... loading ...
زندگی میں ایسے افراد سے واسطہ پڑتارہتا ہے جو ساز باز اور جوڑ توڑ کے عادی ہوتے ہیں۔ وہ اپنے مقاصد جن میں طاقت، اختیار، کنٹرول ، سرمایہ یا مراعات کا حصول شامل ہیں، دوسروں کے ذہنوں اور جذبات سے کھیلتے رہتے ہیں۔ موجودہ دور میں مسابقت بہت زیادہ ہے۔ ایک دوسرے سے ا?گے نکلنے کی دوڑ جاری ہے۔ تاہم جوڑ توڑ اور ساز باز کرنے والوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ سبقت لینے کے لیے وہ زیادہ تر منفی طریقے ا?زماتے ہیں۔ کامیاب سازشی وقت کے ساتھ اس کام میں خاصے ماہر ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس سے دوسرے کا نقصان چاہے ہو جائے لیکن انہیں فائدہ پہنچے گا۔ ساز باز سے ملنے والی ابتدائی کامیابیاں ان کے رویے کو پختہ بنا دیتی ہیں۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ دوسروں کے ذہنوں کو متاثر کرنے اور اپنا مفاد پانے کے لیے وہ کون سے طریقے آزماتے ہیں۔ ذیل میں جو طریقے بیان کیے گئے ہیں ان میں سے کبھی ایک دو اور کبھی بیشتر آزمائے جاتے ہیں۔ ساز باز کرنے والے اپنے ہدف کو احساس کمتری میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ وہ انہیں باورکراتے ہیں ا?پ تو ہیں ہی نالائق!یوں دوسرا اپنی ذات کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اگر کسی فرد کے بارے میں مسلسل منفی رائے دی جائے اور اس پر تنقید کی جائے اور وہ بھی سرعام، تو وہ شرمندہ ہو گا یا بے عزتی محسوس کرے گا۔ دوسرے کی مذاق میں بھی تذلیل کی جاتی ہے اور اس کے دوستوں یا ملنے جلنے والوں کی نظروں میں بھی اسے گرایا جاتا ہے۔ ایسے اشارے بھی دیے جاتے ہیں جن سے وہ غیر محفوظ محسوس کرے۔ مثال کے طور پر ملازمت کے بارے میں عدم تحفظ کا احساس دلانا۔ ساز باز کا ’’فن‘‘ صرف یہاں تک محدود نہیں، یہ خاصا وسیع ہے۔ دوسرے کے جذبات سے ’’مثبت‘‘ انداز میں بھی کھیلا جاتا ہے تاکہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے اس سے رشتہ قائم کیا جا سکے۔ مثال کے طور پر اس کی انا کو بہت زیادہ تکریم دے کر تسکین پہنچائی جاتی ہے۔ جھوٹی موٹی تعریفیں کی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ فلرٹ کیا جاتا ہے۔ یا پھر کسی کام میں مدد کرنے کی آفر کی جاتی ہے۔ چہرے سے اچھے اچھے جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے، مثلاً مسکراہٹ کے ساتھ ملنا، گرم جوشی سے ہاتھ ملانا وغیرہ۔
ایک طریقہ ہدف بنائے گئے فرد کے بارے میں دوسروں کے ادراک پر اثر انداز ہونا ہے تاکہ اس پر کنٹرول پایا جا سکتے۔ اس مقصد کے لیے اس کے بارے میں سفید جھوٹ بولا جاتا ہے یا سچ میں جھوٹ کی ملاوٹ کر دی جاتی ہے۔ کبھی کم اہم باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر دیا جاتا ہے اور کبھی اہم باتوں کو گھٹا کر سامنے لایا جاتا ہے۔ یعنی حقائق بیان کرنے یا رائے دینے میں تعصب کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ ساز باز کرنے والوں کے کچھ گْر تھوڑے مشق طلب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اپنی ’’دکھ بھری‘‘داستانیں سنا کر ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ صورت حال کو ڈرامائی رنگ دے دینا جس سے دوسرا متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اس کام کے لیے چرب زبانی اور اداکاری معاون ثابت ہوتے ہیں۔ مگر کچھ افراد سیدھا سیدھا اپنے مقام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جارحیت کرتے ہیں۔ ان میں ذہنی دباو? میں مبتلا کر نا، غصہ ظاہر کرنا، مالی نقصان پہنچانا یا سخت قواعد و ضوابط کا پابند کرنا شامل ہے۔ دنیا میں ساز باز کرنے والے ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتے۔ کئی بار انہیں منہ کی بھی کھانی پڑتی ہے اور وہ اپنے دام میں خود ہی آ جاتے ہیں۔
اس کی بہت سی وجوہ ہیں۔ مثال کے طور پر ان کی گفتگو اور تعلقات میں جب دوغلا پن دکھائی دینے لگتا ہے تو لوگ چوکنا ہو جاتے ہیں اور ان کے خلاف اپنے گرد ایک حصار سا بنا لیتے ہیں۔ وہ ان کے بارے میں محتاط رہنے لگتے ہیں۔اس پر کم اعتماد کیا جانے لگتا ہے اور اس کی ساکھ خراب ہو جاتی ہے۔ اردگرد کے افراد اس سے کم دوستیاں بناتے ہیں اور انہیں صحت مندانہ تعلقات استوار کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اس طرح وہ معاشرے سے کٹے رہتے ہیں اور ذہنی و جذباتی دبائو کا وقتاً فوقتاً شکار ہوتے رہتے ہیں۔ ان میں احساس ندامت بھی جنم لیتا رہتا ہے کیونکہ ہر شے چھپی نہیں رہ پاتی اور ساز باز سامنے ا?ہی جاتے ہیں جس پر انہیں ملامت بھی کی جاتی ہے۔ ساز باز کرنے والے افراد میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے۔ لیکن اس کے لیے انہیں قوت ارادی، فیصلے اور معاونت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر وہ ارادہ کر لیں تو انہیں اپنی ذات میں پائے جانے والی اخلاقی بحران اور ضمیر کی خلش سے نجات مل سکتی ہے۔
پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...
ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...
جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...
میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...
آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...
بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...
لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...
وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...
بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...
محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...