وجود

... loading ...

وجود

مزاحمتی ٹی بی کی شرح میں بڑھتا ہوا اضافہ

منگل 29 مئی 2018 مزاحمتی ٹی بی کی شرح میں بڑھتا ہوا اضافہ

ٹی بی دنیا کی خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے۔ ٹی بی کے کنٹرول اور خاتمہ کے لئے دنیا کے بہت سے ممالک گرانٹ دیتے ہیں پھر یہ فنڈ ان ممالک کو دیا جاتا ہے جہاں ٹی بی کے مریضوں کی تعداد ذیادہ ہوتی ہے۔ ٹی بی کی ادویات ہر سرکاری و نیم سرکاری ہسپتالوں اور کچھ پرائیویٹ ڈاکٹرز اور ہسپتالوں میں مہیا کی جاتی ہیں۔ اگر ٹی بی کے مریضوں کی تشخیص اور ان کے علاج کا فالو اپ نہ ہو تو ٹی بی کا ایک مریض ایک سال میں دس سے پندرہ تندرست لوگوں کو ٹی بی لگا سکتا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٹی بی کے مریضوں کی تشخیص اور ان کا علاج کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ ٹی بی DOTS پروگرام کی ڈائریکٹرپروفیسر زرفشاں طاہر بھٹی انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور کی پروفیشنل مائیکروبیالوجسٹ جو بغیر کسی انتظامی تجربہ کے ایک بڑے اور مہلک بیماری کے پروگرام کی ڈائریکٹر ہیں ان کی تعنیاتی کے بعد تقریباًڈیڑھ سال سے ٹی بی ڈاٹ پروگرام کے انتظامی اور مالی امور انتہائی بے ضابطگیوں کا شکار ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹی بی DOTS پروگرام کی ڈ ائریکٹر پروفیسر زرفشاں نے اپنی تعیناتی کے دوران ٹی بی کی تمام دوائی ،لوجسٹک سپورٹ و ٹریننگ اور سکریننگ کیمپنگ جعلی کروائی ہیں اور خرچے کی مد میں کروڑوں روپے گلوبل فنڈ کے ہڑپ کر لیے۔ عالمی ادارہ صحت کی DOTS Strategy کو ختم کر کے اب TCS کے ذریعے مریضوں کو ادویات گھر پہنچانے کا طریقہ اپنایا گیا ہے۔ بروقت دوائی نہ ملنے کی وجہ سے ٹی بی کے مریضوں میں مزید اضافہ اور مزاحمتی ٹی بی بڑھنے کا خطرہ ہے۔ BSL3 یعنی بائیو سیفٹی لیول تھری لیب انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور میں ہوتے ہوئے کروڑوں روپے سے نئی لیب پرائمری ہیلتھ آفس میں قائم کی گئی جہاں سیمپل سٹور الماری خراب ہونے کی وجہ سے بلغم کے سینکڑوں سیمپل ضائع ہو رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے MDR کے مریضوں کی تشخیص اور علاج بھی متاثر ہو رہا ہے۔ BSL3 لیب کے لئے لیا گیا 100KVA کا جنریٹر پچھلے ایک سال سے ٹی بی کنٹرول پروگرام آفس میں استعمال ہو رہا ہے۔ ٹیچنگ کیڈر کی پروفیسر زرفشاں طاہر کو سوچی سمجھی سکیم کے تحت جنرل کیڈر کی سیٹ کے لئے لایا گیا۔ فنڈ پورٹ فیولر منیجرجنیوا Werner Buhler کی رپورٹ سے صاف عیاں ہے کہ پنجاب میں ٹی بی کنٹرول پروگرام نے گلوبل فنڈ کا بے دریغ استعمال کیا ہے۔ گلوبل فنڈ کی جانب سے بریگیڈئر ڈاکٹر عامر اکرام‘ نیشنل کوارڈینیٹر‘ کامن جی ایف مینجمنٹ یونٹ کے نام ایک خط میں پی ٹی پی پنجاب میں فنڈز کے حوالے سے لوکل فنڈ ایجنٹ کی تحقیقات اور تجزیے سے آگاہ کرتے ہوئے لکھا کہ پی ٹی پی پنجاب نے دو کروڑپچاس لاکھ روپے کی رقم 26 دسمبر 2017ءکو پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو 2 ایکسرے وین کی خریداری کے لئے منتقل کی۔ رقم کی اس منتقلی پر گلوبل فنڈ‘ ایف پی ایم نے ایک ای میل کے ذریعے واضح کر دیا تھا کہ گلوبل فنڈ کے فنڈز پروکیورمنٹ سیل کو منتقل نہیں کئے جا سکتے۔ گلوبل فنڈ FPM نے لکھا ہے کہ نئی گاڑیوں کی خریداری کے لئے جی ایف سے پیشگی اجازت اور نہ ہی اس مقصد کے لئے فنڈز پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کو منتقل کرنے کی اجازت دی گئی۔ 31 دسمبر 2017ءتک پی ٹی پی پنجاب کے ریکارڈ کے مطابق چھ کروڑ روپے بطور پیشگی واجب الادا رقم کے طور پر ظاہر ہو رہے تھے۔ 5 سے 9 مارچ 2018ءکے عرصے میں ایل ایف اے کے دورے کے دوران میں بھی یہ رقم ظاہر ہو رہی تھی۔ پیشگی ادائیگی کا یہ معاملہ فنانس ڈیپارٹمنٹ میں زیرغور ہے اور ابھی تک انٹرنل آڈٹ کے لئے پیش نہیں کیا جا سکا۔ گلوبل فنڈ نے پی ٹی پی پنجاب کو لاہور اور ملتان میں 2 بی ایس ایل III لیبارٹریز تعمیر کرنے کی منظوری دی تھی جن پر لاگت کا تخمینہ 2 کروڑ روپے سے زائد تھا۔ تاہم SR PTP نے صرف لاہور میں پی ایس ایل III لیب تعمیر کی جس پر ایک کروڑ 12 لاکھ 62 ہزار 5 سو روپے لاگت آئی جو کہ منظور شدہ بجٹ سے زیادہ تھی۔ اضافی رقم خرچ کرنے کے لئے پی ٹی پی نے گلوبل فنڈ سے منظوری حاصل نہیں کی۔ اس سے قبل پاکستان میں 52 مقامات پر اسی طرز کی لیبارٹریز قائم کی گئی تھیں جن پر فی لیب لاگت 9 سے 12 ملین روپے سے زیادہ نہیں تھی اور یوں لاہور میں تعمیر ہونے والی لیب پر خرچ کی جانے والی اضافی رقم کا کوئی جواز نہیں اور یہ خرچ غیر قانونی ہے۔ اس معاملے میں منتخب ٹھیکیدار نے 11.26 ملین روپے میں لیب تعمیر کرنے کی پیشکش کی اور مذاکرات کے بعد پی ٹی پی نے یہ ٹھیکہ 9.9 ملین روپے میں دیا تاہم اس تعمیر میں بہت غیر دستاویزی کام اور قیمتوں میں تغیر و تبدل کی وجہ سے مجموعی لاگت 16.19 ملین روپے تک پہنچ گئی۔ ایس آر پی ٹی پی پنجاب نے 16 لاکھ 50 ہزار 7 سو 50 روپے کی پیشگی ادائیگی مسٹر زبیر احمد شاد‘ پی آر این ٹی پی منیجر پارٹنرشپ‘ کمیونٹی ڈویلپمنٹ اینڈ کمیونیکیشن کو 23 جون 2017ءکو کی۔ اس حوالے سے ٹھیکیدار کی جانب سے اشیائے خورونوش‘ سیٹنگ ارینجمنٹ‘ فلیکس پرنٹنگ اور دیگر لوازمات کے جو بل اور انوائسز جمع کروائے گئے ان پر درج ایڈریس غلط اور جعلی تھے۔ بلز پر دیئے گئے مندرجات کے مطابق جب فرم ”فہمیلا انٹرپرائزز“ سے پوچھا تو فرم نے کسی بھی قسم کے سامان کی فراہمی سے انکار کیا۔اسی طرح فرم ”ملک اینڈ سنز“ کا درج شدہ پتہ بھی درست نہیں تھا۔ ٹھیکیدار کے ساتھ ملاقات میں یہ بات سامنے آئی کہ اس سے منسوب بلز کی کوئی چیز اس نے سپلائی نہیں کی۔ یہ بات ثابت ہوئی کہ مسٹر زبیر احمد شاد نے مسٹر محمد ناصر خان بلوچ کے ساتھ ملی بھگت کر کے جعلی بلز تیار کئے اور جمع کروائے اور یہ رقم 11 لاکھ روپے کے لگ بھگ ہے۔ سی ای اوز اور ڈی ایچ اوز کی پانچویں ماہانہ میٹنگ 8 اکتوبر 2017ءکو ہوئی جس میں مختلف اضلاع میں جاری منصوبہ جات کا جائزہ لیا گیا۔ اس میٹنگ کے شرکاءکی تعداد 250 تھی اور اس میں چائے وغیرہ پر اٹھنے والے اخراجات 5 لاکھ بیان کئے گئے۔ اسی روز بعد میں ایس آر پی ٹی پی پنجاب نے ایک میٹنگ منعقد کی جس کے شرکاءکی تعداد 15 تھی اور اس میں چائے وغیرہ پر اٹھنے والے اخراجات 5 لاکھ روپے تھے تاہم ان 15 افراد کے نام اور عہدے معلوم نہیں ہو سکے۔ ماہانہ میٹنگز پر اٹھنے والے اخراجات بجٹ کا حصہ نہیں ہوتے اور نہ ہی جی ایف کا ان سے کوئی تعلق ہوتا ہے۔ سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کی ہدایت پر 14 تا 20 اگست 2017ءکو ہفتہ صحت منایا گیا جس کے تحت تین اضلاع، منڈی بہاالدین، چکوال اور اٹک میں تحفظ صحت کیمپس لگائے گئے۔اس پر مجموعی اخراجات 7 لاکھ روپے بیان کئے گئے جو سراسر غیر قانونی ہیں۔ فیصل آباد اور مظفر گڑھ میں ون ونڈو آپریشن کے آغاز کیلئے پی ٹی پی نے RFQ کی خریداری کیلئے تین فرموں کی کوٹیشنز جمع کروائیں۔ یہ ٹھیکہ مسلم خان برادرز کو سب سے کم رقم 11 لاکھ روپے پر ایوارڈ کیا گیا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے الکلیم ایسوسی ایٹس اور سکائی ویو نامی دونوں فرمز محض فرضی ہیں اور یہ ٹھیکہ مسلم خان برادرز کو ہی دیا جانا مقصود تھا جو صریحاً دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے۔ جی ایف کی ملکیت دوگاڑیاں اس وقت منسٹر پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور منسٹر سپیشلائزڈ ہیلتھ کے زیر استعمال ہیں جبکہ ایک گلوبل فنڈ کی گاڑی ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل ڈاکٹر عاصم الطاف کے استعمال میں ہے، جبکہ ایک گاڑی ڈاکٹر شبنم سرفراز کے زیر استعمال ہے۔ لیکن ان کیلئے ایندھن اور Maintenance جی ایف سے وصول کیے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود رینٹ اے کار سروس بھی استعمال کی جا رہی ہے جس کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ 30 جون 2017ءکو ڈاکٹر لالہ رخ سکندر، ڈپٹی پروگرام مینجر (جس کا جی ایف سے کوئی تعلق نہیں) کوٹی بی کے حوالے سے سیمینار منعقد کرنے یا پہلے پیشگی 7940 ڈالر کی ادائیگی کی گئی۔ یہ سیمینار کبھی منعقد نہیں ہوا اور ڈاکٹر لالہ رخ نے ساڑھے چار ماہ بعد یہ رقم واپس کر دی۔ شک ہے کہ اس طرح کے فرضی سیمینار (جو کبھی منعقد نہیں ہوتے) کی آڑ میں منظور نظر اہلکاروں کی مالی مدد کی جاتی ہے۔ مختلف اضلاع میں 186 چیسٹ کیمپس کے انعقاد کیلئے ڈاکٹر سامیہ کو مندرجہ ذیل رقوم پیشگی ادا کی گئیں۔ ڈاکٹر سامیہ ہمدرد یونیورسٹی سے حکمت کی ڈگری یافتہ ہیں اور ایم بی بی ایس ڈاکٹر کی پوسٹ پر کام کر رہی ہیں۔ 29 ستمبر 35 لاکھ روپے ان کیمپس کے انعقاد کے حوالے سے دستاویزی ثبوت متعلقہ حکام کو جمع نہیں کروائے گئے۔ ڈاکٹر سامیہ خان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا موقف تھا کہ اس حوالے سے دستاویزات مسٹر محمد ناصر خان بلوچ تیار کر رہے ہیں ڈاکٹر سامیہ خان کے مطابق یہ چیسٹ کیمپس الخدمت فاونڈیشن نامی ایک خیراتی ادارے کی مدد سے منعقد کیے گئے اور جو رقم ان کو پیشگی ادا کی گئی تھی۔ وہ انہوں نے الخدمت فاونڈیشن کو ادا کر دی تھی۔ سکرینرز جولائی 2017ءسے 7 مارچ 2018ءتک پی ٹی پی پنجاب آفس میں تعینات تھے اور اصل مقام تعیناتی پر اپنے موجود نہ ہونے کی وجہ سے ان مراکز میں سکریننگ کا کام نہیں ہو رہا تھا۔ ان افراد میں سے مسٹر ذیشان احمد مرزا جو ڈی ایچ کیو جہلم میں سکرینر ہیں کو فنانس ڈیپارٹمنٹ میں، مسٹر رانا ابو القاسم سکرینر ڈی ایچ کیو گوجرانوالہ کو پی ٹی پی فنانس ڈیپارٹمنٹ اور مسٹر ناصر خان بلوچ سکرینر ڈی ایچ کیو لودھراں کو پی ٹی پی پروگرام ڈائریکٹر کے ساتھ تعینات کیا گیا ہے اور یہ صاحب جعلی بلز اور انوائسز تیار کرنے میں ملوث ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر گلوبل فنڈ کی شکایات کا ازالہ نہ کیا گیا تو وہ گلوبل فنڈ بند کر دیں گے جیسے بنگلہ دیش میں گلوبل فنڈ کی اسی طرح کی لوٹ مار کرنے پر وہاں گرانٹ بند کر دی گئی۔ گلوبل فنڈ پاکستان میں ٹی بی‘ ایڈز اور ملیریا کنٹرول پروگرام کو سپورٹ کرتا ہے۔ اگر پاکستان میں بھی گلوبل فنڈ نے گرانٹ بند کر دی تو کیا حکومت پاکستان ٹی بی کے مریضوں کا علاج کرا سکے گی؟ زبیر احمد شاد ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کا لیکچرار ہے۔ پروگرام ڈائریکٹر اس کو گلوبل فنڈ سے 2 لاکھ پچھتر ہزار روپے تنخواہ دے رہی ہے۔ زیبر احمد شاد کو محکمہ ایجوکیشن سے شوکاز نوٹس ملنے کے باوجود ٹی بی ڈاٹ پروگرام پنجاب میں مسلسل کام کر رہا ہے۔ زبیر شاد کو رواں سال 22 مارچ کو ماہورا تنخواہ 2 لاکھ 40 ہزار روپے پر ایک سال کا کنٹریکٹ دیا گیا اور 5 اپریل کو 3 ماہ کی تنخواہ اور ٹی اے/ ڈی اے بھی دیا گیا جبکہ گلوبل فنڈ نے پروفیسر زرفشاں کو اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اس کو گلوبل فنڈ کا ملازم نہ رکھا جائے اور ہڑپ شدہ رقم واپس لی جائے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ باوجود محکمہ تعلیم میں ریگولر لیکچرار ہونے کے مورخہ 26.06.2016 سے لے کر تاحال بغیر چھٹی منظور کروائے غیر حاضر کے خلاف ایکٹ PEEDA کے تحت کارروائی نجانے کیوں نہیں کی گئی؟ محکمہ تعلیم نے نہ صرف زبیر احمد شاد کو پانچ سال تک NTP میں ڈیپوٹیشن پر بھیجا اور پانچ سال کے بعد بھی اسے دو سال تک بلاتنخواہ EOL دی۔ پچھلے سال جون میں زبیر احمد شاد کو فیڈرل نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام اسلام آباد سے پنجاب کے ٹی بی کنٹرول پروگرام میں ضم کیا گیا تھا۔ ویٹنری ڈاکٹر طاہر یعقوب ٹی بی ڈاٹ پروگرام سے تین لاکھ ساٹھ ہزار کا سیلری پیکج پورا ایک سال تک لیتا رہا ہے۔ ان کی بیگم ڈاکٹر نادیہ یعقوب کی بھی UVAS کی ڈگری ہے جو تشخیصی لیبارٹری کی چیف کنسلٹنٹ کے گلوبل فنڈ سے تقریباً تین لاکھ تنخواہ لے رہی ہے۔ اس کی تعیناتی اخبار میں اشتہاردیئے بغیر کی گئی۔ ٹی بی پروگرام میں پانچ کنسلٹنٹ بھاری تنخواہوں پر رکھے گئے ہیں جن میں ایک بھی ایم بی بی ایس ڈاکٹر نہیں ہے۔ 48 سیکرینرز بھرتی کئے ہیں جو محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران کے پرائیویٹ سیکرٹری کے رشتے دار ہیں اور گھر بیٹھے ماہانہ 36 ہزار روپے تنخواہیں لے رہے ہیں اور ان کو بغیر انٹرویو اور اپلائی کیے رکھا گیا۔ اس سے بڑی کرپشن کیا ہو گی کہ جن آسامیوں کے لئے اشتہار دیا گیا اور جو کوالیفکیشن رکھی اس کے مطابق بھرتی ہی نہیں کی گئی۔ بعض بھرتیاں اشتہار دیے بغیرکسی کو صرف ایک ماہ اور کسی کو تین ماہ کے کنٹریکٹ پر لاکھوں روپے تنخواہ پر رکھا گیا۔ ٹی بی کنٹرول پروگرام میں ایڈیشنل ڈائریکٹر کی سیٹ پر ڈاکٹر محمد آصف کام کر رہے ہیں۔ ان کو گلوبل فنڈ کی ایک اہم پوسٹ پراجیکٹ مینجر کا اضافی چارج بمعہ مراعات دیا گیا ہے جبکہ وہ محکمہ بلدیات کے ملازم ہیں اور ان کو سپریم کورٹ کے 2017 کے فیصلہ کے خلاف ٹی بی کنٹرول پروگرام میں ضم کیا گیا ہے۔


متعلقہ خبریں


سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے وجود - اتوار 28 جون 2026

تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا وجود - اتوار 28 جون 2026

ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک وجود - اتوار 28 جون 2026

دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم وجود - جمعه 26 جون 2026

پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق وجود - جمعه 26 جون 2026

بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن وجود - جمعه 26 جون 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار وجود - جمعه 26 جون 2026

سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع وجود - جمعه 26 جون 2026

وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع

مضامین
شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام وجود پیر 29 جون 2026
شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام

بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود پیر 29 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

خوابوں کا مقدمہ وجود پیر 29 جون 2026
خوابوں کا مقدمہ

بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی وجود اتوار 28 جون 2026
بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی

واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟ وجود اتوار 28 جون 2026
واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر