وجود

... loading ...

وجود

عراق کے وادی السلا م سے ٹھٹھہ کے مکلی تک

اتوار 10 جون 2018 عراق کے وادی السلا م سے ٹھٹھہ کے مکلی تک

یوں تو دنیا کا سب سے بڑا قبرستان وادی السلام کے نام سے عراق کے شہر نجف میں ہے جو کہ 1400سال سے قائم و دا ئم ہے اس قبرستان کا کل رقبہ 6مر بع کلو میٹر ہے اور یہاں 50لا کھ سے زا ئد لوگ دفن ہیں اس قبرستان میں رو زا نہ 200مر دے دفنا ئے جا تے ہیں جبکہ عراق کے فو جی جو کہ جنگوں میں بر سر پیکار رہتے ہیں وہ محاذ پر جا نے سے قبل اس قبرستان میں کھڑے ہو کر دعا گو ہوتے ہیں کہ اگر لڑا ئی کے دوران وہ زندگی کی با زی ہا ر جا ئیں تو انہیں اسی قبرستان میں سپرد خاک کیا جا ئے۔ ـیہ قبرستان ایک ایسا قبرستان ہے جہاں صرف عراقی باشندے ہی دفن نہیں بلکہ یہاں ہندوستان ،پاکستان اور ایران کے لوگ بھی مدفون ہیں۔ایک اندازے کے مطابق یہاں 50 لا کھ لوگ مد فون ہیں لہذ ا اسے دنیا کے سب سے بڑے قبرستان ہو نے کا اعزاز حا صل ہے اور اسی وجہ سے یو نیسکو نے اسے عالمی ورثے کا در جہ دے رکھا ہے۔

اس قبرستان کے علا وہ پاکستان کے صو بہ سندھ میں ٹھٹھہ کے علا قے میں مکلی کا قبرستان ہے جہاں 14ویں صدی سے لے کر 18ویں صدی تک کے بڑے بڑے بادشاہ ،بزرگان دین ،صوفیا ئے کرا م اور شعرا آسودہ خاک ہیں یو نیسکو نے اس قبرستان کو بھی 1981میں عالمی ورثے میں شامل کیا اور اسی حوالے سے اسے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہو نے کا اعزاز حاصل ہے اس قبرستان کے حوالے سے بتایا جا تا ہے کہ سماع خان کے16 ویں بادشاہ جام نظام الدین نندا نے جب ایک نیا شہر بسا نے کے لیے اپنے مشیروں سے جگہ دریا فت کی تو انہوں نے انہیں اس بات کا مشورہ دیا کہ مکلی کے علا قے میں شہر کو بسا یا جا ئے لیکن کیونکہ اس علا قے میں اونچے نیچے ٹیلوں کی بھر مار تھی جب بادشاہ نے اپنے مشیروں سے اس بات کی تجویز مانگی کہ کیا اس شہر کو ٹیلوں کے اوپر بسا یا جا ئے اس کے جواب میں اس کے مشیروں نے ٹیلوں کے اوپر شہر آ باد کر نے سے منع کر تے ہو ئے کہا کہ با دشاہ سلا مت اگر شہر کو ٹیلوں کے او پر بسا یا گیا تو یہاں بسنے والے لوگ پتھر کی طرح سخت دل ،جا ہلاور گنوار ہونگے لہذا اس شہر کو ٹیلوں اور پہا ڑوں کے نیچے آ باد کیا جا ئے کیونکہ نیچے بسنے والوں کے دل نرم ہونگے اور وہ با شعور ہونگے ۔

جب 1494 عیسویں میں شہر کی بنیاد رکھی گئی اس کا نام پہاڑ کے نیچے ہو نے کے سبب تہہ تہہ رکھا گیاجو بعد میں بگڑ کر ٹھٹھہ ہوگیااس شہر میں جو لوگ آ باد ہو ئے وہ نا صرف انتہا ئی نرم دل ،فراغ دل اور مہمان نواز ثا بت ہو ئے ان کے شعور کا یہ عا لم تھا کہ صنعت ،حرفت اور تجا رت میں اس شہر نے اتنی ترقی کی کہ دور دراز سے لوگ تجا رت کی خا طر اسی شہر میں آ نے لگے یہاں تک کے یہ شہر علم و دا نش کا مر کز بن گیا اور یہاں 300 سے زائد مدا رس قائم ہو گئے جس پر خراساں ایران و دیگر ممالک طلبہ نا صرف تعلیم کے حصول کے لیے آ نے لگے بلکہ بڑی تعداد میں بزرگان دین اور صوفیا ئے کرام نے بھی اس شہر کا رخ کیا جس کی بنیاد پر شہر ٹھٹھہ نے اپنی ترقی کا سفر سالوں میں نہیں بلکہ دنوں میں طے کیا پھر اس شہر میں محمود غزنوی اور پھر محمد بن قا سم کی آمد ہو ئی اور اس شہر نے مزید ترقی کی کیونکہ ٹھٹھہ شہر ایک ترقی یافتہ شہر بن چکا تھا اور یہاں لوگوں کی بڑی تعداد جن میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی قیام پذیر تھی لہذا ان کی ضرورت کے مطا بق یہاں قبرستان بھی بنا یا گیا جس کا نام ما ئی مکلی کی نسبت سے مکلی قبرستان رکھا گیا ۔

یہ قبرستان جو کہ شہر کرا چی سے 98کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے 8کلو میٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور جہاں بڑے بڑے مسلمان بادشاہ ،شہنشاہ ،درویش ،بزرگان دین ،عا لم آسودہ خاک ہیں جن کی قدیم ترین قبریں سب سے پہلے ہندو آرکیٹیکچرز کے ہا تھوں تیار ہو ئیں بعد ازاں مسلم آرٹیٹیکچر نے یہاں مقبروں اور قبروں پر نمایاں کام کیا اسی کے پیش نظر قبرستان کے اندر ہندو فن تعمیر سمیت مسلمانوں کی فن تعمیر نمایاں طور پر نظر آتی ہے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بیشتر مقبروں اور قبروں پر نام کے کتبے تو نہیں لیکن اس بات کی شناخت کے لیے کہ آیا یہ مر دوں کی قبر ہے یا عورتوں کی اس سلسلے میں پتھروں پر کاریگری کر تے ہو ئے مر دوں کی قبر کی علا مت کے طور پر تلوار ،کلہاڑی ،گھڑ سوار کے اشارے دئے گئے ہیں جبکہ عورتوں کی قبر کی پہچان کے لیے ان کی قبروں پر جھمکے ،پا ئل ،کنگن ،گلے کے ہار ،نیکلس پتھروں پر کنندہ ہیں مکلی کے اس قدیم قبرستان میں شاہجہاں دور کے بادشاہ جام نظام الدین،صوفی بزرگ حماد جیلا نی ،مشہور صو فی بزرگ عبداللہ شاہ اصحابی ،ما ئی مکلی سمیت لاتعداد بزرگوں ، بادشاہوں ، ملکہ ، شہزادوں ،سپا ہیوں اور علا قائی قبا ئلی سر داروں کی قبریں موجود ہیں کہا جا تا ہے کہ مکلی کے قبرستان میں ایک لا کھ سے زائد لوگ آسودہ خاک ہیں اور ان میں سے ہر ایک علم و فن کے حوالے سے یکتا ہے اس قدیم قبرستان جو کہ عالمی ورثے میں شامل ہے میں ایسے لاتعداد بزرگان دین آسودہ خاک ہیں جن کے عقیدت مند آج بھی دور دراز سے آ کر نا صرف ان بزرگان دین کے مزار پر فاتحہ خوا نی کر تے ہیں بلکہ منتیں اور مرا دیں بھی مانگتے ہیں اور کہا جا تا ہے کہ ان مزارات پر آ نے والے زائرین کی نا صرف منتیں مرا دیں پو ری ہو تی ہیں بلکہ انہیں مہلک بیماریوں سے بھی نجات مل جا تی ہے۔

یہ قدیم قبرستان جو کہ پہلے محکمہ آ ثار قدیمہ کے پاس تھا 18ویں تر میم کے بعد اسے سندھ کے محکمہ ثقافت سیاحت و نوادرات کے حوالے کر دیا گیا جو کہ اس قدیم ورثے کو محفوظ نہیں کر پا ئی جس کے سبب نا صرف لوگ مقبروں پر قبروں پر لگے ہو ئے ٹائلز اتار کر لے گئے بلکہ علا قہ مکینوں نے یہاں نئی قبریں بنا نا شروع کر دیں جن کی تعداد سینکڑو ںکو پہنچ گئے جبکہ عالمی ورثے قرار دئے گئے اس قبرستان پر تجاوزات قائم ہو گئے یہاں تک کے قبرستان کے اندر ہی گرڈ اسٹیشن ،محکمہ صحت کے دفتر سمیت لا تعداد مکا نات بن گئے اسی حوالے سے جب یو نیسکو کے عالمی ورثے کا مشن قبرستان کے حالت زار کا جائزہ لینے کے لیے چند سال قبل قبرستان پہنچا تو انہوں نے وہاں قبروں کی مخدوش حا لت دیکھ کر اسے عالمی ورثے کی فہرست سے نکالنے کی دھمکی دے دی جس پر محکمہ ثقافت سیاحت کے ذمہ داران نے ان سے معا فی تلا فی طلب کی جس پر انہوں نے اپنے پیش کیے گئے مطالبات جس میں کہا گیا تھا کہ قبرستان کے چاروں طرف چار دیواری قائم کر نے کے ساتھ ساتھ تجاوزات ختم کیے جا ئیں گے اور ایک بار پھر مقبروں اور قبروں کی مر مت کرا ئی جا ئے گی کے تحت ایک سال کی مہلت فرا ہم کی مگر ایک سال تو کیا کئی سال گزر جا نے اور بڑے پیما نے پر فنڈز خرچ کیے جا نے کے باوجود اب تک نہ تو قبرستان کے اطراف میں چار دیواری قائم کی جا سکی ہے اور نہ ہی مقبروں اور قبروں کی مخدوش حا لت کو بہتر کیا جا سکا ہے جس کے سبب یو نیسکو عالمی ورثے کا اجلاس جو کہ ماہ جو لا ئی میں متوقع ہے اس قدیم ترین قبرستان کو عالمی ورثے کی فہرست سے نکا لے جا نے کا امکان ہے مگر اس کے باوجود اب تک محکمہ ثقافت سیاحت و نوادرات کی جا نب سے اس قدیم ترین قبرستان کو محفوظ بنا نے کا کام نہیں کیا جا سکا جس کے سبب عالمی ٹائٹل سے محروم ہو نے کے ساتھ ساتھ اس قدیم ورثے کے دیکھ بھال نہ ہو نے کے سبب صفحہ ہستی سے مٹ جا نے کا امکان ہے ۔


متعلقہ خبریں


معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی وجود - بدھ 22 اپریل 2026

امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...

معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان وجود - بدھ 22 اپریل 2026

ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد وجود - بدھ 22 اپریل 2026

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد ساڑھے چار لاکھ بچوں کے مستقبل سے کھیلا جارہا، اسکول اور اساتذہ بکے ہوئے ہیں،چیئرمین مہاجرقومی موومنٹ مہاجر قوم، قوم پرست بنے، ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوجائے، خدارا خود کو مہاجر تحریک سے جوڑیں،عید ملن پارٹی سے خطا...

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کا حکم وجود - بدھ 22 اپریل 2026

شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس،پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی بنانے کی منظوری دیدی وزیرِ اعظم نے نئے منظور شدہ نظام کے حوالے سے عملدردآمد پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی ل...

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کا حکم

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ وجود - منگل 21 اپریل 2026

ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو وجود - منگل 21 اپریل 2026

صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف وجود - منگل 21 اپریل 2026

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان وجود - منگل 21 اپریل 2026

عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

مضامین
ایران امریکہ معاہدہ ؟ وجود بدھ 22 اپریل 2026
ایران امریکہ معاہدہ ؟

سرمایہ دارانہ نظام اور وقت کا فیصلہ وجود بدھ 22 اپریل 2026
سرمایہ دارانہ نظام اور وقت کا فیصلہ

بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار وجود منگل 21 اپریل 2026
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار

انسان ہونا آسان نہیں! وجود منگل 21 اپریل 2026
انسان ہونا آسان نہیں!

مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ وجود منگل 21 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر