پاکستان مخالف مثلث

پانچ اور چھ فروری2019 ء کو روس کے دار الحکومت ماسکو میں افغانستان کی سیاسی احزاب و شخصیات کا اجلاس افغانستان میں امن اور غیر ملکی افواج کے انخلاء کی سمت ایک اور پیش رفت ہے۔ ایک بڑی تبدیلی درماندہ افغانستان کے اندر رونما ہونے والی ہے، جس کی حمایت و نصرت ہونی چاہیے۔ خصوصاً پاکستان کے اندر قرار تب آسکتا ہے جب افغانستان کامل طور پر خود مختار اور پرامن ملک ہوگا۔
حیرت ہے کہ افغان کٹھ پتلی صدر اشرف غنی پر پریشانی طاری ہوگئی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے امریکی و نیٹو افواج نہ نکالنے کی درخواست کی ہے۔ اشرف غنی کا یہ طرز عمل خوئے غلامی کی بد ترین مثال ہے۔افغانستان کے اندر بدخواہوں نے امن عمل سبوتاژ کرنے کی منظم مہم شروع کر رکھی ہے ۔ پاکستان کے اندر بھی نا سمجھو ں کی کمی نہیں جنہیں سرے سے اس بدلتی صورتحال کا ادراک ہی نہیں جو یقینی طور پر اور افغانستان میں امریکا اور اس کے اتحادیوں سے ہنوز آس و امید رکھے ہوئے ہیں۔ یہی لوگ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں پرویز مشرف کی غلط پالیسیوں اورظلم کے حمایتی تھے۔ حامد کرزئی امریکی سی آئی اے کی چھتری تلے افغانستان داخل ہوئے۔ وہ بڑی رازداری سے پاکستان کے جیکب آباد ایئر پورٹ پر امریکی عسکری حکام سے ملتے اور ہدایات لیتے ۔ چنانچہ کرزئی نے اپنے آخری دور صدارت میں افغان شہری آبادیوں پر بمباری اور رات کے اوقات میں آپریشنز اور املاک کو نقصان پہنچانے جیسے واقعات کے خلاف احتجاج وبرسنا شروع کردیا۔ غیرملکی افواج کے نکل جانے کا مطالبہ بھی کیا کرتے۔گویا اشرف غنی اور اس منش کے دوسرے بد سرشت لوگ چاہتے ہیں کہ ملک بد ستور خارجی افواج کی آماجگاہ بنا رہے۔
پاکستان کے اندر فقط پشتونخواملی عوامی پارٹی نے افغان امن عمل پر بودا اورتعصبانہ سوال اٹھایا۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ 8 ؍اکتوبر 2001ء کے حملے کے بعد برابر افغان عوام جدید ترین و تباہ کن ہتھیاروں کا نشانا بنتے رہے ہیں۔ اس سفاکیت میں افغان پولیس اور آرمی اپنے آقاؤں سے دو قدم آگے نکلنے کی کوشش میں ہوتی۔ افسوس کہ اس سترہ سالہ بربریت و نسل کشی پر مذمت کے بول ان کے لبوں سے ادا نہ ہوسکے ہیں۔اس پر مستزاد ان جیسوں نے دہشت گرد ی کی تعریف و تشریح بھی حسبِ خواہش کردی ۔ یکم جنوری کو لورالائی میں فوجی چھاؤنی میں خودکش حملہ آور گھس گئے۔ ما بعد 29 جنوری کو وہاں کے ڈی آئی جی پولیس آفس میں بھرتیوں کے لیے ٹیسٹ کے دوران پھر خودکش بمبار وں نے ہلہ بول دیاخون ریزی کی۔فلاحی ادارے ایدھی کے مقامی انچارج باز محمد عادل کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی۔ ازیں پیش ضلع پشین میں لیویز کے نائب تحصیلدار کی گاڑی نشانا بنائی گئی ۔ قلعہ سیف اللہ میں لیویز اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی۔ لورالائی کے اندر ان واقعات کے خلاف احتجاج ہوا۔ ہڑتال کی گئی، مگر بد قسمتی سے اس احتجاج کا رخ فوج اور خفیہ اداروں کی طرف موڑنے کی سعی کی گئی۔ گو یاپشتون تحفظ موومنٹ، پشتونخوا میپ کی ایماء پر کود پڑی ، دھرنے اور مظاہرے شروع کیے۔ ان کے مظاہروں میں نازیبا اور غیر شائستہ الفاظ ادا کیے جاتے ہیں۔گاہے گاہے افغانستان کے قومی پرچم ہاتھوں میں بلند کیے جاتے ہیں ۔غرض لورالائی میں دفعہ چوالیس کا نفاذ کیا گیا۔جسے خاطر میں نہ لایا گیا۔چناں چہ 2فروری کو لورالائی میں پولیس ایک دو نوجوانوں کو حراست میں لینے گئی ، دھکم پیل ہوئی۔ ایک جوان محمد ابراہیم عرف ارمان لونی کی طبیعت خراب ہوگئی۔ اسپتال لے جایا گیا لیکن روح قبض ہوچکی تھی۔ پولیس پر تشدد کا الزام دھرا گیا۔ کوئٹہ میں پوسٹ مارٹم ہوا ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر سلیم ابڑو اور دوسرے ڈاکٹرکہتے ہیں کہ متوفی کے جسم پر تشدد کے نشانات نہیں تھے۔ بہر حال نمونے لیکر فارنزک لیب بھیج دیے گئے ہیں جس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ اغلب ہے کہ اس شخص کی موت دل کا دورہ پڑنے یا دماغ کی شریان پھٹنے سے ہوئی ہے۔ متوفی کا تعلق بیک وقت پی ٹی ایم اور پشتونخوامیپ سے تھا۔ اور قلعہ سیف اللہ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں پشتو کا استاد بھی تھا۔
چارفروری کوارمان لونی کی ہلاکت کے خلاف پشتونخوامیپ کی اپیل پر کوئٹہ اور پشتون اضلاع میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ حامد میر نے اپنے پروگرام میں بغیر کسی تحقیق کے پولیس کی جانب سے تشدد کے ابلاغ کو آگے بڑھایا۔ بلوچستان کے بارے میں حامد میر ویسے بھی سنی سنائی باتیں بڑھاتے رہتے ہیں۔ ایک بار تو اپنے کالم میں لکھا تھا کہ 1948 کی کشمیر کی جنگ میں پشتون قبائلی لشکر نے وہاں لوٹ مار کے ساتھ خواتین کو بھی بے آبرو کیا تھا۔ پشتونخوامیپ اور پی ٹی ایم کے جلسوں میں بنگلہ دیش کی علیحدگی کے واقعات کا بڑا ذکر ہوتا ہے۔ نواب ایاز جو گیزئی نے کہا کہ پاکستانی فوج نے ایک لاکھ سے زائد خواتین کو جنسی ہوس کا نشانا بنایا۔ یہ حضرات شیخ مجیب کے علاوہ کچھ سنتے اور پڑھتے تو انہیں تصویر کا دوسرا بھیانک رخ دکھائی دیتا۔ آبروریزی کے واقعات تو خود شیخ مجیب کی حکومت کے تحت قائم تحقیقاتی کمیشن ثابت نہ کرسکی۔ اور اگر ہوئی ہے تو غیر بنگالی خواتین اور پاکستان کے حامی بنگالی عوام کی خواتین کی ہوئی ہے۔ شیخ مجیب تو جھوٹ بولنے میں جرمنی کے جنرل گو ئبلز کی منطق سے بھی کئی قدم آگے تھے۔ تیس لاکھ بنگالیوں کا قتل اور دو لاکھ خواتین کی عصمت دری کا افسانہ گھڑا، جسے ہمارے ہاں بدنہاد ابھی تک رٹے ہوئے ہیں۔ جن کی تمام ہمدردیاں اب بھی بھارت کے ساتھ ہیں۔ بھارت ہی تھا کہ جس نے بنگلہ دیش میں سیاسی مصالحت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں۔ اندرا گاندھی کا بیان ریکارڈ پر جس نے 15 جون 1971 میں کہا تھا کہ’’ بھار ت کسی ایسے سیاسی حل کی کسی طرح حمایت نہیں کرے گا کہ جس کا نتیجہ بنگلہ دیش کی موت کی صورت میں نکلتا ہو ۔‘‘ بھارت کی کئی ریاستوں میں آزاد بنگلہ دیش کی حمایت میں رسمی قرادادیں پاس کرائی گئیں ۔بھارت کے ایوانوں میں کہا جاتا کہ شیخ مجیب الرحمن بھارت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ شیخ مجیب کی قیادت میں عوامی لیگ کی جمہوریت پسندی،اور انسان دوستی کا عکس بنگلہ دیش میں آج کی عوامی لیگ کی جماعتی آمریت ،سیاسی رہنماوں کو پھانسیاں ،قید و بند اور تشدد کی سیاست میں دیکھی جاسکتی ہیں۔
لورالائی کے خودکش حملوں کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر رکھی ہے۔ اور یار لوگ ان خونی وارداتوں کو پاکستانی فوج اور اداروں پر تھوپنے کا پروپیگنڈا کررہے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اسکرپٹ ا نہیں دیا گیا ہے۔ پاکستان مخالفت مثلث میں ٹی ٹی پی وغیرہ دہشت گردی اور انسان کُشی کی ذمہ داری پر مامور ہیں ۔ پشتون تحفظ موومنٹ سیاسی انتہا پسندی اور تصادم کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔جبکہ پشتونخوامیپ سیاسی حمایت اور افرادی قوت دینے کا کام کر رہی ہے ۔ مولوی فضل اللہ قبائلی علاقوں پر مشتمل الگ ریاست کا اعلان کرنے والا تھا کہ آپریشن ضرب عضب کے باعث وہ اپنے ارادے میں کامیاب نہ ہو سکا ۔فوجی آپریشن کے نتیجے میں منتشر ہونے والے عسکریت پسند افغان حکومت کی پناہ میں چلے گئے ۔ گویا پشتون نوجوانوں کے سروں پر سرخ ٹوپیاں رکھ کر انہیں گم راہ کیا جارہا ہے۔ گورنر ہاؤس قندھار میں مارے جانا والے کمانڈر عبد الرازق کی غائبانہ نماز جنازہ یہاں مختلف مقامات پر ادا کی گئی ۔ اورارمان لونی کی غائبانہ نماز جنازہ قندھار میں ادا کی گئی!! بادی النظر میں ’’بورژوا قوم پرستی‘‘ کی صفوں سے علیحدگی اور انتہا پسندی کی ترویج و تبلیغ ہو رہی ہے۔ ستم یہ بھی ہے کہ بد نہادوں نے "ملالہ" بنانے کی نرسیاں بھی کھول رکھی ہیں۔ آئے دن کوئی نہ کوئی ملالہ متعارف کراتے رہتے ہیں۔ میوند کی’’ شہید ملالہ‘‘ حریت و مزاحمت کی علامت و استعارہ ہے ،جو پشتون تاریخ میں نمایاں اور قابل تقلید کردار ہے۔ وہ کسی حرص و لالچ ،مخصوص ذہن ،خفیہ ایجنسی اور کسی استعمار و سامراج کی تخلیق نہ تھی۔