... loading ...
قرآن مقدس کے نزول کے سلسلہ میں کئی مراحل نظر آتے ہیں اور ان مراحل کی طرف خود قرآن مقد س نے ہی اشارہ فرمایا ہے جس سے اسلاف نے استدلال کیا ہے ۔
لوح محفوظ سے آسمان اول کی طرف نزول ہوا یہ نزول رمضان مقدس کی شب قدر میں ہوا اِسی نزول کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ ’’بیشک ہم نے (قرآن مقدس)کولیلۃ القدر میں نازل فرمایا‘‘علامہ سخاوی فرماتے ہیں آسمان اول پر دفعۃًاتارنے میں یہ حکمت تھی کہ فرشتوں کی نظرو ں میں آدمیوں کا مقام بڑھ جائے دوسری آیہ مبارکہ میں اِسی نزول کی طرف اشارہ ہے ۔’’رمضان مقد س کامہینہ جس میں ہم نے قرآن اُتارا ‘‘لوح محفوظ سے آسمان اول یکبار گی لانے میں یہ بھی حکمت تھی کہ قرآن مقدس کوقریب کردیا جائے تاکہ جب رحمتِ باری کادروازہ کھلے تو قرآن اور صاحب قرآن ﷺاکٹھے ظاہر ہوں ۔
دوسری مرتبہ آسمان دنیا سے ۲۳بر س کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا بقدر ضرورت حضور اکرم ﷺپر نازل ہوتا رہا اور متعدد احادیث طیبہ سے ثابت ہے کہ رمضان مقدس میں حضرت جبریل علیہ السلام حضور اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر سارا قرآن مقدس سنایاکرتے تھے ،حاکم بیہقی نے منصور کے طریق پرسعید بن جبیر کے واسطہ سے ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہماسے نقل کیا ہے، ابن ابی شیبہ ؓنے اپنی کتاب فضائل القرآن میں اسی کی تائید کی ہے قرطبی نے ابن حبان سے اِسی کو ترجیح دی ہے ۔ ’’ابوشامہ کہتے ہیں آسمان دنیا پر نزول قرآن کا وقت بعثت سے قبل معلوم ہوتا ہے یہ احتما ل بھی ہے کہ ظہو ر نبوت کے بعد ہوا ابن عباس کی روایت اس پر دلالت کرتی ہے ،ابن حجر شارح بخاری، احمد اور بہیقی سے نقل کرتے ہیں کہ تورات وانجیل کانزول بھی ر مضان میں ہوا۔ اس سلسلہ میں قرآن مقدس نے دوالفاظ کا ذکر فرمایا ہے ،انزلنا اور نزّلنا ،انزلنا کا معنی ہے یکبار گی اتارنا جیسے کہ لوح محفوظ سے آسمان اول تک ہوا اور نزلنا کا معنی ہے آہستہ آہستہ اتارنا جیسے آسمان اول سے دنیا تک حسب ضرور ت نازل ہوتا رہا بعض جاہل مسیحی مبلغین نے بیک وقت دوصورتوں کا متعدد ہونا بیان کرکے عوا م کو دھوکہ دہی کی کوشش کی مگر جب تک علماء اسلام موجو د ہیں ان کے تمام فریبانہ اندازوں کا پردہ چاک کرتے رہیں گے ۔یہ اعتراض پادری کے ایل ناصر گوجر انوالہ نے اپنے رسالہ مسیحی خادم میں کیا ۔
حضور اکرم ﷺکی عمر مقدس چالیس برس کو پہنچنے سے قبل آپ پر رویاء صادقہ کا زمانہ رہا، جو کچھ رات کو خواب میں دیکھتے وہ صبح کی مانند سچا ہوتا،عالم روحانیت میں جو دور جاہلیت کی تاریک رات تھی۔ وہ زمانہ نبوت کے آغاز کے ساتھ ہی ختم ہوگئی ۔جب قمری مہینہ کی تاریخ کے مطابق آپ کی عمر مقدس چالیس سال ہوئی تو ۱۷رمضان پیر کے دن غار حرا شریف میں دفعۃ ًایک فرشتہ اندر آیا اور آپ کو سلام کیا اور پھر کہا اقراء پڑھیے آپ نے فرمایا میں پڑھنے والانہیں حضور خود فرماتے ہیں اس پر فرشتہ نے پکڑ کر مجھ کو شدت سے دبا یاکہ میری مشقت کی کوئی انتہانہ رہی اور اُس کے بعد چھوڑ دیا اور کہا اقرا ء میں نے پھر وہی جواب دیا فرشتہ نے مجھ کوپھر اُسی شدت سے دبایا اور پھر چھوڑ دیا یہ واقعہ تین مرتبہ ہوا ،بعد ازاں آپ گھر تشریف لائے ،بدن مبارک پرلزرہ تھا، آتے ہی حضرت خدیجۃ الکبریٰ سے فرمایامجھ کو کچھ اُوڑ ھاؤ جب کچھ دیر بعد گھبراہٹ دور ہوئی تو آپ نے سیدہ خدیجہ کو پوراواقعہ سنایا اور فرمایامجھے اندیشہ ہواکہ کہیں میری جان نہ نکل جائے ۔
یہ سوال خوامخواہ ذہن میں آتا ہے کہ حضور علیہ السلام نے اپنی عبادت وریاضت کے لیے اس غار کا انتخاب کیوں فرمایا جبکہ قرب وجوار میں اور بھی بہت سے غار موجو تھے ،علامہ آزرقی نے پہلی حکمت یہ بیان کی ہے کہ یہ غار بلندی پر تھا جہاں لوگوں کا اختلاط سے زیادہ محفوظ رہا جاسکتا تھا اور وہاں سے بیت اﷲشریف کی زیارت بھی ہوتی رہتی تھی ،یہ چیزیں دوسرے غاروں میں مفقود تھیں ۔
یہ غار جانب مشرق تھا مادی آفتاب بھی مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور روحانی آفتاب حضرت محمد ﷺنے بھی جانب مشرق کو پسند فرمایا تاکہ توافق بین الشمسین ہوجائے اور یہ واضح ہوجائے کہ جس طرح مادی آفتاب کے ساتھ نظام کائنات وابستہ ہے اسی طرح بلکہ اس سے کہیں درجہ زیادہ روحانی آفتاب سے وابستگی ہے ۔
قرآن مقدس بذریعہ وحی نازل ہوا اور وحی کی متعدد کیفیتیں ہوئی تھیں ،کبھی فرشتہ اس کو گھنٹی کی آواز کی طرح لاتا ہے جیسے صحیح بخاری شریف میں وارد ہواہے ’’کبھی وحی گھنٹی کی آواز کی طرح آتی ہے ‘‘حضور اکرم ﷺسے پوچھا گیا کیا یا رسول اﷲنزول وحی کے وقت آپ کو کیا احساس ہوتا ہے فرمایا جھنکار کی آوازیں سنتا ہوں اور اسی وقت خاموش ہوجاتا ہوں اِسے وحی تصلصلی کہتے ہیں ۔
کبھی نبی کریم ﷺکے دل اطہر میں کلام الٰہی پھونک دیجاتی تھی جیسا کہ خود حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ’’بے شک روح مقدس میرے دل میں پھونکی جاتی تھی ۔‘‘
کبھی فرشتہ انسانی شکل میں حاضرہوتا اور قرآن مقدس سناتا ،ابوعوانہ ؓ نے فرمایاحضور اکرم ﷺفرماتے تھے وحی کی یہ صورت مجھ پرآسان ترین صورت ہے ۔کبھی فرشتہ اپنی اصلی شکل میں حاضرہوتا اور حضور اکرم ﷺکو قرآن سناتا غار حرا شریف میں فرشتہ اپنی اصلی شکل میں ہی آیاتھااُس کے عظیم جسم نے زمین وآسمان کے مابین کو بھر رکھا تھا حضور علیہ السلام نے حقیقت جبریلی کوبنظر ِ غائر ملاحظہ فرمایا ،عارف رومی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں حضور نے تو حقیقت جبریل کودیکھ لیا اور بے خود نہ ہوئے اگر جناب جبریل حقیقت محمدیہ کو دیکھ لیتے تو قیامت تک بے خودہی رہتے ۔
کبھی حامل وحی فرشتہ سونے کی حالت میں آپکے ہاں حاضر ہوتاتھا بہت علماء کرام نے سورہ کوثر کو اِسی قسم کی وحی سے قرار دیا ہے نیز ’’انبیاء کی خواب بھی وحی ہوتی ہے ‘‘کا اصول مسلمہ ہے ۔قرآن مقدس نے سید نا ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کوبیان فرمایاہے ’’اے بیٹے میں نے خواب دیکھا ہے کہ تجھے ذبح کررہاہوں ‘‘اس خواب کی بات سن کر جناب اسماعیل علیہ السلام نے بلاتامل فرمایا ’’اے والد محترم آپ وہ کرگزرے جسکا آپکو حکم ملا ہے ‘‘تو واضح ہے کہ نبی کوخواب میں ذبح اسماعیل کا حکم دیا گیا ہے یہ وحی منامی کہلاتی ہے ۔کبھی رسول کی حالت بیداری میں خود خالق کائنا ت جل مجدہ ارشاد ات سے نوازتا ہے جیسا کہ شب معراج ہوایابحالت خواب قدوس اپنی زیارت سے نبی کو مشرف فرماتاہے ۔
کارروائی یمن کے علیحدگی پسند گروہ کیلئے اسلحے کی کھیپ پہنچنے پر کی گئی،امارات کی جانب سے علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت سعودی عرب کی قومی سلامتی کیلئے براہِ راست خطرہ ہے،سعودی حکام یمن میں انسداد دہشتگردی کیلئے جاری اپنے باقی ماندہ آپریشن فوری طور پر ختم کررہے ہیں، واپسیشراکت دار...
پوائنٹ آف سیل کا کالا قانون واپس نہ لیا گیا تو 16 جنوری سے آغاز کرینگے، ملک بھر کے تمام چوراہے اور کشمیر ہائی وے کو بند کردیا جائے گا،وزیراعظم ہماری شکایات دور کریں، صدر آبپارہ چوک سے ایف بی آر دفتر تک احتجاجی ریلی،شرکاء کو پولیس کی بھاری نفری نے روک لیا، کرپشن کے خاتمہ کے ل...
ریفرنڈم کے بعد پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کیخلاف صوبائی اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے پاکستان اپنی فوج حماس اور فلسطینیوں کے مقابل کھڑی نہ کرے، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں پندرہ جنوری کو ملک گ...
مظاہرین کا ایم اے جناح روڈ پر دھرنا ، ایف آئی آر کو فوری واپس لینے کا مطالبہ جب تک ہماری ایف آئی آر درج نہیں ہوتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا،احتجاجی وکلاء (رپورٹ:افتخار چوہدری)کراچی ایم اے جناح روڈ پر وکلاء کے احتجاج کے باعث شاہراہ کئی گھنٹوں سے بند ۔احتجاج یوٹیوبر رجب بٹ ک...
محمود اچکزئی کا یہی موقف ہے بانی کیساتھ ملاقاتیں بحال کئے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے مذاکرات کیلئے بھیک کا لفظ غلط لفظ ہے،پی ٹی آئی اور اچکزئی ایجنڈے میں کوئی فرق نہیں پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرسکتے تو مذاکرات کی ک...
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا، دہشت گردوں کا نیا نشانہ ہمارے بچے ہیں،سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے بلوچ بچی بلوچستان سے ہے، اس کی مختلف لوگوں نے ذہن سازی کی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا، رابطہ ...
میرے کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی،اسے اسمگلنگ اور منشیات سے جوڑا گیا، یہ سب پنجاب حکومت کی زیر نگرانی ہوا، انتظامی حربے استعمال کرنے کا مقصد تضحیک کرنا تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پنجاب حکومت نے کابینہ ارکان کو تشدد کا نشانہ بنایا ،لاہورکے شہریوں کو تکلیف دی گئی، قومی یکجہت...
اسلام آباد ہائیکورٹ نیبانی تحریک انصافعمران خان کی اپیل پر ڈائری نمبر24560 لگا دیا عدالت نے وعدہ معاف گواہ کے بیان پر انحصار کیا جو نہیں کیا جا سکتا تھا، دائراپیل میں مؤقف بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا۔تفصیلات...
اپیل رجسٹرار کورٹ آف اپیلز، اے جی برانچ، چیف آف آرمی اسٹاف کو جمع کرائی گئی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کیلئے 40 دن کا وقت تھا، وکیل میاں علی اشفاق کی تصدیق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے ملٹری کورٹ سے سنائی گئی اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی ...
شیر خوار بچوں اور خواتین کی زندگیاں خطرے میں، بارشوں نے حالات کو مزید خراب کر دیا اسرائیلی فوج کی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں، بارش کا پانی خیموں میں داخل ہوگیا اسرائیلی مظالم کے ساتھ ساتَھ غزہ میں موسم مزید سرد ہونے سے فلسطینی شدید مشکلات کا شکار ہو گئے، ایک طرف صیہوبی بر...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے شہر کے مختلف علاقوں کے دورے کیے اور جگہ جگہ رک کر عوام سے خطابات کیے، نعرے لگوائے، عوام کی جانب سے گل پاشی ، لاہور ہائیکورٹ بار میںتقریب سے خطاب سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں عمران خان زندہ بادکے نعرے گونج رہے ہیں،خان صاحب کا آخری پیغام سڑکوں پر آئیں ت...
جیسے جیسے 2025 اختتام کو پہنچ رہا ہے شہر کا نامکمل انفراسٹرکچر اور تاخیری منصوبے صحت عامہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں کھوکھلے وعدوں کے سائے میں ٹوٹی ہوئی سڑکیں، بند گٹر، بڑھتی آلودگی نے سانس کی بیماریوں میں اضافہ کردیا ہے جیسے جیسے 2025اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے کراچی کا نامکمل ان...