... loading ...
پاک بھار ت ڈی جی ایم اوزکے درمیان ملاقات میں جنگ معاہدے پر عملدرآمد کی یقین دہانی کے تین دن بعد ہی بھارت نے کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں ایک پاکستانی نوجوان زخمی ہوگیا، بھارتی فوجیوں نے عباس پور سیکٹر کے گاؤں پولاس میں موجود شہری آبادی کو نشانہ بنایا، جس پر پاک فوج نے جوابی کارروائی کی۔ اتوارکے روزبھیسیالکوٹ میں ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی سیکیورٹی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں ایک بچی اور خاتون جاں بحق جبکہ 25 افراد زخمی ہوگئے۔مقامی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ روز صبح شروع ہونے والی فائرنگ کا سلسلہ سارا دن جاری رہا اور زخمی ہونے والوں میں 4 بچے اور 8 خواتین بھی شامل ہیں۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ کچی منڈ گاؤں میں بھارتی گولہ باری کا نشانہ بننے والے رحمت علی کی 60 سالہ اہلیہ فضیلہ جاں بحق ہوئیں۔
5 سالہ بچی نرگس فاطمہ بھی منڈ گاؤں میں بھارتی فائرنگ سے زخمی ہوئی جسے فوری طور پر سیالکوٹ سی ایم ایچ میں لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکی۔بھارتی بارڈر فورسز (بی ایس ایف) کی شیلنگ سے کچ منڈ، پل بجوان، شونتی ڈیرہ سمیت دیگر علاقوں میں مجوعی طورپر 24 افراد زخمی ہوئے۔سیالکوٹ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے سی ای او ڈاکٹر لطیف نے بتایا کہ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد سیالکوٹ سی ایم ایچ روانہ کردیا گیا۔
یہ بھی اطلاعات ملی ہیں کہ بھارتی گولہ باری سے درجن سے زائد پالتو جانور بکریاں، گائیں اور بھینسیں بھی ہلاک ہوئیں ۔ہندوستان اور پاکستان دونوں ایک دوسرے پر 15 برسوں سے متواتر فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔نومبر 2017 میں پاکستان رینجرز اور بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز کے اعلیٰ حکام کی ملاقات میں 2003 کے معاہدے پر عمل درآمد کی یقین دہانی کے باوجود بھارت کی جانب سے مسلسل خلاف وزری جاری ہے۔یادرہے کہ گزشتہ برس بھارتی فوجیوں نے 1881 مرتبہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی ) اور ورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں فوجیوں سمیت کل 87 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 2018 میں اب تک یہ تعداد 70 کے قریب ہوچکی ہے۔
تازی ترین جنگ بندی معاہدے کے باوجودبھارتی فوجی بازنہیں آرہے اوران کی جانب سے ایل اوسی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں ۔ہفتے اوراتوارکے تازہ ترین واقعات کے علاوہ بھی بھارت کی طرف سے اس علاقے کو پہلے بھی کئی بار بلا اشتعال فائرنگ کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ تین روز قبل سرحدی کمانڈروں کی میٹنگ میں بھارت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ نہیں کی جائے گی، اس یقین دہانی کے بعد دفاعی مبصرین کی طرف سے اس توقع کا اظہار کیا گیا تھا کہ آئے روز بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ سے سرحدی علاقوں میں امن کی فضا کو پہنچے والے نقصان کا بھارتی فوجی حکام کو بالآخر احساس ہوا ہے، باہمی بات چیت کے نتیجے میں یہ طے کیا گیا تھا کہ آئندہ بلا اشتعال فائرنگ نہیں ہوگی، سرحدی علاقے میں رہنے والوں کی طرف سے بھی اطمینان کا اظہار کیا جارہا تھا لیکن غیر متوقع طور پر گزشتہ روز عباس پور سیکٹر میں جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کردی گئی، تمام حلقے حیران ہیں کہ بھارت کی طرف سے اس قدر جلد بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ کیوں شروع کردیا گیا، در اصل بھارت جنگی جنون میں مبتلا ہے، بلا اشتعال فائرنگ اس کا معمول ہے، اس کی جارحانہ پالیسی کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان کسی بھی وقت جنگ چھڑ سکتی ہے، دونوں ملک ایٹمی طاقتیں ہیں، خدانخواستہ ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا تو پھر اس خطے میں تباہی اور بربادی کے خوفناک انجام کا ذمے دار بھارت کے سوا کوئی نہ ہوگا۔
کیونکہ سرحدوں پربلااشتعال فائرنگ کے بھارت کی جانب سے پا ک فوج پرالزامات بھی عائدکیے جاتے ہیں تازہ ترین الزام فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے ذریعے سامنے آیاجس میں بھارتی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اکنور میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے 2 بھارتی اہلکار ہلاک اور 7 شہری زخمی ہوئے ہیں۔بھارتی بارڈر فورسز کے ترجمان مانجو یادیو نے جموں و کشمیر سے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘زخمی اہلکاروں کو ملٹری ہسپتال روانہ کردیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ سکے’۔دوسری جانب پاکستانی حکام نے بھارتی الزام سے متعلق تبصرہ نہیں کیا ۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی انتہائی غیر ذمے دارانہ پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں، انہیں اس بات کا بھی احساس نہیں کہ سرحدوں پر ایسی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں جنگ کی چنگاری بھڑک سکتی ہے، بنیادی طور پر پاک فوج کے صبر و تحمل کے باعث بات آگے نہیں بڑھتی، اس حوالے سے پاک فوج کی قیادت اور دفتر خارجہ کے ترجمان بار بار یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ صبر و تحمل کی پالیسی کو پاکستان کی کمزوری نہ سمجھا جائے، پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی صورت حال کا سامنا کرسکتی ہیں اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اس سے پہلے پاکستان کی طرف سے کئی بار اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا جاچکا ہے کہ بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے جائزہ کمیشن تشکیل دیا جائے اور اس قسم کے واقعات کے بعد اس کمیشن کو ان مقامات تک جانے کی آزادی ہونی چاہیے، جہاں فائرنگ کی گئی ہو تاکہ حقائق سامنے لا کر بھارت سے جواب طلب کیا جاسکے، المیہ یہ ہے کہ بھارتی حکومت اس تجویز کو قبول نہیں کرتی، وقفے وقفے سے سرحدی کمانڈروں کے اجلاس میں آئندہ ایسے واقعات سے اجتناب کی یقین دہانی کروا دی جاتی ہے، ایسی یقین دہانی کا انجام یہ ہوتا ہے کہ ابھی اس کی بازگشت موجود ہوتی ہے، کہ بھارت کی طرف سے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کردی جاتی ہے اس پر اقوام متحدہ کو اپنی بنیادی ذمے داری کا احساس کرتے ہوئے مؤثر عملی اقدامات کرنے چاہئیں، بھارت کو بلا اشتعال فائرنگ سے روکنے کے لئے اقوام متحدہ کی سخت پالیسی کی ضرورت ہے، اسی طرح دباؤ ڈال کر بھارت کو جارحانہ پالیسی سے روکا جاسکتا ہے۔
حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...
اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...
2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے، وزیر خیبر پختونخوا بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،خطاب وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاک...
یو اے ای سے پاکستان کے کسی خاص طبقے کو ڈی پورٹ نہیں کیا جارہا، وزارت داخلہ اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو یہ ملکی قوانین کے مطابق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خ...
بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...
بجلی سبسڈی کے موجودہ نظام میں بڑی تبدیلی کا عندیہ،8 ماہ میں نیا نظام متعارف کروایا جائے گا،جنوری 2027 سے ہدفی (ٹارگٹڈ) سبسڈی متعارف کرائی جائے گی،ذرائع سبسڈی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کی بنیاد پر صارفین کو فراہم کی جائے گی، غلط استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی،حکومت صارفی...
سندھ طاس معاہدہ کیتمام آپشنز زیر غور ،دریاؤں کی صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں امریکا ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں جلد معاہدے کی توقع ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی ...
سندھ طاس معاہدہ کیتمام آپشنز زیر غور ،دریاؤں کی صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں امریکا ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں جلد معاہدے کی توقع ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی ...
180 نشستیں جیتنے والے شخص کو قید کیا گیا، 17 نشستیں جیتنے والوں کو ہم پر مسلط کیا گیا، ہم نے متحد ہوکر اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہے، میں تیار ہوں، قوم بھی تیار ہے ،سہیل آفریدی کل شیخ ادریس صاحب کو شہید کیا گیا، ہم دہشت گردی کے خلاف بولیں تو کہا جاتا جھوٹ بول رہے ہیں، معصوم لوگ شہید...
ایران کیخلاف جارحانہ فوجی مرحلہ ختم ہو چکا، امریکا کا مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ،ضرورت پڑنے پر کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی گفتگو ایران شرائط مان لیتا ہے تو امریکا اور اسرائیل کی تہران کیخلاف جنگ ختم ہو سکتی ہے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھ...
موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ ، مولاناادریس کے دو گارڈز بھی زخمی ،مولانا کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا راستے میں ہی دم توڑ گئے،ہسپتال کے باہر ہزاروں عقیدت مند پہنچ گئے،علاقہ میںکہرام مچ گیا ضلع چارسدہ میں ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید ہ...
چارسدہ میں مولانا ادریس کی شہادت پر آصف زرداری اورشہباز شریف کا اظہارِ افسوس دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی عزم غیر متزلزل، زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئیدعا کی چارسدہ میں جے یو آئی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اور ممتاز عالم دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی پر حملے کے نتیجے میں ان ک...