... loading ...
سورج کی جانب سورج مکھی کی طرح رخ کیے ہوئے، ایک چھوٹا 20 واٹ کا پینل، جس کا حجم ایک چائے کی ٹرے جتنا تھا، یوسف محمد کے دو کمروں کے گھر کے احاطے میں چارپائی کے برابر رکھا ہوا تھا۔سورج کی جانب سورج مکھی کی طرح رخ کیے ہوئے، ایک چھوٹا 20 واٹ کا پینل، جس کا حجم ایک چائے کی ٹرے جتنا تھا، یوسف محمد کے دو کمروں کے گھر کے احاطے میں چارپائی کے برابر رکھا ہوا تھا۔ 2016 میں بھی گرڈ اسٹیشن سے بجلی ضلع ٹھٹھہ کے اس ماہی گیر گاؤں تک نہیں پہنچی ہے، مگر یہاں کے باسیوں نے اس کا حل نکال لیا ہے اور وہ ہے سولر پاور۔یوسف محمد وضاحت کرتے ہیں کہ اس کی لاگت انہیں تین ہزار روپے سے بھی کم پڑی تھی ‘اس پینل کے ذریعے میں دنیا کے ساتھ جڑا رہتا ہوں’۔
ڈی سی کنورٹر یا کار فون چارجر سے منسلک یہ پینل روزانہ دن میں ایک بار موبائل فون کی بیٹریاں چارج کرتا ہے، انھوں نے بتایا، ‘میں سولر پینل کو اپنے فشنگ ٹرالر میں بھی لے جاتا ہوں، یہ بالکل مفت ملنے والی بجلی ہے’۔ شمسی توانائی کی مقبولیت ملک بھر میں بتدریج بڑھ رہی ہے اور ہر شعبہ زندگی اس کو اپنا رہا ہے۔ گرڈ کی بجلی جس کا بیشتر حصہ خام تیل اور پانی کے ٹربیونز سے بنتا ہے، مہنگی ہوتی جارہی ہے یہاں تک کہ عام استعمال بھی کافی مہنگا پڑتا ہے۔
اس سے ہٹ کر ناقابل انحصار سپلائی اور مسلسل شارٹیج نے ملک میں بجلی کے بحران کو بڑھایا ہے۔ایک فری لانس ڈیٹا انٹری آپریٹر ذوالفقار شاہ کی تو تمام ڈیوائسز گرڈ بجلی نے لگ بھگ تباہ ہی کردی تھیں جو کہ وہ اپنے پروفیشنل امور کے لیے استعمال کرتے تھے،ان کا کہنا تھا ‘میں نے بار بار بجلی جانے سے اپنے آلات کو نقصان پہنچنے کے باعث شمسی توانائی کو اپنالیا’۔
وہ بتاتے ہیں ‘ میں نے چار سستے پرانے سولر پینلز خریدے جو گڈانی کی شپ بریکنگ یارڈ سے نکالے گئے تھے، میں نے ان میں دو 120 ایمپیئر کی ری سائیکل ٹرک بیٹریز کا اضافہ کیا جو کہ گارڈن کے علاقے سے خریدی تھیں، اسی طرح ریگل چوک کے قریب الیکٹرونک مارکیٹ سے میں نے ایک سستا یو پی ایس لیا، لگ بھگ 80 ہزار روپے خرچ کرنے کے بعد اب مجھے میرے کمپیوٹر کے لیے بلاتعطل بجلی ملتی ہے، شمسی توانائی کی مہربانی سے مجھے اب بار بار بجلی جانے کا خوف نہیں رہا جبکہ میری آمدنی بھی مستحکم ہوئی ہے’۔
یہاں ایسے بھی افراد ہیں جنھوں نے مکمل ہوم سسٹم نصب کروا رکھے ہیں جو سورج سے بجلی پیدا کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی زندگیاں آسان ہوگئی ہیں اور اگلے بیس سے پچیس سال تک کے لیے وہ بجلی کے بحران سے آزاد ہوگئے ہیں۔مسز اے سلیم ملتان کے ایک علاقے میں مقیم ہیں جہاں اکثر لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے، بجلی کے بار بار تعطل کے نتیجے میں گھر کی مصنوعات کو ہونے والے نقصان نے انہیں توانائی کے متبادل ذریعے کو تلاش کرنے پر مجبور کیا، انھوں نے بتایا، ‘جب ایک کے بعد ایک ہماری مصنوعات غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور وولٹیج میں کمی بیشی کے نتیجے میں خراب ہونے لگیں تو ہم نے حل تلاش کرنے کا فیصلہ کیا’۔
اس خاندان نے 5 کلو واٹ کا سولر سسٹم خریدا جس کی قیمت 8 لاکھ روپے کے لگ بھگ تھی، مگر یہ سرمایہ کاری فائدہ مند ثابت ہوئی، ‘ہمارا بجلی کا بل ڈرامائی حد تک کم ہوگیا کیونکہ اب ہم میپکو (ملتان الیکٹرک پاور کمپنی) کی بجلی کو کبھی کبھار ہی استعمال کرتے ہیں، مثال کے طور پر جب باہر بادل چھائے ہوئے ہوں اور سورج زیادہ چمک نہ رہا ہو، اس سے پہلے ہم ہر ماہ 30 ہزار روپے کا بل ادا کرتے تھے مگر اب یہ بمشکل ہی دو ہزار سے زیادہ ہوتا ہے’۔
انہوں نے بتایا ‘آج ہمارے گھر کے پنکھے، ٹیلیویڑن، فریج، فریزر، ایئرکنڈیشنر، واشنگ مشین اور واٹر پمپ مفت بجلی پر چل رہے ہیں، رات کے وقت کے لیے ہم بیٹریوں میں اکھٹی ہونے والی بجلی استعمال کرتے ہیں جو دن بھر چارج ہوتی رہتی ہیں، میرے بچوں کو آخر سکون میسر آگیا ہے اور وہ بجلی کے تعطل کے بغیر رات کو پڑھ سکتے ہیں’۔اگر متعدد صارفین کے دعوؤں پر جایا جائے، تو ایسی مصنوعات جنھیں پاور سسٹم سے بہت زیادہ بجلی درکار ہوتی ہے وہ بھی شمسی توانائی سے بغیر کسی مشکل کے کام کرتی ہیں، بیشتر افراد وضاحت کرتے ہیں کہ بیک اپ بیٹریوں کا انتخاب استعمال کے مطابق کیا جاتا ہے، مثال کے طور پر مسز اے سلیم کے گھر میں 200 ایمپیئر فی کس والی بارہ ٹرک بیٹریوں کی ضرورت پڑی جو کہ ان کی توانائی ضروریات پوری کرتی ہیں۔
سولر پینلز کو زیادہ جگہ درکار نہیں ہوتی اور انہیں چھت پر نصب کیا جاسکتا ہے، آج کل متعدد گھروں میں ان پینلز کو دیکھا جاسکتا ہے اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔
کراچی میں ریگل چوک کے قریب واقع الیکٹرونکس مارکیٹ کی ہر دوسری دکان میں سولر پینلز فروخت کیے جارہے ہیں، اگرچہ تین طرح کے سولر پینلز دنیا بھر میں استعمال ہوتے ہیں، سنگل کرسٹل سیلیکون پینلز یا مونو کرسٹلائن پولی سیلیکون پینلز یا پولی کرسٹلائن اور ٹی ایف ٹی پینلز، مگر دکانداروں کا کہنا ہے کہ صارفین اکثر سنگل کرسٹل سیلیکون یا پولی سیلیکون پینلز کا انتخاب کرتے ہیں، طلب کی وجہ سے مارکیٹ میں ان کی بھرمار ہے۔
اگر دونوں کی فروخت کا موازنہ کیا جائے تو سنگل کرسٹل سیلیکون پینیلز زیادہ فروخت ہوتے ہیں کیونکہ وہ ابر آلود موسم میں بھی کام کرتے ہیں، جبکہ پولی سیلیکون پینلز کو سورج کی زیادہ روشنی درکار ہوتی ہے، یہ اگرچہ سستے ہوتے ہیں مگر آج کل بیشتر افراد ابر آلود موسم میں کام کرنے والے پینلز کا انتخاب کررہے ہیں۔الیکٹرونکس مارکیٹ کی ایک دکان کورین الیکٹرونکس کے محمد افسر علی کے مطابق ‘دونوں قسم کے پینلز کے درمیان کچھ ایسا ہی ہے جیسے ایک فور اسٹروک انجن اور ایک ٹو اسٹروک انجن کے درمیان، فور اسٹروک انجن کی پک اپ اچھی ہوتی ہے مگر گرم ہونے کے بعد کارکردگی ختم ہوجاتی ہے، دوسری جانب ٹو اسٹروک انجن گرم ہونے کے بعد زیادہ اچھا چلتا ہے، سنگل کرسٹل سیلیکون پینلز کو فور اسٹروک انجن کہا جاسکتا ہے جبکہ پولی سیلیکون پینلز ٹو اسٹروک انجن سمجھے جاسکتے ہیں’۔
کونسا سسٹم زیادہ بہتر رہے گا، اس کے تعین کے لیے صارفین کے پاس ایک اور طریقہ کار بھی ہے، ان میں سب سے مقبول قسم ہائیبرڈ سسٹم ہے، جو کہ گرڈ سے یا ونڈ ٹربیون سے بھی منسلک ہوجاتا ہے اور رات کو بھی بیٹریوں کو چارج رکھتا ہے۔
جہاں تک ونڈ ٹربیون کی بات ہے تو افسر علی وضاحت کرتے ہیں کہ اس طرح کا پاور سسٹم پاکستان میں زیادہ کامیاب نہیں ہوسکا کیونکہ اس کے لیے کم از کم 12 ناٹیکل میل کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کی ضرورت ہوتی ہے، ‘ہوا میں نمی اور مٹی ونڈ سسٹم کو زنگ آلود اور ناکارہ بنا دیتے ہیں، اس کے مقابلے میں سولر پینلز زیادہ موثر ہیں’مارکیٹ کے بیشتر دکانداروں نے ایک گھر میں ایک سولر سسٹم کی لاگت کے فارمولے کی وضاحت کی، ان کے تخمینے کا آغاز چالیس روپے کی ایک بیٹری سے ہوتا ہے، جس کو واٹس اور گھنٹوں سے ضرب دی جاتی ہے۔
مثال کے طور پر اگر آپ کو چوبیس گھنٹوں کے لیے ایک ہزار ووٹ کی ضرورت ہے تو اس فارمولے کے مطابق 40x1000wattsx24 hours کا اطلاق ہوگا۔
یہ لگ بھگ 9 لاکھ 60 ہزار روپے بنتے ہیں اور عام طور پر ان میں نصب کرنے کے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔تاہم افسر علی کے مطابق ‘اس لاگت میں کمی لائی جاسکتی ہے اگر آپ مقامی بیٹریاں استعمال کریں، جو کہ 40 روپے کے فارمولے کو 25 روپے تک لے جاتی ہیں، جسے ایک ہزار واٹ اور پھر 24 سے ضرب دی جاتی ہے، اس طرح لاگت چھ لاکھ روپے ہوجاتی ہے’۔
انہوں نے مزید بتایا، ‘اسی طرح اگر آپ چوبیس گھنٹے سولر پاور استعمال نہیں کرنا چاہتے بلکہ صرف لوڈ شیڈنگ کے دوران استعمال کرتے ہیں تو آپ کو گھنٹوں کو کم کرنا ہوگا، جیسے چھ گھنٹے، پھر یہ فارمولہ کچھ اس طرح ہوگا 25x1000x6 جو کہ ڈیڑھ لاکھ بنتا ہے، آج کل بیشتر افراد اس آپشن کو ترجیح دیتے ہیں’۔پاکستان میں سورج کی تپش بہت زیادہ ہوتی ہے اور ماہرین زور دے کر کہتے ہیں کہ پاکستان میں سورج کی ریڈی ایشن اور درجہ حرارت کا موازنہ جرمنی سے کیا جائے تو پاکستان میں سولر پینلز سے 33 فیصد زیادہ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، اس حوالے سے یہ امر قابل ذکر ہے کہ جرمنی نے رواں سال مئی میں اس ذریعے سے 45.5 گیگا واٹس بجلی پیدا کی تھی، جبکہ ملک کی مجموعی طلب 45.8 گیگا واٹ ہے۔
اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...
پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...
موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...
عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...
ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...
آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...
بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...
نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...
پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...
55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...
ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...
سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...