وجود

... loading ...

وجود

مزاحمتی ٹی بی کی شرح میں بڑھتا ہوا اضافہ

منگل 29 مئی 2018 مزاحمتی ٹی بی کی شرح میں بڑھتا ہوا اضافہ

ٹی بی دنیا کی خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے۔ ٹی بی کے کنٹرول اور خاتمہ کے لئے دنیا کے بہت سے ممالک گرانٹ دیتے ہیں پھر یہ فنڈ ان ممالک کو دیا جاتا ہے جہاں ٹی بی کے مریضوں کی تعداد ذیادہ ہوتی ہے۔ ٹی بی کی ادویات ہر سرکاری و نیم سرکاری ہسپتالوں اور کچھ پرائیویٹ ڈاکٹرز اور ہسپتالوں میں مہیا کی جاتی ہیں۔ اگر ٹی بی کے مریضوں کی تشخیص اور ان کے علاج کا فالو اپ نہ ہو تو ٹی بی کا ایک مریض ایک سال میں دس سے پندرہ تندرست لوگوں کو ٹی بی لگا سکتا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٹی بی کے مریضوں کی تشخیص اور ان کا علاج کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ ٹی بی DOTS پروگرام کی ڈائریکٹرپروفیسر زرفشاں طاہر بھٹی انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور کی پروفیشنل مائیکروبیالوجسٹ جو بغیر کسی انتظامی تجربہ کے ایک بڑے اور مہلک بیماری کے پروگرام کی ڈائریکٹر ہیں ان کی تعنیاتی کے بعد تقریباًڈیڑھ سال سے ٹی بی ڈاٹ پروگرام کے انتظامی اور مالی امور انتہائی بے ضابطگیوں کا شکار ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹی بی DOTS پروگرام کی ڈ ائریکٹر پروفیسر زرفشاں نے اپنی تعیناتی کے دوران ٹی بی کی تمام دوائی ،لوجسٹک سپورٹ و ٹریننگ اور سکریننگ کیمپنگ جعلی کروائی ہیں اور خرچے کی مد میں کروڑوں روپے گلوبل فنڈ کے ہڑپ کر لیے۔ عالمی ادارہ صحت کی DOTS Strategy کو ختم کر کے اب TCS کے ذریعے مریضوں کو ادویات گھر پہنچانے کا طریقہ اپنایا گیا ہے۔ بروقت دوائی نہ ملنے کی وجہ سے ٹی بی کے مریضوں میں مزید اضافہ اور مزاحمتی ٹی بی بڑھنے کا خطرہ ہے۔ BSL3 یعنی بائیو سیفٹی لیول تھری لیب انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور میں ہوتے ہوئے کروڑوں روپے سے نئی لیب پرائمری ہیلتھ آفس میں قائم کی گئی جہاں سیمپل سٹور الماری خراب ہونے کی وجہ سے بلغم کے سینکڑوں سیمپل ضائع ہو رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے MDR کے مریضوں کی تشخیص اور علاج بھی متاثر ہو رہا ہے۔ BSL3 لیب کے لئے لیا گیا 100KVA کا جنریٹر پچھلے ایک سال سے ٹی بی کنٹرول پروگرام آفس میں استعمال ہو رہا ہے۔ ٹیچنگ کیڈر کی پروفیسر زرفشاں طاہر کو سوچی سمجھی سکیم کے تحت جنرل کیڈر کی سیٹ کے لئے لایا گیا۔ فنڈ پورٹ فیولر منیجرجنیوا Werner Buhler کی رپورٹ سے صاف عیاں ہے کہ پنجاب میں ٹی بی کنٹرول پروگرام نے گلوبل فنڈ کا بے دریغ استعمال کیا ہے۔ گلوبل فنڈ کی جانب سے بریگیڈئر ڈاکٹر عامر اکرام‘ نیشنل کوارڈینیٹر‘ کامن جی ایف مینجمنٹ یونٹ کے نام ایک خط میں پی ٹی پی پنجاب میں فنڈز کے حوالے سے لوکل فنڈ ایجنٹ کی تحقیقات اور تجزیے سے آگاہ کرتے ہوئے لکھا کہ پی ٹی پی پنجاب نے دو کروڑپچاس لاکھ روپے کی رقم 26 دسمبر 2017ءکو پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو 2 ایکسرے وین کی خریداری کے لئے منتقل کی۔ رقم کی اس منتقلی پر گلوبل فنڈ‘ ایف پی ایم نے ایک ای میل کے ذریعے واضح کر دیا تھا کہ گلوبل فنڈ کے فنڈز پروکیورمنٹ سیل کو منتقل نہیں کئے جا سکتے۔ گلوبل فنڈ FPM نے لکھا ہے کہ نئی گاڑیوں کی خریداری کے لئے جی ایف سے پیشگی اجازت اور نہ ہی اس مقصد کے لئے فنڈز پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کو منتقل کرنے کی اجازت دی گئی۔ 31 دسمبر 2017ءتک پی ٹی پی پنجاب کے ریکارڈ کے مطابق چھ کروڑ روپے بطور پیشگی واجب الادا رقم کے طور پر ظاہر ہو رہے تھے۔ 5 سے 9 مارچ 2018ءکے عرصے میں ایل ایف اے کے دورے کے دوران میں بھی یہ رقم ظاہر ہو رہی تھی۔ پیشگی ادائیگی کا یہ معاملہ فنانس ڈیپارٹمنٹ میں زیرغور ہے اور ابھی تک انٹرنل آڈٹ کے لئے پیش نہیں کیا جا سکا۔ گلوبل فنڈ نے پی ٹی پی پنجاب کو لاہور اور ملتان میں 2 بی ایس ایل III لیبارٹریز تعمیر کرنے کی منظوری دی تھی جن پر لاگت کا تخمینہ 2 کروڑ روپے سے زائد تھا۔ تاہم SR PTP نے صرف لاہور میں پی ایس ایل III لیب تعمیر کی جس پر ایک کروڑ 12 لاکھ 62 ہزار 5 سو روپے لاگت آئی جو کہ منظور شدہ بجٹ سے زیادہ تھی۔ اضافی رقم خرچ کرنے کے لئے پی ٹی پی نے گلوبل فنڈ سے منظوری حاصل نہیں کی۔ اس سے قبل پاکستان میں 52 مقامات پر اسی طرز کی لیبارٹریز قائم کی گئی تھیں جن پر فی لیب لاگت 9 سے 12 ملین روپے سے زیادہ نہیں تھی اور یوں لاہور میں تعمیر ہونے والی لیب پر خرچ کی جانے والی اضافی رقم کا کوئی جواز نہیں اور یہ خرچ غیر قانونی ہے۔ اس معاملے میں منتخب ٹھیکیدار نے 11.26 ملین روپے میں لیب تعمیر کرنے کی پیشکش کی اور مذاکرات کے بعد پی ٹی پی نے یہ ٹھیکہ 9.9 ملین روپے میں دیا تاہم اس تعمیر میں بہت غیر دستاویزی کام اور قیمتوں میں تغیر و تبدل کی وجہ سے مجموعی لاگت 16.19 ملین روپے تک پہنچ گئی۔ ایس آر پی ٹی پی پنجاب نے 16 لاکھ 50 ہزار 7 سو 50 روپے کی پیشگی ادائیگی مسٹر زبیر احمد شاد‘ پی آر این ٹی پی منیجر پارٹنرشپ‘ کمیونٹی ڈویلپمنٹ اینڈ کمیونیکیشن کو 23 جون 2017ءکو کی۔ اس حوالے سے ٹھیکیدار کی جانب سے اشیائے خورونوش‘ سیٹنگ ارینجمنٹ‘ فلیکس پرنٹنگ اور دیگر لوازمات کے جو بل اور انوائسز جمع کروائے گئے ان پر درج ایڈریس غلط اور جعلی تھے۔ بلز پر دیئے گئے مندرجات کے مطابق جب فرم ”فہمیلا انٹرپرائزز“ سے پوچھا تو فرم نے کسی بھی قسم کے سامان کی فراہمی سے انکار کیا۔اسی طرح فرم ”ملک اینڈ سنز“ کا درج شدہ پتہ بھی درست نہیں تھا۔ ٹھیکیدار کے ساتھ ملاقات میں یہ بات سامنے آئی کہ اس سے منسوب بلز کی کوئی چیز اس نے سپلائی نہیں کی۔ یہ بات ثابت ہوئی کہ مسٹر زبیر احمد شاد نے مسٹر محمد ناصر خان بلوچ کے ساتھ ملی بھگت کر کے جعلی بلز تیار کئے اور جمع کروائے اور یہ رقم 11 لاکھ روپے کے لگ بھگ ہے۔ سی ای اوز اور ڈی ایچ اوز کی پانچویں ماہانہ میٹنگ 8 اکتوبر 2017ءکو ہوئی جس میں مختلف اضلاع میں جاری منصوبہ جات کا جائزہ لیا گیا۔ اس میٹنگ کے شرکاءکی تعداد 250 تھی اور اس میں چائے وغیرہ پر اٹھنے والے اخراجات 5 لاکھ بیان کئے گئے۔ اسی روز بعد میں ایس آر پی ٹی پی پنجاب نے ایک میٹنگ منعقد کی جس کے شرکاءکی تعداد 15 تھی اور اس میں چائے وغیرہ پر اٹھنے والے اخراجات 5 لاکھ روپے تھے تاہم ان 15 افراد کے نام اور عہدے معلوم نہیں ہو سکے۔ ماہانہ میٹنگز پر اٹھنے والے اخراجات بجٹ کا حصہ نہیں ہوتے اور نہ ہی جی ایف کا ان سے کوئی تعلق ہوتا ہے۔ سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کی ہدایت پر 14 تا 20 اگست 2017ءکو ہفتہ صحت منایا گیا جس کے تحت تین اضلاع، منڈی بہاالدین، چکوال اور اٹک میں تحفظ صحت کیمپس لگائے گئے۔اس پر مجموعی اخراجات 7 لاکھ روپے بیان کئے گئے جو سراسر غیر قانونی ہیں۔ فیصل آباد اور مظفر گڑھ میں ون ونڈو آپریشن کے آغاز کیلئے پی ٹی پی نے RFQ کی خریداری کیلئے تین فرموں کی کوٹیشنز جمع کروائیں۔ یہ ٹھیکہ مسلم خان برادرز کو سب سے کم رقم 11 لاکھ روپے پر ایوارڈ کیا گیا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے الکلیم ایسوسی ایٹس اور سکائی ویو نامی دونوں فرمز محض فرضی ہیں اور یہ ٹھیکہ مسلم خان برادرز کو ہی دیا جانا مقصود تھا جو صریحاً دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے۔ جی ایف کی ملکیت دوگاڑیاں اس وقت منسٹر پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور منسٹر سپیشلائزڈ ہیلتھ کے زیر استعمال ہیں جبکہ ایک گلوبل فنڈ کی گاڑی ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل ڈاکٹر عاصم الطاف کے استعمال میں ہے، جبکہ ایک گاڑی ڈاکٹر شبنم سرفراز کے زیر استعمال ہے۔ لیکن ان کیلئے ایندھن اور Maintenance جی ایف سے وصول کیے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود رینٹ اے کار سروس بھی استعمال کی جا رہی ہے جس کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ 30 جون 2017ءکو ڈاکٹر لالہ رخ سکندر، ڈپٹی پروگرام مینجر (جس کا جی ایف سے کوئی تعلق نہیں) کوٹی بی کے حوالے سے سیمینار منعقد کرنے یا پہلے پیشگی 7940 ڈالر کی ادائیگی کی گئی۔ یہ سیمینار کبھی منعقد نہیں ہوا اور ڈاکٹر لالہ رخ نے ساڑھے چار ماہ بعد یہ رقم واپس کر دی۔ شک ہے کہ اس طرح کے فرضی سیمینار (جو کبھی منعقد نہیں ہوتے) کی آڑ میں منظور نظر اہلکاروں کی مالی مدد کی جاتی ہے۔ مختلف اضلاع میں 186 چیسٹ کیمپس کے انعقاد کیلئے ڈاکٹر سامیہ کو مندرجہ ذیل رقوم پیشگی ادا کی گئیں۔ ڈاکٹر سامیہ ہمدرد یونیورسٹی سے حکمت کی ڈگری یافتہ ہیں اور ایم بی بی ایس ڈاکٹر کی پوسٹ پر کام کر رہی ہیں۔ 29 ستمبر 35 لاکھ روپے ان کیمپس کے انعقاد کے حوالے سے دستاویزی ثبوت متعلقہ حکام کو جمع نہیں کروائے گئے۔ ڈاکٹر سامیہ خان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا موقف تھا کہ اس حوالے سے دستاویزات مسٹر محمد ناصر خان بلوچ تیار کر رہے ہیں ڈاکٹر سامیہ خان کے مطابق یہ چیسٹ کیمپس الخدمت فاونڈیشن نامی ایک خیراتی ادارے کی مدد سے منعقد کیے گئے اور جو رقم ان کو پیشگی ادا کی گئی تھی۔ وہ انہوں نے الخدمت فاونڈیشن کو ادا کر دی تھی۔ سکرینرز جولائی 2017ءسے 7 مارچ 2018ءتک پی ٹی پی پنجاب آفس میں تعینات تھے اور اصل مقام تعیناتی پر اپنے موجود نہ ہونے کی وجہ سے ان مراکز میں سکریننگ کا کام نہیں ہو رہا تھا۔ ان افراد میں سے مسٹر ذیشان احمد مرزا جو ڈی ایچ کیو جہلم میں سکرینر ہیں کو فنانس ڈیپارٹمنٹ میں، مسٹر رانا ابو القاسم سکرینر ڈی ایچ کیو گوجرانوالہ کو پی ٹی پی فنانس ڈیپارٹمنٹ اور مسٹر ناصر خان بلوچ سکرینر ڈی ایچ کیو لودھراں کو پی ٹی پی پروگرام ڈائریکٹر کے ساتھ تعینات کیا گیا ہے اور یہ صاحب جعلی بلز اور انوائسز تیار کرنے میں ملوث ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر گلوبل فنڈ کی شکایات کا ازالہ نہ کیا گیا تو وہ گلوبل فنڈ بند کر دیں گے جیسے بنگلہ دیش میں گلوبل فنڈ کی اسی طرح کی لوٹ مار کرنے پر وہاں گرانٹ بند کر دی گئی۔ گلوبل فنڈ پاکستان میں ٹی بی‘ ایڈز اور ملیریا کنٹرول پروگرام کو سپورٹ کرتا ہے۔ اگر پاکستان میں بھی گلوبل فنڈ نے گرانٹ بند کر دی تو کیا حکومت پاکستان ٹی بی کے مریضوں کا علاج کرا سکے گی؟ زبیر احمد شاد ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کا لیکچرار ہے۔ پروگرام ڈائریکٹر اس کو گلوبل فنڈ سے 2 لاکھ پچھتر ہزار روپے تنخواہ دے رہی ہے۔ زیبر احمد شاد کو محکمہ ایجوکیشن سے شوکاز نوٹس ملنے کے باوجود ٹی بی ڈاٹ پروگرام پنجاب میں مسلسل کام کر رہا ہے۔ زبیر شاد کو رواں سال 22 مارچ کو ماہورا تنخواہ 2 لاکھ 40 ہزار روپے پر ایک سال کا کنٹریکٹ دیا گیا اور 5 اپریل کو 3 ماہ کی تنخواہ اور ٹی اے/ ڈی اے بھی دیا گیا جبکہ گلوبل فنڈ نے پروفیسر زرفشاں کو اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اس کو گلوبل فنڈ کا ملازم نہ رکھا جائے اور ہڑپ شدہ رقم واپس لی جائے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ باوجود محکمہ تعلیم میں ریگولر لیکچرار ہونے کے مورخہ 26.06.2016 سے لے کر تاحال بغیر چھٹی منظور کروائے غیر حاضر کے خلاف ایکٹ PEEDA کے تحت کارروائی نجانے کیوں نہیں کی گئی؟ محکمہ تعلیم نے نہ صرف زبیر احمد شاد کو پانچ سال تک NTP میں ڈیپوٹیشن پر بھیجا اور پانچ سال کے بعد بھی اسے دو سال تک بلاتنخواہ EOL دی۔ پچھلے سال جون میں زبیر احمد شاد کو فیڈرل نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام اسلام آباد سے پنجاب کے ٹی بی کنٹرول پروگرام میں ضم کیا گیا تھا۔ ویٹنری ڈاکٹر طاہر یعقوب ٹی بی ڈاٹ پروگرام سے تین لاکھ ساٹھ ہزار کا سیلری پیکج پورا ایک سال تک لیتا رہا ہے۔ ان کی بیگم ڈاکٹر نادیہ یعقوب کی بھی UVAS کی ڈگری ہے جو تشخیصی لیبارٹری کی چیف کنسلٹنٹ کے گلوبل فنڈ سے تقریباً تین لاکھ تنخواہ لے رہی ہے۔ اس کی تعیناتی اخبار میں اشتہاردیئے بغیر کی گئی۔ ٹی بی پروگرام میں پانچ کنسلٹنٹ بھاری تنخواہوں پر رکھے گئے ہیں جن میں ایک بھی ایم بی بی ایس ڈاکٹر نہیں ہے۔ 48 سیکرینرز بھرتی کئے ہیں جو محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران کے پرائیویٹ سیکرٹری کے رشتے دار ہیں اور گھر بیٹھے ماہانہ 36 ہزار روپے تنخواہیں لے رہے ہیں اور ان کو بغیر انٹرویو اور اپلائی کیے رکھا گیا۔ اس سے بڑی کرپشن کیا ہو گی کہ جن آسامیوں کے لئے اشتہار دیا گیا اور جو کوالیفکیشن رکھی اس کے مطابق بھرتی ہی نہیں کی گئی۔ بعض بھرتیاں اشتہار دیے بغیرکسی کو صرف ایک ماہ اور کسی کو تین ماہ کے کنٹریکٹ پر لاکھوں روپے تنخواہ پر رکھا گیا۔ ٹی بی کنٹرول پروگرام میں ایڈیشنل ڈائریکٹر کی سیٹ پر ڈاکٹر محمد آصف کام کر رہے ہیں۔ ان کو گلوبل فنڈ کی ایک اہم پوسٹ پراجیکٹ مینجر کا اضافی چارج بمعہ مراعات دیا گیا ہے جبکہ وہ محکمہ بلدیات کے ملازم ہیں اور ان کو سپریم کورٹ کے 2017 کے فیصلہ کے خلاف ٹی بی کنٹرول پروگرام میں ضم کیا گیا ہے۔


متعلقہ خبریں


مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

مضامین
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور وجود جمعه 23 جنوری 2026
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود جمعه 23 جنوری 2026
پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر