وجود

... loading ...

وجود

روزے اور ہماری صحت

منگل 08 مئی 2018 روزے اور ہماری صحت

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور رمضان کے روزے بہت سے صحت اور روحانی فوائد کے حامل ہوتے ہیں ۔ اور رمضان ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ۔اپنے نفوس اور اجسام کو پاک ا ور صاف رکھیں اور پرہیز گارانہ طرز عمل اپنائیں ۔ ہمارا جسم ایک مشین کی مانند ہے جو خود کار انداز میں ہر وقت اپناکام سر انجام دیتا رہتا ہے لیکن اس مشین کو بھی آرام کی ضرورت ہوتی ہے اور رمضان کے مبارک مہینے میں کم کھانے پینے کے باعث ہمارا جسم آرام کرتا ہے ۔اس کے علاوہ مختلف ماہرین کے مطابق روزہ کو لیسٹرول ، بلڈ پریشر ، موٹاپے اور معدہ و جگر کے مختلف امراض پر قابو پانے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے ۔ہمارا دل جو کہ نیند اور حتیٰ کہ بے ہوشی کی حالت میں بھی اپنا کام سرانجام دیتا ہے اور مسلسل جسم کو خون فراہم کرتا ہے اور روزے کے دوران چونکہ خون کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہے جس سے دل کو بھی آرام میسر آتا ہے ۔ دل کے دورے کے اسباب جن میں موٹاپا، مسلسل پریشانی ، چربی کی زیادتی، ذیا بیطس ، بلڈپریشراور سگریٹ نوشی شامل ہیں، کا خاتمہ کر کے دل کے دوروں سے محفوظ رکھتا ہے۔

اس کے علاوہ روزے کے دوران جب خون میں کم کھانے کی وجہ سے غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں تو ہڈیوں کا گودہ حرکت پذیر ہوتا ہے جس کی وجہ سے جسمانی طورپر کمزور افراد روزے رکھ کر آسانی سے اپنے اندر زیادہ خون پیدا کر سکتے ہیں ۔روزے کے دوران جگر کو ضروری آرام مل جاتا ہے۔ جبکہ دن بھر روزے کی حالت میں گزارنے کے بعد انسان کے جسم میں موجود زہریلا مواد اور دیگر فاسد مادے ختم ہو جاتے ہیں ۔

روزے کی حالت میں انسانی جسم میں موجود ایسے ہارمونز بھی حرکت میں آجاتے ہیں جو بڑھاپے کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں اور روزے سے انسانی جلد مضبوط اور اس پر موجود جھریوں میں کمی آتی ہے ۔

اس کے علاوہ روزے کی حالت میں بلڈ پریشر کم ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ بلڈپریشر کو نارمل یا کم رکھنے کے لئے پانی چاہیئے ہوتا ہے اور روزے کی حالت میںجب جسم کو پانی فراہم نہیں ہوتا ہے تو بلڈ پریشر میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے اور پھر اس کمی کو پورا کرنے کے لئے جسم میں ایسے ہارمونز خارج ہونے لگتے ہیں جو بلڈ پریشر کے عمل کو بہتر بناتے ہیں ۔ لہذا بلڈپریشر کے مریضوں کو روزہ رکھنے کی وجہ سے ان کا بلڈ پریشر قابو میں یا نارمل رہتا ہے ۔

سائنسی تحقیق کے مطابق روزہ رکھنے سے جسم میں زہریلے مادے ختم ہو نے کا عمل شروع ہو جاتاہے اور جسمانی قوت مدافعت میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ روزے کی حالت میں مدافعتی نظام فعال ہو جاتا ہے اور پھر اس فعالیت کے نتیجے میں جسم کے اندر مدافعتی نظام بڑھ جاتا ہے اور پھر خون میں ایسے مدا فعتی خلیے پیدا ہوتے ہیں جوا نسان کو نہ صرف بیماریوں سے بچاتے ہیں بلکہ جسم میں موجود بیماریوں کو بھی دور کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق روزہ کینسر کی بھی روک تھام کرتا ہے۔یہ جسم میں کینسر کے خلیوں کی افزائش کو روکتا ہے۔روزے کی حالت میں گلوکوز کم ہوتا ہے اور جسم توانائی حاصل کرنے کے لئے چربی کا استعمال کرتاہے۔جس کے نتیجے میں کیٹون باڈیز بھی پیدا ہوتی ہیںجو پروٹین کو چھوٹے ذرات میں تقسیم ہونے کے عمل کو روکتی ہے۔کینسر کے خلیوں کو اپنی نشوونما کے لئے چھوٹے ذرات کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ روزے کی حالت میں یہ ذرات کم پیدا ہوتے ہیں، جس سے کینسر کی روک تھام ہوتی ہے ۔ رمضان المبارک میں سحر ی اور افطار میں متوازن طرز زندگی اور صحت مند غذائیں ضروری ہوتی ہیں ۔ سائنسی تحقیق کے مطابق روزہ رکھنے سے کمزوری نہیں ہوتی ہے بلکہ ہمارے جسم میں ایک ایسا نظام یا میکانیت پایا جاتا ہے جو روزے کی حالت میں حرکت میں آجاتا ہے اور جسم کی اضافی چربی کو موثر انداز میں ختم کر دیتا ہے ۔

رمضان المبارک کے دوران سحری میں ایسی خوراک استعمال کرنی چاہیئے جس میں گڈ کولیسٹرول ، پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس ضرور شامل ہوں ۔ سحری کا وقت ختم ہونے سے ایک آدھ گھنٹے پہلے کھانا پینا چھوڑ دیں ۔ سحری میں کھجور ضرور کھانا چاہیئے کیونکہ ان میں پوٹاشیم موجود ہوتی ہے جو جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے ۔

سحری میںپیٹ بڑھ کر کھانا ایک غلط طرز عمل ہے جس سے معدے کا نظام غیر محرک ہو جاتا ہے اور نظام ہضم کو نقصان پہنچتا ہے ۔ لہذٰا بھاری اور ثقیل قسم کی غذائو ں سے پرہیز کر تے ہوئے سحری کے دوران گندم کی روٹی ، دودھ اور انڈہ وغیرہ کا استعمال کرنا چاہئے جو دن بھر کے لئے پروٹین اور کاربو ہائیڈ ریٹس فراہم کرتے ہیں اور روزے کی حالت میں کو لیسٹرول لیول برقرار رکھنے کے لئے سرسوں یا ز یتون کے تیل میں سحری تیار کرنی چاہیئے ۔ اسی طرح سحری میں دہی اور پھلوں کا استعمال بھی دن بھر تھکاوٹ اور نقاہت سے محفوظ رکھتا ہے ۔ سحری کے لئے بیدار ہونے کے فوری بعد پانی لازمی پینا چاہیئے جبکہ حتیٰ الامکان طور پر کیفین سے پرہیز کرنا چاہیئے۔

سحری کے وقت ڈیری سے بنی چیزیں استعمال کرنے سے پیاس نہیں لگتی ہے اور جسم میں توانائی برقرار رہتی ہے۔ اس کے علاوہ فائبر یعنی ریشہ دار غذائیں نہ صرف معدے پر ہلکی ہوتی ہیں جبکہ ہضم بھی دیر سے ہوتی ہیں ۔ اس کے علاوہ سحری کے وقت ایک مناسب مقدار میں خشک میوہ جات مثلا بادام ، اخروٹ ، کاجو ، پستہ اور انجیر وغیرہ بھی جسم میں دن بھر توانائی فراہم کرتے ہیں ۔ سحری میں تلی ہوئی اور زیادہ مرچ مسالوں والے کھانوں سے پرہیز کرنا چاہیئے کیونکہ ان سے معدہ بھاری ہو جاتا ہے اور پھر دن بھر بیزاری اور اکتاہٹ محسوس ہوتی ہے ۔

سحری کے وقت چاول سے بنے کھانوں کے ساتھ ساتھ نہاری، سری پائے، بینگن اور گوبھی وغیرہ سے بھی پرہیز کرنا چاہئے۔کیونکہ ان کے استعمال سے بد ہضمی کی شکایت ہو سکتی ہے۔

سحری لازمی کرنا چاہیئے کیونکہ سحری میں کچھ کھائے پیئے بغیر ہی روزہ رکھ لینے سے معدے میں تیزابیت بڑھ جاتی ہے اور چونکہ موسم گرما میں روزے کا دورانیہ بھی طویل ہوتا ہے تو سحری میں دودھ یا لسی بھی ضرور پینا چاہیئے جس سے روزے کے دوران جسم میں پانی کی کمی نہیں ہوتی ہے ۔

افطاری کے وقت روزے دار کو اپنی دن بھر کی کھوئی ہوئی توانائی بحال کرنا ہوتا ہے ۔دن بھر خالی پیٹ رہنے کی وجہ سے افطاری کے وقت سب سے پہلے شوگر لیول کو بحال کرنے کے لئے کھجور کھانی چاہیئے ۔کھجور انسانی جسم میں داخل ہوکر گلوکوز اور فرکٹوز کی شکل میں قدرتی شکر پیدا کرتی ہے جو فوراََ جزوبدن بن کر روزے کی حالت میں خرچ ہونے والی کیلیوریز کی کمی کو پورا کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ نمک سے روزہ افطار کرنا بھی سنت ہے کیونکہ اس سے جسم میں نمکیات کی کمی پوری ہوتی ہے ۔ کھجور اور نمک کے علاوہ بادام اور کیلا بھی جسم میں کھوئی ہوئی توانائی بحال کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں ۔

افطاری کے وقت زود ہضم غذائیں استعمال کرنی چاہیئے ۔ نمک کا زیادہ استعمال بلڈ پریشر اور دل کی شریانوں کے لئے بھی نقصان دہ ہے ۔ افطار کے فوراََ بعد بہت زیادہ مشروبات کا زیادہ استعمال بھی صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ افطار کے فوری بعد دودھ سوڈا بھی نہیں پینا چاہیئے کیونکہ کاربونیڈ ڈرنکس کا استعمال جسم سے کیلشم کو خارج کرتا ہے اور کیلشم کی کمی سے ہڈیوں کمزور ہو جاتی ہیں ۔ خصوصی طور پر جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کو دودھ سوڈا پینے سے گریز کرنا چاہیئے ۔

افطاری کے وقت کوشش کرنی چاہیئے کہ دودھ ، دہی ،لسی ، کھیر اور دودھ سے بنی دیگر اشیاء بھی کھانا چاہیئے تاکہ جسم میںکیلشم اور پروٹین کی کمی کو پورا کیا جاسکے ۔ اس کے علاوہ کچی سبزیوں کا سلاد بھی جسم میں فائیبر ز ، وٹامنز اور آئرن کی کمی کو پورا کرتا ہے ۔ افطاری کے وقت چاول سے پرہیز کرنا چاہیئے کیونکہ یہ پیا س کا باعث بنتے ہیں ۔ (بقیہ اگلے ہفتے ملاحضہ کیجیے (


متعلقہ خبریں


امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب وجود - بدھ 11 مارچ 2026

بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط وجود - بدھ 11 مارچ 2026

نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع وجود - بدھ 11 مارچ 2026

پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 10 مارچ 2026

ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند وجود - منگل 10 مارچ 2026

سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند

مضامین
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود جمعرات 12 مارچ 2026
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں!

کشمیریوں سے امتیازی سلوک وجود جمعرات 12 مارچ 2026
کشمیریوں سے امتیازی سلوک

سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے!

منٹو کا انسانیت پر ایمان وجود بدھ 11 مارچ 2026
منٹو کا انسانیت پر ایمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر