وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کراچی کی ادبی ڈائری

اتوار 29 اپریل 2018 کراچی کی ادبی ڈائری

صفدر علی انشا کے مجموعے’
’ آبیل…‘‘ کی رسمِ اجرا
معروف مزاح گو شاعر،صحافی اور اُستاد پروفیسر صفدر علی انشا کے پہلے مزاحیہ شعری مجموعے’’ آبیل …‘‘کی رسمِ اجرا ٗ پاکستان امریکن کلچرل سینٹر میں ہوئی جس کی صدارت پروفیسر منظر ایوبی نے کی، مہمانِ خصوصی جناب مسلم شمیم اورتقریب کے میزبان پروفیسر ہارون رشید تھے،اظہارِ خیال کرنے والوں میں ،ظہیر خان،ڈاکٹر نزہت عباسی اورجمال احمد جمال تھے،ارشد ندیم نے ابتدائی کلمات ادا کیے،پروفیسر ہارون رشید نے کہا کہ پی اے سی سی میں ادیبوں کے ساتھ شام منانے کا سلسلہ بہت عرصے سے جاری ہے،ہم نے مشتاق احمد یوسفی،ڈاکٹر جمیل جالبی،پروفیسرسحر انصاری،پروین شاکر،فاطمہ حسن ،انور شعور وغیرہ کے ساتھ یادگار شاموں کا انعقاد کیا ہے،آج صفدرعلی انشا کے ساتھ یہ شام اسی سلسلے کی کڑی ہے،صفدرعلی انشا فطری مزاح نگار ہیں،ان کی شاعری میں ابتذال اور پھکڑ پن نہیں، تہذیب ہے،آپ نے سیاسی ومعاشرتی مسائل پر ظریفانہ انداز میں نظر ڈالی ہے،معاشرے کی حقیقتوں کو بیان کیا ہے،قطعات،غزل،نظم اور واسوخت کی صنف میں مزاح کے جوہر دکھائے ہیں،کتاب کا سرورق بھی جاذب نظر ہے،جمال احمد جمال نے منظوم تاثرات کا اظہار کیا،ڈاکٹر نزہت عباسی نے کہا کہ صفدر علی خان ادبی مجلہ انشانکالتے نکالتے خود بھی انشا ہوگئے ہیں،انشا اللہ خان انشا اور ابنِ انشا کے بعد صفدر علی نے انشا کی ہیٹ ٹرک مکمل کرلی ہے،کتاب کا نام اور سرورق دونوں معنی خیز ہے،آپ نے اپنی شگفتہ شاعری کے ذریعہ معاشرے کے بدعنوان عناصر کو للکارا ہے،اُردو ادبیات کے اُستاد ہونے کی حیثیت سے وہ زبان و بیان کی باریکیوں سے واقف ہیں، ان کا مجموعہ ذاتی زندگی سے لے کر ہماری اجتماعی زندگی کے کئی پہلووں کا منظرنامہ ہے،ظہیر خان نے کہا کہ سنجیدہ بات کو مزاح کا رنگ دینا آسان کام نہیں ۔وہ بھی اس طرح کہ پڑھنے والے کو ناگوار نہ گزرے،صفدر علی بھی سخت سے سخت بات کو مزاح کے دلنشین پیرائے میں کامیابی سے پیش کرتے ہیںجو کہتے ہیں سچ کہتے ہیں،سچ کے سوا کچھ نہیں کہتے،صفدر علی انشا نے اپنے مزاحیہ کلام سے حاظرین کو تادیر محظوظ کیا۔

کچھ وفاقی قسم کے اب خواب آتے ہیں نظر
اب سکونت کے لیے دارالحکومت چاہیے
ایک دن میں بھی بنوں گا صدر بس لب پر مرے
تین سو پینسٹھ دنوں تک مُسکراہٹ چاہیے

مہمانِ خصوصی جناب مسلم شمیم نے کہا کہ صفدر علی انشا کی شاعری عصری صورتِ حال کا آئینہ ہے،آج کا زمانہ بولتا ہے،ادب کے سماجی کردار کو بڑی خوبی سے بیان کیا ہے،شعری محاسن بدرجہ اتم موجود ہیں۔ معاشرے کی تفہیم اور اس کے لیے مواد فراہم کرتا ہے،اس میں مزاح کے ساتھ دانشمندانہ فکر موجود ہے۔ صدرِ محفل پروفیسر منظر ایوبی نے صدارتی خطاب میں کہا کہ اُردو شاعری میں مزاحیہ شاعری کا سلسلہ اکبر الہ آبادی سے شروع ہوتا ہے جو سرسید تحریک کا ردعمل تھا ،وہ سرسید کے مخالف نہیں تھے، انہیں اس بات کا غم تھا کہ مسلمانوں کی تہذیب واقدار کا خاتمہ ہورہا ہے،سید جعفری،ضمیر جعفری،دلاور فگار، ضیا الحق قاسمی،انور مسعود،خالد عرفان نے مزاح نگاری کی صنف میں بڑے کمال دکھائے ۔مزاح نگار اشارے کنائے سے معاشرتی برائیوں پر لکھتا ہے۔ صفدرر علی انشا کی شاعری میں طنزِ ملیح اورطنزِ لطیف ہے،طنزِ کثیف نہیں ہے،مزاح نگار خود روتا ہے مگر دوسروں کو ہنساتا ہے،اصلاح معاشرہ کا کام کرتا ہے،آخر میں نجم الدین شیخ نے پی اے سی سی کی جانب سے صفدر علی انشا کو یادگاری شیلڈ اور مہمانوں کو گلدستے پیش کیے۔

٭پشتوزبان کے عظیم شاعر
اجمل خٹک کی یاد میں مذاکرہ و محفل
اکادمی ادبیا ت پاکستان کے زیراہتمام پشتوزبان کے عظیم شاعر اجمل خٹک کی یاد میں مذاکرہ و محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت اُردو زبان کے نامور ادیب دانشور مسلم شمیم نے کی، مہمانان خصوصی حمید خٹک ،کینڈا سے آئے شاعرہ پروین سلطانہ صبا، سرور شمال ، شگفتہ شفیق،سعودی عرب سے آئے ہوئے باقر عباس فائز تھے ۔صدارتی خطاب میں کہا کہ اجمل خٹک ان اکابرین ادب سے ہیں جو دلوںمیں یاد بن کر رہتے ہیں دماغوں میں خیال بن کر رہتے ہیں کتابوںمیں زندہ رہتے ہیں۔ پشتو زبان میںغزل کی مقبولیت کا راز اس کی ایمائیت اور اشاریت ہے یعنی شاعر مضمون کی چند کڑیاں حذف کردیتا ہے اور جب پڑھنے والا یہ کڑیا ں جوڑ کر مطلب فہمی کے عمل سے گزرتا ہے تو اسے ایک نفسیاتی سکون اور فاتحانہ مسرت محسوس ہوتی ہے۔ آپ کی شاعر میں جہاںبزم کافاؤنوش ہے وہاں رزم کی ہنگامہ آرائی بھی ہے معاشرت کی عکاسی بھی ہے اور چشم دید منظر کشی بھی ہے۔یہ ہی رنگارنگی ہے اور یہ ہی تنوع ہے جس نے اجمل خٹک کو غزل کا بابائے پوئیٹری بنادیا ہے۔ پشتو زبان کے معروف دانشورر حمید اللہ خٹک نے کہا کہ بابائے پشتو پوئٹری اجمل خٹک کی زندگی کے کئی پہلو ہیں ۔ وہ پشتوں زبان کے ایک نامور انقلابی شاعر اور ادیب تھے انہو ں نے تیرہ کتابیں لکھی ہیں جن میں اُردو کی کتابیںبھی شامل ہیں۔ ان کا پہلا شاعری مجموعہ ’’دی غیرت چغہ‘‘ (غیرت کی چیخ ) کتاب کی شکل یں ۱۹۵۸ء میں شائع ہوئی بعد میں اس کتاب پر پاکستان اور افغانستان پر پابندی بھی لگائی گئی تھی۔اجمل خٹک نے صحافت کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا وہ پشتو اور اُردو زبانوں کے کئی اخبارات اور رسائل کے مدیر رہے جن میںانجام، شہباز، عادل، رہبراور بگرام قابل ذکر ہیں ۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہاکہ اجمل خٹک پشتوادب شاعری کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز بھی ہے۔ پشتو غزل نے صدیوں پہلے اپنے سفر کے اوّلین موڑ پر یہ روایت توڑ ڈالی تھی آج سے تقریبا ً ۴ سوسال پہلے کے شاعر شمشیر زن خوشحال خان خٹک کے قلم نے غزل کے میدان میں تلوار زنی کے جوہر دکھائے تھے اجمل خٹک بیسویں صدی کی پشتو غزل کے سرخیل ہیں آپ کا شعر قدیم وجدید رنگ اور طرز کا ایک حسین امتزاج بھی ہے اجمل خٹک کے یہاںجدت اور روایت ساتھ ساتھ چلتے نظرآتے ہیں غزل کے قدیم روایتی موضوعات اپنی تمام ترشعری رعایتوںاور تلازمات کے حسن اور مغویت کے ساتھ ایک نیا رنگ اور آہنگ لیے اجمل کی غزل میں بالکل ایک نئی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ دنیا میں ایسا کوئی ترازو نہیں بنا تھا جو اس با ضمیر شاعر کو تول سکتا وہ ان خا ص لوگوں میںتھے جو اس جمہوری اقدار کے لیے جیتے مرتے تھے۔آپ کئی کتابوںکے مصنف تھے جن میں گل پرھر (ننگ و افغان)( نثر ) ۹۹۰اء قصہ زمادا دبی جوند دازا پاگل ؤم (نثر) ۲۰۰۵ء آپ کو کئی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا جس میںبڑا ایوارڈ اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے کمال فن ایوارڈ سے بھی ان کو نوازگیا۔ آپ کو بابائے پشتو پوئٹری بھی کہاجاتا ہے۔مذاکرے کے بعدہونے والے مشاعرے میں مسلم شمیم ، محب محبوب ، سرور شمال ، حمید خٹک ایڈوکیٹ، شگفتہ شفیق ، گلشن سندھو، نصیر سومرو ، اظہر بانبھن ، سجاد میرانی، عبدالمجید محور، عرفان علی عابدی، رسول بخش چنا، الطاف احمد، نشاط غوری، غازی بھوپالی، فہمید مقبول، زرا صنم ، فرح دیبا، عظمی جون، زرجان مراخیل، سیف الرحمٰن سیفی ، سید علی اوسط جعفری، صدیق راز ایڈوکیٹ ، سید مخدوم علی ریاض، آزا د حسین آزاد، سید صغیر احمد جعفری، پروین سلطانہ صبا، باقر عباس فائیز، سیدہ زرین سعود، اقبال سہیوانی، دلشاد احمد دہلوی، کھتری عصمت علی پٹیل، راشد چاند،نے اپنا کلام سُنا کر اجمل خٹک کی عظمت کوخراج تحسین پیش کیا۔ اس تقریب کی نظامت قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے کی اور آخر میں اکادمی ادبیا ت پاکستان کے جانب سے شکریہ ادا کیا۔


متعلقہ خبریں


ایک عشرے میں نابالغ لڑکیوں کی شادیوں میں نمایاں کمی ہوئی، یونیسیف وجود - هفته 08 جون 2019

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں بچیوں کی کم عمری میں شادی کے واقعات میں معمولی سی کمی واقع ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال، یونیسف کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادیاں 25 فیصد سے کم ہو کراکیس فیصد ہو گئی۔ اس طرح دنیا بھر میں مجموعی طور پر 765 ملین کم عمر شادی شدہ لوگ ہیں جن میں سے لڑکیوں کی تعداد 85 فیصد ہے۔ لڑکوں کی کم عمری میں شادی کم ہی کی جاتی ہے۔ 20 اور 24 سال کی درمیانی عمر کے تقریبا 115 ملین مرد اپنی شادی کے وقت نابالغ تھ...

ایک عشرے میں نابالغ لڑکیوں کی شادیوں میں نمایاں کمی ہوئی، یونیسیف

نیدرلینڈ میں کسی بھی سیاح کو مقامی فردسے ایک دن شادی کی اجازت وجود - هفته 08 جون 2019

نیدر لینڈکے شہر ایمسٹرڈیم گھومنے والے سیاح کسی مقامی فرد سے ایک دن کے لیے شادی کرسکیں گے اورشریک حیات کے ساتھ ڈیٹ پر جاکر اس شہر کی سیر کرسکیں گے۔اس انوکھے اقدام کا مقصد بہت زیادہ سیاحوں کی آمد سے مرتب ہونے والے منفی اثرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس وقت سالانہ اس شہر میں ایک کروڑ 90 لاکھ سیاح آرہے ہیں اور یہ تعداد ایک دہائی میں تین کروڑ کے قریب پہنچنے کا امکان ہے جبکہ یہاں کے رہائشیوں کی تعداد 10 لاکھ ہے، جو سیاحت کے فروغ سے زیادہ خوش نہیں۔اس مقصد کے لیے ان ٹو...

نیدرلینڈ میں کسی بھی سیاح کو مقامی فردسے ایک دن شادی کی اجازت

لندن کی بس میں ہم جنس پرست خواتین کو مار مار لہولہان کردیا گیا وجود - هفته 08 جون 2019

لندن میں ہم جنس پرست خواتین کو مردوں کے ایک گروہ نے مار مار کر لہو لہان کردیا۔برطانوی میڈیا کے مطابق واقعہ کیمڈن ٹاؤن میں پیش آیا جہاں ایک چلتی بس میں ہم جنس پرست خواتین کو بوسہ نہ دینے پر تشدد کا نشانا بنایا گیا، 28 سالہ متاثرہ خاتون گیمونیٹ کا کہنا تھاکہ وہ رات گئے اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ بس میں سوار تھیں کہ اس دوران مردوں کے ایک جتھے نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا اور بوسہ لینے کی کوشش کی۔گیمونیٹ نے بتایا کہ بوسہ دینے سے انکار پر اسے اور اس کی دوست کو سرِعام مارا پیٹا گیا ...

لندن کی بس میں ہم جنس پرست خواتین کو مار مار لہولہان کردیا گیا

انتہائی مہلک زہررائسین سے حملے کی منصوبہ بندی کرنیوالے ملزمان عدالت پیش وجود - هفته 08 جون 2019

جرمنی میں دو ایسے مبینہ ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہو ئی جو انتہائی مہلک زہر رائسین سے حملے کے لیے ایک بم تیار کرنا چاہتے تھے۔ ملزمان میں سے ایک تیونس کا شہری ہے اور دوسری اس کی جرمن بیوی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس مقدمے کی سماعت ڈسلڈورف شہر کی انتہائی سخت سکیورٹی والی ایک اعلیٰ صوبائی عدالت میں شروع ہوئی۔ان دونوں ملزمان کو پندرہ پندرہ سال تک قید کی سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔مقدمے کی سماعت کے آغاز پر استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی کہ 30سالہ تیونسی نژاد ملزم س...

انتہائی مہلک زہررائسین سے حملے کی منصوبہ بندی کرنیوالے ملزمان عدالت پیش

جنسی طور پر پھیلنے والی بیماریوں کے انسداد میں پیش رفت نہیں ہوئی،عالمی ادارہ صحت وجود - هفته 08 جون 2019

عالمی ادارہ صحت نے جنسی طور پر پھیلنے والی بیماریوں کے انسداد میں مناسب پیش رفت نہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اورکہاہے کہ روزانہ کی بنیاد پر دس لاکھ افراد دنیا بھر میں جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کی لپیٹ میں آتے ہیں،دنیا کی مجموعی آبادی میں اوسطاً پچیس فیصد افراد کو کوئی نہ کوئی ایسی بیماری لاحق ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطاق صحت کے عالمی ادارے نے ہفتے کو جاری کی گئی اپنی ایک رپورٹ میں کہاکہ ایسی بیماریوں میں افزائش کی وجہ ڈیٹنگ ایپس کا زیادہ استعمال ہے۔ یہ...

جنسی طور پر پھیلنے والی بیماریوں کے انسداد میں پیش رفت نہیں ہوئی،عالمی ادارہ صحت

جرمنی میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات میں اضافہ وجود - جمعه 07 جون 2019

جرمنی میں جرائم کی روک تھام کے ملکی ادارے کے سربراہ ہولگر مْونش نے کہاہے کہ جرمنی میں 2018ء کے دوران پندرہ ہزار بچوں کو جنسی استحصال کا نشانابنایا گیا۔ اس سلسلے میں بچوں کو انٹرنیٹ کے استعمال کے بارے میں بہتر طور پر آگاہ کیا جانا ضروری ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرائم کی روک تھام کے ملکی ادارے کے سربراہ ہولگر مْونش نے گزشتہ روز جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاکہ 2017ء کے مقابلے میں یہ تعداد چھ فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پندرہ ہزار کا مطلب ہے کہ اوسطاً چالیس وا...

جرمنی میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات میں اضافہ

بھارت میں فضائی آلودگی سے سالانہ پانچ سال سے کم عمر ایک لاکھ بچوں کی اموات وجود - جمعرات 06 جون 2019

بھارت کے شہروں اور قصبوں میں زہرآلود فضا سے ہر سال پانچ سال سے کم عمر ایک لاکھ بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بات کا انکشاف ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر ایک رپورٹ میں کیا گیا۔یہ رپورٹ مرکز برائے سائنس اور ماحول (سی ایس ای) نے تیار کی ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کے پانی مہیا کرنے کے 86 فی صد ادارے خطرناک حد تک آلودہ ہیں۔اس نے ملک کی قابل تجدید توانائی کے لیے پیش رفت کو بھی مایوس کن قرار دیا ہے۔بھارت اپنے شہروں میں آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے میں ...

بھارت میں فضائی آلودگی سے سالانہ پانچ سال سے کم عمر ایک لاکھ بچوں کی اموات

جولین اسانج پر جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عائد وجود - جمعه 24 مئی 2019

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج پر جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عائد کردی گئی، الزامات ثابت ہونے کی صورت میں جولین اسانج کو 175برس قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔امریکی محکمہ انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ جولین اسانج نے خفیہ ذرائع کے نام غیر قانونی طور پر شائع کیے اور خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لیے انٹیلی جنس تجزیہ کار چیلسی میننگ کے ساتھ مل کر سازش کی۔حاصل کی گئی معلومات افغانستان اور عراق میں جنگوں سے متعلق تھیں۔

جولین اسانج پر جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عائد

امریکی طالبان جان واکر 17 سال بعدبھارتی جیل سے رہا،امریکی وزیرخارجہ برہم وجود - جمعه 24 مئی 2019

افغان طالبان کے نام سے اپنی شناخت رکھنے والے کیلی فورنیا کے شہری جان واکر لنڈھ کو ریاست انڈیانا کی جیل سے رہا کیا کردیا گیا۔ لنڈھ افغانستان کے قید خانے میں داڑھی کے ساتھ دیکھا گیا جہاں وہ افغان قیدیوں کے ساتھ گھل مل کر رہ رہا تھا۔ یوں وہ امریکی طالبان کے نام سے پکارا جانے لگا۔ جان واکر لنڈھ کو نومبر 2001 میں افغانستان کے ایک محاذ جنگ سے گرفتار کیا گیا تھا۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے لنڈھ کی رہائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی جانی چاہیے۔ اْن...

امریکی طالبان جان واکر 17 سال بعدبھارتی جیل سے  رہا،امریکی وزیرخارجہ برہم

سمندروں کی سطح بلند ہونے سے 18 کروڑافراد بے گھرہوجائیں گے، رپورٹ وجود - جمعرات 23 مئی 2019

پوری دنیا میں سمندروں کی اوسط سطح میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ کرہ ارض کے مستقل برفانی ذخائرکا پگھلاؤ ہے اوراس صدی کے اختتام تک کروڑوں افراد نقل مکانی پرمجبورہوسکتے ہیں۔ امریکا میں ماہرین نے نیشنل اکیڈمی آف سائنسس کی پروسیڈنگزمیں شائع ہونے والی رپورٹ میں خدشہ ظاہرکیا ہے کہ گزشتہ 40 سال کے مقابلے میں اب گرین لینڈ کی برف پگھلنے کی رفتار6 گنا بڑھ چکی ہے۔ 1980 کے عشرے میں گرین لینڈ کی برف پگھلنے کی شرح بھی کئی گنا بڑھی ہے یعنی اس وقت سالانہ 40 ارب ٹن برف پانی میں گھل رہی تھی اور ...

سمندروں کی سطح بلند ہونے سے 18 کروڑافراد بے گھرہوجائیں گے، رپورٹ

اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصی کے محافظ کو حراست میں لے لیا وجود - جمعه 01 مارچ 2019

اسرائیلی پولیس نے ایک کارروائی کے دوران مسجد اقصی کے محافظ کو مسجد سے باہر نکلتے ہوئے حراست میں لے لیا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی محکمہ اوقاف کے ترجمان فراس الدبس نے بتایا کہ صہیونی پولیس نے قبلہ اول کے محافظ علی احمد کو باب الاسباط سے باہر آتے ہوئے ...

اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصی کے محافظ کو حراست میں لے لیا

امریکا پابندیاں ختم کرے تو ایک جوہری پلانٹ بندکردینگے ، شمالی کوریا وجود - جمعه 01 مارچ 2019

شمالی کوریا کے وزیر خارجہ ری یونگ نے کہا ہے کہ اگر امریکا عارضی پابندیاں ختم کردے تو شمالی کوریا اپنا ایک جوہری پلانٹ مکمل طور پر بند کرنے کے لیے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ہماری شہری معیشت اور ہمارے لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہونے والی پابندیاں ختم کرے تو ہم...

امریکا پابندیاں ختم کرے تو ایک جوہری پلانٹ بندکردینگے ، شمالی کوریا