وجود

... loading ...

وجود

کراچی کی ادبی ڈائری

اتوار 06 مئی 2018 کراچی کی ادبی ڈائری

٭’’ ورلڈ بک ڈے‘‘ پر آرٹس کونسل لائبریری
کمیٹی اور سوشل اسٹوڈنٹس فورم کی تقریب
سوشل اسٹوڈنٹس فورم اور آرٹس کونسل لائبریری کمیٹی کے اشتراک سے ’’ورلڈ بک ڈے‘‘ کے سلسلے میں پُروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ تقریب جناب سعید الظفر صدیقی نے کہا کہ پوری دنیا میں کتاب کی بڑی اہمیت ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا راز ریسرچ اور جدید علم پر مہارت ہے۔ جب تک مسلمانوں نے علم و حکمت پر عمل کیا، ہر میدان میں کامیابی حاصل کی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی کتاب کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے طالب علموں کو تعلیم کے ساتھ تربیت بھی دیں۔ قبل ازیں فورم کے چیئرمین نفیس احمد خان نے خطبۂ استقبالیہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم فورم کی جانب سے تعلیم و صحت کے میدان میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ہماری دلی خواہش اور کوشش ہے کہ ہم اس معاشرے میں صحت مندانہ سرمگرمیاں جاری رکھیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی سابق مشیر اقبال یوسف نے کہا کہ کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور معاشرے میں مثبت علم کو پھیلانا بھی عبادت ہے۔ انھوں نے کہا کہ قوموں کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ علم کو عام کیا جائے۔ لائبریری کمیٹی کے چیئرمین سہیل احمد نے کہا کہ ہم آرٹس کونسل میں ہر مثبت سرگرمی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور سب سے زیادہ پروگرام بھی لائبریری کمیٹی ہی ترتیب دیتی ہے۔ تقریب سے رضی الدین سید نے کہا کہ میں نے 30 سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ علم کو فروغ دیا جائے، انسانوں کا احترام کیا جائے، مذہبی اور نسلی منافرت کو دور کیا جائے اور انسانیت کو فروغ حاصل ہو۔

معروف کوئز کے بے تاج بادشاہ ذکی احمد ذکی نے کہا کہ میں نے اب تک 32 سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں اور اِن شاء اللہ مزید 50 کتابیں جلد منظر عام پر آئیں گی۔ رضی الدین سید نے کہا کہ اچھی کتاب لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ گہرا مطالعہ ہو۔ تقریب سے ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر نے کہا کہ آج کے دور میں کتاب پڑھنا، کتاب لکھنا ایک معجزہ ہے، مگر اچھی کتابوں کو سنبھالنا سب سے مشکل کام ہے۔ میرے والد نے ڈیڑھ لاکھ کتابیں گفٹ کی ہیں جن کو سنبھال کر رکھنا بھی ذمے داری والا کام ہے۔ عنبریں نے بڑے طنزو مزاح کے ساتھ محفل کو زعفران زار بنا دیا۔ تقریب سے صغیر احمد جعفری، صبیحہ صبا، م ص ایمن، سید شائق ایاز، فہیم برنی، وقار زیدی، ناز عارف ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں مہمانوں میں فورم کے چیئرمین نفیس احمد خان، وائس چیئرمین فہیم برنی، سید شائق ایاز، سینئر نائب صد رمحمد رفیع احمد خان نے ایوارڈز تقسیم کیے۔ ان میں صدرِ تقریب سعید الظفر صدیقی، رضی الدین سید، ذکی احمد ذکی، حمیدہ کشش، سہیل احمد ، وقار زیدی کے نام شامل تھے۔

٭ہمارا سماج اورپاکستانی زبانیں

اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام ’’ہمارا سماج اورپاکستانی زبانیں ‘‘ اور مشاعرے کا انعقاد اکادمی ادبیات کراچی دفتر میں کیا گیا جس کی صدارت امریکا سے آئے ہوئی معروف شاعرہ ،دانشور، ڈاکٹر صبیحہ صبا نے کی، مہمان خاص سہیل احمد چیئرمین ادبی کمیٹی آرٹس کونسل تھے، صدر محفل نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ دنیا کی بڑی زبانوں کی فہرست پر نظر دڑوائیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ دنیا کی زیادہ بڑی زبانیں وہی ہیں جن میں دوسری زبانوںکے علمی و ادبی سرمائے کے زیادہ سے زیادہ تراجم ہوئے ہیں، آج انگریزی زبان محض اس لئے پوری دنیا میں چھائی ہوئی ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میںجب کوئی قابل ذکر ادبی کتاب چھپ کر منظر عام پر آتی ہے تو اس کا انگریزی میں فوراً ترجمہ ہوتاہے ۔مثلاً اگر ہمیں فرانسیسی کی کوئی کتاب پڑھنی ہوتو ظاہرہے ہمیں انگریزی کے ذریعے ہی اس سے استفادہ کرنا ہوگا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب ان ممالک میںبھی جہاں انگریزی زبان نصاب کے طور پر نہیں پڑھائی جاتی انگریزی سیکھنے کا رجحان بڑھ رہاہے۔ اس وقت پاکستان میںبھی ۱۸؍ زبانیںبولی جاتیںہیں لیکن اُردو ، بلوچی، راجستھانی ، کچھی، براہوی، پشتو، سرائیکی،کشمیری، مارواڑی، بروششکی ، پنجابی، سندھی، کوہستانی، ہندکو، بکتی پوٹھوہاری، شینا ، گوجری، ان کا جو علمی وا دبی ذخیرہ موجود ہے ان کو کیسے پڑھیں اور کیسے سمجھیں جبکہ تمام زبانوں کے کئی الفاظ ایک دوسرے میں ضم بھی ہوچکے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام زبانوں کے ادب کے تراجم کو عام کیا جائے ۔ مہمان خاص سہیل احمدنے کہا کہ ترجمے ہوںگے تو ہم ایک دوسرے کی ثقافت ،لوک ادب ہویا مزاحمتی ادب یا جدید ادب اس کو سمجھنے میںآسانی ہوگی۔ جب سمجھ آئے گی تو ہم ایک دوسرے کے قریب آئیں گے، قریب آئیں گے تو محبت بڑھے گی اور نفرتوں کا خا تمہ ہوگا۔ سرائیکی اور پنجابی میںمرثیہ صرف ایک صنف سخن ہی نہیںبلکہ دینی شاعری کا ایک مستقل موضوع رہاہے۔ ان زبانوںمیں مرثیے شہادت ناموں ، جنگ ناموں اور حسینی دوھڑوں کی شکل میں مختصر نظموں کی شکل میں ملتے ہیں۔ فارسی کی اُردو میںجلوہ نمایا ں ملیںگے۔ ہم پیالہ وہم نوالہ ہم مشربی کے طور پر ملی جلی زبان بولی جاتی ہے۔ سندھی کی براہوی مستقل مزاجی لوک کہانیوں میں ملتی ہیں ۔بکتی پوٹھواری شینا گوجری غزل گوہوںیا نظمیں یا ثقافت زبانوں کی حوالے سے ایک دوسرے کا ساتھ ایسے جڑے ہوئے ہیں جیسے ایک ہی زبان سے نکلی ہوئی شاخیں ہیں۔ کوہستانی، ہندکو، بروششکی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئی ہیں۔ پشتو اور ہندکو کاجائزہ لیں تو ایک ہی لہجہ محسوس ہوتا ہے ۔

اس موقع پر ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہا کہ اسی طرح اُردو ایک ایسے جلوس کی شکل میں رواںدواںہے جولشکر کی طرح ہر بازار سے گزرتا ہے ، بہ قدرِ ضرورت سیراب ہوتا ہے۔ اس میںتمام زبانوں کے علم بھی جابہ جالہراتے نظرآتے ہیں ۔لیکن سب سے زیادہ جلوہ نما اپنے شمسوں کو چمکاتی فارسی کی بلند عمارات ہیں جو اس جلوس کی رونق کو دوبالا کئے جاتی ہے ۔اس موقع پر جن شعرا ئے کرام نے کلام پڑھا ان میں صبیحہ صباؔ، سہیل احمد، عرفان علی عابدی، سید مشرف علی ، سید علی اوسط جعفری، عظمی جون، گوہر فاروق،محمد رفیق مغل، محمد معظم صدیقی، تنویر حسین سخنؔ، ڈاکٹر محمد رب نوازخانزادہ، الحاج یوسف اسماعیل، سید صغیر احمد جعفری، ڈاکٹر رحیم ہمرزو،ذوالفقار حیدر پرواز،دلشاد احمد دہلوی، الطاف احمدنے اپنا کلام پیش کیا۔ قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے آخر میں اکادمی ادبیا ت پاکستان کے جانب سے حاضرین محفل کاشکریہ ادا کیا۔

٭ ماہوار سورمی ،کراچی رسالے کی جانب سے قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر اکادمی ادبیات پاکستان صوبہ سندھ ۔ کراچی کو گذشتہ ۴ برس سے ہفتہ وار مشاعروں اور دیگر تقریبات کو تسلسل سے کامیابی سے جاری رکھنے پر بہترین آرگنائزر کے اعتراف میں قادربخش سومرو کو’’ بہترین کارکردگی ایوارڈ ‘‘امریکا سے آئی ہوئی معروف مشاعرہ ڈاکٹر صبیحہ صبا اور سہیل احمد چیئرمین ادبی کمیٹی آرٹس کونسل کراچی نے پیش کیا۔

٭نیشنل بک فائونڈیشن کراچی کے ریجنل آفس واقع بریل کمپلیس نزد PTV اسٹیشن میں بسلسلہ قومی یوم کتاب تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری کالجز پرویز احمد سیہڑ نے کہا کہ نصابی کتب علم فراہم کرتی ہیں اور غیر نصابی کتب تربیت کیلئے بہت معاون و مدد گار ہوتی ہیں۔ کتابیں تاریخ سے ہمارا رشتہ جوڑتی ہیں اور ہمارے حال کو محفوظ رکھتی ہیں۔ یہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جنہیں ہم نے نئی نسل کو منتقل کرنا ہے ۔ کتاب کلچر کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے جسے NBF ارباب علم کے ساتھ مل کر بخوبی انجام دے رہی ہے ۔ انہوں نے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر انعام الحق جاوید، بک ایمبسیڈر سید سلطان خلیل کی خدمات کو بھی سراہا۔ مہمان اعزاز ی ڈائریکٹر کالجز معشوق علی بلوچ نے کہا کہ ہمارا قومی فریضہ ہے کہ ہم ملک میں علم کی روشنی کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اسی سلسلہ میں سیکریٹری تعلیم نے بھی کتابوں کی خریداری کیلئے فنڈ مختص کیا ہے جس سے اسکولز، کالجز کی لائبریوں میں معیاری اور مفید معلوماتی کتابوں کا گراں قدر اضافہ ہورہا ہے ۔ معروف کالم نگار نوخیز انور صدیقی نے کہا کہ علم کے فروغ کیلئے کتاب بہت ضروری ہے مگر جعلی پبلشروں نے آج کتاب کو بہت مہنگا کردیا ہے مگر NBF ااج بھی رعایتی قیمت پر اہم اور معیاری کتب لوگوں کو فراہم کررہا ہے ۔ جو خوش آئند اقدام ہے ۔ NBF کے ریجنل ڈائریکٹر علی حیدر بھٹو نے کہا کہ ہم یہ کتاب میلہ جلد ہی کراچی کے اسکولز، کالجز تک لے جائیں گے ۔ جہاں طلباء کو بھی کتب بینی کی طرف راغب کیا جاسکے گا اور انکی دلچسپی کی کتابیں رعایتی نرخوں پر انہیں فراہم کریں گے ۔ اس موقع پر بک ایمبیسیڈر سید سلطان خلیل نے بتایا کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی اور مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے کراچی میں شہر کتاب کے قیام کیلئے عمل درآمد تیز کردیا ہے جہاں سو سے زائد کتب کے اسٹالز ہوں گے جو کتاب کلچر کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ورلڈ بنک اور سندھ حکومت کے ساتھ مل کر سندھ کے تمام علاقوں میں غیر نصابی کتب کے ساتھ نصابی کتب بھی 50% فیصد رعایت پر مہیا کرنے کے اقدامات کررہے ہیں اور موبائل لائبریری بس پر بھی کام ہورہا ہے ۔ اس موقع پر انچارج کالجز بک سپلائی محسن علی ناریجو نے بتایا کہ ہم نے اس سال کراچی کے بیشتر کالجز میں بڑی تعداد میں کتابیں فراہم کی ہیں اور یہ سلسلہ تیز سے تیز تر ہورہا ہے ۔ معروف صحافی حنیف عابد نے تقریب کی خوبصورت نظامت کرتے ہوئے کہا کہ کتاب وہ ورثہ ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کون ہیں اور کیا ہیں ، تقریب میں موجود بچوں کے ادب پر خصوصی کام کرنے والے ادیب صحافی عبدالصمد تاجی نے پرائمری سطح کے اسکولز میں کتاب میلے منعقد کرنی کی تجویز دی ۔ تقریب میں سید خورشید احمد ، شعیب ناصر، سید عبداللہ شاہ، عبدالحمید ابڑو، ڈاکٹر شبیر، سکینہ سموں، میڈم طلعت شبیر، خالد انور ، عبدالرزاق کے علاوہ بڑی تعداد میں اہل علم نے شرکت کی۔


متعلقہ خبریں


سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم وجود - بدھ 21 جنوری 2026

صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل وجود - بدھ 21 جنوری 2026

داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے وجود - بدھ 21 جنوری 2026

گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 21 جنوری 2026

پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ وجود - منگل 20 جنوری 2026

پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب وجود - منگل 20 جنوری 2026

اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن وجود - منگل 20 جنوری 2026

گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی وجود - منگل 20 جنوری 2026

واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا وجود - پیر 19 جنوری 2026

عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان وجود - پیر 19 جنوری 2026

حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان

مضامین
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر