وجود

... loading ...

وجود

بلوچستان میں تسلسل سے ٹارگٹ کلنگ اوردہشت گردی

بدھ 09 مئی 2018 بلوچستان میں تسلسل سے ٹارگٹ کلنگ اوردہشت گردی

بلوچستان کے علاقے خاران میں شرپسندوں نے نجی موبائل فون کمپنی کے ٹاور پر کام کرنیوالے دو بھائیوں سمیت اوکاڑہ کے چھ مزدوروں کو گزشتہ روز فائرنگ کرکے قتل اور ایک کو زخمی کر دیا۔ لیویز حکام کے مطابق خاران شہر سے 90 کلومیٹر دور لجے کے پہاڑی مقام پر موبائل کمپنی کا ٹاور لگانے میں مصروف مزدوروں پر نامعلوم مسلح افراد نے فائر کھول دیا۔ اس واردات میں قتل اور زخمی ہونیوالے تمام مزدوروں کا پنجاب کے علاقے اوکاڑہ سے تعلق ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی اسسٹنٹ کمشنر خاران مشتاق احمد اور تحصیلدار ہاشم لیویز فورس کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے اور نعشوں اور زخمی شخص کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا۔ بعدازاں ضروری کارروائی کے بعد نعشیں اوکاڑہ روانہ کردی گئیں۔ لیویز نے نامعلوم ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرکے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔ جاں بحق ہونیوالوں میں چار کا تعلق اوکاڑہ کے نواحی گاوں 49۔ٹو۔ایل سے ہے جبکہ زخمی مزدور بھی اسی گا?ں سے تعلق رکھتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ جاں بحق ہونیوالے مزدور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے گھر بار چھوڑ کر مزدوری کی خاطر دو روز قبل ہی کوئٹہ آئے تھے جبکہ مقتول مظہر کی شادی تین سال قبل ہوئی تھی۔

اگرچہ بلوچستان کو ملک کے پسماندہ ترین صوبے میں شمار کیا جاتا ہے جہاں قومی اور صوبائی ترقی میں بلوچستان کے عوام کا عمل دخل نہ ہونے کے ناطے ان میں محرومی کا احساس دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ پایا جاتا ہے تاہم بلوچستان کے قوم پرست لیڈران بلوچستان کی محرومیوں کو اپنے پاکستان مخالف ایجنڈے کو بروئے کار لانے کے لیے اجاگر کرتے اور اس پر اپنی سیاست چمکاتے رہے ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے پہلے دور حکومت تک بلوچستان اور کے پی کے ایک ہی صوبائی حکومت کے ماتحت تھے جو مفتی محمود کی قیادت میں تشکیل پائی تھی۔ اس وقت بھی حکومت مخالف عناصر بالخصوص بلوچ قوم پرست لیڈران بلوچستان کی محرومیوں کو اپنے حق میں کیش کرانے میں کامیاب ہوتے رہے اور آج بھی یہی عناصر اپنے پاکستان مخالف ایجنڈے پر سرگرم عمل ہیں۔ تاہم بلوچستان میں اب عوامی شعور و آگہی کے حوالے سے فضا خاصی حد تک تبدیل ہوچکی ہے اور بلوچستان کی مبینہ محرومیوں پر سیاسی دکانداری چمکانا صرف بلوچ قوم پرست سیاست دانوں کا ہی خاصہ نہیں رہا بلکہ اب بلوچستان کے حکمرانوں کی جانب سے بھی بلوچستان کی محرومیوں کے تناظر میں وفاق مخالف سوچ اجاگر کی جاتی ہے۔ سابق جرنیلی آمر مشرف کے دور حکومت میں ہونیوالے امریکی نائن الیون کے سانحہ سے پاکستان کے عوام ہی سب سے زیادہ متاثر ہوئے جن پر انسداد دہشت گردی کے نام پر درحقیقت دہشت گردی مسلط کی جاتی رہی ہے۔ اس وقت کے جرنیلی آمر مشرف نے اپنے اقتدار کے تحفظ کی خاطر پاکستان کو امریکی فرنٹ لائن اتحادی بنایا تو اس سے قومی خودمختاری بھی جھٹکے کھاتی نظر آتی رہی اور عوام کی ہزیمتوں میں بھی بتدریج اضافہ ہونے لگا۔ مشرف کے فرنٹ لائن اتحادی کے کردار میں لاپتہ کیے گئے ملک کے زیادہ تر شہریوں کا بلوچستان سے تعلق تھا جس پر بلوچ قوم پرست رہنما?ں کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آنے لگا۔

اسی پس منظر میں بلوچستان کے بزرگ قائد اور سابق گورنر و وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اکبربگٹی مشرف کی پالیسیوں سے مایوس ہو کر قوم پرستی کو ابھارتے ہوئے حکومت کی مزاحمت کے لیے سرگرم ہوگئے جنہوں نے بالخصوص بلوچ قوم کی نئی نسل کو زیادہ متاثر کیا۔ مشرف نے نواب بگٹی کیخلاف سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا تو وہ ڈیرہ بگٹی میں اپنے جنگجو ساتھیوں کے سمیت ایک سرنگ کے اندر چلے گئے جہاں سے وہ جرنیلی حکمران کی مزاحمت کے اعلانات کرنے لگے چنانچہ مشرف نے بگٹی کے خفیہ ٹھکانے پر اپریشن شروع کرادیا جسکے دوران انکی اپنے ساتھیوں سمیت سرنگ کے اندر ہی ہلاکت ہوئی تو فوجی اپریشن کی بنیاد پر بلوچ قوم پرستوں نے وفاق اور اسکی اکائی پنجاب کیخلاف علاقائی منافرت کی فضا ہموار کرنا شروع کردی۔ اسی فضا میں بلوچستان کے ناراض قوم پرست لیڈران بالخصوص بگٹی خاندان کے براہمداغ بگٹی اور مری اور مینگل قبیلے کے ناراض قوم پرست نوجوان لیڈروں نے بلوچستان میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے پلیٹ فارم پر پاکستان مخالف تحریک شروع کی جسے جلد ہی بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کی سرپرستی اور فنڈنگ دستیاب ہوگئی۔ اسی تحریک کے ماتحت بلوچستان میں پاکستان کے پرچم نذر آتش کرنے اور بالخصوص پنجابی آباد کاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر ایف سی اہلکار بھی ٹارگٹ کلنگ کی زد میں آنے لگے۔ اس طرح بلوچستان میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوئی جو ملک کی سلامتی کے تناظر میں انتہائی خطرناک صورتحال تھی مگر مشرف نے دانستہ طور پر اس فضا کو مستحکم ہونے دیا‘ نتیجتاً علیحدگی پسند عناصر کو مکمل کھل کھیلنے کا موقع ملتا رہا جبکہ براہمداغ بگٹی اور دوسرے علیحدگی پسند بلوچ لیڈران نے پہلے کابل اور پھر لندن کو اپنی پاکستان مخالف سرگرمیوں کا مرکز بنایا جہاں بیٹھ کر وہ بھارتی سرپرستی میں اقوام متحدہ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور اسی طرح انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ اور امریکی کانگرس تک بھی رسائی حاصل کرلی جہاں وہ اپنی پاکستان مخالف تحریک کے حق میں قرارداد منظور کرانے میں بھی کامیاب ہوگئے۔ اسی تحریک کے دوران علیحدگی پسند عناصر نے زیارت میں موجود بانی¿ پاکستان قائداعظم کی ریذیڈنسی کو بھی نذر آتش کیا۔

مشرف کے بعد پیپلزپارٹی اقتدار میں آئی تو اسکی حکومت کو بلوچستان میں انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا جہاں علیحدگی پسندی کی تحریک کے علاوہ فرقہ ورانہ کشیدگی اور منافرت کو بھی انتہاء تک پہنچایا جا چکا تھا اور دہشت گردی کی وارداتیں اور ٹارگٹ کلنگ روزمرہ کا معمول بن چکی تھیں۔ چنانچہ اقتدار میں آنے کے بعد آصف علی زرداری نے سب سے پہلے کوئٹہ جاکر بلوچ قوم سے معافی مانگی اور پھر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان کی پسماندگی دور کرنے کے لیے خطیر رقم کیساتھ آغاز حقوق بلوچستان کے نام پر فنڈ قائم کیا مگر بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے حکومت کی کوئی بھی کوشش کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکی بلکہ پنجابی آباد کاروں کی ٹارگٹ کلنگ بڑھ گئی جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کی کئی نامور شخصیات کی جانیں ضائع ہوئیں۔ ان حالات میں پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت کو بلوچستان میں اپنی حکومت ختم کرکے گورنر راج نافذ کرنا پڑا مگر نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات کے مصداق امن کی بحالی کی کوئی نوید نہ لاسکا۔ 2013ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آئی تو میاں نوازشریف نے سب سے پہلے بلوچستان کی صورتحال پر توجہ دی جہاں انہوں نے بلوچ قوم پرستوں کیساتھ مل کر حکومت تشکیل دی اور پھر بلوچستان کی محرومیوں کے ازالہ کے لیے ایک جامع پیکیج کا اعلان کیا جبکہ انہوں نے فرقہ ورانہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا بھی آغاز کیا۔ اسی دوران بلوچ قوم پرستوں کی علیحدگی پسندی کی تحریک میں بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کے عملی کردار کے شواہد ملے جبکہ نوازشریف کی حکومت اس وقت چین کی معاونت سے گوادر پورٹ اور اس سے منسلک اقتصادی راہداری منصوبے کا بیڑہ اٹھا چکی تھی جس کی تعمیر و تکمیل بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کی متقاضی تھی۔ چنانچہ حکومت نے بلوچستان میں ٹارگٹڈ اپریشن کا آغاز کیا جس کا دائرہ بعدازاں کراچی تک وسیع ہوا‘ اس اپریشن کے نتیجہ میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی وارداتوں میں کافی حد تک قابو پالیا گیا اور پھر سکیورٹی فورسز کے آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے نتیجہ میں ملک کے دوسرے حصوں کی طرح بلوچستان میں بھی امن کی بحالی کی نوید ملنے لگی۔ اگرچہ بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ نے سی پیک کو سبوتاژ کرنے کے لیے بلوچستان میں اپنا منظم نیٹ ورک قائم کیا تاہم اسکے جاسوس کل بھوشن کی گرفتاری سے یہ نیٹ ورک غیرموثر ہوگیا۔

اس تناظر میں توقع تو یہی تھی کہ بلوچستان اب امن و امان کی مستقل بحالی کی منزل سے ہمکنار ہو جائیگا تاہم گزشتہ دو ماہ سے جس تسلسل کے ساتھ بلوچستان میں فرقہ ورانہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا ہے اس سے بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ بھارت کو پاکستان میں پیدا ہونیوالی سیاسی عدم استحکام کی صورتحال کا فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے جسکے باعث اسکی ایجنسی ’’را‘‘ نے بھی بلوچستان کو اپنی تخریبی سرگرمیوں کا دوبارہ مرکز بنالیا ہے اور مذہبی و صوبائی منافرت پیدا کرنے کے لیے پھر غیربلوچ آباد کاروں بالخصوص پنجابی آباد کاروں کی ٹارگٹ کلنگ شروع کی گئی ہے۔ ملکی سلامتی کے حوالے سے یہ صورتحال اسلیے بھی تشویشناک ہے کہ اب ملک میں انتخابی عمل کا آغاز ہوچکا ہے جسکے دوران خاران کی گزشتہ روز جیسی ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں اضافہ ہوا تو اس سے انتخابی عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے اور ہمارے دشمن بھارت کو ملک کی سلامتی سے کھیلنے کا مزید موقع بھی مل سکتا ہے۔ اگر بلوچستان کی نئی حکومت کو اس صورتحال اور دشمن ملک کی سازشوں کا ادراک نہیں تو یہ ملک کی سلامتی کے حوالے سے انتہائی سنگین صورتحال ہے۔ اس تناظر میں بہتر یہی ہے کہ تمام سیاسی اور عسکری قیادتیں ملک کی سلامتی کی خاطر بالخصوص بلوچستان کے معاملہ میں یکسو ہو جائیں اور ایک متفقہ جامع حکمت عملی کے تحت بلوچستان کی بدامنی پر قابو پانے کی کوشش کی جائے۔ ابھی دوروز قبل ہی آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی کوششوں سے ہزارہ کمیونٹی کا احتجاجی دھرنا ختم ہوا ہے مگر اسکے بعد پنجابی مزدوروں کی ٹارگٹ کلنگ سے بلوچستان میں حالات مزید گھمبیر ہوتے نظر آرہے ہیں۔ یہ صورتحال ایسی ہرگز نہیں کہ اس پر محاذآرائی کی جاری فضا میں ایک دوسرے پر پوائنٹ ا سکورنگ کی کوشش کی جائے۔ سی پیک کے درپے ہمارا دشمن درحقیقت پاکستان کی سلامتی کے درپے ہے اس لیے ملک کی سلامتی کے تقاضوں کو مقدم سمجھ کر دشمن کو قومی اتحاد و یکجہتی کا ٹھوس پیغام دیا جائے بصورت دیگر ہمارا اندرونی انتشار ملک کی سلامتی کیخلاف جاری دشمن کی سازشوں کو تقویت ہی پہنچائے گا۔


متعلقہ خبریں


پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم وجود - جمعه 26 جون 2026

پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق وجود - جمعه 26 جون 2026

بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن وجود - جمعه 26 جون 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار وجود - جمعه 26 جون 2026

سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع وجود - جمعه 26 جون 2026

وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع

وزیراعظم وزراء کو کنٹرول کریں ورنہ مشکلات ہوں گی ،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 25 جون 2026

ایک وفاقی وزیر نے آگ بجھانے کے بجائے اسے مزید بھڑکایا، وہ وزیر اب تک معافی مانگنے کیلئے بھی تیار نہیں، کچھ وزیر ایسے مشورے دیتے ہیں کام میں مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں وزیراعظم جس نیت کے ساتھ اتحادیوں اور اپوزیشن کو انگیج کرتے ہیں اسے سراہتا ہوں، چاہتا ہوں وزیراعظم کامیاب ہوں تو صو...

وزیراعظم وزراء کو کنٹرول کریں ورنہ مشکلات ہوں گی ،بلاول بھٹو

فوج کو سرحدوں پر ہونا چاہیے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمن وجود - جمعرات 25 جون 2026

عوامی ایکشن کمیٹی نے مظفرآباد کی طرف آج کا مارچ مؤخر کر دیا ، کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے،حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار رہی تو میں ثالثی نہیں کرواؤں گا عوامی ایکشن کمیٹی سے بات چیت ہونی چاہیے،خواجہ آصف کے اشتعال انگیزبیانات نے آگ بھڑکائی، حکومت کو کمی...

فوج کو سرحدوں پر ہونا چاہیے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمن

پاکستان امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، دفتر خارجہ وجود - جمعرات 25 جون 2026

پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں امریکا اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہیں گی پاکستانیوں کی بازیابی کیلئے صومالیہ کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں،طاہر حسین اندرابی ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ مختلف ملکوں نے خطے میں قیامِ امن کیلئے کردار ادا کر...

پاکستان امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، دفتر خارجہ

سی ٹی ڈی،پولیس کی لوئردیر میں مشترکہ کارروائی( 6 دہشت گرد ہلاک) وجود - جمعرات 25 جون 2026

ہلاک دہشتگردوں میں خلیل الرحمان، نعیم الدین کفایت اللہ شامل ہیں، حکام دہشت گردوں سے 6 کلاشنکوف، 3 دستی بم برآمد، فرار ساتھیوں کی تلاش جاری لوئر دیر کے علاقے برچڑئی تالاش میں پولیس اور خوارج کے مابین جھڑپ کے دوران 6 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق برچڑی پہاڑی میں دہشت گرد...

سی ٹی ڈی،پولیس کی لوئردیر میں مشترکہ کارروائی( 6 دہشت گرد ہلاک)

پاکستان نے مودی کی نام نہاد سفارت کاری کو خاک میں ملا دیا وجود - جمعرات 25 جون 2026

مودی سرکارکی بدترین خارجہ پالیسی، سنجیدہ سفارت کاری سوشل میڈیاپر تماشا بن گئی ناقص پالیسیوں کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار بھارت کا بائیکاٹ کر رہے ہیں،رپورٹ مودی کی عالمی سطح پر موجودگی کے باوجود بھارت کے سفارتی تعلقات کمزور ہونے لگے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بی جے پی کے کٹ...

پاکستان نے مودی کی نام نہاد سفارت کاری کو خاک میں ملا دیا

قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل وجود - منگل 23 جون 2026

دھماکا اس وقت پیش آیا جب مارچ میں ایرانی حملے کے بعد بند کی گئی تنصیبات کو دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا،دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی اس کا اثر مرکزی دوحا تک محسوس کیا گیا، وزیر توانائیقطر ہمارے 13 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن کا تعلق بھارت، پاکستان سے ہے، 66 افراد زخمی ہوئے ،راس...

قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل

آئی ایم ایف کی سخت شرائط ، لیوی 160روپے فی لیٹر رکھنے کا مطالبہ)پیٹرول پھر مہنگا ہونے کا خطرہ وجود - منگل 23 جون 2026

کلائمٹ سپورٹ لیوی میں 50فیصد اضافہ ،عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی قیمتوں کا ریلیف عوام کو منتقل کرنے میں پٹرولیم لیوی بڑی رکاوٹ بن گئی،مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ایران امریکا جنگ بندی کے بعدپیٹرول 299روپے 58پیسے فی لیٹرمقرر،نئے بجٹ میں لیوی کا ہدف بڑھا کر پیٹرولیم قیمتوںکی مد می...

آئی ایم ایف کی سخت شرائط ، لیوی 160روپے فی لیٹر رکھنے کا مطالبہ)پیٹرول پھر مہنگا ہونے کا خطرہ

مضامین
چاردن میں تین مسجدیں شہید کردی گئیں! وجود جمعه 26 جون 2026
چاردن میں تین مسجدیں شہید کردی گئیں!

کربلا،ایک واقعہ نہیں! وجود جمعه 26 جون 2026
کربلا،ایک واقعہ نہیں!

شہادتِ امام حسین:بقائے اسلام کا روشن باب وجود جمعه 26 جون 2026
شہادتِ امام حسین:بقائے اسلام کا روشن باب

سیاسی استحکام سے محرومی وجود جمعرات 25 جون 2026
سیاسی استحکام سے محرومی

کربلا، مشعل راہ وجود جمعرات 25 جون 2026
کربلا، مشعل راہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر