وجود

... loading ...

وجود

شہد کی مکھی کا شفا بخش زہر

منگل 12 جون 2018 شہد کی مکھی کا شفا بخش زہر

جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شہد کی مکھی (APIS)کے ڈنک میں موجود زہر میں شفا بخشی کی صلاحیت ہے۔ اس کے ڈنک سے جوڑوں کا درد، ہڈیوں اور اعصاب کی بیماریاں ختم ہو جاتی ہیں۔شہد کی مکھی کے ڈنک سے اس طریقِ علاج کو ”ایپی تھراپی“ (Apitherapy)کہتے ہیں۔ امریکا میں5لاکھ افراد اعصابی نظام کے اکڑجانے کی بیماری میں مبتلا ہیں یہ بیماری انسان کو معذور بھی کر سکتی ہے امریکی تحقیق کاروں کے مطابق ایک ہزار افراد کو شہد کی مکھی کے ڈنک سے علاج کروانے پر فائدہ ہوا۔ مغربی لندن میں رہنے والے ٹونی چیسٹر کو شہد کی مکھیاں پالنے کا بہت شوق ہے ۔وہ کولھوں اور ٹانگوں کے جوڑوں کے درد اور سوز ش میں مبتلا تھا جس کی وجہ سے اُسے چلنے پھرنے میں بہت دقت ہوتی تھی۔ ایک دن شہد کی مکھی نے اس کے پاوٴں اور ٹخنے پر کاٹ لیا۔ دونوں اعضا میں شدید درد ہوا اور سوجن آگئی۔ آدھے پون گھنٹے بعد ٹونی کو محسوس ہوا کہ اس کے پاوٴں اور ٹخنے کی سوزش اور درد میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کو تجّسس ہوا اور اس نے اپنے کولھوں اور کمر کے نچلے حصے پر شہد کی مکھیوں سے ڈنک لگوایا۔ یہ ایک اذیت ناک تجربہ تھا۔ تین چار دن تک شدید درد اور ورم رہا، لیکن شہد کی مکھیوں کے ڈنک نے معجزے کاساکام کیا اور ٹونی کے جسم کے جوڑوں کا درد مکمل طور پر ختم ہو گیا اور ورم بھی غائب ہو گیا۔ ٹونی بہت خوش تھا اس نے کہا: ” میں جتنا آج خود کو فعال اور چاق چوبند محسوس کر رہا ہوں ، اس سے پہلے کبھی نہیں کیا۔“ ٹونی جوڑوں کے درد کی وجہ سے روزانہ ورزش بھی نہیں کر پاتا تھا لیکن اب وہ ورزش بھی کرنے لگا۔ امریکا کے ڈاکٹر جم گزشتہ 8 برس سے شہد کی مکھیوں کے ڈنک سے علاج کرنے پر عمل پیرا ہیں۔وہ کہتے ہیں:” اس طریق علاج سے کام یابی کا تناسب لگ بھگ 100فیصد ہے۔ اعصابی نظام کے اکڑ جانے کی بیماری ہو، جوڑوں کا درد و ورم ہو، ایکز یما(Eczema)ہو یا اعصابی نظام کی کوئی اور بیماری ، شہد کی مکھیوں کے ڈنک میں موجود زہر سے یہ ساری بیماریاں ختم ہو جاتی ہیں۔ مکھی کا ڈنک بذاتِ خود کوئی دوا نہیں ہے لین جب شہد کی مکھی متاثرہ جگہ پر ڈنک مارتی ہے تو اس کے ڈنک کا زہر جسم میں سرایت ہو کر مدافعتی نظام کو بیدار اور متحرک کر دیتا ہے تاہم مریض کو آزمائشی طور پر شہد کی ایک دو مکھیوں سے ڈنک لگوانا ضروری ہے ۔ اس لیے کہ ڈنک میں موجود زہر سے بعض افراد کو شدید حساسیت(الرجی) ہو سکتی ہے جس کے باعث ناکاریِ قلب کی نوبت آسکتی ہے لیکن ایسا بہت کم ہی ہوتا یعنی ایک فیصد سے بھی کم ۔

امریکا سمیت کئی دوسرے ممالک میں شہد کی مکھیوں کے ڈنک سے کئی بیماریوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ اس طریقِ علاج میں بعض اوقات مریض کو ایک دن میں کئی بار شہد کی مکھیوں سے ڈنک لگوایا جاتا ہے ۔ایک امریکی خاتون نے بتایا کہ اس کے جوڑوں میں شدید درد رہتا تھا۔وہ معالج کے پاس گئی معالج نے متاثرہ جگہوں پر شہد کی مکھیوں سے کئی مرتبہ ڈنک لگوائے خاتون کی بہت تکلیف ہوئی لیکن اس نے برداشت کیا اور تھوڑی دیر بعد درد میں کمی آنے لگی۔جنوبی کوریا کی یونی ورسٹی میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق شہد کی مکھی کا ڈنک لگوانے سے سوجن بھی کم ہو جاتی ہے یونان کے تحقیق کاروں نے ہڈیوں کی بیماری میں مبتلا چند چوہوں کو شہد کی مکھیوں سے ڈنک لگوایا۔ چوہوں نے بہت شور مچایا لیکن تھوڑی دیر بعد خاموش ہو گئے چند دن بعد تحقیق کاروں نے چوہوں کی ہڈیوں کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ اُن کی ہڈیوں کی بیماریوں میں بتدریج کمی آنے لگی ہے تیونس میں شہد کی مکھی کے ڈنک سے علاج کرنے کا طریقہ بہت مشہور ہے۔ یہاں کے معالجین جوڑوں کے درد و ورم ، معدے کی سوزش، اپاہج پن اور آنتوں کی جلن کا علاج بھی شہد کی مکھیوں کے ڈنک سے کر رہے ہیں۔ تیونس کے طبی ماہرین نے بتایا کہ شہد کی مکھی کے ڈنک کے زہر میں 300سے زیادہ جراثیم کش اجزاء پائے جاتے ہیں۔1920ء اور1930 کی دہائیوں میں روس کے سائنس دانوں نے شہد کی مکھیوں پر تحقیق کرنے کے بعد بتایا تھا کہ ان کے ڈنکوں میں جو زہر پایا جاتا ہے اس سے غدہٴ درقیہ (تھائرائڈ گلینڈ) کو کارٹی سول (Cortisol)نامی مارمون پیدا کرنے کی تحریک ملتی ہے۔یہ ہارمون ورم کو کم کرتا ہے اس کے علاوہ یہ زہر مزاج کو خوش گوار بنانے اور درد دُور کرنے والے ہارمون اینڈورفن (Endorphin)کو بھی پیدا کرتا ہے۔ قدیم زمانے سے متعدد بیماریوں کا علاج شہد کی مکھیوں سے کیا جا رہا ہے۔ ان میں گنج پن اور سگ گزید کی بیماریاں بھی شامل ہیں قدیم مصری باشندے بھی نقرس کا علاج شہد کی مکھوں سے کرتے تھے بعض یورپی ممالک میں شہدکی مکھیوں کو جلا کر ان میں تیل شامل کر کے ایک محلول تیار کیا جاتا تھا اس محلول سے جب درد والے حصوں پر مالش کی جاتی تو درد ختم ہو جاتا تھا شہد کی مکھیوں سے ادویہ بھی بنائی جاتی ہیں۔ چین میں شہد کی مکھیوں سے علاج کرنے کا طریقہ 5ہزار برس رائج ہے۔ ایکوپنکچر کے چینی ماہرین بھی شہد کی مکھیوں کے زہر سے کام لیتے ہیں ۔ بعض سائنس دانوں نے یہ تجربہ بھی کیا کہ انھوں نے شہد کی مکھی کے ڈنک کے زہر کو ایک سرنج میں بھر کر ایک مریض کے جسم میں داخل کیا، لیکن اسے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ شہد کی مکھی کاڈنک جب براہِ راست جسم میں داخل ہو کر زہر خارج کرتا ہے تو اس سے فائدہ ہوتا ہے۔ امریکا کے ایک معالج نے بتایا کہ وہ شہد کی مکھی کو پکڑ کر مریض کے درد و ورم والے حصے پر کھ کر مکھی کے سر کو بہت زور سے اُ س وقت تک دبائے رکھتے ہیں جب تک وہ اپنا زہر مریض کے جسم میں خارج نہیں کر دیتی۔ انھوں نے کہا کہ شہد کی مکھی کا زہر مفلوج شدہ نچلے دھڑکے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ ہمارے ملک میں بھی چند معالجین شہد کی مکھیوں سے جوڑوں کے دردوورم اور کئی امراض کا علاج کر رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ وجود - منگل 28 اپریل 2026

ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ وجود - منگل 28 اپریل 2026

فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ

گل پلازہ سانحہ، درجنوں زندگیاں خاکستر، نظام کی سنگین ناکامی بے نقاب وجود - منگل 28 اپریل 2026

غیرقانونی تعمیرات، تنگ راستے، رشوت، ناقص نگرانی اور حکومتی غفلت نے مل کر سانحے کو جنم دیا عمارت میں اسموک ڈیٹیکٹر، نہ ایمرجنسی اخراج کا نظام، نہ فائر فائٹنگ کا مناسب انتظام تھا، ذرائع شہرِ قائد کے مصروف کاروباری مرکز گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے تباہی کی ایسی داستان رق...

گل پلازہ سانحہ، درجنوں زندگیاں خاکستر، نظام کی سنگین ناکامی بے نقاب

(ایران کی امریکا کو نئی پیشکش ) آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ بندی کی تجویز وجود - منگل 28 اپریل 2026

جوہری معاملے کو مذاکرات سے الگ کر دیا جائے تو تیز رفتار معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے،ایران ناکہ بندی ختم کرنے سے ٹرمپ کادباؤ کم ہو جائے گا ، امریکی نیوزویب سائٹ ایگزیوس ایران نے امریکا کو ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جاری جنگ کا خاتمہ...

(ایران کی امریکا کو نئی پیشکش ) آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ بندی کی تجویز

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار وجود - پیر 27 اپریل 2026

تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری وجود - پیر 27 اپریل 2026

ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ وجود - پیر 27 اپریل 2026

بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے وجود - پیر 27 اپریل 2026

عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت وجود - اتوار 26 اپریل 2026

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید وجود - اتوار 26 اپریل 2026

متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید

مضامین
کیا مین اسٹریم میڈیا کے لفافہ صحافی گوئبلز کی بد روحیں ہیں؟ وجود منگل 28 اپریل 2026
کیا مین اسٹریم میڈیا کے لفافہ صحافی گوئبلز کی بد روحیں ہیں؟

خواتین کا دہشت گردی میں استعمال وجود منگل 28 اپریل 2026
خواتین کا دہشت گردی میں استعمال

ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟ وجود منگل 28 اپریل 2026
ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟

معنی کی تلاش میں سرگرداں! وجود پیر 27 اپریل 2026
معنی کی تلاش میں سرگرداں!

26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس وجود پیر 27 اپریل 2026
26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر