھیاروں کو چھوڑ کر سب سے زیادہ طاقتور ہتھیار سائبر کنٹرولڈ ہیں۔ جو ملک بھی 5G میں برتری حاصل کرے گا، اسے اس صدی کے زیادہ حصے تک اقتصادی ، انٹیلی جنس اور فوجی برتری حاصل ہوگی۔
5G کی طرف پیش رفت ہوچکی ہے۔ ڈالاس اور اٹلانٹا جیسے امریکی شہروں میں نقش اول کی تیاری جاری ہے۔ یہ تبدیلی ارتقائی کی بجائے انقلابی ہوگی۔ صارفین پہلے یہ دیکھنا چاہیں گے کہ آ یا یہ نیٹ ورک زیادہ تیز رفتار ہے۔ ڈیٹا کو سیل فون نیٹ ورکس پر بھی تقریبا فوراڈاؤن لوڈ ہونا چاہئے۔ یہ پہلا نیٹ ورک تیار کر لیا گیا ہے جو سنسرز، روبوٹس، خود کار گاڑیوں اور دوسری ڈیوائسز میں استعمال ہوگا جو مسلسل ایک دوسرے کو بڑی مقدار میں ڈیٹا فراہم کریں گے جس کے نتیجہ میں فیکٹریاں، تعمیراتی جگہیں اور پورے شہر بھی کم سے کم انسانی مداخلت سے چلیں گے۔ اس سے ورچوئل ریئلٹی اور مصنوعی ذہانت کے آ لات کا زیادہ استعمال ہوگا۔ لیکن جو چیز صارفین کیلئے اچھی ہے،وہ انٹیلی جنس سروسز اور سائبر حملہ آوروں کیلئے بھی اچھی ہے ۔5G سسٹم سوئچز اور روٹرز کا طبعی نظام ہے لیکن اس کا زیادہ انحصار پیچیدہ سافٹ ویئر کی تہہ در تہہ پر ہے جنہیں بہت زیادہ حالات کے مطابق ڈھا لا جا سکتا ہے اور تازہ ترین معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں۔ایسے طریقوں سے (جوصارفین کودکھائی نہیں دیتیں) جس طرح آئی فون خود بخود تازہ ترین معلومات فراہم کرتاہے جبکہ چارجنگ رات کے وقت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے جو بھی اس نیٹ ورک کو کنٹرول کرے گا، وہ معلومات کے بہاؤ کوکنٹرول کرے گا اور صارفین کے علم کے بغیر ڈیٹا اور راستہ تبدیل کر سکے گا اورنقل بھی تیار کرسکے گا۔
موجودہ اورسابق اعلیٰ امریکی حکام،انٹیلی جنس آفیسرز اور اعلیٰ کمیونیکشنز ایگزیکٹیو کے ساتھ انٹرویو کرنے کے بعد یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ممکنہ5G کے بارے میں ٹرمپ وہائٹ ہاؤس میں حساب لگایا گیا ہے کہ اسلحہ کی اس دوڑ میں جیتنے والا ایک ہونا چاہیے اور پیچھے رہ جانے والے کو راستے سے ہٹایا دیاجائے۔ کئی ماہ سے وہائٹ ہاؤس ایک ایگزیکٹیو آرڈر تیار کررہاہے جوآنے والے ہفتوں میں متوقع ہے جس کے تحت امریکی کمپنیوں پرپابندی ہوگی کہ وہ اہم ٹیلی مواصلات نیٹ ورکس میں چین میں تیار ہونے والا اکوپمنٹ استعمال نہ کریں۔ موجودہ قواعد کے تحت صرف گورنمنٹ نیٹ ورکس سے ایسے اکوپمنٹ پرپابندی عائد ہے۔امریکا میں چینی ٹیکنالوجی کے بارے میں طویل عرصے سے پریشانی پائی جاتی ہے اور یہ خوف لاحق ہے کہ چینی ٹیلی کام اینڈ کمپیوٹنگ نیٹ ورکس میں “بیک ڈور ” لگاسکتے ہیں جس سے چینی سیکورٹی سروسز امریکا کی فوجی،حکومت کی اورکارپوریٹ کمیونیکیشنز کا سلسلہ منقطع ہوسکتا ہے۔ امریکی کمپنیوں اور سرکاری اداروں میں چینیوں نے بارہا سائبر مداخلت کی ہے اورشکوک پائے جاتے ہیں کہ ہیکرز چین کی وزارت اسٹیٹ سیکورٹی کیلئے کام کررہے ہیں لیکن تشویش میں مزیداضافہ ہوا ہے کیونکہ دنیا بھر کے ممالک نے فیصلہ کرناشروع کردیا ہے کہ کون سے اکوپمنٹ فراہم کرنے والے اپنا5Gنیٹ ورک تیار کریں گے۔
ہواوی کمپنی پروائٹ ہاؤس کی توجہ ٹرمپ انتظامیہ کی چین کے خلاف سخت کارروائی سے ہے جس کے تحت چینی اشیاء پر محصول سرمایہ کاری کی پابندیاں اورمتعدد چینی باشندوں پر فرد جرم عائد کرنا ہے جن پر ہیکنگ اورسائبر جاسوسی کرنے کے الزامات ہیں ۔صدر ٹرمپ نے چین پر ہمارے ملک کو “دھوکا دینے “اور امریکا کے نقصان پرزیادہ طاقتور ہونے کی سازش کرنے کا الزام لگایا ہے۔تاہم بعض ممالک نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ آیا امریکی مہم واقعی قومی سیکورٹی کے بارے میں ہے یا اس کا مقصد چین کو برتری حاصل کرنے سے روکنا ہے۔صدر ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جان آربولٹن نے اس اہم اقتصادی مسئلے پرقابو پانے کے سلسلے میں کہا ہے کہ چین نہ صرف اقتصادی توازن کو بہتر بنائے بلکہ ان قواعد کی پابندی کرے جوہرملک کرتا ہے اورمستقبل میں سیاسی/فوجی قوت میں عدم توازن کو روکے۔ انہوں نے واشنگٹن ٹائمز کو بتایا کہ دونوں پہلوؤں کا ایک دوسرے سے تعلق ہے۔سانفورڈ سی برنسٹن جوایک انوسٹمنٹ مینجمنٹ اورریسرچ فرم کے ہانگ کانگ میں ٹیلی تجزیہ نگار کرس لین نے کہا ہے کہ ہربات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے او ر ان سمارٹ شہروں کا مرکزی اعصابی نظام آپ کا 5Gنیٹ ورک ہوگا۔
نیا سرخ خوف
ہواوی کمپنی کے بارے میں خوف زیادہ تر نظری ہے۔ اصل تشویش چینی کمپنی ہواوی کی بڑھتی ہوئی تکنیکی بالادستی کے بارے میں ہے۔ علاوہ ازیں چین کے نئے قوانین پریشان کن ہیں جن کے تحت ہواوی کمپنی چینی حکومت کی درخواستوں پر عمل کرتی ہے۔ہواوی کمپنی کے بانی رین زینگ فی نے اس امر کی تردید کی کہ ان کی کمپنی نے کبھی چین کیلئے جاسوسی کی۔انہوں نے کہا کہ میں ایسا کوئی کام نہیں کروں گا جس
سے کسی دوسرے ملک کو نقصان پہنچے۔آسٹریلیا نے گزشتہ سال ہواوی کمپنی اورایک اورچینی مینوفیکچرر ZTEکو 5G اکوپمنٹ فراہم کرنے پرپابندی عائدکی۔برطانیاکے حکام نے کہا کہ ہواوی کمپنی نے پرانے طرز کے نیٹ ورکس میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے اوربرطانوی باشندوں کو ملازم رکھا ہواہے کہ وہ ان کو تیار کریں اور پھر چلائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہواوی کمپنی آدھی یا اس سے زائد دنیا کے نیٹ ورکس چلائے گی اور اسے امریکا اور اس کے حلیفوں کے نیٹ ورکس سے کسی نہ کسی طرح جوڑے گی۔

شکوک و شبہات کا بڑھنا
اس ماہ پولینڈ کی حکومت نے جاسوسی کے سلسلے میں دو اعلیٰ چینی باشندوں کو گرفتار کرلیا۔ ان میں ایک سابق انٹیلی جنس اہلکار پبوٹر در بجلو اور دوسرا ہواوی کمپنی کا ملازم وانگ ویجنگ ہے۔ یہ گرفتاریاں سب سے ٹھوس ثبوت ہیں جو ہوا وی کمپنی کو جاسوسی سرگرمیوں میں ملوث کرتی ہے ۔تاہم ہوا وی کمپنی نے وانگ ویجنگ کو فوری طور پر برطرف کردیا جس پر چینی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے کام کرنے کا الزام تھا۔ایک سینئر امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ واضح مثال ہے کہ کس طرح چینی حکومت ہوا وی کے وسیع گلوبل نیٹ ورک کے اندر معلومات کے حصول کے لیے خفیہ طور پر افراد کو مامور کرتی ہے۔امریکا کی سائبر سیکورٹی کے ماہرین نے ہواوی کمپنی کے خفیہ کوڈ کے ذریعہ کونا کونا چھان مارا تاکہ بیک ڈورکا پتہ چلایا جاسکے۔ ان کی اطلاع کے بعد امریکی اور برطانوی اہلکاروں نے ہواوی کی استعداد کے بارے میں تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ہواوی کمپنی کو شین زین میں کمپنی کے ہیڈ کوارٹرز سے بعض نیٹ ورکس تک رسائی حاصل ہے اور ان کو کنٹرول کرتی ہے۔
تاہم محتاط جائزہ کے بعد ہوا وی کمپنی نے اپنے نیٹ ورک کنٹرول سافٹ ویئر میں جو کوڈ نصب کر رکھا ہے، وہ نہ تو دشمنی پر مبنی ہے اور نہ ہی وہ خفیہ ہے۔ یہ اس نظام کا حصہ ہے جو ریموٹ نیٹ ورکس کو تازہ ترین معلومات فراہم کرتا ہے اور کسی خرابی کا پتہ چلانا ہے لیکن بعض صورتوں میں شراکتی ادارہ کے ڈیٹا سینٹرز کے آس پاس ٹریفک کو رواں کرسکتا ہے جہاں فرمیں اپنے نیٹ ورکس کو مانیٹر اور کنٹرول کرتی ہیں اور اس کی محض موجودگی کو ثبوت کے طور پر پیش کیا جارہا ہے کہ ہیکرز یا ہواوی کمپنی اکوپمنٹ کو لاکھوں نیٹ ورکس میں داخل ہونے کے لئے استعمال کرسکتی ہے۔
امریکاجو الزام چین کی ہوا وی کمپنی پر لگا رہا ہے ،وہ خود بھی دوسروں کے معاملات کی ٹوہ میں رہتا ہے۔ 2010 میں نیشنل سیکورٹی ایجنسی نے خفیہ طور پر ہواوی کے ہیڈ کوارٹرز میں نقب زنی کی جسے ’’شاٹ دیو‘‘ کوڈ کا نام دیا گیا ۔ اس کا انکشاف سابق ایجنسی کنٹریکٹر ایڈورڈ جے سنوڈن نے جو آج کل ماسکو میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے ،کہا ہے کہ دستاویزات سے واضح ہے کہ نیشنل سیکورٹی ایجنسی شکوک و شبہات کو ثابت کرنے کی تلاش میں ہے کہ ہواوی کمپنی کو پیپلز آرمی خفیہ طور پر کنٹرول کرتی ہے۔ ہواوی کے بانی رین ژینگ فی نے کبھی بھی طاقتور آرمی یونٹ کو نہیں چھوڑا۔ سنوڈن کی دستاویزات سے واضح ہے کہ نیشنل سیکورٹی ایجنسی کا ایک اور مقصد ہواوی کمپنی کی ٹیکنالوجی کو بہتر طور پر سمجھنا اور ممکنہ بیک ڈورزکو تلاش کرنا ہے۔ اس طریقے سے جب ہواوی کمپنی امریکی حریفوں کو اکوپمنٹ فروخت کرتی ہے تو نیشنل سیکورٹی ایجنسی ان ممالک کے کمپیوٹرز اور ٹیلیفون نیٹ ورکس کوہدف بناسکے گی تاکہ کڑی نگرانی کی جاسکے اور اگر ضروری ہو تو جارحانہ سائبر اقدامات کیے جاسکیں۔دوسرے لفظوں میں امریکا ہواوی کمپنی کے ساتھ وہی کرنے کی کوشش کررہا ہے جس کے بارے میں اب اسے تشویش ہے کہ ہواوی کمپنی امریکہ کے ساتھ کرے گی۔
عالمی مہم
2013 میں برطانیا میں ہواوی کمپنی کی بڑھتی برتری کے بارے میں شورمچا تو ملک کی طاقتور انٹیلی جنس اینڈ سیکورٹی کمیٹی نے جو ایک پارلیمانی ادارہ ہے چائنیز سائبر حملوں کی بناء پر ہواوی کمپنی پر پابندی عائد کرنے کے حق میں دلائل دیے جس کا رخ برطانوی حکومت کی طرف تھا۔ اس خیال کو مسترد کردیا گیا لیکن برطانیہ نے ایسا نظام قائم کیا جس کے تحت ہواوی کمپنی سے کہا گیا کہ وہ اپنا ہارڈویئر اور خفیہ کوڈ ملک کی کوڈ بریکنگ ایجنسی GCHQ کو فراہم کرے۔جولائی میں برطانیہ کی نیشنل سائبر سیکورٹی سینٹر نے پہلی مرتبہ اعلان کیا کہ ہواوی کمپنی کے موجودہ طریق کار اور نئے 5G نیٹ ورک کی پیچیدگی اور محرکات کے بارے میں سوالات کا مطلب ہے کہ کمزوریوں کو تلاش کرنا مشکل ہوگا۔
عین اسی وقت ٹیلی مواصلات کے ایگزیکٹوز کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں میں نیشنل سیکورٹی ایجنسی نے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا ہواوی کمپنی کو امریکی 5G نیٹ ورکس کے پارٹس کے لئے بولی دینے کی اجازت دے جائے۔&T AT او ر ویری زون کمپنیوں نے دلائل دے کہ امریکہ میں ’’ ٹسٹ بیڈ‘‘ قائم کرنے کی اجازت دینے میں فائدہ ہے کیونکہ اسے اپنے نیٹ ورکنگ سافٹ ویئر کے لئے خفیہ کوڈ کو ظاہر کرنا پڑے گا۔ ہواوی کمپنی کو بولی دینے کی اجازت سے نیٹ ورکس قائم کرنے کی لاگت میں بھی کمی آئے گی۔ اس وقت کے نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل ایڈمرل مائیکل ایس راجرز نے اس اقدام کی منظوری نہیں دی اور ہواوی کمپنی کا راستہ روک دیا گیا۔جولائی 2018 میں برطانیہ، امریکا اور ’’FIVE EYES ‘‘ کے دوسرے ارکان کا انٹیلی جنس تبادلے کے اتحاد کا سالانہ اجلاس ہیلی فیکس (نوا سکوٹیا) ہوا جس میں چینی ٹیلی مواصلات کمپنیاں ہواوی اور 5G نیٹ ورکس میں ایجنڈے میں سرفہرست تھے۔ انہوں نے مغرب میں نیا نیٹ ورکس تیار کرنے سے ہواوی کمپنی کو روکنے کے لئے مشترکہ اقدامات کا فیصلہ کیا ۔
امریکی حکام دنیا بھر میں اپنے حلیفوں پر واضح کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ چین کے ساتھ جنگ محض تجارت کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کی سرکردہ جمہوریاؤں اور کلیدی ناٹو ارکان کے قومی تحفظ کی جنگ ہے۔امریکی انٹیلی جنس اداروں کے سربراہوں نے سینیٹ کے سامنے ہواوی کمپنی سمیت چینی ٹیلی کام کمپنیوں کی 5G سرمایہ کاریوں کو خطرہ کے طور پر پیش کیا ہے۔


متعلقہ خبریں


18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل وجود - جمعه 12 جون 2026

اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ وجود - جمعه 12 جون 2026

صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید وجود - جمعرات 11 جون 2026

ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

مضامین
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج وجود هفته 13 جون 2026
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج

بصارت سے آگے کا سفر وجود جمعه 12 جون 2026
بصارت سے آگے کا سفر

امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات وجود جمعه 12 جون 2026
امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات

ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟ وجود جمعه 12 جون 2026
ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟

آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر