وجود

... loading ...

وجود

عراق کے وادی السلا م سے ٹھٹھہ کے مکلی تک

اتوار 10 جون 2018 عراق کے وادی السلا م سے ٹھٹھہ کے مکلی تک

یوں تو دنیا کا سب سے بڑا قبرستان وادی السلام کے نام سے عراق کے شہر نجف میں ہے جو کہ 1400سال سے قائم و دا ئم ہے اس قبرستان کا کل رقبہ 6مر بع کلو میٹر ہے اور یہاں 50لا کھ سے زا ئد لوگ دفن ہیں اس قبرستان میں رو زا نہ 200مر دے دفنا ئے جا تے ہیں جبکہ عراق کے فو جی جو کہ جنگوں میں بر سر پیکار رہتے ہیں وہ محاذ پر جا نے سے قبل اس قبرستان میں کھڑے ہو کر دعا گو ہوتے ہیں کہ اگر لڑا ئی کے دوران وہ زندگی کی با زی ہا ر جا ئیں تو انہیں اسی قبرستان میں سپرد خاک کیا جا ئے۔ ـیہ قبرستان ایک ایسا قبرستان ہے جہاں صرف عراقی باشندے ہی دفن نہیں بلکہ یہاں ہندوستان ،پاکستان اور ایران کے لوگ بھی مدفون ہیں۔ایک اندازے کے مطابق یہاں 50 لا کھ لوگ مد فون ہیں لہذ ا اسے دنیا کے سب سے بڑے قبرستان ہو نے کا اعزاز حا صل ہے اور اسی وجہ سے یو نیسکو نے اسے عالمی ورثے کا در جہ دے رکھا ہے۔

اس قبرستان کے علا وہ پاکستان کے صو بہ سندھ میں ٹھٹھہ کے علا قے میں مکلی کا قبرستان ہے جہاں 14ویں صدی سے لے کر 18ویں صدی تک کے بڑے بڑے بادشاہ ،بزرگان دین ،صوفیا ئے کرا م اور شعرا آسودہ خاک ہیں یو نیسکو نے اس قبرستان کو بھی 1981میں عالمی ورثے میں شامل کیا اور اسی حوالے سے اسے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہو نے کا اعزاز حاصل ہے اس قبرستان کے حوالے سے بتایا جا تا ہے کہ سماع خان کے16 ویں بادشاہ جام نظام الدین نندا نے جب ایک نیا شہر بسا نے کے لیے اپنے مشیروں سے جگہ دریا فت کی تو انہوں نے انہیں اس بات کا مشورہ دیا کہ مکلی کے علا قے میں شہر کو بسا یا جا ئے لیکن کیونکہ اس علا قے میں اونچے نیچے ٹیلوں کی بھر مار تھی جب بادشاہ نے اپنے مشیروں سے اس بات کی تجویز مانگی کہ کیا اس شہر کو ٹیلوں کے اوپر بسا یا جا ئے اس کے جواب میں اس کے مشیروں نے ٹیلوں کے اوپر شہر آ باد کر نے سے منع کر تے ہو ئے کہا کہ با دشاہ سلا مت اگر شہر کو ٹیلوں کے او پر بسا یا گیا تو یہاں بسنے والے لوگ پتھر کی طرح سخت دل ،جا ہلاور گنوار ہونگے لہذا اس شہر کو ٹیلوں اور پہا ڑوں کے نیچے آ باد کیا جا ئے کیونکہ نیچے بسنے والوں کے دل نرم ہونگے اور وہ با شعور ہونگے ۔

جب 1494 عیسویں میں شہر کی بنیاد رکھی گئی اس کا نام پہاڑ کے نیچے ہو نے کے سبب تہہ تہہ رکھا گیاجو بعد میں بگڑ کر ٹھٹھہ ہوگیااس شہر میں جو لوگ آ باد ہو ئے وہ نا صرف انتہا ئی نرم دل ،فراغ دل اور مہمان نواز ثا بت ہو ئے ان کے شعور کا یہ عا لم تھا کہ صنعت ،حرفت اور تجا رت میں اس شہر نے اتنی ترقی کی کہ دور دراز سے لوگ تجا رت کی خا طر اسی شہر میں آ نے لگے یہاں تک کے یہ شہر علم و دا نش کا مر کز بن گیا اور یہاں 300 سے زائد مدا رس قائم ہو گئے جس پر خراساں ایران و دیگر ممالک طلبہ نا صرف تعلیم کے حصول کے لیے آ نے لگے بلکہ بڑی تعداد میں بزرگان دین اور صوفیا ئے کرام نے بھی اس شہر کا رخ کیا جس کی بنیاد پر شہر ٹھٹھہ نے اپنی ترقی کا سفر سالوں میں نہیں بلکہ دنوں میں طے کیا پھر اس شہر میں محمود غزنوی اور پھر محمد بن قا سم کی آمد ہو ئی اور اس شہر نے مزید ترقی کی کیونکہ ٹھٹھہ شہر ایک ترقی یافتہ شہر بن چکا تھا اور یہاں لوگوں کی بڑی تعداد جن میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی قیام پذیر تھی لہذا ان کی ضرورت کے مطا بق یہاں قبرستان بھی بنا یا گیا جس کا نام ما ئی مکلی کی نسبت سے مکلی قبرستان رکھا گیا ۔

یہ قبرستان جو کہ شہر کرا چی سے 98کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے 8کلو میٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور جہاں بڑے بڑے مسلمان بادشاہ ،شہنشاہ ،درویش ،بزرگان دین ،عا لم آسودہ خاک ہیں جن کی قدیم ترین قبریں سب سے پہلے ہندو آرکیٹیکچرز کے ہا تھوں تیار ہو ئیں بعد ازاں مسلم آرٹیٹیکچر نے یہاں مقبروں اور قبروں پر نمایاں کام کیا اسی کے پیش نظر قبرستان کے اندر ہندو فن تعمیر سمیت مسلمانوں کی فن تعمیر نمایاں طور پر نظر آتی ہے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بیشتر مقبروں اور قبروں پر نام کے کتبے تو نہیں لیکن اس بات کی شناخت کے لیے کہ آیا یہ مر دوں کی قبر ہے یا عورتوں کی اس سلسلے میں پتھروں پر کاریگری کر تے ہو ئے مر دوں کی قبر کی علا مت کے طور پر تلوار ،کلہاڑی ،گھڑ سوار کے اشارے دئے گئے ہیں جبکہ عورتوں کی قبر کی پہچان کے لیے ان کی قبروں پر جھمکے ،پا ئل ،کنگن ،گلے کے ہار ،نیکلس پتھروں پر کنندہ ہیں مکلی کے اس قدیم قبرستان میں شاہجہاں دور کے بادشاہ جام نظام الدین،صوفی بزرگ حماد جیلا نی ،مشہور صو فی بزرگ عبداللہ شاہ اصحابی ،ما ئی مکلی سمیت لاتعداد بزرگوں ، بادشاہوں ، ملکہ ، شہزادوں ،سپا ہیوں اور علا قائی قبا ئلی سر داروں کی قبریں موجود ہیں کہا جا تا ہے کہ مکلی کے قبرستان میں ایک لا کھ سے زائد لوگ آسودہ خاک ہیں اور ان میں سے ہر ایک علم و فن کے حوالے سے یکتا ہے اس قدیم قبرستان جو کہ عالمی ورثے میں شامل ہے میں ایسے لاتعداد بزرگان دین آسودہ خاک ہیں جن کے عقیدت مند آج بھی دور دراز سے آ کر نا صرف ان بزرگان دین کے مزار پر فاتحہ خوا نی کر تے ہیں بلکہ منتیں اور مرا دیں بھی مانگتے ہیں اور کہا جا تا ہے کہ ان مزارات پر آ نے والے زائرین کی نا صرف منتیں مرا دیں پو ری ہو تی ہیں بلکہ انہیں مہلک بیماریوں سے بھی نجات مل جا تی ہے۔

یہ قدیم قبرستان جو کہ پہلے محکمہ آ ثار قدیمہ کے پاس تھا 18ویں تر میم کے بعد اسے سندھ کے محکمہ ثقافت سیاحت و نوادرات کے حوالے کر دیا گیا جو کہ اس قدیم ورثے کو محفوظ نہیں کر پا ئی جس کے سبب نا صرف لوگ مقبروں پر قبروں پر لگے ہو ئے ٹائلز اتار کر لے گئے بلکہ علا قہ مکینوں نے یہاں نئی قبریں بنا نا شروع کر دیں جن کی تعداد سینکڑو ںکو پہنچ گئے جبکہ عالمی ورثے قرار دئے گئے اس قبرستان پر تجاوزات قائم ہو گئے یہاں تک کے قبرستان کے اندر ہی گرڈ اسٹیشن ،محکمہ صحت کے دفتر سمیت لا تعداد مکا نات بن گئے اسی حوالے سے جب یو نیسکو کے عالمی ورثے کا مشن قبرستان کے حالت زار کا جائزہ لینے کے لیے چند سال قبل قبرستان پہنچا تو انہوں نے وہاں قبروں کی مخدوش حا لت دیکھ کر اسے عالمی ورثے کی فہرست سے نکالنے کی دھمکی دے دی جس پر محکمہ ثقافت سیاحت کے ذمہ داران نے ان سے معا فی تلا فی طلب کی جس پر انہوں نے اپنے پیش کیے گئے مطالبات جس میں کہا گیا تھا کہ قبرستان کے چاروں طرف چار دیواری قائم کر نے کے ساتھ ساتھ تجاوزات ختم کیے جا ئیں گے اور ایک بار پھر مقبروں اور قبروں کی مر مت کرا ئی جا ئے گی کے تحت ایک سال کی مہلت فرا ہم کی مگر ایک سال تو کیا کئی سال گزر جا نے اور بڑے پیما نے پر فنڈز خرچ کیے جا نے کے باوجود اب تک نہ تو قبرستان کے اطراف میں چار دیواری قائم کی جا سکی ہے اور نہ ہی مقبروں اور قبروں کی مخدوش حا لت کو بہتر کیا جا سکا ہے جس کے سبب یو نیسکو عالمی ورثے کا اجلاس جو کہ ماہ جو لا ئی میں متوقع ہے اس قدیم ترین قبرستان کو عالمی ورثے کی فہرست سے نکا لے جا نے کا امکان ہے مگر اس کے باوجود اب تک محکمہ ثقافت سیاحت و نوادرات کی جا نب سے اس قدیم ترین قبرستان کو محفوظ بنا نے کا کام نہیں کیا جا سکا جس کے سبب عالمی ٹائٹل سے محروم ہو نے کے ساتھ ساتھ اس قدیم ورثے کے دیکھ بھال نہ ہو نے کے سبب صفحہ ہستی سے مٹ جا نے کا امکان ہے ۔


متعلقہ خبریں


پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، پی ٹی آئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان وجود - هفته 04 اپریل 2026

اپوزیشن کی اے پی سی اتوار کو لاہور میں بلائی جائے گی،ترکیہ، تھائی لینڈ، چین، افغانستان میں پیٹرول پاکستان سے سستا ہے، یہ قیمت اور لیوی دونوں بڑھا رہے ہیں، تحریک انصاف حکومت آئی ایم ایف سے ڈیل کرنے میں ناکام ہوگئی،شاہ خرچیوں کی وجہ سے پیٹرولیم لیوی کو کم نہیں کیا جارہا، بیرسٹر گ...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، پی ٹی آئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان

امارات کا پاکستان کو دیے گئے قرض کی واپسی مؤخر کرنے سے انکار،حکومت کاقرض واپس کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 04 اپریل 2026

پاکستان کوبڑا معاشی اور خارجی دھچکا،قرض واپسی مؤخر کرنے کی حکومتی کوششیں ناکام، متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے 17 اپریل تک 2ارب ڈالرز کا قرضہ واپس مانگ لیا 2 ارب ڈالر اسی مہینے کے آخر میں ابوظہبی کو واپس کرینگے، رقم اکاؤنٹ میں سیف ڈپازٹ کے طورپر موجود تھی، رقم پر 6 فیصد کی شر...

امارات کا پاکستان کو دیے گئے قرض کی واپسی مؤخر کرنے سے انکار،حکومت کاقرض واپس کرنے کا فیصلہ

پیٹرول 271 روپے میں درآمد کیے جانے کا انکشاف وجود - هفته 04 اپریل 2026

باقی رقم ڈیوٹی ٹیکسوں اور آئی کمپنیوں و ڈیلر مارجن کی مد میں وصول کی جارہی ہے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی لاگو نہیں کیا گیا ،ذرائع وفاقی حکومت کی جانب سے مہنگا کیا جانے والا پیٹرول 271۔27 جبکہ ڈیزل 496۔97 روپے فی لیٹر کے حساب سے درآمد کئے جانے کا انکشاف ہ...

پیٹرول 271 روپے میں درآمد کیے جانے کا انکشاف

حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان وجود - هفته 04 اپریل 2026

جماعت اسلامی کا پیٹرول قیمتوں میں اضافہ مسترد، عوام پر پیٹرول بم قرار حکمران عیاشیاں کم کرنے کو تیار نہیں، مہنگے جہاز اور گاڑیاں عوام پر بوجھ ہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام پر پیٹرول بم ...

حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہیں بے نقاب وجود - هفته 04 اپریل 2026

افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں طالبان دہشت گردوں کوتحفظ اور دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کررہی ہیں افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں ہیں۔عالمی جریدے کا افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہوں کی...

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہیں بے نقاب

حکومت نے پیٹرول بم گرا دیا،پیٹرول 458 روپے 40 پیسے، ڈیزل 520 روپے 35 پیسے کا ہوگیا وجود - جمعه 03 اپریل 2026

موٹرسائیکل سواروں کو ماہانہ 20لیٹر پیٹرول100 روپے قیمت پر دینے کا اعلان،نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگیا، ٹرک، گڈز اور انٹرسٹی ٹرانسپورٹ کو ڈیزل پر سبسڈی ملے گی وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سارے وزرائے اعلیٰ، فوجی قیادت اور دیگر قائدین شریک تھے،وزیرپیٹرولیم، وزیر خزانہ...

حکومت نے پیٹرول بم گرا دیا،پیٹرول 458 روپے 40 پیسے، ڈیزل 520 روپے 35 پیسے کا ہوگیا

زمینی کارروائی پر ایک بھی امریکی و اسرائیلی فوجی زندہ نہیں جائیگا،ایرانی فوج کی تنبیہ وجود - جمعه 03 اپریل 2026

ایرانی اعلیٰ کمانڈر کی ممکنہ زمینی کارروائی کے خطرے کے پیش نظر فوج کو سخت ہدایات جاری ، دشمن کی نقل و حرکت پر انتہائی باریکی سے نظر رکھی جائے، ہر لمحے کی صورتحال سے آگاہ رہا جائے دشمن نے زمینی حملے کی کوشش کی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا، امریکا ، اسرائیل کی کسی بھی ممکنہ زمی...

زمینی کارروائی پر ایک بھی امریکی و اسرائیلی فوجی زندہ نہیں جائیگا،ایرانی فوج کی تنبیہ

دہشت گردی، سیاسی بحران، پیٹرول کمی پر سہیل آفریدی برہم وجود - جمعه 03 اپریل 2026

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار عمران خان ، بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں پر پابندی سوالیہ نشان قرار،پریس کانفرنس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دہشت گردی، سیاسی صورتحال اور پیٹرول بحران سمیت متع...

دہشت گردی، سیاسی بحران، پیٹرول کمی پر سہیل آفریدی برہم

اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے، بمباری، 16 افراد شہید، 26 زخمی وجود - جمعه 03 اپریل 2026

شہدا کی تعداد 1 ہزار 318 ہوگئی، حزب اللہ نے اسرائیلی فوجیوں پر تاڑ توڑ حملے کئے 48 فوجی زخمی ہونے کی اسرائیلی تصدیق، مجتبیٰ خامنہ ای کی حزب اللہ کو خراج تحسین پیش اسرائیل نے لبنان پر مزید فضائی حملے کئے، بیروت سمیت مختلف علاقوں میں بمباری سے سولہ افراد شہید جبکہ چھبیس زخمی ہو...

اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے، بمباری، 16 افراد شہید، 26 زخمی

عمران خان کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا دائرہ کار پھیلا دیا وجود - جمعه 03 اپریل 2026

کیس میں 2 مزید ملزمان اور 1 گواہ کا اضافہ ،آئندہ سماعت پر کیس کا چالان عدالت میں پیش کردیا جائے گا چالان میں بانی پی ٹی آئی ودیگر ملزم نامزد ،تفتیشی افسر طبعیت ناسازی کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوسکا ایف آئی اے نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور دیگر کیخلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ ک...

عمران خان کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا دائرہ کار پھیلا دیا

ایران جنگ سے نکل رہے ہیںامریکی صدر کا اعلان وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

امریکا کو اپنی جنگ ختم کرنے کیلئے ایران سے ڈیل کرنے کی ضرورت نہیں، اگر وہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو اچھا ہوگا، رجیم چینج امریکاکا مقصد نہیں تھا،ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے2سے 3ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو اپنی جنگ ...

ایران جنگ سے نکل رہے ہیںامریکی صدر کا اعلان

ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست کا دعویٰ ایران نے مسترد کر دیا وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

امریکی صدر کے بیانات سے آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، دنیا میں کوئی بھی امریکی سفارت کاری پر اعتماد نہیں کر سکتا، مجتبیٰ خامنہ ای صحت مند ہیں،ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا انٹرویو ایران کی جانب سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا جنگ بندی کی درخواست کا دعوی مسترد کر دیاگیا۔ترجمان ایرانی وز...

ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست کا دعویٰ ایران نے مسترد کر دیا

مضامین
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ وجود هفته 04 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ

بھارتی گودی میڈیا وجود هفته 04 اپریل 2026
بھارتی گودی میڈیا

ایک سوال۔۔۔۔؟ وجود هفته 04 اپریل 2026
ایک سوال۔۔۔۔؟

4اپریل جب آتا ہے ! وجود هفته 04 اپریل 2026
4اپریل جب آتا ہے !

بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام وجود جمعه 03 اپریل 2026
بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر