وجود

... loading ...

وجود

مزاحمتی ٹی بی کی شرح میں بڑھتا ہوا اضافہ

منگل 29 مئی 2018 مزاحمتی ٹی بی کی شرح میں بڑھتا ہوا اضافہ

ٹی بی دنیا کی خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے۔ ٹی بی کے کنٹرول اور خاتمہ کے لئے دنیا کے بہت سے ممالک گرانٹ دیتے ہیں پھر یہ فنڈ ان ممالک کو دیا جاتا ہے جہاں ٹی بی کے مریضوں کی تعداد ذیادہ ہوتی ہے۔ ٹی بی کی ادویات ہر سرکاری و نیم سرکاری ہسپتالوں اور کچھ پرائیویٹ ڈاکٹرز اور ہسپتالوں میں مہیا کی جاتی ہیں۔ اگر ٹی بی کے مریضوں کی تشخیص اور ان کے علاج کا فالو اپ نہ ہو تو ٹی بی کا ایک مریض ایک سال میں دس سے پندرہ تندرست لوگوں کو ٹی بی لگا سکتا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٹی بی کے مریضوں کی تشخیص اور ان کا علاج کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ ٹی بی DOTS پروگرام کی ڈائریکٹرپروفیسر زرفشاں طاہر بھٹی انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور کی پروفیشنل مائیکروبیالوجسٹ جو بغیر کسی انتظامی تجربہ کے ایک بڑے اور مہلک بیماری کے پروگرام کی ڈائریکٹر ہیں ان کی تعنیاتی کے بعد تقریباًڈیڑھ سال سے ٹی بی ڈاٹ پروگرام کے انتظامی اور مالی امور انتہائی بے ضابطگیوں کا شکار ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹی بی DOTS پروگرام کی ڈ ائریکٹر پروفیسر زرفشاں نے اپنی تعیناتی کے دوران ٹی بی کی تمام دوائی ،لوجسٹک سپورٹ و ٹریننگ اور سکریننگ کیمپنگ جعلی کروائی ہیں اور خرچے کی مد میں کروڑوں روپے گلوبل فنڈ کے ہڑپ کر لیے۔ عالمی ادارہ صحت کی DOTS Strategy کو ختم کر کے اب TCS کے ذریعے مریضوں کو ادویات گھر پہنچانے کا طریقہ اپنایا گیا ہے۔ بروقت دوائی نہ ملنے کی وجہ سے ٹی بی کے مریضوں میں مزید اضافہ اور مزاحمتی ٹی بی بڑھنے کا خطرہ ہے۔ BSL3 یعنی بائیو سیفٹی لیول تھری لیب انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور میں ہوتے ہوئے کروڑوں روپے سے نئی لیب پرائمری ہیلتھ آفس میں قائم کی گئی جہاں سیمپل سٹور الماری خراب ہونے کی وجہ سے بلغم کے سینکڑوں سیمپل ضائع ہو رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے MDR کے مریضوں کی تشخیص اور علاج بھی متاثر ہو رہا ہے۔ BSL3 لیب کے لئے لیا گیا 100KVA کا جنریٹر پچھلے ایک سال سے ٹی بی کنٹرول پروگرام آفس میں استعمال ہو رہا ہے۔ ٹیچنگ کیڈر کی پروفیسر زرفشاں طاہر کو سوچی سمجھی سکیم کے تحت جنرل کیڈر کی سیٹ کے لئے لایا گیا۔ فنڈ پورٹ فیولر منیجرجنیوا Werner Buhler کی رپورٹ سے صاف عیاں ہے کہ پنجاب میں ٹی بی کنٹرول پروگرام نے گلوبل فنڈ کا بے دریغ استعمال کیا ہے۔ گلوبل فنڈ کی جانب سے بریگیڈئر ڈاکٹر عامر اکرام‘ نیشنل کوارڈینیٹر‘ کامن جی ایف مینجمنٹ یونٹ کے نام ایک خط میں پی ٹی پی پنجاب میں فنڈز کے حوالے سے لوکل فنڈ ایجنٹ کی تحقیقات اور تجزیے سے آگاہ کرتے ہوئے لکھا کہ پی ٹی پی پنجاب نے دو کروڑپچاس لاکھ روپے کی رقم 26 دسمبر 2017ءکو پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو 2 ایکسرے وین کی خریداری کے لئے منتقل کی۔ رقم کی اس منتقلی پر گلوبل فنڈ‘ ایف پی ایم نے ایک ای میل کے ذریعے واضح کر دیا تھا کہ گلوبل فنڈ کے فنڈز پروکیورمنٹ سیل کو منتقل نہیں کئے جا سکتے۔ گلوبل فنڈ FPM نے لکھا ہے کہ نئی گاڑیوں کی خریداری کے لئے جی ایف سے پیشگی اجازت اور نہ ہی اس مقصد کے لئے فنڈز پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کو منتقل کرنے کی اجازت دی گئی۔ 31 دسمبر 2017ءتک پی ٹی پی پنجاب کے ریکارڈ کے مطابق چھ کروڑ روپے بطور پیشگی واجب الادا رقم کے طور پر ظاہر ہو رہے تھے۔ 5 سے 9 مارچ 2018ءکے عرصے میں ایل ایف اے کے دورے کے دوران میں بھی یہ رقم ظاہر ہو رہی تھی۔ پیشگی ادائیگی کا یہ معاملہ فنانس ڈیپارٹمنٹ میں زیرغور ہے اور ابھی تک انٹرنل آڈٹ کے لئے پیش نہیں کیا جا سکا۔ گلوبل فنڈ نے پی ٹی پی پنجاب کو لاہور اور ملتان میں 2 بی ایس ایل III لیبارٹریز تعمیر کرنے کی منظوری دی تھی جن پر لاگت کا تخمینہ 2 کروڑ روپے سے زائد تھا۔ تاہم SR PTP نے صرف لاہور میں پی ایس ایل III لیب تعمیر کی جس پر ایک کروڑ 12 لاکھ 62 ہزار 5 سو روپے لاگت آئی جو کہ منظور شدہ بجٹ سے زیادہ تھی۔ اضافی رقم خرچ کرنے کے لئے پی ٹی پی نے گلوبل فنڈ سے منظوری حاصل نہیں کی۔ اس سے قبل پاکستان میں 52 مقامات پر اسی طرز کی لیبارٹریز قائم کی گئی تھیں جن پر فی لیب لاگت 9 سے 12 ملین روپے سے زیادہ نہیں تھی اور یوں لاہور میں تعمیر ہونے والی لیب پر خرچ کی جانے والی اضافی رقم کا کوئی جواز نہیں اور یہ خرچ غیر قانونی ہے۔ اس معاملے میں منتخب ٹھیکیدار نے 11.26 ملین روپے میں لیب تعمیر کرنے کی پیشکش کی اور مذاکرات کے بعد پی ٹی پی نے یہ ٹھیکہ 9.9 ملین روپے میں دیا تاہم اس تعمیر میں بہت غیر دستاویزی کام اور قیمتوں میں تغیر و تبدل کی وجہ سے مجموعی لاگت 16.19 ملین روپے تک پہنچ گئی۔ ایس آر پی ٹی پی پنجاب نے 16 لاکھ 50 ہزار 7 سو 50 روپے کی پیشگی ادائیگی مسٹر زبیر احمد شاد‘ پی آر این ٹی پی منیجر پارٹنرشپ‘ کمیونٹی ڈویلپمنٹ اینڈ کمیونیکیشن کو 23 جون 2017ءکو کی۔ اس حوالے سے ٹھیکیدار کی جانب سے اشیائے خورونوش‘ سیٹنگ ارینجمنٹ‘ فلیکس پرنٹنگ اور دیگر لوازمات کے جو بل اور انوائسز جمع کروائے گئے ان پر درج ایڈریس غلط اور جعلی تھے۔ بلز پر دیئے گئے مندرجات کے مطابق جب فرم ”فہمیلا انٹرپرائزز“ سے پوچھا تو فرم نے کسی بھی قسم کے سامان کی فراہمی سے انکار کیا۔اسی طرح فرم ”ملک اینڈ سنز“ کا درج شدہ پتہ بھی درست نہیں تھا۔ ٹھیکیدار کے ساتھ ملاقات میں یہ بات سامنے آئی کہ اس سے منسوب بلز کی کوئی چیز اس نے سپلائی نہیں کی۔ یہ بات ثابت ہوئی کہ مسٹر زبیر احمد شاد نے مسٹر محمد ناصر خان بلوچ کے ساتھ ملی بھگت کر کے جعلی بلز تیار کئے اور جمع کروائے اور یہ رقم 11 لاکھ روپے کے لگ بھگ ہے۔ سی ای اوز اور ڈی ایچ اوز کی پانچویں ماہانہ میٹنگ 8 اکتوبر 2017ءکو ہوئی جس میں مختلف اضلاع میں جاری منصوبہ جات کا جائزہ لیا گیا۔ اس میٹنگ کے شرکاءکی تعداد 250 تھی اور اس میں چائے وغیرہ پر اٹھنے والے اخراجات 5 لاکھ بیان کئے گئے۔ اسی روز بعد میں ایس آر پی ٹی پی پنجاب نے ایک میٹنگ منعقد کی جس کے شرکاءکی تعداد 15 تھی اور اس میں چائے وغیرہ پر اٹھنے والے اخراجات 5 لاکھ روپے تھے تاہم ان 15 افراد کے نام اور عہدے معلوم نہیں ہو سکے۔ ماہانہ میٹنگز پر اٹھنے والے اخراجات بجٹ کا حصہ نہیں ہوتے اور نہ ہی جی ایف کا ان سے کوئی تعلق ہوتا ہے۔ سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کی ہدایت پر 14 تا 20 اگست 2017ءکو ہفتہ صحت منایا گیا جس کے تحت تین اضلاع، منڈی بہاالدین، چکوال اور اٹک میں تحفظ صحت کیمپس لگائے گئے۔اس پر مجموعی اخراجات 7 لاکھ روپے بیان کئے گئے جو سراسر غیر قانونی ہیں۔ فیصل آباد اور مظفر گڑھ میں ون ونڈو آپریشن کے آغاز کیلئے پی ٹی پی نے RFQ کی خریداری کیلئے تین فرموں کی کوٹیشنز جمع کروائیں۔ یہ ٹھیکہ مسلم خان برادرز کو سب سے کم رقم 11 لاکھ روپے پر ایوارڈ کیا گیا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے الکلیم ایسوسی ایٹس اور سکائی ویو نامی دونوں فرمز محض فرضی ہیں اور یہ ٹھیکہ مسلم خان برادرز کو ہی دیا جانا مقصود تھا جو صریحاً دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے۔ جی ایف کی ملکیت دوگاڑیاں اس وقت منسٹر پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور منسٹر سپیشلائزڈ ہیلتھ کے زیر استعمال ہیں جبکہ ایک گلوبل فنڈ کی گاڑی ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل ڈاکٹر عاصم الطاف کے استعمال میں ہے، جبکہ ایک گاڑی ڈاکٹر شبنم سرفراز کے زیر استعمال ہے۔ لیکن ان کیلئے ایندھن اور Maintenance جی ایف سے وصول کیے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود رینٹ اے کار سروس بھی استعمال کی جا رہی ہے جس کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ 30 جون 2017ءکو ڈاکٹر لالہ رخ سکندر، ڈپٹی پروگرام مینجر (جس کا جی ایف سے کوئی تعلق نہیں) کوٹی بی کے حوالے سے سیمینار منعقد کرنے یا پہلے پیشگی 7940 ڈالر کی ادائیگی کی گئی۔ یہ سیمینار کبھی منعقد نہیں ہوا اور ڈاکٹر لالہ رخ نے ساڑھے چار ماہ بعد یہ رقم واپس کر دی۔ شک ہے کہ اس طرح کے فرضی سیمینار (جو کبھی منعقد نہیں ہوتے) کی آڑ میں منظور نظر اہلکاروں کی مالی مدد کی جاتی ہے۔ مختلف اضلاع میں 186 چیسٹ کیمپس کے انعقاد کیلئے ڈاکٹر سامیہ کو مندرجہ ذیل رقوم پیشگی ادا کی گئیں۔ ڈاکٹر سامیہ ہمدرد یونیورسٹی سے حکمت کی ڈگری یافتہ ہیں اور ایم بی بی ایس ڈاکٹر کی پوسٹ پر کام کر رہی ہیں۔ 29 ستمبر 35 لاکھ روپے ان کیمپس کے انعقاد کے حوالے سے دستاویزی ثبوت متعلقہ حکام کو جمع نہیں کروائے گئے۔ ڈاکٹر سامیہ خان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا موقف تھا کہ اس حوالے سے دستاویزات مسٹر محمد ناصر خان بلوچ تیار کر رہے ہیں ڈاکٹر سامیہ خان کے مطابق یہ چیسٹ کیمپس الخدمت فاونڈیشن نامی ایک خیراتی ادارے کی مدد سے منعقد کیے گئے اور جو رقم ان کو پیشگی ادا کی گئی تھی۔ وہ انہوں نے الخدمت فاونڈیشن کو ادا کر دی تھی۔ سکرینرز جولائی 2017ءسے 7 مارچ 2018ءتک پی ٹی پی پنجاب آفس میں تعینات تھے اور اصل مقام تعیناتی پر اپنے موجود نہ ہونے کی وجہ سے ان مراکز میں سکریننگ کا کام نہیں ہو رہا تھا۔ ان افراد میں سے مسٹر ذیشان احمد مرزا جو ڈی ایچ کیو جہلم میں سکرینر ہیں کو فنانس ڈیپارٹمنٹ میں، مسٹر رانا ابو القاسم سکرینر ڈی ایچ کیو گوجرانوالہ کو پی ٹی پی فنانس ڈیپارٹمنٹ اور مسٹر ناصر خان بلوچ سکرینر ڈی ایچ کیو لودھراں کو پی ٹی پی پروگرام ڈائریکٹر کے ساتھ تعینات کیا گیا ہے اور یہ صاحب جعلی بلز اور انوائسز تیار کرنے میں ملوث ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر گلوبل فنڈ کی شکایات کا ازالہ نہ کیا گیا تو وہ گلوبل فنڈ بند کر دیں گے جیسے بنگلہ دیش میں گلوبل فنڈ کی اسی طرح کی لوٹ مار کرنے پر وہاں گرانٹ بند کر دی گئی۔ گلوبل فنڈ پاکستان میں ٹی بی‘ ایڈز اور ملیریا کنٹرول پروگرام کو سپورٹ کرتا ہے۔ اگر پاکستان میں بھی گلوبل فنڈ نے گرانٹ بند کر دی تو کیا حکومت پاکستان ٹی بی کے مریضوں کا علاج کرا سکے گی؟ زبیر احمد شاد ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کا لیکچرار ہے۔ پروگرام ڈائریکٹر اس کو گلوبل فنڈ سے 2 لاکھ پچھتر ہزار روپے تنخواہ دے رہی ہے۔ زیبر احمد شاد کو محکمہ ایجوکیشن سے شوکاز نوٹس ملنے کے باوجود ٹی بی ڈاٹ پروگرام پنجاب میں مسلسل کام کر رہا ہے۔ زبیر شاد کو رواں سال 22 مارچ کو ماہورا تنخواہ 2 لاکھ 40 ہزار روپے پر ایک سال کا کنٹریکٹ دیا گیا اور 5 اپریل کو 3 ماہ کی تنخواہ اور ٹی اے/ ڈی اے بھی دیا گیا جبکہ گلوبل فنڈ نے پروفیسر زرفشاں کو اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اس کو گلوبل فنڈ کا ملازم نہ رکھا جائے اور ہڑپ شدہ رقم واپس لی جائے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ باوجود محکمہ تعلیم میں ریگولر لیکچرار ہونے کے مورخہ 26.06.2016 سے لے کر تاحال بغیر چھٹی منظور کروائے غیر حاضر کے خلاف ایکٹ PEEDA کے تحت کارروائی نجانے کیوں نہیں کی گئی؟ محکمہ تعلیم نے نہ صرف زبیر احمد شاد کو پانچ سال تک NTP میں ڈیپوٹیشن پر بھیجا اور پانچ سال کے بعد بھی اسے دو سال تک بلاتنخواہ EOL دی۔ پچھلے سال جون میں زبیر احمد شاد کو فیڈرل نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام اسلام آباد سے پنجاب کے ٹی بی کنٹرول پروگرام میں ضم کیا گیا تھا۔ ویٹنری ڈاکٹر طاہر یعقوب ٹی بی ڈاٹ پروگرام سے تین لاکھ ساٹھ ہزار کا سیلری پیکج پورا ایک سال تک لیتا رہا ہے۔ ان کی بیگم ڈاکٹر نادیہ یعقوب کی بھی UVAS کی ڈگری ہے جو تشخیصی لیبارٹری کی چیف کنسلٹنٹ کے گلوبل فنڈ سے تقریباً تین لاکھ تنخواہ لے رہی ہے۔ اس کی تعیناتی اخبار میں اشتہاردیئے بغیر کی گئی۔ ٹی بی پروگرام میں پانچ کنسلٹنٹ بھاری تنخواہوں پر رکھے گئے ہیں جن میں ایک بھی ایم بی بی ایس ڈاکٹر نہیں ہے۔ 48 سیکرینرز بھرتی کئے ہیں جو محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران کے پرائیویٹ سیکرٹری کے رشتے دار ہیں اور گھر بیٹھے ماہانہ 36 ہزار روپے تنخواہیں لے رہے ہیں اور ان کو بغیر انٹرویو اور اپلائی کیے رکھا گیا۔ اس سے بڑی کرپشن کیا ہو گی کہ جن آسامیوں کے لئے اشتہار دیا گیا اور جو کوالیفکیشن رکھی اس کے مطابق بھرتی ہی نہیں کی گئی۔ بعض بھرتیاں اشتہار دیے بغیرکسی کو صرف ایک ماہ اور کسی کو تین ماہ کے کنٹریکٹ پر لاکھوں روپے تنخواہ پر رکھا گیا۔ ٹی بی کنٹرول پروگرام میں ایڈیشنل ڈائریکٹر کی سیٹ پر ڈاکٹر محمد آصف کام کر رہے ہیں۔ ان کو گلوبل فنڈ کی ایک اہم پوسٹ پراجیکٹ مینجر کا اضافی چارج بمعہ مراعات دیا گیا ہے جبکہ وہ محکمہ بلدیات کے ملازم ہیں اور ان کو سپریم کورٹ کے 2017 کے فیصلہ کے خلاف ٹی بی کنٹرول پروگرام میں ضم کیا گیا ہے۔


متعلقہ خبریں


بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی وجود - پیر 26 جنوری 2026

پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا اور معاملہ رکھوں گا،مکینوں کا ازخود جانے کا دعویٰ جھوٹ ہے، مکینوں سے پوچھیں گے، بات جھوٹی ہوئی تو ہم خود انہیں واپس لائیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مجھے ہٹانے کیلئے تین آپشن ، گورنر راج ، نااہل ورنہ مجھے مار دیا جائے،کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانی...

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار وجود - پیر 26 جنوری 2026

کم سے کم درجہ حرارت 8.5ڈگری سینٹی گریڈجبکہ پارہ سنگل ڈیجٹ میں ریکارڈ کیاگیا شمال مشرقی سمت سے 20تا 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع، محکمہ موسمیات کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جس کے سبب شہر میں اتوارکو بھی پارہ سنگل ڈیجٹ میں ری...

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق وجود - پیر 26 جنوری 2026

مزید ایک لاش کا ڈی این اے،متاثرہ عمارت کے ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری دہلی کالونی کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا، متاثرہ خاندان شاپنگ کیلئے پلازہ گیا تھا (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شن...

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار وجود - پیر 26 جنوری 2026

گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو ہونا غیرقانونی ہے تو انکوائری کرکے الگ سے مقدمہ کریں انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، میڈیا سے گفتگو متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم)پاکستان کے سینئررہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو...

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع وجود - اتوار 25 جنوری 2026

پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن وجود - هفته 24 جنوری 2026

بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

مضامین
ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟ وجود پیر 26 جنوری 2026
ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت وجود پیر 26 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت

صبر یا جبر وجود پیر 26 جنوری 2026
صبر یا جبر

پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟ وجود اتوار 25 جنوری 2026
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں! وجود اتوار 25 جنوری 2026
بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر