وجود

... loading ...

وجود

آپریشن سے بچوں کی پیدائش کا خطرناک کھیل

منگل 12 جون 2018 آپریشن سے بچوں کی پیدائش کا خطرناک کھیل

حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش مٹی سے ہوئی۔ پہلے ایک پتلا بنایا گیا اور پھر اس میں روح پھونک دی گئی۔ پھر آدم علیہ السلام کی پسلی سے حضرت حواء علیہاالسلام کی پیدائش ہوئی۔ پھر جب دونوں دنیا میں آئے تو ان سے آگے انسانی نسل پھیلی اور بچوں کی پیدائش ایک خاص عمل کے بعد عورت کے رحم سے ہوتی رہی۔ آج سے دس ہزار سال قبل حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج سے تقریبا چندسال قبل تک بچوں کی پیدائش اسی فطری طریقے سے ہوتی رہی جو ہزاروں سال سے نہ صرف انسانوں بلکہ تمام جانداروں، دوسری مخلوقات اور جانوروں میں جاری و ساری ہے۔

لیکن اب اچانک سے پاک وہند میں یہ تبدیلی آئی اور پھر بہت زیادہ عام ہوگئی کہ ستر فیصد بچوں کی پیدائش آپریشن سے ہورہی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ باقی تمام مخلوقات مثلا کتا، بلی، بکری، بھینس وغیرہ وغیرہ ہر ایک کے ہاں بچے کی پیدائش اسی فطری طریقے سے ہورہی ہے جیسے پہلے ہورہی تھی ایک واحد انسان ہے جسے قصائی نما ڈاکٹروں نے اپنی پیسے کی ہوس، لالچ اور محبت نے اس غلط راستے پر زبردستی ڈال دیا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آج کل کی خوراک اتنی ناقص ہے کہ جس کی وجہ سے زچہ و بچہ کی صحت اس قابل نہیں ہوتی کہ آپریشن کے بغیر پیدائش ہوسکے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ناقص خوراک کا معاملہ صرف انسانوں کے ساتھ ہی ہے یا جانور بھی ناقص خوراک ہی کھا رہے ہیں، آج کی گائے اور بھینسیں بھی یوریا اور کیمیکلز سے تیار کردہ گھاس کھا رہی ہیں، کتیا اور بلی بھی فارمی مرغیوں کی ہڈیا اور گوشت کھا رہی ہیں لیکن ان کو تو آپریشن کی ضرورت پیش نہیں آتی آخر انسان کوہی کیوں زبردستی آپریشن پر مجبور کیا جارہا ہے۔

ہمارے خیال میں اس سارے معاملے میں سوائے پیسے کی ہوس کے اور کچھ نہیں۔ دراصل آج کا ڈاکٹر ، ڈاکٹر بنا ہی زیادہ پیسہ کمانے کے لئے ہے۔ ذرا سوچیے، والدین اپنے بچے کو کیوں ڈاکٹر بناتے ہیں، کیا ان کے ذہن میں ذرا بھی یہ تصور ہوتا ہے کہ میرا بچہ یا بچی انسانیت کی خدمت کرے گا؟ نہیں بالکل نہیں۔ والدین یہی سوچ کر ڈاکٹر بناتے ہیں کہ پیسہ زیادہ کمائے گا۔ تو پھر ظاہر ہے اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ وہ کہنے کو تو ڈاکٹر ہوتا ہے لیکن اصل میں انسانیت کو ذبح کرنے والا قصائی۔

آج کوئی بھی خاتون پیدائش کے وقت ہسپتال یا کلینک جاتی ہے تو فورا اسے نفسیاتی طور پر اتنا ہراساں کردیا جاتا ہے کہ وہ آپریشن کروانے پر مجبور ہوجاتی ہے۔چونکہ آپریشن کروانے پر اچھے خاصے پیسے مریض کی جیب سے نکلوائے جاسکتے ہیں اس لیے ڈرا دھمکا کر آپریشن کرنے پر راضی کرلیا جاتا ہے۔

عالمی طور پر آپریشن کروانا اچھا تصور نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ اس طرح زچہ و بچہ دونوں طرح طرح کی بیماریوں اور عمر بھر کے لیے کئی طرح کے مسائل سے دوچار ہوجاتے ہیں۔

سائنسدانوں نے جدید تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ جو بچے آپریشن کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں ان کے 5سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی موٹاپے میں مبتلا ہونے کے امکانات نارمل طریقے سے پیدا ہونے والے بچوں کی نسبت 50 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ ان بچوں کو دمہ لاحق ہونے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے ماں کے آپریشن کے ذریعے بچہ پیدا کرنے کا نقصان بتاتے ہوئے کہا کہ جو خواتین آپریشن کے ذریعے بچہ پیدا کرتی ہیں آئندہ ان کا اسقاط حمل ہونے اور ان کے بانجھ ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔اس تحقیق میں یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے سائنسدانوں نے دونوں طریقوں سے پیدا ہونے والے ہزاروں بچوں اور ان کی ماؤں کی صحت کا ریکارڈ حاصل کرکے اس کا تجزیہ کیا اور نتائج مرتب کیے۔

عالمی ادارہ صحت نے آپریشن کے ذریعے پیدائش کو اس کے نقصان دہ اثرات کے باعث زچگی کا ناپسندیدہ طریقہ قرار دیا ہے۔ اور 10 سے 15 فیصد سالانہ سٹینڈرڈ شرح مقرر کی ہے۔ لاہور میں قائم پنجاب کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال سر گنگا رام میں ہر سال لگ بھگ 24 ہزار بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ ہسپتال کے اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے 50 فیصد بچوں کی پیدائش آپریشن کے ذریعے ہو رہی ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق سی سیکشن محض اس صورت میں کیا جانا چاہیے جب ماں اور بچے کی جان کو خطرہ لاحق ہو کیونکہ جب پیٹ کاٹ دیا گیا تو اس میں انفیکشن ہو سکتا ہے زخم جلدی نہیں بھرتا۔ کبھی خون نہیں رکتا اور کبھی پیٹ میں مستقل درد کی شکایت ہو جاتی ہے۔ پہلی اولاد آپریشن سے ہونے کے باعث امکان بڑھ جاتا ہے کہ ہر بار آپریشن ہی کرنا پڑے گا جس سے ان کی صحت پر انتہائی نقصان دہ اثرات پڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ سی سیکشن کے عمل میں بچے اور ماں کی صحت کو تین گنا زیادہ رسک ہوتا ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سکریٹری اور معروف گائیناکالوجسٹ ڈاکٹر شیر شاہ سید کا کہنا ہے کہ آپریشن میں اضافے کی ایک وجہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا ہے، ” بعض اوقات کوئی انفیکشن ہوجاتا ہے اور ڈاکٹر محسوس کرتا ہے کہ اپریشن پہلے کر دینا زیادہ مناسب ہے تو آپریشن کر دیا جاتا ہے، ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ نارمل ڈیلوری کی جائے تو دس ہزار روپے مل جاتے ہیں لیکن اگر آپریشن کیا جائے تو اس سے تیس ہزار سے ایک لاکھ تک مل جاتے ہیں ، اس لئے بعض ڈاکٹر یہ کام کر ڈالتے ہیں۔ اور بعض آپریشن اس لئے ہوتے ہوں گے کہ جونئیر ڈاکڑز کو سیکھایا جا سکے۔

ڈاکٹر عائشہ خان کہتی ہیں کہ یہ بات درست ہے کہ آپریشن سے بہت سی پیچدگیاں پیدا ہوتی ہیں، جیسا کہ مختلف قسم کے انفکشن، وقت سے پہلے پیدائش، خواتین کا بانجھ پن، اندرونی زخم، خون کی بیماریاں، بچے کو سانس کی بیماریاں،بچے کا وزن کم ہونا،اور بعض اوقات تو اموات بھی ہوجاتی ہیں۔

ان کے بقول ایک خاتون کا دو سے تین بار آپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائش اس کی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے۔ ان کا خیال ہے کہ سیزیرئن کیسزمیں اضافے کی بڑی وجہ ملک میں کثیر تعداد میں پرائیویٹ ہسپتال اور زچہ و بچہ کے مراکز ہوسکتے ہیں، جن میں بیشتر اوقات تعینات طبی عملہ ذیادہ پیسے کمانے کی خاطر بچوں کی پیدائش کے لئے آپریشن ہی تجویز کرتا ہے۔ ڈاکٹر عائشہ سمجھتی ہیں کہ حکومت کو غیر ضروری آپریشنز کے خلاف اقدامات اٹھانے چائیں تاکہ لوگوں کے ساتھ ناانصافی کا خاتمہ ممکن ہو۔


متعلقہ خبریں


شہدا کی قربانیاں قوم کی امانت، دہشت گردی کیخلاف آخری حد تک لڑیں گے(فیلڈ مارشل) وجود - جمعه 22 مئی 2026

کسی شرپسند کو ملک کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ملک بھر میں پائیدار امن و استحکام کے قیام تک دہشتگردوں کیخلاف جنگ پوری قومی قوت اور بھرپور عزم کیساتھ جاری رہے گی شہداء اور غازی اس قوم کا دائمی فخر ہیں،سید عاصم منیرکاجی ایچ کیو میں فوجی اعزازات کی تقریب سے خطاب،50 اف...

شہدا کی قربانیاں قوم کی امانت، دہشت گردی کیخلاف آخری حد تک لڑیں گے(فیلڈ مارشل)

شمالی وزیرستا ن ، دہشت گرد سرغنہ خارجی سمیت 5 دہشت گرد ہلاک وجود - جمعه 22 مئی 2026

اسپن وام میں سکیورٹی فورسزکا آپریشن،زیر زمین بنکر، سرنگیں، بارودی جال بچھا رکھا تھا خارجی سرغنہ عمر عرف جان میر عرف ثاقب تور کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر تھی شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن میں انتہائی مطلوب دہشت گرد سرغنہ خارجی سمیت پ...

شمالی وزیرستا ن ، دہشت گرد سرغنہ خارجی سمیت 5 دہشت گرد ہلاک

منفرد مثال، دنیا چین کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی، وزیراعظم وجود - جمعه 22 مئی 2026

چینی بھائیوں کیلئے اعلیٰ ترین پیمانے کی سیکیورٹی فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے شہبازشریف کا پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ پر پیغام ، مبارکباد پیش وزیر اعظم شہباز شریف نے کہاہے کہ سی پیک نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کے تحفظ اور صنعتی تعاون ...

منفرد مثال، دنیا چین کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی، وزیراعظم

مزاحمت اب بھرپور ہوگی ،سہیل آفریدی کا جمعہ کو احتجاج کا اعلان، وفاق کو سخت وارننگ وجود - جمعرات 21 مئی 2026

اپنے تمام ایم پی ایز کو ہر شہر میں احتجاج کی ہدایت کرتا ہوں، ہمارا رویہ آنے والے منگل کو مزید سخت ہوگا، پورا پاکستان دیکھے گا پی ٹی آئی ایک مٹھی ہو کر میدان میں نکل رہی ہے،وزیراعلیٰ پولیس نے اسلام آباد میں منتخب نمائندوں کو روکنے کیلئے فائرنگ کی،وقت نے ثابت کر دیا سائفر معامل...

مزاحمت اب بھرپور ہوگی ،سہیل آفریدی کا جمعہ کو احتجاج کا اعلان، وفاق کو سخت وارننگ

عمران خان کے مقدمات عید بعد مقرر کرانے کی یقین دہانی وجود - جمعرات 21 مئی 2026

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے متعلقہ افسران کو بلا کر ہدایات دے دیں مجھے یقین دلایا ہے کہ مقدمات عید کے بعد لگ جائیں گے، سلمان اکرم راجا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے عمران خان کے مقدمات عید کے بعد مقرر کرانے کی یقین دہانی کرا دی۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلم...

عمران خان کے مقدمات عید بعد مقرر کرانے کی یقین دہانی

انمول پنکی کے کسٹمرز میں 881 اہم شخصیات شامل تھیں، قائمہ کمیٹی میں انکشاف وجود - جمعرات 21 مئی 2026

نجی کمپنیوں کے مالک، سی ای اوز، پارٹی بوائز، سیاستدان، بیوروکریٹ شامل ہیں شوبز کی بیشتر شخصیات کے نام، نمبرز اور گھر کے پتے حاصل کرلیے گئے ہیں ،ذرائع قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ انمول پنکی کے کسٹمرز میں 881 اہم شخصیات شامل تھیں۔نجی کمپنیوں کے مالک، سی ای ا...

انمول پنکی کے کسٹمرز میں 881 اہم شخصیات شامل تھیں، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

وزیراعظم کی ایم کیو ایم کوبجٹ میں ترقیاتی پیکیج پر غور کی یقین دہانی وجود - جمعرات 21 مئی 2026

متحدہ قومی موومنٹ قیادت کی شہباز شریف سے ملاقات ،کسی بھی آئینی ترمیم پر بات نہیں ہوئی،ذرائع آئندہ بجٹ میں ٹیکس ریلیف پر بات کی،کراچی پیکیج اور کے فور پر گفتگو کی، اندرونی کہانی سامنے آگئیں متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) قیادت کی وزیراعظم سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ...

وزیراعظم کی ایم کیو ایم کوبجٹ میں ترقیاتی پیکیج پر غور کی یقین دہانی

پاکستان کی ترقی کو دہشت گردی سے نہیں روکاجاسکتا، فیلڈ مارشل وجود - بدھ 20 مئی 2026

پراکسیز اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کی پیشرفت روکنے کی کوششیں ناکام ہوں گی، عوام کی ثابت قدم حمایت سے مسلح افواج دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پُرعزم ہیں بلوچستان میں امن و استحکام اور ریاستی رٹ برقرار رکھنے کیلئے افسران اور جوانوں کے بلند حوصلے، آپریشنل تیاری اور پیشہ و...

پاکستان کی ترقی کو دہشت گردی سے نہیں روکاجاسکتا، فیلڈ مارشل

انمول پنکی کو عدالت میں پروٹوکول دینے والے افسران پر شکنجہ سخت وجود - بدھ 20 مئی 2026

انکوائری کے دوران عدالت میںپیشی کے وقت پنکی کو موبائل فون دینے کا انکشاف سیکیورٹی میں کئی خامیاں سامنے آئیں ، ملزمہ کو غیر معمولی سہولتیں فراہم کی گئیں،رپورٹ کوکین گینگ کی سرغنہ انمول عرف پنکی کی عدالت میں پہلی پیشی کے دوران غیر معمولی پروٹوکول دیئے جانے کے معاملے پر کراچی پ...

انمول پنکی کو عدالت میں پروٹوکول دینے والے افسران پر شکنجہ سخت

ہماری خودمختاری کے نگہبان اپنے محافظوں پر فخر، وزیراعظم وجود - بدھ 20 مئی 2026

نظم و ضبط، قیادت اور پیشہ ورانہ تربیت کی درخشاں روایات کا امین ہے،شہباز شریف ایران، امریکا جنگ نے خطے کو غیریقینی صورتحال، معاشی چیلنجز سے دوچار کر دیا،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے محافظوں پر فخر ہے، جو ہماری خودمختاری کے نگہبان ہیں۔کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئ...

ہماری خودمختاری کے نگہبان اپنے محافظوں پر فخر، وزیراعظم

شمالی وزیرستان میں آپریشن، 22 دہشت گرد مارے گئے وجود - بدھ 20 مئی 2026

سکیورٹی فورسز کا خورج کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ضلع شیوا میں کامیاب کارروائی انڈین ا سپانسرڈشرپسندوں سے فائرنگ کا تبادلہ، اسلحہ ، گولہ بارود برآمد،آئی ایس پی آر سکیورٹی فورسز کے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران 22 خوارج جہنم واصل ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئ...

شمالی وزیرستان میں آپریشن، 22 دہشت گرد مارے گئے

ایران پر نئے حملے کی تیاری، امریکی طیارے اسلحہ لے کر اسرائیل پہنچ گئے وجود - منگل 19 مئی 2026

امریکا ایران جنگ کے بادل پھر منڈلانے لگے،امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کی ایران جنگ دوبارہ چھڑنے کے امکان پر گفتگو ، ٹرمپ اس ہفتے قومی سلامتی ٹیم سے مشاورت کریں گے پینٹاگون نے ایران میں اہداف کا چنا ئوکرلیا، توانائی اور انفرااسٹرکچر سمیت مزید اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بن...

ایران پر نئے حملے کی تیاری، امریکی طیارے اسلحہ لے کر اسرائیل پہنچ گئے

مضامین
اسرائیل کی مکروہ چال وجود جمعه 22 مئی 2026
اسرائیل کی مکروہ چال

مودی کی عالمی سطح پر سبکی وجود جمعه 22 مئی 2026
مودی کی عالمی سطح پر سبکی

خاموش لوگ اندر ہی اند مر جاتے ہیں! وجود جمعرات 21 مئی 2026
خاموش لوگ اندر ہی اند مر جاتے ہیں!

اِسے دانش کہیں یاحماقت ؟ وجود جمعرات 21 مئی 2026
اِسے دانش کہیں یاحماقت ؟

کشمیری رہنماجھوٹے مقدمات میں گرفتار وجود جمعرات 21 مئی 2026
کشمیری رہنماجھوٹے مقدمات میں گرفتار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر