... loading ...
ایک مطالعے سے پتا چلا ہے کہ برطانیہ میں درمیانی عمر کے ہر آٹھ میں سے ایک فرد کو موٹاپے کی وجہ سے جگر کے امراض کا سامنا ہے۔بائیو بینک ریسرچ پروجیکٹ میں تقریبا تین ہزار افراد کے سکین سے پتہ چلا ہے کہ تقریبا 12 فیصد افراد کے جگر یا لیور کا سائز بڑھا ہوا اور ان میں چربی موجود تھی۔برٹش لیور ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ‘بہت تشویشناک ہیں’ اور یہ ‘خطرے کی گھنٹی’ ہے کیونکہ ایسی صورت حال سے جگر سخت اور ناکام ہوسکتا ہے اور موت واقع ہوسکتی ہے۔ہیپاٹولوجسٹ کا کہنا ہے کہ چربی دار جگر کی بیماری کسی خاموش وبا کی طرح ہے۔برطانیہ میں سائنسدانوں نے جگر کے امراض کی تشخیص کے لیے ایک جدید سافٹ وئیر تیار کیا ہے جو جگر کے مریضوں کے علاج و تشخیص میں مدد ملے گی۔ برطانیہ میں ہر آٹھ میں سے ایک شخص کو جگر کے امراض کا سامنا ہے۔یہ اس لیے تشویشناک ہے کہ اس کی علامات نقصان ہونے سے قبل ظاہر نہیں ہوتے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اگر وقت پر اس کی تشخیص ہو جائے تو اس کا علاج ہو سکتا ہے۔آکسفورڈ کی 52 سالہ فرانسیس کیرول کو سات سال قبل بتایا گیا کہ انھیں چربی دار جگر کی بیماری تھی۔ ان کا وزن 116 کلو گرام تھا۔ لیکن اس وقت ان کا وزن 42 کلو کم ہو چکا ہے۔فرانسیس نے بتایا: ‘جب مجھے بتایا گیاکہ مجھے جگر کی بیماری ہے تو میں صدمے میں چلی گئی لیکن میں اس کے بارے میں کچھ کرنے کے لیے پرعزم تھی۔ میں نے زیادہ صحت مند غذا لینی شروع کی اور پھر اس کے ساتھ جسمانی ورزش شروع کی۔ اب میں خوش ہوں کہ میں معمول پر آ گئی۔اب وہ فٹنس کلاس میں درس دیتی ہیں اور غذائیت کے بارے میں صلاح و مشورہ دیتی ہیں۔انھوں نے کہا: میں 2011 میں سوچ نہیں سکتی تھی کہ میں پرسنل ٹرینر بن سکتی ہوں کیونکہ میں ذرا بھی چلتی تھی تو سانس پھول جاتی تھی اور اب میں اونچائی پر دوڑتی ہوں۔انھوں نے اب نئی قسم کا ایم آر آئی سکین کرایا ہے جس میں پتہ چلا ہے کہ اب ان کا جگر پھر سے تندرست و توانا ہے۔آکسفورڈ کے سائنسدانوں کی سربراہی میں کی جانے والی ایم آر آئی کے نتائج پریس میں منعقدہ بین الاقوامی لیور کانگریس میں اعلان کیا گیا۔یہ ٹیسٹ ایک جدید سافٹ ویئر کی مدد سے مکمل ہو سکا ہے۔ اسے آکسفورڈ یونیورسٹی کی پرسپیکٹم ڈائگناسٹک کمپنی نے تیار کیا ہے۔پرسپیکٹم کمپنی کی سی ای او ڈاکٹر راجشری بینرجی نے کہا: این ایچ ایس، ٹیکس دہندہ گان اور مریضوں کے واضح فائدے کے لیے برطانیہ کے ڈاکٹروں اور سائنسدانوں نے لیور ملٹی سکین بنایا جو کہ سمارٹ ہیلتھ ٹیکنالوجی کی عظیم مثال ہے۔انھوں نے کہا کہ لیور بایوپسی ہیپاٹولوجی کا اہم حصہ ہے لیکن ہمیں ایک ایسی چیز چاہیے تھی جو بغیر سوئی اندر ڈالے جگر کی بیماری کی سنگینی کو جانچ سکے۔اس سافٹ ویئر ٹول کا کسی بھی ایم آر آئی میں استعمال ہوسکتا ہے لیکن ابھی یہ معمول کی تشخیص کا حصہ نہیں ہے۔ساؤ تھیمپٹن جنرل پہلا این ایچ ایس ہسپتال ہے جو تحقیقی مرکز کے علاوہ اس نئے نظام کا استعمال کر رہا ہے۔یونیورسٹی ہسپتال ساؤتھیمپٹن میں ریڈیولوجی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈیوڈ برین کا کہنا ہے کہ اس سے بایوپسی کی ضرورت کم ہو جائے گی۔انھوں نے کہا کہ سکین سے سارے جگر کا نقشہ سامنے آ جاتا ہے جبکہ سوئی سے صرف ایک حصے کا نمونہ ملتا ہے اور یہ ناخوشگوار بھی ہوتا ہے۔اس میں یہ آسانی بھی ہے کہ ہم مریض کا پھر سے سکین کر سکتے ہیں اور یہ جان سکتے ہیں کہ ٓیا کوئی فائدہ ہوا ہے۔
سابق وزیراعظم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا میرے خلاف سازش کی جا رہی ہے جس سے پاکستان کو نقصان ہوگا، عدالت میں پٹیشن دائر کی جا رہی ہے، بانی کو سائفر کیس میں بیرونی سازش کا نشانہ بنایا گیا ہمارا ون پوائنٹ ایجنڈا عمران خان کی رہائی ،موجودہ حکمرانوں نے ملک کو مہنگائی، بدامنی،بے یقینی کی ...
ایران امریکا تنازع پرپاکستان کی ثالثی رنگ لانے لگی؟ ایران امریکا معاہدے کا 9 نکاتی مسودہ سامنے آگیا،جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، پابندیوں میں نرمی اور یورینیم تنازع پر تجاویز شامل دونوں فریقین فوجی، سویلین یا اقتصادی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے، ابتدائی م...
سخت سیکیورٹی کے حصار میں جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرکے مختلف عدالتوں میں پیش عدالت نے تفتیش میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث یہ فیصلہ سنایا،وکیل ملزمہ پنکی منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کو قتل اور منشیات کے مجموعی طور پر 18 مقدمات میں سخت سیکیورٹی کے حصار میں جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرکے مخ...
امریکا کی جانب سے ایسا کوئی مطالبہ موصول نہیں ہوا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان اپنے پانی کے ایک قطرے پر سمجھوتہ نہیں کرے گا،ہفتہ وار بریفنگ پاکستان نے ایران پر ممکنہ حملے کیلئے امریکا کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی خبروں کو دوٹوک انداز میں مسترد کردیا ہے۔اسلام ا...
ایران کا افزودہ یورینیم امریکا کیساتھ کسی بھی امن معاہدے میں سب سے اہم مسئلہ ہے ایران کے پاس موجود 441 کلوگرام یورینیم 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے،جوئی ہڈ امریکا کے محکمہ خارجہ میں ایرانی امور کے سابق قائم مقام سربراہ جوئی ہڈ نے کہا ہے کہ ایران کا انتہائی افزودہ یورینیم ا...
کسی شرپسند کو ملک کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ملک بھر میں پائیدار امن و استحکام کے قیام تک دہشتگردوں کیخلاف جنگ پوری قومی قوت اور بھرپور عزم کیساتھ جاری رہے گی شہداء اور غازی اس قوم کا دائمی فخر ہیں،سید عاصم منیرکاجی ایچ کیو میں فوجی اعزازات کی تقریب سے خطاب،50 اف...
اسپن وام میں سکیورٹی فورسزکا آپریشن،زیر زمین بنکر، سرنگیں، بارودی جال بچھا رکھا تھا خارجی سرغنہ عمر عرف جان میر عرف ثاقب تور کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر تھی شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن میں انتہائی مطلوب دہشت گرد سرغنہ خارجی سمیت پ...
چینی بھائیوں کیلئے اعلیٰ ترین پیمانے کی سیکیورٹی فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے شہبازشریف کا پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ پر پیغام ، مبارکباد پیش وزیر اعظم شہباز شریف نے کہاہے کہ سی پیک نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کے تحفظ اور صنعتی تعاون ...
اپنے تمام ایم پی ایز کو ہر شہر میں احتجاج کی ہدایت کرتا ہوں، ہمارا رویہ آنے والے منگل کو مزید سخت ہوگا، پورا پاکستان دیکھے گا پی ٹی آئی ایک مٹھی ہو کر میدان میں نکل رہی ہے،وزیراعلیٰ پولیس نے اسلام آباد میں منتخب نمائندوں کو روکنے کیلئے فائرنگ کی،وقت نے ثابت کر دیا سائفر معامل...
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے متعلقہ افسران کو بلا کر ہدایات دے دیں مجھے یقین دلایا ہے کہ مقدمات عید کے بعد لگ جائیں گے، سلمان اکرم راجا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے عمران خان کے مقدمات عید کے بعد مقرر کرانے کی یقین دہانی کرا دی۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلم...
نجی کمپنیوں کے مالک، سی ای اوز، پارٹی بوائز، سیاستدان، بیوروکریٹ شامل ہیں شوبز کی بیشتر شخصیات کے نام، نمبرز اور گھر کے پتے حاصل کرلیے گئے ہیں ،ذرائع قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ انمول پنکی کے کسٹمرز میں 881 اہم شخصیات شامل تھیں۔نجی کمپنیوں کے مالک، سی ای ا...
متحدہ قومی موومنٹ قیادت کی شہباز شریف سے ملاقات ،کسی بھی آئینی ترمیم پر بات نہیں ہوئی،ذرائع آئندہ بجٹ میں ٹیکس ریلیف پر بات کی،کراچی پیکیج اور کے فور پر گفتگو کی، اندرونی کہانی سامنے آگئیں متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) قیادت کی وزیراعظم سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ...