وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

یکم جنوری 2019 سے اکیسویں صدی عیسوی کابیسواں سال شروع ہوگا، تحقیق

جمعه 07 دسمبر 2018 یکم جنوری 2019 سے اکیسویں صدی عیسوی کابیسواں سال شروع ہوگا، تحقیق

معروف محقق اور مہتمم ایمن لائبریری کراچی پاکستان م ص ایمن ؔ نے عیسوی کیلنڈر کی ایک بڑی غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ 31دسمبر کواکیسویں صدی کے 19سال مکمل ہوجائیں گے اور2019 لکھا جائے گا۔یکم جنوری 2019 سے اکیسویں صدی عیسوی کابیسواں سال شروع ہوگا ۔ اس حساب کو نہ سمجھنے کی وجہ سے عالمی سطح پر دو اہم حماقتیں سرزد ہوئی ہیں جن کا ادارک تاحال نہیں کیا گیا۔ان میں سے ایک حماقت ناقابل تلافی ہوچکی ہے ۔ حکومت ’’ علم تقویم‘‘ بطور نصاب سکھائے جانے کا اہتمام کرے تاکہ ہماری زندگی میں دخیل یہ روزمرہ کا حسا ب ہماری نسل کو منتقل ہوتا رہے اور اہم تاریخی موقع پر وہ حماقت کا شکار نہ ہوں جیسا کہ اکیسویں صدی کے آغاز پرہوئے تھے ۔

م ص ایمن کی تحقیق کے مطابق عیسوی کیلنڈر !عالمی کیلنڈر ہے۔ اس عالمی کیلنڈر میں1541ء ؁ تاہنوزیعنی پونے پانچ سو سال سے اہم ترین غلطی چلی آرہی ہے جو ہرسال عالمی سطح پردہرائی جاتی ہے ۔ وہ یہ کہ 31دسمبر کو جو سال ختم ہوتا ہے اس سے اگلے دن یکم جنوری کو اسی گزرے سال کا استقبال کیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک،تمام زبانوں میں اعدادوشمار کے دو قاعدے رائج ہیں۔گنتی کا اور ناپ تول کا،جو چیز گنتی میں آجائے وہ ایک سے گنی جاتی ہے۔ مثلاً مکانات ، گاڑیاں،افراد،درخت،برتن وغیرہ۔ان کا آغاز ایک سے ہوتا ہے،جو چیز گنی نہ جاسکے ناپ یا تول کراس کا حساب کیا جاتا ہے۔ مثلاً زمین ، کپڑا ، لکڑی ، دودھ یا کوئی بھی مائع اشیا ۔جبکہ اجناس وغیرہ کو تولا جاتا ہے ۔ناپ تول میں آنے والی اشیا صفر سے شمار کی جاتی ہیں ۔ ایسی اشیا جب تک اپنی مطلوبہ اکائی تک نہیں پہنچتیں، انہیں ’ایک‘ نہیں کہا جاتا،وقت بھی ایک فاصلہ ہے ،اسے بھی ناپا جاتا ہے اور اس کا آغاز بھی صفر سے ہوتا ہے۔ اس پیمانے میں شماریات کے دونوں قاعدے استعمال ہوتے ہیں جن میں معمولی فرق ہے۔سیکنڈ ،منٹ، گھنٹے ،دن اور مہینے کو ناپا جاتا ہے کہ ان کی حد مقرر ہے۔ اس کے بعد گنتی کا عام قاعدہ شروع ہوتا ہے جو لامحدود ہے ۔ اس فرق کو نظر انداز کرنے سے اس تقویمی حساب کو اب تک نہیں سمجھا گیا اور ’ایک‘ کو ہی ’پہلا‘ سمجھا اور کہا جاتا ہے۔ اسی لیے جب ’بیس سو اٹھارہ‘ لکھا گیا تو اٹھار ہ کو ہی اٹھارھواں سمجھا اورکہا گیا۔م ص ایمن کے مطابق روزہ جب تک غروب آفتاب تک مکمل نہیں ہوتا ۔’پہلا روزہ ‘ کہلاتا ہے اور جب شرائط کے مطابق افطار کرلیا جاتا ہے تو ’ایک روزہ ‘کہلاتا ہے ۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی بچہ اپنی پیدائش سے ایک سال تک ’’پہلے سال ‘‘ میں کہلاتا ہے ۔ سال کے بارہ مہینے پورے ہوتے ہیں حتیٰ کہ اس کی پیدائش کی تاریخ آجاتی ہے تو اس کی ’’پہلی سالگرہ‘‘ منائی جاتی ہے لیکن اصل میں وہ اس کے ’’دوسرے سال‘‘ کا ’’پہلا دن‘‘ ہوتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک سال کا ہوگیا ہے لیکن وہ دوسرے سال میں داخل ہوچکا ہوتا ہے ۔اسی وقت پہلے سال سے دوسرے سال کی گرہ لگ جاتی ہے ۔ یہ ہے سیکنڈ کا مطلب کہ جب ہم گزشتہ صدی کو انیس لکھتے رہے تو اسے بیسویں صدی کہتے رہے ۔ بیس لکھنا شروع کیا تو اسے اکیسویں صدی کہتے ہیں۔انیس سو ننانوے ۔بیسویں صدی کا سوواں سال تھا بیسویں صدی کے سو سال پورے ہوئے توگویا بیس صدیاں پوری ہوگئیں جب ہم نے ’بیس سو‘ لکھا تودراصل اسی وقت اکیسویں صدی کا پہلا سال شروع ہوگیا ۔ انہوں نے عیسوی کیلنڈ ر کے حوالے سے کہا کہ یہ کیلنڈر چونکہ عیسوی کہلاتا ہے اسی لیے اسے اسی تناظر میں دیکھیں ۔ ہم روزانہ تاریخ کی صورت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر ہی لکھتے ہیں ۔ (08-12-2018) 8دسمبر بیس سو اٹھارہ کی تاریخ۔ عیسیٰ علیہ السلام کی عمر بیس صدیاں یعنی بیس سو 228 اٹھارہ سال 228سوا گیارہ مہینے کی ہوگئی ۔تین ہفتے بعد عیسیٰ علیہ السلام کی عمر’’بیس سواور انیس ‘‘ سال مکمل ہوجائے گی ۔

انیس سال مکمل ہوجائیں گے تو ہم ’انیس ‘لکھیں گے ۔یہ دراصل بیسویں سال کا آغاز ہوگا۔۔۔ جیساکہ ہم (19)انیس لکھ کر اسے بیسویں صدی کہتے ہیں جس طرح یکم دسمبر سے تیس دسمبر تک’ بارھواں ‘ مہینہ ہے اسی طرح یکم جنوری اٹھارہ سے اکتیس دسمبر اٹھارہ تک کا عرصہ’ انیسواں سال‘ ہے ،اسے نظر انداز نہ کریں۔۔۔ یہ پورا ایک سال ہوتا ہے ، یکم جنوری بیس سو انیس سے اکتیس دسمبر بیس سو انیس تک اکیسویں صدی کا بیسواں سال مکمل ہوجائے گا تو لکھا جائے گا ’بیس سو بیس۔‘اس طرح عیسیٰ علیہ السلام کی عمر’بیس سوبیس‘ سال مکمل ہوجائے گی اور یکم جنوری’بیس سو بیس‘ سے’اکیسویں صدی کا اکیسواں سال‘ شروع ہوجائے گا ۔۔۔اہم یہ ہے کہ ہم روزانہ مختصراً ملینیئم بے بیز کی عمر لکھتے ہیں۔ پندرہ 228بارہ 228اٹھارہ کا مطلب ہے ۔ ملینیئم بے بیز کہلانے والے بچوں کی عمر اٹھار ہ سال اور ساڑھے گیارہ مہینے ہوگئی ۔انہوں نے بتایا کہ ا کیسویں صدی کے استقبال کے لیے برطانیا میں ایک ’ملینیئم ڈوم‘ بنایا گیا تھا اورطے کیا گیا تھا کہ اس کا افتتاح ’تیسرے نئے ملنیئم کے آغاز پریعنی ’یکم جنوری بیس سو‘ کو اس وقت کے وزیراعظم ٹونی بلیئر کریں گے لیکن اس حساب میں کجی پیدا ہوجانے کے باعث اس ملینیئم ڈوم کا افتتاح مؤخر کردیا گیا کہ صدی اگلے سال شروع ہوگی تب ہی اس کا افتتا ح کیا جائے گا ۔ یوں اس تاریخی جھولے کی تاریخی اہمیت ختم کرکے اسے عام تفریح گاہ بنادیا گیا ۔ یہ حساب سمجھ میںآگیا تو اس تاریخی جھولے کی تاریخی اہمیت بھی بحال ہوجائے گی ۔ حساب سمجھ میں آگیا تو بیسویں صدی کی آخری دہائی کو کوئی بھی نوے کی دہائی نہیں کہے گا کیونکہ نوے دہائی کا ہزار نہیں ہوتا ۔

انہوں نے کہا کہ یہ سال شروع ہوا تو لکھا اور کہا گیا ’’ویل کم دوہزار اٹھارہ ‘‘۔ نیا سال شروع ہوگا اور حسب سابق وحسب روایت لکھا اور کہا جانا چاہیے ۔’’ویل کم دوہزار انیس ‘‘ یہ حساب سمجھ میں آگیا تو آنے والے سال کو ’’ویل کم دوہزار انیس‘‘ کہنے کی بجائے ’اکیسویں صدی کے بیسویں سال ‘ کا استقبال کیا جائے گا جس طرح ’بیسویں صدی کے اختتام پر اکیسویں صدی کا‘ استقبال کیا گیا تھا ۔یوں پاکستان تمام ممالک کی توجہ کا محور ہوگا کہ ایک پاکستانی کی اردو زبان میں وہ تحقیق ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ اردو زبان کے لیے بھی ایک اعزاز ہے ۔ عیسوی کیلنڈر کی تاریخ میں یہ بہت بڑا انقلاب ہے ۔ اس تحقیق کو دنیا کی تمام زبانوں میں ترجمہ کرواکر ان تک پہنچانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’ علم تقویم‘بطور نصاب سکھائے جانے کا اہتمام کیا جائے تاکہ ہماری زندگی میں دخیل یہ روزمرہ کا حسا ب ہماری نسل کو منتقل ہوتا رہے اور اہم تاریخی موقع پر وہ حماقت کا شکار نہ ہوں جیسا کہ اکیسویں صدی کے آغاز پر ساری دنیا ہوئی تھی اور اب تک یعنی انیس سال گزرجانے پر بھی یہ حساب نہیں سمجھا گیا ۔


متعلقہ خبریں


دسمبر میں نجی شعبے کے قرض لینے میں 65 فیصد تک کا اضافہ وجود - اتوار 24 جنوری 2021

دسمبر 2020 میں نجی شعبے کی جانب سے بینکوں سے قرض لینے میں 65 فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا۔مرکزی بینک کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق نجی شعبے نے جولائی سے 8 جنوری 21ـ2020 تک بینکوں سے 215 ارب 50 کروڑ روپے قرض لیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں معاشی سرگرمیاں بڑھنے کے دوران 130 ارب 20 کروڑ روپے تھا۔دسمبر میں قرضوں کے حصول میں تیزی گزشتہ 5 ماہ کی شدید کمی کے مقابلے میں ایک ٹرننگ پوائنٹ کے طور پر سامنے آئی کیونکہ رواں مالی سال کے گزشتہ 5 ماہ میں اس میں مالی سال 20 کے اسی عرصے کے...

دسمبر میں نجی شعبے کے قرض لینے میں 65 فیصد تک کا اضافہ

سوشل میڈیا پرجعلی اکائونٹ ، چیئرمین سینٹ نے پی ٹی اے اور ایف آئی اے حکام کو طلب کرلیا وجود - اتوار 24 جنوری 2021

سوشل میڈیا پرفیک اکائونٹ کے حوالے سے چیئرمین سینٹ نے پی ٹی اے اور ایف آئی اے حکام کو طلب کرلیا ۔ چیئر مین سینٹ نے کہاکہ آزادی رائے کا احترام کرتے ہیں ،فیک اکائونٹ کی آڑ میں کسی کو فیک نام سے کسی کی کردار کشی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوںنے کہاکہ سوشل میڈیا پر غیر اسلامی مواد نشر کرنا خلاف قانون ہے ، فیک اکاوئنٹ کے حوالے سے بہت جلد قانون سازی کی جائیگی ، انھیں قانون کے دائرے میں لائیں گے ۔

سوشل میڈیا پرجعلی اکائونٹ ، چیئرمین سینٹ نے پی ٹی اے اور ایف آئی اے حکام کو طلب کرلیا

پاکستان ،کورونا وائرس کے کیسز میں ایک بار پھر نمایاں کمی وجود - اتوار 24 جنوری 2021

پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران پہلی بار مثبت کیسز کی شرح میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے ۔وزارتِ صحت کے حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ 10 نومبر سے قبل کے حالات کی جانب پاکستان واپس آ گیا ہے ، 10 نومبر 2020ء کے بعد کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا، جن میں اب ایک بار پھر نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے ۔وزارتِ صحت کے حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ 5 تا 8 نومبر 2020ء کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 3 اعشاریہ 9 کے قریب تھی اب پاکستان کورونا وائرس ...

پاکستان ،کورونا وائرس کے کیسز میں ایک بار پھر نمایاں کمی

کووڈ کے ہرتین میں سے ایک مریض میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں، تحقیق وجود - اتوار 24 جنوری 2021

کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے شکار ایک تہائی افراد میں اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں،، مگر اس دوران وہ اسے دیگر افراد تک منتقل کرسکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔اسکریپپس ریسرچ کی اس تحقیق میں میں 18 لاکھ سے زیادہ افراد ہونے والی 61 طبی تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کرنے کے بعد دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 سے متاثر کم از کم ہر 3 میں سے ایک فرد میں کسی قسم کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔طبی جریدے اینالز آف انٹرنل میڈیسین م...

کووڈ کے ہرتین میں سے ایک مریض میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں، تحقیق

امریکا کے عالمی نشریاتی اداروں میں ٹرمپ کے مقرر کردہ اعلی عہدے دار فارغ وجود - اتوار 24 جنوری 2021

امریکا کے وفاقی بجٹ سے چلنے والے تین بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے سربراہوں کو صدر جوزف بائیڈن کی انتظامیہ نے ملازمتوں سے فارغ کر دیا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی ایجنسی برائے گلوبل میڈیا کی قائم مقام سربراہ کیلو شا نے ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی کے ڈائریکٹر ٹیڈ لی پئین، ریڈیو فری ایشیا کے ڈائریکٹراسٹیفن ییٹس اور مڈل ایسٹ براڈ کاسٹنگ نیٹ ورکس کی ڈائریکٹر وکٹوریا کوٹس کو فارغ خطی دے دی ہے ۔ انھیں سبکدوش صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک ماہ قبل ہی ان عہدوں پر م...

امریکا کے عالمی نشریاتی اداروں میں ٹرمپ کے مقرر کردہ اعلی عہدے دار فارغ

برطانیہ سے اسکاٹ لینڈ کی آزادی کیلئے یکطرفہ ریفرنڈم کا اعلان وجود - اتوار 24 جنوری 2021

برطانیہ سے اسکاٹ لینڈ کی آزادی کے لیے ایس این پی نے یکطرفہ طور پر دوسرا ریفرنڈم کرانے کا اعلان کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مئی میں اسکاٹ لینڈ میں ہونے والے انتخابات میں اسکاٹش نیشنل پارٹی جیتی تو قانونی ریفرنڈم کرایا جائے گا۔اسکاٹش نیشنل پارٹی کے مطابق گیارہ نکاتی روڈ میپ پیش کیا جائے گا جبکہ برطانوی حکومت کی جانب سے ریفرنڈم روکنے کی کوشش کا مقابلہ کیا جائے گا۔ایس این پی کے رہنما کیتھ براون کا کہنا تھا کہ ٹاسک فورس ریفرنڈم کے لیے حکمت عملی پر عمل پیرا ہوگی۔

برطانیہ سے اسکاٹ لینڈ کی آزادی کیلئے یکطرفہ ریفرنڈم کا اعلان

معروف امریکی ٹاک شو میزبان لیری کنگ 87 سال کی عمر میں چل بسے وجود - اتوار 24 جنوری 2021

امریکا سے تعلق رکھنے والے معروف ٹاک شو میزبان لیری کنگ 87 سال کی عمر میں چل بسے لیری کنگ کے ٹوئٹر اکائونٹ پر اور میڈیا کی جانب سے ایک پیغام میں اس کی تصدیق کی گئی۔امریکی میڈیا کے مطابق اس پیغام میں لکھا گیا کہ ہمارے شریک بانی، میزبان اور دوست لیری کنگ لاس اینجلس کے سیڈرز سینائی میڈیکل سینٹر میں 87 سال کی عمر میں انتقال کرگئے ۔لیری کنگ نے اس چینیل میں 25 سال کے دوران 30 ہزار سے زیادہ انٹرویوز کیے ۔ اپنے کیرئیر کے دوران انہوں نے امریکا کے صدور رچرڈ نکسن سے لے کر ڈونلڈ ٹرمپ کے ا...

معروف امریکی ٹاک شو میزبان لیری کنگ 87 سال کی عمر میں چل بسے

کورونا پر تحقیق ، عرب دنیا میں سعودی عرب پہلے اور دنیا میں 14 ویں نمبر پر وجود - اتوار 24 جنوری 2021

سعودی عرب نے جہاں کرونا کی وبا پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی وہیں اس موذی وبا کی روک تھام کے لیے سائنسی اور تحقیقی میدان میں بھی پیش پیش رہا ہے ۔عرب ٹی وی کے مطابق مملکت کی کئی جامعات اس وقت کرونا کی وبا کی روک تھام کے لیے مختلف سائنسی طریقوں پر کام کر رہی ہیں۔ چند ماہ قبل عالمی سطح پر سعودی عرب کا شمار کرونا سے متعلق سائنسی تحقیقات کے میدان میں 17 ویں نمبر پر تھا اور آج اس میدان میں مزید آگے بڑھ کر سعودی عرب عالمی سطح پر 14 ویں نمبر پرآ گیا ہے ۔ اس طرح سعودی عرب جی20گروپ ...

کورونا پر تحقیق ، عرب دنیا میں سعودی عرب پہلے اور دنیا میں 14 ویں نمبر پر

سموسے ، پکوڑے اور فرنچ فرائز سے امراض قلب اور فالج کا خطرہ وجود - هفته 23 جنوری 2021

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سموسے ، پکوڑے اور فرنچ فرائز سمیت دیگر تلی ہوئی غذائیں کھانے سے امراض قلب اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔جرنل ہارٹ نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ تلی اشیا دل کی شریانوں سے متعلق بیمایوں کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں، ان امراض میں ہارٹ اٹیک اور فالج نمایاں ہیں۔تحقیق کے مطابق تلی ہوئی غذاوں سے فالج کا خطرہ 28 فیصد، امراض قلب کا 22 فیصد جبکہ ہارٹ فیلیئر کا 37 فیصد بڑھ جاتا ہے اور اگر کوئی شخص اوسطا ہر ہفتے 114 گرام مذکورہ غذاوں کا است...

سموسے ، پکوڑے اور فرنچ فرائز سے امراض قلب اور فالج کا خطرہ

پاکستانی ہر سال 554ارب روپے خیراتی اداروں کو دیتے ہیں وجود - هفته 23 جنوری 2021

مقررین نے کہا کہ پاکستانی ہر سال 554ارب روپے خیراتی اداروں کو دیتے ہیں۔مقررین نے پاکستان پیس کالیکٹو،نیشنل کائونٹرٹیررازم اتھارٹی ،سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے تحت منعقدہ محفوظ خیراتی اداروں کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ہر سال 554ارب روپے خیراتی اداروں کو دیتے ہیں جب کہ 26 فیصد پاکستانی نہیں جانتے کہ ان کی دی ہوئی خیراتی رقم کہاں استعمال ہورہی ہے ۔ڈسٹرکٹ پروجیکٹ کوآرڈینیٹر پاکستان پیس کالیکٹو رانا آصف حبیب نے کہا کہ خیراتی رقم کے درست استعمال کیلیے قوانین پر عمل د...

پاکستانی ہر سال 554ارب روپے خیراتی اداروں کو دیتے ہیں

اسٹیٹ بینک نے سوشل میڈیا پر زیر گردش پیغام کی سختی سے تردید کردی وجود - هفته 23 جنوری 2021

اسٹیٹ بینک نے سوشل میڈیا پر زیر گردش پیغام کی سختی سے تردید کردی ہے ۔ اس ضمن میںترجمان نے زیر گردش پیغام کی تردید کی ہے جس میں اسٹیٹ بینک سے یہ ہدایت منسوب کی گئی ہے کہ اے ٹی ایم سے کیش نکلوانے کی حدایک ہزار روپے تک محدود کردی گئی ہے ،ترجمان کے مطابق اسٹیٹ بینک اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے کی لمٹ پر کوئی حد مقرر نہیں کرتا،اس حد کا فیصلہ بینک کرتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے سوشل میڈیا پر زیر گردش پیغام کی سختی سے تردید کردی

پاکستان اور افغانستان کے باکسر آمنے سامنے ، ایک دوسرے پر مکوں کی بارش وجود - هفته 23 جنوری 2021

خیبرختونخوا کے شہر پشاور میں پاکستان اور افغانستان کے باکسر آمنے سامنے ہوئے ۔ قیوم اسٹیڈیم میں منعقد ٹورنامنٹ میں باکسرز نے ایک دوسرے پر مکوں کی بارش کر دی، ہمسایہ ملکوں کے کھلاڑیوں کے درمیان زبردست مقابلوں سے شائقین خوب لطف اندوز ہوئے ۔قیوم سپورٹس کمپلیکس پشاورمیں پاکستان اور افغانستان کے باکسرز کے درمیان پروفیشنل باکسنگ کے مقابلے ہوئے جن میں باکسنگ کونسل اور محکمہ کھیل خیبر پختونخوا کے زیراہتمام ایک روزہ ایونٹ میں 12 افغان کھلاڑیوں سمیت 24 باکسرز نے حصہ لیا۔مقابلوں میں افغا...

پاکستان اور افغانستان کے باکسر آمنے سامنے ، ایک دوسرے پر مکوں کی بارش