وجود

... loading ...

وجود

بحریہ ٹاؤن کو دھوکے سے زمین دی گئی، چاندی دے کر سونا لے لیا ، چیف حسٹس

جمعرات 04 اکتوبر 2018 بحریہ ٹاؤن کو دھوکے سے زمین دی گئی، چاندی دے کر سونا لے لیا ، چیف حسٹس

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ بحریہ ٹاؤن کراچی کو زمین دھوکے بازی سے دی گئی اور چاندی دے کر سونا لے لیا گیا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے بحریہ ٹاؤن کی نظرثانی کیس کی سماعت کی، اس دوران بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض، سینئر وکیل اعتزاز احسن، وکیل علی ظفر اور دیگر پیش ہوئے ۔دوران سماعت وکیل بحریہ ٹاؤن علی ظفر نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے پاس ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے ) کی 18 ہزار کینال زمین ہے ، بحریہ ٹاؤن 5 ارب دینے کو تیار ہے اور مزید اقدامات بھی کرے گا۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بحریہ ٹاؤن کے جہاز میں پھر رہے ہیں اور آپ نے جہاز کو ٹیکسی بنایا ہوا ہے ، اس پر علی ظفر نے کہا کہ آپ ہرجانہ طے کردیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم عملدرآمد بینچ ہیں، اس سے ایک پیسہ کم نہیں ہوگا، اگر نہیں دے سکتے تو میرٹ پر بحث کریں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ پر جرمانہ کردیتے ہیں، ہزار ارب دے دیں، جس پر ملک ریاض نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن میں کل سرمایہ کاری 437 ارب روپے کی ہے ، ہزار ارب کیسے ادا کروں۔ملک ریاض نے بتایا کہ سندھ میں زمین کے تبادلے کا قانون 1982 سے موجود ہے اور 70 کے قریب زمینوں کے تبادلے ہوئے ہیں۔ملک ریاض نے بتایا کہ بحریہ ٹاؤن نے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ 4 دیہات کا تبادلہ کیا اور ان تبادلوں کی مد میں 4 ارب سرکاری خزانے میں جمع کرائے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو پانی کے بلوں کی مد میں 36 کروڑ روپے جمع کرائے ، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 1500 ارب روپے سے ڈیم بنتا ہے ، آپ بنا دیں۔ملک ریاض نے کہا کہ ایک روپے کی چیز کے 10 روپے کیوں ادا کروں؟ عدالت سے ہاتھ جوڑ کر استدعا کرتا ہوں رحم کرے ، میں پہلے ہی 7 ارب روپے جمع کروا چکا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اگر عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو متحرک کیا تو لاکھوں لوگ بے روزگار ہوجائیں گے اور سب کچھ ٹھپ ہو جائے گا۔اس دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے عدالت میں موجود وکیل زاہد بخاری نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن ڈوبے گا تو پاکستان ڈوب جائے گا،جس پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ زاہد بخاری آپ سوچ سمجھ کر بات کریں، عدلیہ پاکستان کی محافظ ہے ۔جس پر زاہد بخاری نے کہا کہ میں معاشی طور پر ڈوبنے کی بات کر رہا تھا، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ حکومت کی زمین دھوکے بازی سے بحریہ ٹاؤن کو دی گئی۔دوران سماعت عدالت میں موجود نجی سرمایہ کار نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کی وجہ سے نجی سرمایہ کار متاثر ہو رہے ہیں، بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقابلے میں محفوظ ہے اور لوگ یہاں سکون سے رہ رہے ہیں۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ لوگ کہہ رہے ہیں کہ بحریہ ٹاؤن کے خلاف ایکشن نہیں لیں، چاہے ان لوگون نے جتنی لوٹ مار کی ہے ، آپ کہہ رہے ہیں ان کو معاف کردیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملیر اتھارٹی سے ایک جگہ زمین لی گئی، بدلے میں ٹکڑے ٹکڑے زمین دی اور یہ زمین بلوچستان سرحد پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان سرحد پر 300 میل دور زمین دے کر موقع کی زمین ہتھیا لی گئی، چاندی دے کر سونا لے لیا گیا۔دوران سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی موقع کی اراضی لے کر بلوچستان کی سرحد کے ساتھ بنجر زمین دے دی گئی اور ملیر کو پہاڑیوں اور ٹیلے والی اراضی دی گئی۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا غیر قانونی کام پر اس لیے چھوٹ دے دیں کہ ہوا تو غلط ہے لیکن کام بہت اعلیٰ ہے ۔اس موقع پر عدالت میں موجود وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ اس کیس میں اگر کوئی شراکت دار ہے تو وہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جسٹس مقبول باقر کو نظرثانی بینچ میں ضرور ہونا چاہیے تھا، اگرچہ انہوں نے اختلافی نوٹ لکھا تھا لیکن ان کی موجودگی ضروری تھی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایم ڈی اے کو کتنا نقصان ہوا؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ ایم ڈی اے کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایم ڈی اے کہتی ہے نقصان نہیں ہوا، سندھ حکومت بھی یہی کہتی ہے ، یہ سب ملے ہوئے ہیں، ہم ٹھیک کہتے ہیں کہ سندھ میں سب ملے ہوئے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم یہاں ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو اراضی واپس دینے کی سوچ رہے ہیں جبکہ ملیر کہتا ہے کہ ہمیں اراضی چاہیے ہی نہیں۔اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کون ہے ایم ڈی اے کا منیجنگ ڈائریکٹر؟ کیوں نہ انہیں جیل بھیج دیں۔بعد ازاں عدالت نے بحریہ ٹاؤن نظرثانی کیس کی سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کردیا۔وقفے کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلی سندھ کے پاس ملیر ڈیولپمنٹ اراضی کے تبادلے کا اختیار نہیں تھا، یہاں تو وزیر اعظم کو کھوکھاالاٹ کرنے کا اختیار نہیں تو وزیر اعلیٰ نے کیسے یہ اختیار استعمال کیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اسی لیے کہتے ہیں کہ وہاں کچھ ٹھیک نہیں ہورہا، ملک ریاض کو نیب کی کارروائی سے کیوں خوف ہے ؟ باقی لوگ نیب میں اپنے مقدمات کا سامنا کررہے ہیں تو ملک ریاض کیوں نہیں کر سکتے ؟ہم اس کیس میں ملک کے بہترین نگران تعینات کریں گے ، یہ ملک کو ایسے چلائیں گے جیسے بحریہ ٹاون خود چلایا جا رہا ہے ۔ چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ جب تک کیس کا فیصلہ نہیں آجاتا بحریہ ٹاؤن کے معاملات دیکھنے کے لیے ایک بورڈ تشکیل دیا جاسکتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ میں خود اس بورڈ کی سربراہی کروں۔جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے بحریہ ٹاون کیس کی سماعت آئندہ جمعرات تک کے لیے ملتوی کردی۔


متعلقہ خبریں


امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب وجود - بدھ 11 مارچ 2026

بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط وجود - بدھ 11 مارچ 2026

نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع وجود - بدھ 11 مارچ 2026

پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 10 مارچ 2026

ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند وجود - منگل 10 مارچ 2026

سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند

مضامین
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود جمعرات 12 مارچ 2026
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں!

کشمیریوں سے امتیازی سلوک وجود جمعرات 12 مارچ 2026
کشمیریوں سے امتیازی سلوک

سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے!

منٹو کا انسانیت پر ایمان وجود بدھ 11 مارچ 2026
منٹو کا انسانیت پر ایمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر