وجود

... loading ...

وجود

چائلڈ لیبر۔معاشرے کی بدنما تصویر

پیر 30 اپریل 2018 چائلڈ لیبر۔معاشرے کی بدنما تصویر

کبھی اپنی روزمرہ کی مصروف زندگی سے اور اپنی ذات سے نظر اٹھا کر دیکھیں تو آپ کو اپنے اردگرد اطراف میں کتنے ہی ایسے پھول سے معصوم چہرے نظر آئیں گے جو حسرت و یاس کی چلتی پھرتی تصویریں ہیں۔ ان کی آنکھوں کو قریب سے دیکھیں تو ان میں آپ کو کتنے ہی خواب مرتے نظر آئیں گے۔ کبھی ان کے اداس لپوں کا تصور کیجے ،کیا آپ کو ایسا لگا ہوگا کہ یہ کبھی مسکرائے بھی ہوں گے؟

ان کی زندگی روزمرہ مشقت کی ایسی تصویر ہے جس میں صرف انہیں کام ہی کرنا ہے اور پھر بھی وہ اپنی محنت کے حساب سے معاوضہ نہیں پاتے۔ان کا معاشی، جسمانی، روحانی استحصال کیا جاتا ہے۔ معاشی اس لحاظ سے کہ ان کی عمر کے مطابق اور وقت کا حساب کیے بغیر بے حساب کام لیا جاتا ہے اور انہیں ان کی محنت کا اتنا صلہ نہیں ملتا جس کے وہ حقدار ہیں۔جسمانی اس لحاظ سے کہ اس قدر نوعمری میں استطاعت سے زیادہ کام لیا جاتا ہے۔ ان کے کام کے اوقات مخصوص نہیں ہیں۔ ان کے جسم درد سے بکھر رہے ہوں مگر انہیں دن کی دیہاڑی پوری کرنی ہے۔ روحانی استحصال اس انداز میں کہ کبھی انہیں جھڑکیاں ملتی ہیں اور کبھی مختلف سزائیں انہیں ذلت کا احساس دلانے کے لیے ملتی ہیں۔ کیا کبھی کسی نے سوچا ہے ان کے ساتھ جو یہ سلوک کیا جاتا ہے، تو ان کے دل پر کیا گذرتی ہے۔وہ کس کرب سے گزرتے ہیں۔ کیا معاشرے میں بسنے والے افراد کے دل میں ان کے لیے کسی قسم کا احساس بیدار نہیں ہوتا ؟

یہاں بات کی جارہی ہے ان معصوم پھول جیسے بچوں کی جن کی عمریں بمشکل 5 سے 10 سال کی ہیں اور وہ پورے کنبے کا بوجھ اٹھانے کے لیے صبح منہ اندھیرے گھر سے نکلنے پر مجبور ہیں۔ ان سبھی بچوں کے گھروں کی یہی کہانی ہے۔ گھر کے افراد زیادہ ہیں اور باپ نشے میں دھت اپنی ذمہ داریوں سے دور۔ ہر احساس سے عاری، اولاد تو پیدا کرلیتے ہیں مگر ان کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں تبھی ان ننھے محنت کش کاریگر بچوں کو اپنے بچپن کی معصومیت اور شرارتوں کو بھول کر زندگی کی مشقت زدہ شاہراہ پر قدم رکھنا پڑتا ہے جہاں قدم قدم پر ان کے لیے ایک نیا امتحان ہے۔

آپ صبح اپنے کام پر جانے کے لیے گھر سے نکلتے ہیں راستے میں آپ کو کسی دکان پر ، کسی ڈھابے پر، چوراہوں پر ، ٹریفک سگنلز پر، بے شمار ایسے بچے نظر آئیں گے جو اپنی عمر سے بڑھ کر بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔کہیں ان کے ہاتھ سخت اوزار پکڑے گاڑی کے نٹ بولٹ ٹھیک کرتے ، ٹائر مرمت کرتے نظر آئیں گے ، تو کہیں ڈھابے پر چائے کی ٹرے پکڑے گاہکوں کے آگے پیچھے بھاگتے نظر آئیں گے اور اگر کہیں ٹرے ان کے ہاتھوں سے پھسل کر گر جائے اور کپ ٹوٹ جائیں تو ان کے ننھے گالوں پر پڑنے والے طمانچوں کی تکلیف کوایک لمحے کے لیے محسوس کر کے دیکھئے گااگر آپ حساس دل کے مالک ہیں تو آنکھوں میں نمی آئے بغیر نہیں رہے گی۔مگر کچھ لوگوں کے نزدیک یہ روز کا معمول ہے۔

چائلڈ لیبر کے حوالے سے بات کی جائے تو پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جہاں چائلڈ لیبر کا تناسب 37فیصد ہے اور اس میں 49 لڑکے اور 51 لڑکیاں ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں میں اس تناسب میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ یہ کم عمر بچیاں کوٹھیوں میں صبح سے شام تک کام کرکے اپنے گھروں کی کفالت کرتی ہیں۔ ان کی زندگی بھی آسان نہیں ہے۔ ان کی الگ درد بھری کہانی ہے۔ ان گھروں میں ان کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے۔وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ کہیں ان پہ چوری کا الزام لگا کر تشدد کیا جاتا ہے تو کہیں ان کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے۔ ان کی زندگی برباد کردی جاتی ہے۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ یہ معصوم عزت جانے پر بھی خاموش رہتی ہیں جس کے باعث اس نوع کے جرائم میں مزید اضافہ ہوتا ہے اور کوئی اس جرم کے خلاف آواز بھی بلند نہیں کرتا۔ اخبارات میں کتنے ہی ایسے واقعات آپ کی نظروں کے سامنے سے گزرے ہوں گے اور آپ نے سرسری نظر سے پڑھا بھی ہوگامعصوم بچیوں پر تشدد کیا گیا۔ اور ان کے ساتھ انسانیت سوز سلوک روا رکھا گیا۔ اس سلسلے میں انہیں انصاف بھی نہیں ملا۔ نہ جانے کتنے ایسے کیس ہوں گے جو منظر عام پر بھی نہیں آسکے۔

سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ تمام بچے جن کی عمریں بمشکل 13 سے 15 سال ہیں زندگی کے مشکل دور سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ ان کو نہ تعلیم ، خوراک اور لباس جیسے مسائل کا سامنا ہے بلکہ بعض اوقات زندگی سختیوں سے گھبرا کر یہ مختلف جرائم کی راہ اختیارکرلیتے ہیں۔ کسی گروہ کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔ پھر ساری زندگی اسی دلدل میں گزار دیتے ہیں جبکہ صرف ذرا سی کوشش سے انہیں معاشرے کا مفید فرد بنایا جاسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی۔ ایل۔ او) کے تحت ہر سال 12 جون کو بچوں سے جبری مشقت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس کا آغاز 2002 ء میں ہوا تھا۔ آئی ایل او کے تحت کیے گئے سروے کے مطابق پاکستان میں چائلڈ لیبر کی تعداد ایک کروڑ سترہ لاکھ تھی اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ SPARC نامی ایک این جی او کیے گئے سروے کے مطابق پاکستان 2 کروڑ4 لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے جبکہ 1کروڑ 5لاکھ بچے کسی نہ کسی معاشی سرگرمی میں شامل ہیں۔چائلڈ لیبر کے حوالے سے بنے عالمی قوانین کی بات کی جائے تو اس کے مطابق ان کی یومیہ اجرت، کام کے اوقات اور اس میں وقفہ اور ساتھ ان سے غیر انسانی سلوک کرنے پر سخت اصول بنائے گئے ہیں۔ دنیا کے کتنے ہی ممالک ایسے ہوں گے جو ان پر عمل کرتے ہوں گے۔ممکن ہے کسی حد تک انسانیت ان میں زندہ ہو۔اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ ہمارے ملک میں ہر طرح کے قوانین بنائے جاتے ہیں مگر ان پر عمل نہیں کیا جاتا۔ ہماری روزمرہ زندگی میں متعدد واقعات ایسے سامنے آتے ہیں جن میں قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہوتیں ہیں۔ ٹریفک قوانین کی پابندی سے لے کر دفتری اوقات کی پابندی تک ، ہم اپنے اخلاقی رویوں میں ہر قسم کے قانون سے آزاد ہوچکے ہیں۔

اس میں سب سے زیادہ استحصال لیبر قوانین کا کیا جاتا ہے جس کا شکار یہ معصوم بچے ہوتے ہیں اس کا اندازہ ان کی شب وروز کی زندگی سے لگایا جاسکتا ہے کہ جہاں وہ زندگی کی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ قوم کے ان نونہالوں کے مستقبل کی یہ ضمانت بھی نہیں دی جاسکتی کہ وہ کم از کم کبھی زندگی میں اس مقام پر بھی ہوں گے کہ وہ مشقت بھری اس زندگی سے نجات پاسکیں۔کیا ان کا صرف یہی ایک خواب پورا نہیں کیا جاسکتا؟پاکستان میں متعدد این جی او اور فلاحی ادارے اپنے طور پر کام ک رہے ہیں مگر ان کی مالی استطاعت میں اضافہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہو تاکہ یہ کام مؤثر اور وسیع پیمانے پر ہوسکے اور مزدور بچوں کی زندگی سنور سکے۔اس سلسلے میں خوش آئند بات یہ ہے کہ 2014 ء میں پنجاب نے پہلی بار ساؤتھ ایشیا لیبر کانفرنس بلا کر چائلڈ لیبر خاتمے کے لیے پہلے میگا پروجیکٹ مربوط منصوبہ برائے بچگانہ وجبری مشقت کا خاتمہ کا آغاز کیا۔اس پروجیکٹ کا مقصد چائلڈ لیبر کی بدترین صورتوں کا خاتمہ، قرج کی ادائیگی کے نام پر جبری مشقت کا خاتمہ، متاثرہ خاندانوں کی بحالی، جبری مشقت کے خلاف قوانین کی مضبوطی اور افسران کی استعداد کار میں اضافہ کرنا تھا۔کچھ وقت کے لیے یہ پروگرام تعطل کا شکار رہا۔ شاید اس پر مکمل طور سے عمل درامد نہیں ہوسکا۔مگر اس سلسلے کی خوش آئند بات یہ ہے کہ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیر خزانہ پنجاب ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے محنت کش بچوں کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان کرتے ہوئے ان کے لیے ایوننگ اسکولز بنانے کا اعادہ کیا ہے جنہیں سرکاری اسکولوں اور ٹیکنیکل کالجوں کی عمارتوں میں محنت کش بچوں کے لیے بنایا جائے گا۔

ایک کثیر الاشاعت اخبار کی 7 مارچ 2018ء کی خبر کے مطابق محکمہ اسکول ایجوکیشن، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن، ٹیوٹا اور لیبر اینڈ ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ مل کر منصوبے کو حتمی شکل دیں گے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر عائشہ غوث نے کہا کہ ان بچوں کی استحصالی مشقت ختم کرنے کے لیے ان بچوں کے ماہانہ وظائف اور ان کے والدین کی مالی مدد کی جائے گی۔ ان میں آٹوورکشاپس،پیٹرول پمپس،قہوہ خانوں اور ہوٹلوں میں کام کرنے والے بچوں کو اسکول میں داخلہ دیا جائے گا اور جلد ہی اس کا دائرہ کار چائلڈ لیبر کے تمام ممکنہ شعبوں تک پھیلایا جائے گا۔ان بچوں کو رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت بھی دی جائے گی۔

اس خبر کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ زاہد سعید نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ اگلے اجلاس میں موجودہ صورتحال کے مطابق درپیش مسائل اور وقت و اخراجات کا تخمینے کے ساتھ شرکت کریں تاکہ پروگرام پہ جلد عمل کیا جاسکے۔ یہ ایوننگ اسکول پروگرام نوعمری میں مجبوری کے تحت کام کرنے والے بچوں کو ا سکول تک لے آئے گا اور ان کے بہتر مستقبل کا ضامن ہوگا۔یہ ایک مثالی اور روشن قدم ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس انقلابی اقدامات کو نہ صرف نیک نیتی اور خلوص سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے بلکہ اسے مثال بناکر ایسے اقدامات دیگر صوبوں میں بھی کیے جائیں تاکہ مستقبل کے یہ معمار پاکستان کی ترقی وخوشحالی کے ضامن بن سکیں۔ایک عام آدمی کی حیثیت سے یہ سوچنا کہ ہم کیا کرسکتے ؟ کافی نہیں۔ ہر فرد اگر اپنی جگہ پر صرف ایک چھوٹی سی نیکی کے طور پر احساس کرتے ہوئے کسی حد تک مالی مدد یا ذرہ بھر ضرورت بھی پوری کر دیں ،آپ یقین مانیے یہ نیکی قظرے سے سمندر بن سکتی ہے۔ ہر ایک قدم پر حکومت کی طرف نظر کرنا بھی غلط ہے۔ یہ کام کسی حد تک معاشرے کا ہر فرد اپنی جگہ کر سکتا ہے۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ لا سکت ہے۔ان میں ہی کہیں پاکستان کا روشن مستقبل بھی چھپا ہوا ہے۔کسے معلوم ان بچوں کی صلاحیتیں ابھارنے پر ان میں کہیں ڈاکٹر عبدالسلام ، ڈاکٹر عبد القدیر خان موجود ہوں، کہیں عبد الستار ایدھی ہوں جو انسانیت کی فلاح کے روشن چراغ تھے۔ ان میں ہی کہیں ملک کا کوئی ایسا لیڈر موجود ہو جو اس ملک کے لیے نجات دہندہ بن سکے کسے معلوم؟


متعلقہ خبریں


ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف وجود - جمعه 30 اکتوبر 2026

ایران پر دباؤ ڈالنے اور مراعات دینے کی حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہیں ہوگی، بیان ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں۔ ایران کی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایکس پر بی...

ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

مضامین
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش

تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر