وجود

... loading ...

وجود

کراچی کونیویارک بنانے کادعویٰ ‘نیاجال پرانے شکاری

منگل 24 اپریل 2018 کراچی کونیویارک بنانے کادعویٰ ‘نیاجال پرانے شکاری

کراچی میں ایم کیوایم کی دھڑوں میں تقسیم کے بعد اس کی عوامی سطح پر مبینہ مقبولیت میں کمی کے باعث سندھ کی شہری سیاست میں ایک خلاساپیداہوتاجارہاہے جسے پرکرنے کے لیے دیگر سیاسی جماعتیں جن میں تحریک انصاف‘پاکستان پیپلزپارٹی ‘جماعت اسلامی ایڑھی چوٹی کازورلگاتی نظرآرہی ہیں تودوسری جانب سیاست میں نواردپاک سرزمین پارٹی خودکوکراچی سمیت سندھ کے شہری علاقو ں کی نمائندہ جماعت ہونے کے دعوے کررہی ہے ۔ ایم کیوایم کی دھڑے بندی کافائدہ اٹھاکراس نے نہ صرف اس کے کارکنوں کوشامل کیاہے وہیں اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کی شمولیت سے وہ بغیرالیکشن لڑے پارلیمانی جماعت بھی بن چکی ۔ یہ سب صورتحال اپنی جگہ لیکن سندھ خصوصاکراچی کی سیاسی صورت حال کے حوالے سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں اس سال یا یوں کہہ لیں کے انتخابات نزدیک آتے ہی مسلم لیگ ن نے بھی یہاں قدم جمانے کی کوششیں تیز کردیں ہیں ۔ رواں ماہ مسلم لیگ ن کے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک نہیں کراچی کے دودور ے کیے اورسیاسی رہنمائوں اوراکابرین سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔

شہبازشریف کے تازہ ترین دور ہ کراچی میں جہاں متعدداہم اعلانات سامنے آئے ہیں وہیں ۔ان کی جانب سے یہ حیرت انگیزاعلان بھی سامنے آیاہے کہ وہ کراچی جنوبی ایشیاکانیویارک بنادیں گے ۔شہبازشریف نے یوں توسارے شہرکا ہنگامی دور ہ کیاپرایم کیوایم بہادرآبادکے دورے کے دوران ان کاوہی روایتی استقبال دیکھنے میں آیاایم کیوایم کاخاصہ ہے ۔ وہ جب بہادرآبادکے دورے پرپہنچے توخالدمقبول صدیقی نے اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ ان کافقید المثال استقبال کیا۔ گلدستہ پیش کرنے کے علاوہ ا ن پرپھولوں کی پتیاں بھی نچھاورکی گئیں ۔کارکنوں نے ن لیگ اورایم کیوایم پاکستان کے حق میں فلک شگاف نعر ے لگائے ۔دونوں جانب کے وفودکی ملاقات ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی ۔ یقینااس ملاقات کے دوران آئند ہ انتخابات میں مل کرالیکشن لڑنے جیسے معاملات پرتبادلہ خیال ہواہوگا۔

وزیراعلی پنجاب نے پیپلزپارٹی کے گڑھ لیاری کادورہ کیااوروہا ں کارکنوں سے خطاب کے دوران کہاکہ اللہ نے موقع دیا تو کراچی کو انشااللہ جنوبی ایشیا کا نیوریاک بنائیں گے، شہر قائد کو عظیم بنانا ہے۔انھوں نے مزید کہاکہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی دونوں ایک ہی سکے کے دورخ ہیں، بلاول ہاؤس اور بنی گالا ہم نوالہ ہم پیالہ ہیں، کراچی آتا ہوں تو پیپلزپارٹی کو تکلیف ہوتی ہے، پشاور جاتا ہوں تو پی ٹی آئی کو تکلیف ہوتی ہے، میں ان کو آئینہ دکھاتا ہوں تو برا مان جاتے ہیں۔انھوں نے دعوی کیاکہ کراچی کے ہر گھر میں 2 سال میں پینے کا پانی پہنچاؤں گا، ایک گرین لائن بن رہی ہے جو اب تک مکمل نہیں ہوئی، نواز شریف نے اپنے دور میں گرین لائن کا تحفہ دیا تھا، نواز شریف نے کے فور کے لیے 50 فیصد فنڈز دئیے تھے، وعدہ کرو جس نے کرپشن اور آپ کا پیسہ کھایا ان سے واپس لوگے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سب کے لیے ہے اشرافیا کا نہیں، کراچی سے لے کر خیبر تک سب پاکستانی ہیں، وعدہ کرو، ن لیگ کو ووٹ دو گے، کراچی کو عظیم بناؤ گے، سنا ہے کراچی میں بسوں کے معاہدہ جس سے کیا اس سے مٹھائی مانگی گئی، مٹھائی نہ ملنے پر کراچی والوں کے لیے بسوں کا معاہدہ ہی منسوخ کردیا گیا۔شہباز شریف نے کہا کہ کراچی کی یہی حالت رہی تو پاکستان کی حالت نہیں بدلے گی، نواز شریف نے عزم کیا کہ کراچی میں امن لاؤں گا اور امن لوٹ آیا اور رینجرز کو ذمہ داری دی گئی انہوں نے محنت سے کام کیا اور کراچی میں امن قائم کیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ شہرِ قائد کی عوام بدحالی سے دوچار ہے۔ نہ صاف پینے کا پانی، نہ علاج کی سہولیات، گندگی اور کچرے کے ہر طرف ڈھیر، لوڈ شیڈنگ، نہ جان و مال کا تحفظ، غرض کوئی ایسی مصیبت نہیں جس کا کراچی کی عوام کو سامنا نہ ہو۔کراچی کی عوام کو کوئی مسیحا نظر نہیں آتا جو ان کے مسائل کو حل کرسکے۔ ایسے میں سیاسی جماعتوں نے سوچا کہ اچھا موقع ہے، گرم لوہے پر چوٹ ماری جائے اور عوامی جذبات سے کھیل کر مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔

کچھ دن قبل عمران خان نے کراچی سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تو بلاول بھٹو نے خیرمقدم کے ساتھ ساتھ چیلنج بھی کر ڈالا کہ آئیں کراچی سے الیکشن لڑیں اور للکارا بھی کہ کپتان کو عبرت ناک شکست سے دوچار کریں گے۔

ایسے میں مسلم لیگ ن کے نئے منتخب صدر اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گرم لوہے پر چوٹ مارنے کے لیے کراچی کے سیاسی میدان میں انٹری ماری اور دورہ جات کا آغاز کر دیا۔ لیاری میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کراچی کو نیویارک بناؤں گا اور دو سالوں میں کراچی کے مسائل حل کروں گا۔ اس نئے نیویارک میں صاف پینے کا پانی بھی ملے گا، دو سال کے بعد کچرے کے ڈھیر بھی غائب ہو جائیں گے، ہر طرف خوشحالی ہوگی اور پریشانیوں کے سائے چھٹ جائیں گے۔یہ ہے وہ نیا خواب جو کراچی کی عوام کو دکھایا گیا ہے۔ اگردیکھا جائے تو یہ دعویٰ نیا نہیں ہے۔ ماضی میں بھی ایسے بہت سے دعوے کیے گئے تھے جو کبھی پورے نہ ہو سکے۔ تھوڑا ماضی میں جھانکا جائے تو بڑے بڑے بلند و بالا دعووں کی ایک فہرست ہے۔جنھیں یہا ں دائرہ تحریرمیں لانافی الحا ل ممکن نہیں۔

2013ء کے انتخابات سے قبل بطوروزیراعلی پنجاب انھوں نے مینارپاکستان پردھرنے کے دوران دعوی کیاکہ آئندہ دوسال میں ملک بھرسے لوڈشیڈنگ ختم کردیں گے ۔ لاہورکوپیرس بنائیں گے ۔ انہی نعروں کی بدولت ان کی جماعت برسراقتدارآئی۔ اوراس مہینے اس کی مدت پوری ہونے کوہے نہ لاہورپیرس نہ بن سکا۔ کراچی کاکچراصاف کرنے کے دعویداروں کے اپنے شہرمیں ہرجابہ جاصحت وصفائی کی نااہلی کی داستانیں بکھری نظرآتی ہیں ۔حد تویہ ہے کہ خودشہبازشریف کے اپنے حلقہ انتخاب سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق قبرستانوں تک میں گندہ پانی پھیلاہواہے ۔ انھوں نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کادعوی اورجو صرف دعوی ہی رہا۔ آج بھی لاہورہی نہیں پورے پنجاب میں لوگ گرمی کے دوران بجلی کی عدم دستیابی سے بلبلارہے ہیں ۔زرداری کوسڑکوں پرگھیسٹنے اورکرپشن سے لوٹی گئی دولت واپس لانے کااعلان کیا۔ ایک بھی پورانہ ہوا۔حیرت اس بات پرہے کہ ماضی میں کیے ایک دعوی کوپوراکرنے میں ناکام ن لیگ کے صدر شہباز شریف کس منہ سے کراچی کونیویارک بنانے کا دعویٰ کررہے ہیں ۔ رہی بات ایم کیوایم یاایم کیوایم کے کسی ایک دھڑے سے اتحادتواس پربھی حیر ت ہی کی جاسکتی ہے ۔

کراچی کے لوگوں کی یادداشت خاصی تیزہے اورآج کے نوجوانوں کوشاید یادنہ ہولیکن بزرگ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ 1985تک کراچی میں ن لیگ کوخاصی مقبولیت حاصل تھی ۔ زہیراکرم ندیم ‘ابوبکرشیخانی‘ میرنوازخان مروت ‘الحاج شمیم الدین ‘میاں اعجازشفیع یہاں کے ناصرف مقبول لیڈرہواکرتے تھے بلکہ الیکشن میں مخالفین کی جانب سے انھیں ہراناجوئے شیرلانے کے مترادف تھا۔ ان کے جانے کے بعدنہیں ان کی موجودگی میں ہی لیگی قیادت نے کراچی کے لوگوں سے آنکھیں چرانی شروع کردیں جس کانتیجہ یہ ہواکہ مسلم لیگ اپنی مقبولیت کھوتی چلی گئی ۔ اب صورت حال یہ کہ یہاں ن لیگ موجودتوہے لیکن اس پوزیشن میں قطعی نہیں کہ قومی اسمبلی کی نشست تودورکوئی صوبائی اسمبلی کی نشست ہی نکال سکے ۔ اس لیے شہبازشریف کے پاس ایم کیوایم سمیت دیگر سیاسی جماعتوں سے اتحادکے سواکوئی چارہ نہیں ۔رہی بات ان کے دعووں کی تواس کے حوالے سے یہی کہاجاسکتا ہے کہ نیاجال لائے پرانے شکاری۔


متعلقہ خبریں


8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف وجود - جمعه 06 فروری 2026

معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ

مضامین
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے ! وجود اتوار 08 فروری 2026
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے !

روٹی اور تماشا وجود اتوار 08 فروری 2026
روٹی اور تماشا

ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش وجود اتوار 08 فروری 2026
ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش

مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا وجود هفته 07 فروری 2026
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا

روٹی یا شعور۔۔۔؟ وجود هفته 07 فروری 2026
روٹی یا شعور۔۔۔؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر