وجود

... loading ...

وجود

کراچی کی ادبی ڈائری

اتوار 06 مئی 2018 کراچی کی ادبی ڈائری

٭’’ ورلڈ بک ڈے‘‘ پر آرٹس کونسل لائبریری
کمیٹی اور سوشل اسٹوڈنٹس فورم کی تقریب
سوشل اسٹوڈنٹس فورم اور آرٹس کونسل لائبریری کمیٹی کے اشتراک سے ’’ورلڈ بک ڈے‘‘ کے سلسلے میں پُروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ تقریب جناب سعید الظفر صدیقی نے کہا کہ پوری دنیا میں کتاب کی بڑی اہمیت ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا راز ریسرچ اور جدید علم پر مہارت ہے۔ جب تک مسلمانوں نے علم و حکمت پر عمل کیا، ہر میدان میں کامیابی حاصل کی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی کتاب کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے طالب علموں کو تعلیم کے ساتھ تربیت بھی دیں۔ قبل ازیں فورم کے چیئرمین نفیس احمد خان نے خطبۂ استقبالیہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم فورم کی جانب سے تعلیم و صحت کے میدان میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ہماری دلی خواہش اور کوشش ہے کہ ہم اس معاشرے میں صحت مندانہ سرمگرمیاں جاری رکھیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی سابق مشیر اقبال یوسف نے کہا کہ کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور معاشرے میں مثبت علم کو پھیلانا بھی عبادت ہے۔ انھوں نے کہا کہ قوموں کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ علم کو عام کیا جائے۔ لائبریری کمیٹی کے چیئرمین سہیل احمد نے کہا کہ ہم آرٹس کونسل میں ہر مثبت سرگرمی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور سب سے زیادہ پروگرام بھی لائبریری کمیٹی ہی ترتیب دیتی ہے۔ تقریب سے رضی الدین سید نے کہا کہ میں نے 30 سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ علم کو فروغ دیا جائے، انسانوں کا احترام کیا جائے، مذہبی اور نسلی منافرت کو دور کیا جائے اور انسانیت کو فروغ حاصل ہو۔

معروف کوئز کے بے تاج بادشاہ ذکی احمد ذکی نے کہا کہ میں نے اب تک 32 سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں اور اِن شاء اللہ مزید 50 کتابیں جلد منظر عام پر آئیں گی۔ رضی الدین سید نے کہا کہ اچھی کتاب لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ گہرا مطالعہ ہو۔ تقریب سے ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر نے کہا کہ آج کے دور میں کتاب پڑھنا، کتاب لکھنا ایک معجزہ ہے، مگر اچھی کتابوں کو سنبھالنا سب سے مشکل کام ہے۔ میرے والد نے ڈیڑھ لاکھ کتابیں گفٹ کی ہیں جن کو سنبھال کر رکھنا بھی ذمے داری والا کام ہے۔ عنبریں نے بڑے طنزو مزاح کے ساتھ محفل کو زعفران زار بنا دیا۔ تقریب سے صغیر احمد جعفری، صبیحہ صبا، م ص ایمن، سید شائق ایاز، فہیم برنی، وقار زیدی، ناز عارف ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں مہمانوں میں فورم کے چیئرمین نفیس احمد خان، وائس چیئرمین فہیم برنی، سید شائق ایاز، سینئر نائب صد رمحمد رفیع احمد خان نے ایوارڈز تقسیم کیے۔ ان میں صدرِ تقریب سعید الظفر صدیقی، رضی الدین سید، ذکی احمد ذکی، حمیدہ کشش، سہیل احمد ، وقار زیدی کے نام شامل تھے۔

٭ہمارا سماج اورپاکستانی زبانیں

اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام ’’ہمارا سماج اورپاکستانی زبانیں ‘‘ اور مشاعرے کا انعقاد اکادمی ادبیات کراچی دفتر میں کیا گیا جس کی صدارت امریکا سے آئے ہوئی معروف شاعرہ ،دانشور، ڈاکٹر صبیحہ صبا نے کی، مہمان خاص سہیل احمد چیئرمین ادبی کمیٹی آرٹس کونسل تھے، صدر محفل نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ دنیا کی بڑی زبانوں کی فہرست پر نظر دڑوائیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ دنیا کی زیادہ بڑی زبانیں وہی ہیں جن میں دوسری زبانوںکے علمی و ادبی سرمائے کے زیادہ سے زیادہ تراجم ہوئے ہیں، آج انگریزی زبان محض اس لئے پوری دنیا میں چھائی ہوئی ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میںجب کوئی قابل ذکر ادبی کتاب چھپ کر منظر عام پر آتی ہے تو اس کا انگریزی میں فوراً ترجمہ ہوتاہے ۔مثلاً اگر ہمیں فرانسیسی کی کوئی کتاب پڑھنی ہوتو ظاہرہے ہمیں انگریزی کے ذریعے ہی اس سے استفادہ کرنا ہوگا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب ان ممالک میںبھی جہاں انگریزی زبان نصاب کے طور پر نہیں پڑھائی جاتی انگریزی سیکھنے کا رجحان بڑھ رہاہے۔ اس وقت پاکستان میںبھی ۱۸؍ زبانیںبولی جاتیںہیں لیکن اُردو ، بلوچی، راجستھانی ، کچھی، براہوی، پشتو، سرائیکی،کشمیری، مارواڑی، بروششکی ، پنجابی، سندھی، کوہستانی، ہندکو، بکتی پوٹھوہاری، شینا ، گوجری، ان کا جو علمی وا دبی ذخیرہ موجود ہے ان کو کیسے پڑھیں اور کیسے سمجھیں جبکہ تمام زبانوں کے کئی الفاظ ایک دوسرے میں ضم بھی ہوچکے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام زبانوں کے ادب کے تراجم کو عام کیا جائے ۔ مہمان خاص سہیل احمدنے کہا کہ ترجمے ہوںگے تو ہم ایک دوسرے کی ثقافت ،لوک ادب ہویا مزاحمتی ادب یا جدید ادب اس کو سمجھنے میںآسانی ہوگی۔ جب سمجھ آئے گی تو ہم ایک دوسرے کے قریب آئیں گے، قریب آئیں گے تو محبت بڑھے گی اور نفرتوں کا خا تمہ ہوگا۔ سرائیکی اور پنجابی میںمرثیہ صرف ایک صنف سخن ہی نہیںبلکہ دینی شاعری کا ایک مستقل موضوع رہاہے۔ ان زبانوںمیں مرثیے شہادت ناموں ، جنگ ناموں اور حسینی دوھڑوں کی شکل میں مختصر نظموں کی شکل میں ملتے ہیں۔ فارسی کی اُردو میںجلوہ نمایا ں ملیںگے۔ ہم پیالہ وہم نوالہ ہم مشربی کے طور پر ملی جلی زبان بولی جاتی ہے۔ سندھی کی براہوی مستقل مزاجی لوک کہانیوں میں ملتی ہیں ۔بکتی پوٹھواری شینا گوجری غزل گوہوںیا نظمیں یا ثقافت زبانوں کی حوالے سے ایک دوسرے کا ساتھ ایسے جڑے ہوئے ہیں جیسے ایک ہی زبان سے نکلی ہوئی شاخیں ہیں۔ کوہستانی، ہندکو، بروششکی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئی ہیں۔ پشتو اور ہندکو کاجائزہ لیں تو ایک ہی لہجہ محسوس ہوتا ہے ۔

اس موقع پر ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہا کہ اسی طرح اُردو ایک ایسے جلوس کی شکل میں رواںدواںہے جولشکر کی طرح ہر بازار سے گزرتا ہے ، بہ قدرِ ضرورت سیراب ہوتا ہے۔ اس میںتمام زبانوں کے علم بھی جابہ جالہراتے نظرآتے ہیں ۔لیکن سب سے زیادہ جلوہ نما اپنے شمسوں کو چمکاتی فارسی کی بلند عمارات ہیں جو اس جلوس کی رونق کو دوبالا کئے جاتی ہے ۔اس موقع پر جن شعرا ئے کرام نے کلام پڑھا ان میں صبیحہ صباؔ، سہیل احمد، عرفان علی عابدی، سید مشرف علی ، سید علی اوسط جعفری، عظمی جون، گوہر فاروق،محمد رفیق مغل، محمد معظم صدیقی، تنویر حسین سخنؔ، ڈاکٹر محمد رب نوازخانزادہ، الحاج یوسف اسماعیل، سید صغیر احمد جعفری، ڈاکٹر رحیم ہمرزو،ذوالفقار حیدر پرواز،دلشاد احمد دہلوی، الطاف احمدنے اپنا کلام پیش کیا۔ قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے آخر میں اکادمی ادبیا ت پاکستان کے جانب سے حاضرین محفل کاشکریہ ادا کیا۔

٭ ماہوار سورمی ،کراچی رسالے کی جانب سے قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر اکادمی ادبیات پاکستان صوبہ سندھ ۔ کراچی کو گذشتہ ۴ برس سے ہفتہ وار مشاعروں اور دیگر تقریبات کو تسلسل سے کامیابی سے جاری رکھنے پر بہترین آرگنائزر کے اعتراف میں قادربخش سومرو کو’’ بہترین کارکردگی ایوارڈ ‘‘امریکا سے آئی ہوئی معروف مشاعرہ ڈاکٹر صبیحہ صبا اور سہیل احمد چیئرمین ادبی کمیٹی آرٹس کونسل کراچی نے پیش کیا۔

٭نیشنل بک فائونڈیشن کراچی کے ریجنل آفس واقع بریل کمپلیس نزد PTV اسٹیشن میں بسلسلہ قومی یوم کتاب تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری کالجز پرویز احمد سیہڑ نے کہا کہ نصابی کتب علم فراہم کرتی ہیں اور غیر نصابی کتب تربیت کیلئے بہت معاون و مدد گار ہوتی ہیں۔ کتابیں تاریخ سے ہمارا رشتہ جوڑتی ہیں اور ہمارے حال کو محفوظ رکھتی ہیں۔ یہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جنہیں ہم نے نئی نسل کو منتقل کرنا ہے ۔ کتاب کلچر کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے جسے NBF ارباب علم کے ساتھ مل کر بخوبی انجام دے رہی ہے ۔ انہوں نے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر انعام الحق جاوید، بک ایمبسیڈر سید سلطان خلیل کی خدمات کو بھی سراہا۔ مہمان اعزاز ی ڈائریکٹر کالجز معشوق علی بلوچ نے کہا کہ ہمارا قومی فریضہ ہے کہ ہم ملک میں علم کی روشنی کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اسی سلسلہ میں سیکریٹری تعلیم نے بھی کتابوں کی خریداری کیلئے فنڈ مختص کیا ہے جس سے اسکولز، کالجز کی لائبریوں میں معیاری اور مفید معلوماتی کتابوں کا گراں قدر اضافہ ہورہا ہے ۔ معروف کالم نگار نوخیز انور صدیقی نے کہا کہ علم کے فروغ کیلئے کتاب بہت ضروری ہے مگر جعلی پبلشروں نے آج کتاب کو بہت مہنگا کردیا ہے مگر NBF ااج بھی رعایتی قیمت پر اہم اور معیاری کتب لوگوں کو فراہم کررہا ہے ۔ جو خوش آئند اقدام ہے ۔ NBF کے ریجنل ڈائریکٹر علی حیدر بھٹو نے کہا کہ ہم یہ کتاب میلہ جلد ہی کراچی کے اسکولز، کالجز تک لے جائیں گے ۔ جہاں طلباء کو بھی کتب بینی کی طرف راغب کیا جاسکے گا اور انکی دلچسپی کی کتابیں رعایتی نرخوں پر انہیں فراہم کریں گے ۔ اس موقع پر بک ایمبیسیڈر سید سلطان خلیل نے بتایا کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی اور مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے کراچی میں شہر کتاب کے قیام کیلئے عمل درآمد تیز کردیا ہے جہاں سو سے زائد کتب کے اسٹالز ہوں گے جو کتاب کلچر کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ورلڈ بنک اور سندھ حکومت کے ساتھ مل کر سندھ کے تمام علاقوں میں غیر نصابی کتب کے ساتھ نصابی کتب بھی 50% فیصد رعایت پر مہیا کرنے کے اقدامات کررہے ہیں اور موبائل لائبریری بس پر بھی کام ہورہا ہے ۔ اس موقع پر انچارج کالجز بک سپلائی محسن علی ناریجو نے بتایا کہ ہم نے اس سال کراچی کے بیشتر کالجز میں بڑی تعداد میں کتابیں فراہم کی ہیں اور یہ سلسلہ تیز سے تیز تر ہورہا ہے ۔ معروف صحافی حنیف عابد نے تقریب کی خوبصورت نظامت کرتے ہوئے کہا کہ کتاب وہ ورثہ ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کون ہیں اور کیا ہیں ، تقریب میں موجود بچوں کے ادب پر خصوصی کام کرنے والے ادیب صحافی عبدالصمد تاجی نے پرائمری سطح کے اسکولز میں کتاب میلے منعقد کرنی کی تجویز دی ۔ تقریب میں سید خورشید احمد ، شعیب ناصر، سید عبداللہ شاہ، عبدالحمید ابڑو، ڈاکٹر شبیر، سکینہ سموں، میڈم طلعت شبیر، خالد انور ، عبدالرزاق کے علاوہ بڑی تعداد میں اہل علم نے شرکت کی۔


متعلقہ خبریں


پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک وجود - منگل 17 مارچ 2026

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - منگل 17 مارچ 2026

رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم) وجود - منگل 17 مارچ 2026

بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم)

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا وجود - منگل 17 مارچ 2026

سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

مضامین
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو! وجود جمعه 20 مارچ 2026
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو!

''را''کے خلاف امریکی پابندی وجود جمعه 20 مارچ 2026
''را''کے خلاف امریکی پابندی

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی وجود جمعه 20 مارچ 2026
امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری وجود جمعرات 19 مارچ 2026
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو وجود جمعرات 19 مارچ 2026
خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر