وجود

... loading ...

وجود

استقبال کتب

اتوار 20 مئی 2018 استقبال کتب

نور سے نور تک (کلیاتِ حمد و نعت)
نام کتاب:نور سے نور تک
موضوع:حمد و نعت
کلام:شاعر علی شاعر
کمپوزنگ:رنگِ ادب کمپوزنگ سینٹر
ضخامت:816 صفحات
ناشر: راحیل پبلی کیشنز، اردو بازار، کراچی
قیمت:750 روپے
مبصر:مجید فکری
اس وقت میرے ہاتھوں میں جناب شاعر علی شاعرؔ کی ایک ضخیم کتاب ’’کلیاتِ حمد و نعت‘‘ موجود ہے، جس کا عنوان ’’نور سے نور تک‘‘ ہے۔ اس کتاب کے سرورق کو دیکھتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں خانہ خدا کے طواف میں موجود ہوں اور اسی کے ساتھ گنبدِ خضرا بھی نظر آتا ہے جو مجھے مدینہ کی طرف کھینچتا ہے۔

میرے محسوسات کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ دل و روح کو ایسی فرحت اور آنکھوں کو ایسی تراوٹ محسوس ہورہی ہے کہ میرا دل خوشی و مسرت سے لبریز ہے اور زبان اللھم لبیک اللھم لبیک کے کلمات کا ورد کرنے لگی ہے۔

یہ اللہ کی توفیق کی بات ہے کہ وہ جس سے چاہے جو کام کم سے کم وقت میں لے سکتا ہے۔ جب اللہ کا حکم ہوا تو شاعر علی شاعر بھی اُس کا حکم بجالائے اور یہ کلیاتِ حمد و نعت منصہ شہود پر لے آئے۔ اب یہ ان کے حوصلے اور شوق کی بات ہے کہ ایک قلیل وقت میں اسے تکمیل کے مراحل تک پہنچادیا اور یہ بھی ان کی خوش نصیبی کی بات ہے کہ ایک اشاعتی ادارہ ان کے زیر اثر ہے جس کے ذریعے وہ جب چاہیں اپنے کسی بھی اشاعتی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔میں اگر یہ کہوں کہ یہ مجموعۂ حمد اگر لا الٰہ الا اللہ کا عکس ہے تو نعت محمد الرسول اللہ کا ورد ہے۔

پیش نظر کلیات 816 صفحات کی ضخامت کے ساتھ منصہ شہود پر موجود ہے۔ کتاب کا انتساب نامو رشاعر معروف اسکالر و کیمیا داں محترم سعید الظفر صدیقی کے نام ہے جبکہ وضاحت طلب نکات کو خود شاعر موصوف نے اس دعا کے ساتھ پیش کیا ہے کہ:

’’اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ وہ میرے اس کلیاتِ شعری دینی ادب، ’’نور سے نور تک‘‘ کو اپنی بارگاہِ اقدس میں شرفِ قبولیت کی سند عطا فرمائے اور میری والہانہ عقیدت کو میرے لئے سامانِ بخشش اور ذریعۂ مغفرت عطا فرمائے۔‘‘

پیش نظر کلیاتِ حمد و نعت میں ’’محامد‘‘ کے عنوان سے 100 سے زائد حمدیں اور تقریباً اتنی ہی یا کچھ او رزیادہ نعتیں شامل ہیں۔
جبکہ چاروں خلفائے راشدین کے لئے منقبتیں اور شہدائے کربلا کے حضور نذرانۂ عقیدت و نذرانۂ سلام اس کے علاوہ بھی حضرت امام ابو حنیفہؒ، غو ث الاعظم، حضرت داتا علی ہجویری، حضرت معین الدین چشتی اجمیری و دیگر اکابرین اسلام مثلاً شاہ احمد نورانی، مولانا الیاس قادری، محمد مشتاق عطاری جیسی نامور شخصیات کو ان کی مساعیٔ جلیلہ اور خدمات اسلام میں ان کی جہد ِ مسلسل کو سراہا گیا ہے۔

پیش نظر کلیات کے مطالعہ کے دوران ہی میری نظر عشرت رومانی کے ایک مضمون پر پڑی۔ انہوں نے لکھا کہ ’’شاعر علی شاعر نے اپنے فکری تسلسل اور جدت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے 66 اعداد کے مطابق 66 حمدیں 99 صفاتی ناموں کی مناسبت سے 99 حمدیہ ہائیکو پیش کرکے اپنی قادر الکلامی کا ثبوت دیا ہے۔‘‘
٭ ٭
اُردو میں نعتیہ صحافت (ایک جائزہ)
نام کتاب:اُردو میں نعتیہ صحافت (ایک جائزہ)
مصنف:ڈاکٹر شہزاد احمد
صفحات:176 صفحات
قیمت:400 روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
مبصر: مجید فکری
پاکستان بالخصوص کراچی کے حوالے سے ہی بات کروں تو تنقید نعت کے موضوع پر نعت ریسرچ سینٹر یا اقلم نعت کا ادارہ جو صبیح الدین رحمانی کی نگرانی میں چل رہا ہے بڑی اہم خدمات انجام دے رہا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر شہزاد احمد بھی حمد و نعت ریسرچ فائونڈیشن کے تحت ایسے ہی مختلف کام انجام دے رہے ہیں جبکہ رنگ ادب پبلی کیشنز کے زیر اہتمام بھی بیشتر کتب نعتیہ ادب کے حوالے سے خاص اہتمام اور احترام کے شائع ساتھ ہورہی ہیں۔

پیش نظر کتاب بھی رنگ ادب پبلی کیشنز کے زیر اہتمام شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کو ڈاکٹر شہزاد احمد نے اردو میں نعتیہ صحافت کا موضوع دے کر بڑی تحقیق و جستجو کے ساتھ تحریر کیا ہے۔

صحافتی نقطہ نگاہ سے یہ موضوع اہم اور نیا بھی ہے مگر اس موضوع پر زیادہ تر ادبی مواد دیکھنے میں نہیں آیا ۔یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر شہزاد احمد نے یہ موضوع منتخب کرکے نعت کی اہمیت، اس کی اشاعت اور خاص کر مقبولیت میں اضافہ کی بھرپور کوشش کی ہے جو ایک خوش آئند فریضہ بھی کہاجاسکتا ہے۔

کتاب کے ابتدا ہی میں مصنف نے اس کا ایک تفصیلی اور تحقیقی جائزہ پیش کیا ہے کتاب 176 صفحات پر مشتمل ہے او رزیر بحث موضوع پرفاضل مصنف نے اردو نعتیہ صحافت کے حوالہ سے بڑی تحقیق و جستجو کے ساتھ اس عنوان پر مذکورہ کتاب کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا ہے اوراس موضوع سے متعلق تمام مندرجات اورتفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔ ویسے بھی کتاب کے مندرجات پر جو فہرست میں موجود ہیں ان سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ کتاب میں کیا کچھ موجود ہے۔

میں یہاں مختصراً صحافتی نقطہ نگاہ سے نعتیہ ادب میں جو ادارے نشر و اشاعت کا کام سرانجام دے رہے ہیں ان کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دُعا گو ہوں کہ یہ کام احسن طریقہ پر ہوتا رہے۔
٭ ٭ ‎
شہرِ مدحت
نام کتاب:شہرِ مدحت
موضوع:حمدیں، نعتیں، مناقب، نعتیہ قصائد
شاعر:ڈاکٹرشوکت اللہ خاں جوہرؔ
صفحات:160 صفحات
قیمت:400 روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
مبصر:مجید فکری
پیش نظر کتاب پروفیسر ڈاکٹر شوکت اللہ خاں جوہرؔ کی تصنیف ہے جو حمد، نعت، مناقب وقصائد ِ نعت پر مبنی ہے۔اس کتاب کو رنگِ ادب پبلی کیشنز نے بڑے اہتمام سے شائع کیا ہے۔ کتاب کا گیٹ اپ تزئین و آرائش اور سرورق پر روضۂ رسولؐ کا پُر رونق گنبد خضراء کا نظارہ جگمگاتے ستاروں کے جھرمٹ میں ایک روح پرور سا منظر پیش کررہا ہے۔

اس کتاب میں حمد، نعت اور مناقب کے علاوہ نعتیہ قصائد کی تعداد زیادہ ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اب قصائد لکھنے کا سلسلہ خال خال ہی دیکھنے میں آتاہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قصیدہ لکھنا ایک مشکل کام ہے اور شعراء قصیدہ لکھتے ہوئے گھبراتے ہیں اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ قصیدہ لکھنا ہر شاعر کے بس کی بات نہیںکیونکہ قصیدہ لکھنے والا بڑا قادر الکلام او رکہنہ مشق شاعر گردانا جاتا ہے۔

ڈاکٹر شوکت اللہ خاں جوہرؔ نے جہاں پیشِ نظر کتاب ’’شہرِ مدحت‘‘ میں حمد و نعت اور مناقب کو اپنی شاعری کا محور و منبع بنایا ہے وہیں قصائد کو اپنی کتاب میں ضروری سمجھا اور انہیں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے منسوب کیا ہے۔ ایک اور خصوصیت ان قصائد کی یہ بھی ہے کہ یہ حضور ؐ کی 63 سالہ عمر کی نسبت سے 63 اشعار ہی پیش کئے گئے ہیں۔

پیش نظر کتاب کا انتساب جدید شاعر و نقاد جناب فراست رضوی کے نام کیا گیا ہے جبکہ ایک خاص مضمون اس کتاب میں معروف شاعر جناب شاعر علی شاعرؔ کا بھی شامل ہے جس میں انہوں نے ڈاکٹر شوکت اللہ خاں جوہرؔ کو عہدِ حاضر کا نمائندہ قصیدہ گو شاعر کے خطاب سے بھی نوازا ہے۔
٭ ٭
100مشہور نعتیں
نام کتاب:100 مشہور نعتیں
مرتب:یوسف راہی چاٹگامی
صفحات:192 صفحات
قیمت:100 روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
مبصر: مجید فکری
پیش نظرکتاب یوسف راہیؔ چاٹگامی نے مرتب کی ہے۔او ر100 مشہور ِ زمانہ نعتوں کا نذرانہ پیش کیا ہے کتاب چھوٹے سائز میں رسول پاکؐ کے روضہ کی عمارت پر سجے مشہور خضرا کے گنبد کی تصویر کے ساتھ قابلِ دید منظر پیش کررہی ہے۔ جبکہ اس کتاب کا انتساب عہدِ حاضر کے قصیدہ گو شاعر پروفیسر ڈاکٹر شوکت اللہ خاں جوہرؔ کے نام ہے۔

جناب یوسف راہی چاٹگامی سرگرم عمل ہیں اور 100 نعتوں کا اہم مجموعہ ترتیب دے چکے ہیں۔ اس مجموعۂ نعت میں جن شعراء کرام کی تخلیق کردہ نعتیں منتخب کرکے شائع کی گئی ہیں وہ کوئی عام شاعر نہیں برصغیر پاک و ہند کی ممتاز اور مذہبی شخصیات کا درجہ رکھتی ہیں۔ میں یہاں صرف چند شعراء کرام کا نام درج کرنا چاہتا ہوں جن کے کلامِ بلاغت نظام کو ا س کتاب میں جگہ دی گئی ہے۔

سب سے پہلا نام مذہبی اور مشہو ر عالم دین امام اہلسنت کا ہے جن کی نعت بھی اس کتاب میں صف اول پر موجود ہے دیگراہم شعراء میں شاہنامۂ اسلام کے خالق حفیظ جالندھری، مولانا عبدالستار خاں نیازی، بہزاد لکھنوی، ادیب رائے پوری، اقبال عظیم، منور بدایونی، سیماب اکبر آبادی، سید ہاشم رضا، محمد الیاس قادری، وقار صدیقی، شکیل بدایونی، صبیح رحمانی، ساغر صدیقی، راز مرادآبادی، مسرور کیفی، مولانا حسن رضا، ریاض سہروردی، خالد محمود چشتی، مولانا قاسم جہانگیری، صائم چشتی، بیکل اتساہی، ریاض ندیم نیازی، عزیز الدین خاکی رنگ ادب کے نگران اشاعت شاعر علی شاعر اور اس کتاب کے مرتب کی بھی دو نعتیں شاملِ کتاب ہیں۔اس کے علاوہ بھی کچھ شعراء کرام کے نام او رکلام کو شاملِ اشاعت کیا گیا ہے ۔ مضمون کی طوالت کے سبب فی الحال ان کا نام لکھنے سے رہ گیا ہے اُمید ہے اسے میری معمولی کوتاہی سمجھ کر نظر انداز کردیا جائے گا۔


متعلقہ خبریں


نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع وجود - اتوار 25 جنوری 2026

پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن وجود - هفته 24 جنوری 2026

بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مضامین
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟ وجود اتوار 25 جنوری 2026
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں! وجود اتوار 25 جنوری 2026
بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا وجود اتوار 25 جنوری 2026
ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا

بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس وجود اتوار 25 جنوری 2026
بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس

ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب وجود هفته 24 جنوری 2026
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر