... loading ...
نور سے نور تک (کلیاتِ حمد و نعت)
نام کتاب:نور سے نور تک
موضوع:حمد و نعت
کلام:شاعر علی شاعر
کمپوزنگ:رنگِ ادب کمپوزنگ سینٹر
ضخامت:816 صفحات
ناشر: راحیل پبلی کیشنز، اردو بازار، کراچی
قیمت:750 روپے
مبصر:مجید فکری
اس وقت میرے ہاتھوں میں جناب شاعر علی شاعرؔ کی ایک ضخیم کتاب ’’کلیاتِ حمد و نعت‘‘ موجود ہے، جس کا عنوان ’’نور سے نور تک‘‘ ہے۔ اس کتاب کے سرورق کو دیکھتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں خانہ خدا کے طواف میں موجود ہوں اور اسی کے ساتھ گنبدِ خضرا بھی نظر آتا ہے جو مجھے مدینہ کی طرف کھینچتا ہے۔
میرے محسوسات کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ دل و روح کو ایسی فرحت اور آنکھوں کو ایسی تراوٹ محسوس ہورہی ہے کہ میرا دل خوشی و مسرت سے لبریز ہے اور زبان اللھم لبیک اللھم لبیک کے کلمات کا ورد کرنے لگی ہے۔
یہ اللہ کی توفیق کی بات ہے کہ وہ جس سے چاہے جو کام کم سے کم وقت میں لے سکتا ہے۔ جب اللہ کا حکم ہوا تو شاعر علی شاعر بھی اُس کا حکم بجالائے اور یہ کلیاتِ حمد و نعت منصہ شہود پر لے آئے۔ اب یہ ان کے حوصلے اور شوق کی بات ہے کہ ایک قلیل وقت میں اسے تکمیل کے مراحل تک پہنچادیا اور یہ بھی ان کی خوش نصیبی کی بات ہے کہ ایک اشاعتی ادارہ ان کے زیر اثر ہے جس کے ذریعے وہ جب چاہیں اپنے کسی بھی اشاعتی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔میں اگر یہ کہوں کہ یہ مجموعۂ حمد اگر لا الٰہ الا اللہ کا عکس ہے تو نعت محمد الرسول اللہ کا ورد ہے۔
پیش نظر کلیات 816 صفحات کی ضخامت کے ساتھ منصہ شہود پر موجود ہے۔ کتاب کا انتساب نامو رشاعر معروف اسکالر و کیمیا داں محترم سعید الظفر صدیقی کے نام ہے جبکہ وضاحت طلب نکات کو خود شاعر موصوف نے اس دعا کے ساتھ پیش کیا ہے کہ:
’’اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ وہ میرے اس کلیاتِ شعری دینی ادب، ’’نور سے نور تک‘‘ کو اپنی بارگاہِ اقدس میں شرفِ قبولیت کی سند عطا فرمائے اور میری والہانہ عقیدت کو میرے لئے سامانِ بخشش اور ذریعۂ مغفرت عطا فرمائے۔‘‘
پیش نظر کلیاتِ حمد و نعت میں ’’محامد‘‘ کے عنوان سے 100 سے زائد حمدیں اور تقریباً اتنی ہی یا کچھ او رزیادہ نعتیں شامل ہیں۔
جبکہ چاروں خلفائے راشدین کے لئے منقبتیں اور شہدائے کربلا کے حضور نذرانۂ عقیدت و نذرانۂ سلام اس کے علاوہ بھی حضرت امام ابو حنیفہؒ، غو ث الاعظم، حضرت داتا علی ہجویری، حضرت معین الدین چشتی اجمیری و دیگر اکابرین اسلام مثلاً شاہ احمد نورانی، مولانا الیاس قادری، محمد مشتاق عطاری جیسی نامور شخصیات کو ان کی مساعیٔ جلیلہ اور خدمات اسلام میں ان کی جہد ِ مسلسل کو سراہا گیا ہے۔
پیش نظر کلیات کے مطالعہ کے دوران ہی میری نظر عشرت رومانی کے ایک مضمون پر پڑی۔ انہوں نے لکھا کہ ’’شاعر علی شاعر نے اپنے فکری تسلسل اور جدت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے 66 اعداد کے مطابق 66 حمدیں 99 صفاتی ناموں کی مناسبت سے 99 حمدیہ ہائیکو پیش کرکے اپنی قادر الکلامی کا ثبوت دیا ہے۔‘‘
٭ ٭
اُردو میں نعتیہ صحافت (ایک جائزہ)
نام کتاب:اُردو میں نعتیہ صحافت (ایک جائزہ)
مصنف:ڈاکٹر شہزاد احمد
صفحات:176 صفحات
قیمت:400 روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
مبصر: مجید فکری
پاکستان بالخصوص کراچی کے حوالے سے ہی بات کروں تو تنقید نعت کے موضوع پر نعت ریسرچ سینٹر یا اقلم نعت کا ادارہ جو صبیح الدین رحمانی کی نگرانی میں چل رہا ہے بڑی اہم خدمات انجام دے رہا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر شہزاد احمد بھی حمد و نعت ریسرچ فائونڈیشن کے تحت ایسے ہی مختلف کام انجام دے رہے ہیں جبکہ رنگ ادب پبلی کیشنز کے زیر اہتمام بھی بیشتر کتب نعتیہ ادب کے حوالے سے خاص اہتمام اور احترام کے شائع ساتھ ہورہی ہیں۔
پیش نظر کتاب بھی رنگ ادب پبلی کیشنز کے زیر اہتمام شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کو ڈاکٹر شہزاد احمد نے اردو میں نعتیہ صحافت کا موضوع دے کر بڑی تحقیق و جستجو کے ساتھ تحریر کیا ہے۔
صحافتی نقطہ نگاہ سے یہ موضوع اہم اور نیا بھی ہے مگر اس موضوع پر زیادہ تر ادبی مواد دیکھنے میں نہیں آیا ۔یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر شہزاد احمد نے یہ موضوع منتخب کرکے نعت کی اہمیت، اس کی اشاعت اور خاص کر مقبولیت میں اضافہ کی بھرپور کوشش کی ہے جو ایک خوش آئند فریضہ بھی کہاجاسکتا ہے۔
کتاب کے ابتدا ہی میں مصنف نے اس کا ایک تفصیلی اور تحقیقی جائزہ پیش کیا ہے کتاب 176 صفحات پر مشتمل ہے او رزیر بحث موضوع پرفاضل مصنف نے اردو نعتیہ صحافت کے حوالہ سے بڑی تحقیق و جستجو کے ساتھ اس عنوان پر مذکورہ کتاب کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا ہے اوراس موضوع سے متعلق تمام مندرجات اورتفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔ ویسے بھی کتاب کے مندرجات پر جو فہرست میں موجود ہیں ان سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ کتاب میں کیا کچھ موجود ہے۔
میں یہاں مختصراً صحافتی نقطہ نگاہ سے نعتیہ ادب میں جو ادارے نشر و اشاعت کا کام سرانجام دے رہے ہیں ان کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دُعا گو ہوں کہ یہ کام احسن طریقہ پر ہوتا رہے۔
٭ ٭
شہرِ مدحت
نام کتاب:شہرِ مدحت
موضوع:حمدیں، نعتیں، مناقب، نعتیہ قصائد
شاعر:ڈاکٹرشوکت اللہ خاں جوہرؔ
صفحات:160 صفحات
قیمت:400 روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
مبصر:مجید فکری
پیش نظر کتاب پروفیسر ڈاکٹر شوکت اللہ خاں جوہرؔ کی تصنیف ہے جو حمد، نعت، مناقب وقصائد ِ نعت پر مبنی ہے۔اس کتاب کو رنگِ ادب پبلی کیشنز نے بڑے اہتمام سے شائع کیا ہے۔ کتاب کا گیٹ اپ تزئین و آرائش اور سرورق پر روضۂ رسولؐ کا پُر رونق گنبد خضراء کا نظارہ جگمگاتے ستاروں کے جھرمٹ میں ایک روح پرور سا منظر پیش کررہا ہے۔
اس کتاب میں حمد، نعت اور مناقب کے علاوہ نعتیہ قصائد کی تعداد زیادہ ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اب قصائد لکھنے کا سلسلہ خال خال ہی دیکھنے میں آتاہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قصیدہ لکھنا ایک مشکل کام ہے اور شعراء قصیدہ لکھتے ہوئے گھبراتے ہیں اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ قصیدہ لکھنا ہر شاعر کے بس کی بات نہیںکیونکہ قصیدہ لکھنے والا بڑا قادر الکلام او رکہنہ مشق شاعر گردانا جاتا ہے۔
ڈاکٹر شوکت اللہ خاں جوہرؔ نے جہاں پیشِ نظر کتاب ’’شہرِ مدحت‘‘ میں حمد و نعت اور مناقب کو اپنی شاعری کا محور و منبع بنایا ہے وہیں قصائد کو اپنی کتاب میں ضروری سمجھا اور انہیں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے منسوب کیا ہے۔ ایک اور خصوصیت ان قصائد کی یہ بھی ہے کہ یہ حضور ؐ کی 63 سالہ عمر کی نسبت سے 63 اشعار ہی پیش کئے گئے ہیں۔
پیش نظر کتاب کا انتساب جدید شاعر و نقاد جناب فراست رضوی کے نام کیا گیا ہے جبکہ ایک خاص مضمون اس کتاب میں معروف شاعر جناب شاعر علی شاعرؔ کا بھی شامل ہے جس میں انہوں نے ڈاکٹر شوکت اللہ خاں جوہرؔ کو عہدِ حاضر کا نمائندہ قصیدہ گو شاعر کے خطاب سے بھی نوازا ہے۔
٭ ٭
100مشہور نعتیں
نام کتاب:100 مشہور نعتیں
مرتب:یوسف راہی چاٹگامی
صفحات:192 صفحات
قیمت:100 روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
مبصر: مجید فکری
پیش نظرکتاب یوسف راہیؔ چاٹگامی نے مرتب کی ہے۔او ر100 مشہور ِ زمانہ نعتوں کا نذرانہ پیش کیا ہے کتاب چھوٹے سائز میں رسول پاکؐ کے روضہ کی عمارت پر سجے مشہور خضرا کے گنبد کی تصویر کے ساتھ قابلِ دید منظر پیش کررہی ہے۔ جبکہ اس کتاب کا انتساب عہدِ حاضر کے قصیدہ گو شاعر پروفیسر ڈاکٹر شوکت اللہ خاں جوہرؔ کے نام ہے۔
جناب یوسف راہی چاٹگامی سرگرم عمل ہیں اور 100 نعتوں کا اہم مجموعہ ترتیب دے چکے ہیں۔ اس مجموعۂ نعت میں جن شعراء کرام کی تخلیق کردہ نعتیں منتخب کرکے شائع کی گئی ہیں وہ کوئی عام شاعر نہیں برصغیر پاک و ہند کی ممتاز اور مذہبی شخصیات کا درجہ رکھتی ہیں۔ میں یہاں صرف چند شعراء کرام کا نام درج کرنا چاہتا ہوں جن کے کلامِ بلاغت نظام کو ا س کتاب میں جگہ دی گئی ہے۔
سب سے پہلا نام مذہبی اور مشہو ر عالم دین امام اہلسنت کا ہے جن کی نعت بھی اس کتاب میں صف اول پر موجود ہے دیگراہم شعراء میں شاہنامۂ اسلام کے خالق حفیظ جالندھری، مولانا عبدالستار خاں نیازی، بہزاد لکھنوی، ادیب رائے پوری، اقبال عظیم، منور بدایونی، سیماب اکبر آبادی، سید ہاشم رضا، محمد الیاس قادری، وقار صدیقی، شکیل بدایونی، صبیح رحمانی، ساغر صدیقی، راز مرادآبادی، مسرور کیفی، مولانا حسن رضا، ریاض سہروردی، خالد محمود چشتی، مولانا قاسم جہانگیری، صائم چشتی، بیکل اتساہی، ریاض ندیم نیازی، عزیز الدین خاکی رنگ ادب کے نگران اشاعت شاعر علی شاعر اور اس کتاب کے مرتب کی بھی دو نعتیں شاملِ کتاب ہیں۔اس کے علاوہ بھی کچھ شعراء کرام کے نام او رکلام کو شاملِ اشاعت کیا گیا ہے ۔ مضمون کی طوالت کے سبب فی الحال ان کا نام لکھنے سے رہ گیا ہے اُمید ہے اسے میری معمولی کوتاہی سمجھ کر نظر انداز کردیا جائے گا۔
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...
خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...
طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...
تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...
حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...
گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...
یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...
ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...
اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...
سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...
جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...