وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نریندر مودی گجرات کے فسادات کے ذمہ دارہیں،ریٹائرڈبھارتی جنرل

بدھ    ٠٩    جنوری    ٢٠١٩ نریندر مودی گجرات کے فسادات کے ذمہ دارہیں،ریٹائرڈبھارتی جنرل

بھارتی فوج کے ریٹائرڈ جنرل ضمیر الدین شاہ نے ( جو فروری 2002 میں گجرات کے فسادات کو کنٹرول کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے) کہا ہے کہ گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی (اب بھارت کے وزیر اعظم) فسادات کے ذمہ دار تھے۔ان فسادات میں سینکڑوں مسلمان ہلاک ہو گئے تھے۔ 27 ؍فروری 2002 ء کو گودھرا میں ایک ٹرین کے جلنے کا واقعہ،جس میں ہندو زائرین ایودھیاسے واپس آتے ہوئے جل گئے تھے، بھارتی صوبے گجرات میں تشدد کابہانہ بنا جس میں مسلمانوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانا بنایا گیا۔28 فروری کو، لیفٹیننٹ جنرل (ر)ضمیر الدین شاہ کو آرمی چیف آف اسٹاف جنرل پدمنابھان کی طرف سے حکم دیا گیاتھا، کہ زیادہ سے زیادہ فوجیوں کو لے کر احمد آباد شہر میں جائیں اور فسادات کو روکیں۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) ضمیر الدین شاہ کہتے ہیں کہ وہ28 ؍فروری کو رات 10 بجے احمد آباد شہر کے ہوائی اڈے پہنچے تھے اور گاڑیوں کا انتظار کرتے رہے کہ اپنے فوجیوں کو شہر میں لے جا سکیں، انہوں نے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سے بار بار درخواستیں کیں، مگر ان کی جانب سے کوئی نہ آیا۔جنرل نے انٹرویو میں کہا ہے کہ بھارتی فوج گجرات میں مسلم کش فسادات کے آغاز پر گاڑیوں کے نہ ہونے کی وجہ سے کئی گھنٹے تاخیر سے پہنچی۔لیفٹیننٹ جنرل (ر)ضمیر الدین شاہ کا انٹرویو جو کہ ارفع خانم شیروانی نے، نومبر 2018 میں ایک بھارتی ٹی وی چینل کے لیے کیا تھا، جس کا متن ، ساؤتھ ایشیا میگزین نے اپنی جنوری2019 ء کی اشاعت میں کور اسٹوری کے طور پر لیا ہے، جس کا عنوان ہے ’’مودی کا مشن‘‘۔میگزین کے صفحہ 25 پر ’’جب گجرات جل رہا تھا‘‘ کے عنوان سے یہ انٹرویو شائع ہوا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) ضمیر الدین شاہ نے اپنے اس انٹرویو میں کہا ہے کہ زیادہ تر ہوم گارڈ کمانڈر دائیں بازو کی تنظیموں سے تھے اور فسادات کو مکمل طور پر پیچیدہ بنا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے فسادیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، اور ان کا ایکشن مکمل طور پر یک طرفہ تھا۔انہوں نے کہا کہ جہاں بھی فسادات ہوئے، پولیس یہ بہانہ کرکے وہاں سے چلی گئی کہ انہیں کسی دوسرے علاقے میں کوئی ضروری کام ہے، اور ہر چیز کو فوج پر چھوڑ دیا۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہ کے مطابق، پولیس نے فسادیوں کو براہ راست کچھ بھی نہیں کہا، اور کچھ ایسے پولیس اہلکاروں کے گھروں کو بھی جلا دیا گیاجو اقلیتی کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے، اور پولیس لائنز کے علاقے میں واقع تھے۔لیفٹیننٹ جنرل (ر)ضمیر الدین شاہ نے بھارتی آرمی میں آخری مرتبہ بطور آرمی اسٹاف ( پرسنیل اور سسٹم) کے ڈپٹی چیف کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد، انہوں نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر کچھ وقت تک خدمات انجام دیں۔ وہ ممتاز بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ کے بھائی ہیں۔