وجود

... loading ...

وجود

الزائمر یادداشت کو متاثر کرنے والامرض

منگل 17 اپریل 2018 الزائمر یادداشت کو متاثر کرنے والامرض

الزائمر ڈیمنشیا کی بہت عام قسم ہے تا ہم اسے شدید امراض میں شمار کیا جاتا ہے۔ الزائمر کا سب سے پہلے ذکر جرمن سائیکاٹرسٹ اور نیوروفزیالوجسٹ ایلو ٹس الزائمر نے 1906 میں کیا جس کے نام پر اس بیماری کو الزائمر کہتے ہیں۔ الزائمر عام طور پر 65 سے زائد العمر افراد پر اثر انداز ہوتا ہے تا ہم نو جوانوں کو بھی اس میں مبتلا ہوتے دیکھا گیا ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو ڈاوٴن سینڈرم میں مبتلا ہوتے ہیں ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں 26 ملین افراد اس موذی مرض میں مبتلا ہیں بہت سی مشہور شخصیات الزائمر میں مبتلا رہ چکی ہیں۔ جن میں سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن آئرش مصنف آئرس مردوخ، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ہیرالڈو نس اسپین کے ایڈولف سور یز‘ ادکارہ ریٹا ہیورتھ نوبل پرائز یافتہ فزیشن چارلس کے کاؤ شامل ہیں۔ الزائمر ڈیزیز جسے عرف عام میں AD بھی کہا جاتا ہے۔ انسان کو عاجز کر دینے والا مرض ہے۔AD میں مبتلا ہونے والے افراد میں خواتین کی اکثریت شامل ہے۔ خاص طور پر بیماری اس وقت نہایت تیزی سے بڑھتی ہے جب کسی مریض کے شریک حیات کی موت واقع ہو جائے۔ بوڑھے افراد کی تعداد میں اضافے سے اس مرض میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ بھی دیکھا جارہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2050 تک الزائمر میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد ہر 85 میں سے ایک فرد ہو جائے گی دیکھا جائے تو الزائمر کسی بھی خاندان سماج اور اقوام کے لیے ایک مہنگا ترین مرض ہے۔ الزائمر ہر مریض میں الگ طرح سے وارد ہوتا ہے اور یہ بہت سست رفتاری سے اثر انداز ہوتا دیکھا گیا ہے برسوں تک اس مرض کی شناخت ہی نہیں ہو پاتی۔ اس کی ابتدائی علامات کو اکثر بڑھاپے کمزوری اور دباؤ کی علامات کے طور پر لیا جاتا ہے۔ الزائمر کا مریض نئی باتوں کو یاد رکھنے سے قاصر رہتا ہے۔ وہ حال ہی میں ہوئے مختلف واقعات کو بھولنے لگتا ہے جب الزائمر شدت اختیار کرتا ہے تو مریض کنفیوژ‘ نا قابل برداشت اور کبھی کبھی شدت پسند ہو جاتا ہے۔ اس کے موڈ میں مسلسل اتار چڑھاوٴ آتا رہتا ہے۔ ان کی زبان ہے ربط ہونے لگتی ہے اور وہ اپنے ماحول خاندان اور سماج سے کٹ جاتا ہے آہستہ آہستہ الزائمر کے مریض کے جسمانی افعال بھی الزائمر سے متاثر ہونے لگتے ہیں اور بالآ خر وہ موت کے منہ میں پہنچ جاتا ہے الزائمر میں مبتلا مریض کی زندگی تشخیص کے بعد صرف سات برس رہ جاتی ہے۔ صرف تین فیصد سے کم افرا تشخیص کے 14 برس بعد تک زندہ رہ پاتے ہیں الزائمر بہت سست رفتاری سے بڑھنے والامرض ہے اور اسے چار مراحل میں تقسیم کیا جاسکتا ہے پہلے مرحلے میں تشخیص کی وضاحت سے قبل کا دورانیہ الزائمر کے مریض اس مرحلے پریادداشت میں خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ منصوبہ بندی نہیں کر پاتے۔ ان کی سوچیں منتشرا ل خیال ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنے رشتہ داروں دوستوں کنبے کے افراد اور پالتو جانوروں سے لاتعلقی کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے۔ الزائمر کا مرض شدت اختیار کرنے لگتاہے۔ خاص طور پر سیکھنے اور یادداشت کا عمل متاثر ہوتے ہیں۔ ان کی زبان دشوار ہو جاتی ہے۔ الزائمرکے ابتدائی مراحل میں ان کے الفاظ کا ذخیرہ محدود ہونے لگتا ہے اور وہ لفظ بھولنے لگتے ہیں۔ جس سے ان کی لکھنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ان ‘ڈرائنگ بنانا‘ مصوری کرنا دشوار ہو جاتا ہے جب الزائمر ابھی درمیانے درجے پر ہوتاہے تو مریض دوسروں کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔وہ کپڑے بدلنے‘ کھانے پینے ‘نہانے‘ شیو کرنے‘ کنگھی کرنے دانتوں کو برش کرنے جیسی روز مرہ کی عادات کے لیے بھی دوسروں کا دست نگر بن جاتا ہے۔ پڑھنے لکھنے اور بولنے کی صلاحیت اور زیادہ خراب ہو جاتی ہے وہ کوئی بھی کام درست ڈھنگ سے نہیں کر پاتے ہلنا جلنا تک محال ہو جاتا ہے اکثر الزائمر کے مریض گھر اور باہرمختلف چھوٹے بڑے حادثات سے متاثر ہونے لگتے ہیں مریض اپنے قریبی عزیزوں اور دوستوں کو پہچان بھی نہیں پاتا۔ پرانی یادداشت خراب ہو جاتی ہے مریض نا قابل برداشت ہو جاتاہے یہاں تک کہ اسے اپنا گھر تک یاد نہیں رہتا ساتھ ہی مختلف جذباتی کیفیتیں وارد ہو جاتی ہیں مثلا رونا‘ جارحیت پسندی کے علاوہ اپنے دیکھ بھال کرنے والے شخص کی ہدایات کی خلاف ورزی الزائمر کے مریض کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے۔ اس مرحلے پر 30 فیصد مریض وہم اور فریب نظر میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس دوران دیکھ بھال کرنے والے انسان رشتہ دار‘ خاندان کے لیے دباوٴ بڑھ جاتا ہے۔الزائمر کے آخری مرحلے میں مریض مکمل طور پر دیکھ بھال کر نے والے انسان پر انحصار کرنے لگتا ہے زبان سے الفاظ کی ادائیگی سکڑ جاتی ہے اکثر مریض صرف ہال یا ناں ہی بول پاتے ہیں۔ اکثر مریض بولنے سے مکمل معذور ہوتے ہی دیکھے گئے ہیں کچھ مریض شدت پسند ہوجاتے ہیں تا ہم الزائمر کے اکثر مریض ہر بات اور ہر انسان سے مکمل طور پر کنار کشی اختیار کر لیتے ہیں۔ تاہم ان حالات کاتعلق الزئمر سے براہ راست نہیں ہوتا۔ الزئمر کے اسباب۔۔۔۔۔ اس مرض کے بنیادی سبب کے بارے میں حتمی معلومات اب تک سامنے نہیں آ سکی ہیں تا ہم مختلف ریسر چز کے دوران یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ اس مرض کے بنیادی اسباب دماغ کا الجھاوٴ اور پلیک (Placque) اہم کردار ادا کرتے ہیں یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ اس مرض کی ایک اہم وجہ دماغی خلیات کا مردہ ہو جانا اور دماغ کا سکڑ جانا ہے۔ یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ مرض (amyloid beta ) نامی پروٹین کے خاتمے کی وجہ سے وقوع پزیر ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کے ایک اور گروپ کا کہنا ہے کہ دماغ میں عمر سے متعلقہ اورتوڑ پھوڑ کے بعد ہونے والی پیچیدگی اعصاب کے افعال پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ الزائمر پیدا ہونے میں تکسیدی دباوٴ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچاوٴ۔۔۔۔ الزائمر کی بڑھوتری کو روکنے کے لیے اب تک کوئی علاج سامنے نہیں آیا۔ تاہم بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ متوازن خوراک، ورزش، دماغ کو متحرک رکھنے کی ایکسر سائز مثلا پزلزز وغیرہ کھیلنا اس مرض میں مفیدہے۔


متعلقہ خبریں


اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی وجود - هفته 11 اپریل 2026

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات وجود - هفته 11 اپریل 2026

فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 11 اپریل 2026

حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی وجود - هفته 11 اپریل 2026

جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان وجود - هفته 11 اپریل 2026

ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 11 اپریل 2026

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا پوری دنیا مجھے جانتی ہے، اب دہشتگرد اسمگلر سے بات کرپشن پر آگئی ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اگر کرپشن کے ثبوت ہوتے تو ابھی تک میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں، جلسہ ڈیلے کرنے کے سوال پر ردعمل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پ...

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی وجود - هفته 11 اپریل 2026

حزب اللہ طبی گاڑیوں،سہولیات کو وسیع پیمانے پر فوجی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویچی ادری نے لبنان میں ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ طب...

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

مضامین
اسلام آباد:امن کا عالمی مرکز وجود اتوار 12 اپریل 2026
اسلام آباد:امن کا عالمی مرکز

اسرائیلی بری، فلسطینی کو پھانسی وجود اتوار 12 اپریل 2026
اسرائیلی بری، فلسطینی کو پھانسی

نیتن یاہوکے لیے جنگ کا راستہ جیل کی طرف مڑ گیا! وجود اتوار 12 اپریل 2026
نیتن یاہوکے لیے جنگ کا راستہ جیل کی طرف مڑ گیا!

دربار انڈسٹری وجود هفته 11 اپریل 2026
دربار انڈسٹری

برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی وجود هفته 11 اپریل 2026
برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر