وجود

... loading ...

وجود

الزائمر یادداشت کو متاثر کرنے والامرض

منگل 17 اپریل 2018 الزائمر یادداشت کو متاثر کرنے والامرض

الزائمر ڈیمنشیا کی بہت عام قسم ہے تا ہم اسے شدید امراض میں شمار کیا جاتا ہے۔ الزائمر کا سب سے پہلے ذکر جرمن سائیکاٹرسٹ اور نیوروفزیالوجسٹ ایلو ٹس الزائمر نے 1906 میں کیا جس کے نام پر اس بیماری کو الزائمر کہتے ہیں۔ الزائمر عام طور پر 65 سے زائد العمر افراد پر اثر انداز ہوتا ہے تا ہم نو جوانوں کو بھی اس میں مبتلا ہوتے دیکھا گیا ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو ڈاوٴن سینڈرم میں مبتلا ہوتے ہیں ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں 26 ملین افراد اس موذی مرض میں مبتلا ہیں بہت سی مشہور شخصیات الزائمر میں مبتلا رہ چکی ہیں۔ جن میں سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن آئرش مصنف آئرس مردوخ، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ہیرالڈو نس اسپین کے ایڈولف سور یز‘ ادکارہ ریٹا ہیورتھ نوبل پرائز یافتہ فزیشن چارلس کے کاؤ شامل ہیں۔ الزائمر ڈیزیز جسے عرف عام میں AD بھی کہا جاتا ہے۔ انسان کو عاجز کر دینے والا مرض ہے۔AD میں مبتلا ہونے والے افراد میں خواتین کی اکثریت شامل ہے۔ خاص طور پر بیماری اس وقت نہایت تیزی سے بڑھتی ہے جب کسی مریض کے شریک حیات کی موت واقع ہو جائے۔ بوڑھے افراد کی تعداد میں اضافے سے اس مرض میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ بھی دیکھا جارہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2050 تک الزائمر میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد ہر 85 میں سے ایک فرد ہو جائے گی دیکھا جائے تو الزائمر کسی بھی خاندان سماج اور اقوام کے لیے ایک مہنگا ترین مرض ہے۔ الزائمر ہر مریض میں الگ طرح سے وارد ہوتا ہے اور یہ بہت سست رفتاری سے اثر انداز ہوتا دیکھا گیا ہے برسوں تک اس مرض کی شناخت ہی نہیں ہو پاتی۔ اس کی ابتدائی علامات کو اکثر بڑھاپے کمزوری اور دباؤ کی علامات کے طور پر لیا جاتا ہے۔ الزائمر کا مریض نئی باتوں کو یاد رکھنے سے قاصر رہتا ہے۔ وہ حال ہی میں ہوئے مختلف واقعات کو بھولنے لگتا ہے جب الزائمر شدت اختیار کرتا ہے تو مریض کنفیوژ‘ نا قابل برداشت اور کبھی کبھی شدت پسند ہو جاتا ہے۔ اس کے موڈ میں مسلسل اتار چڑھاوٴ آتا رہتا ہے۔ ان کی زبان ہے ربط ہونے لگتی ہے اور وہ اپنے ماحول خاندان اور سماج سے کٹ جاتا ہے آہستہ آہستہ الزائمر کے مریض کے جسمانی افعال بھی الزائمر سے متاثر ہونے لگتے ہیں اور بالآ خر وہ موت کے منہ میں پہنچ جاتا ہے الزائمر میں مبتلا مریض کی زندگی تشخیص کے بعد صرف سات برس رہ جاتی ہے۔ صرف تین فیصد سے کم افرا تشخیص کے 14 برس بعد تک زندہ رہ پاتے ہیں الزائمر بہت سست رفتاری سے بڑھنے والامرض ہے اور اسے چار مراحل میں تقسیم کیا جاسکتا ہے پہلے مرحلے میں تشخیص کی وضاحت سے قبل کا دورانیہ الزائمر کے مریض اس مرحلے پریادداشت میں خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ منصوبہ بندی نہیں کر پاتے۔ ان کی سوچیں منتشرا ل خیال ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنے رشتہ داروں دوستوں کنبے کے افراد اور پالتو جانوروں سے لاتعلقی کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے۔ الزائمر کا مرض شدت اختیار کرنے لگتاہے۔ خاص طور پر سیکھنے اور یادداشت کا عمل متاثر ہوتے ہیں۔ ان کی زبان دشوار ہو جاتی ہے۔ الزائمرکے ابتدائی مراحل میں ان کے الفاظ کا ذخیرہ محدود ہونے لگتا ہے اور وہ لفظ بھولنے لگتے ہیں۔ جس سے ان کی لکھنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ان ‘ڈرائنگ بنانا‘ مصوری کرنا دشوار ہو جاتا ہے جب الزائمر ابھی درمیانے درجے پر ہوتاہے تو مریض دوسروں کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔وہ کپڑے بدلنے‘ کھانے پینے ‘نہانے‘ شیو کرنے‘ کنگھی کرنے دانتوں کو برش کرنے جیسی روز مرہ کی عادات کے لیے بھی دوسروں کا دست نگر بن جاتا ہے۔ پڑھنے لکھنے اور بولنے کی صلاحیت اور زیادہ خراب ہو جاتی ہے وہ کوئی بھی کام درست ڈھنگ سے نہیں کر پاتے ہلنا جلنا تک محال ہو جاتا ہے اکثر الزائمر کے مریض گھر اور باہرمختلف چھوٹے بڑے حادثات سے متاثر ہونے لگتے ہیں مریض اپنے قریبی عزیزوں اور دوستوں کو پہچان بھی نہیں پاتا۔ پرانی یادداشت خراب ہو جاتی ہے مریض نا قابل برداشت ہو جاتاہے یہاں تک کہ اسے اپنا گھر تک یاد نہیں رہتا ساتھ ہی مختلف جذباتی کیفیتیں وارد ہو جاتی ہیں مثلا رونا‘ جارحیت پسندی کے علاوہ اپنے دیکھ بھال کرنے والے شخص کی ہدایات کی خلاف ورزی الزائمر کے مریض کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے۔ اس مرحلے پر 30 فیصد مریض وہم اور فریب نظر میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس دوران دیکھ بھال کرنے والے انسان رشتہ دار‘ خاندان کے لیے دباوٴ بڑھ جاتا ہے۔الزائمر کے آخری مرحلے میں مریض مکمل طور پر دیکھ بھال کر نے والے انسان پر انحصار کرنے لگتا ہے زبان سے الفاظ کی ادائیگی سکڑ جاتی ہے اکثر مریض صرف ہال یا ناں ہی بول پاتے ہیں۔ اکثر مریض بولنے سے مکمل معذور ہوتے ہی دیکھے گئے ہیں کچھ مریض شدت پسند ہوجاتے ہیں تا ہم الزائمر کے اکثر مریض ہر بات اور ہر انسان سے مکمل طور پر کنار کشی اختیار کر لیتے ہیں۔ تاہم ان حالات کاتعلق الزئمر سے براہ راست نہیں ہوتا۔ الزئمر کے اسباب۔۔۔۔۔ اس مرض کے بنیادی سبب کے بارے میں حتمی معلومات اب تک سامنے نہیں آ سکی ہیں تا ہم مختلف ریسر چز کے دوران یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ اس مرض کے بنیادی اسباب دماغ کا الجھاوٴ اور پلیک (Placque) اہم کردار ادا کرتے ہیں یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ اس مرض کی ایک اہم وجہ دماغی خلیات کا مردہ ہو جانا اور دماغ کا سکڑ جانا ہے۔ یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ مرض (amyloid beta ) نامی پروٹین کے خاتمے کی وجہ سے وقوع پزیر ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کے ایک اور گروپ کا کہنا ہے کہ دماغ میں عمر سے متعلقہ اورتوڑ پھوڑ کے بعد ہونے والی پیچیدگی اعصاب کے افعال پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ الزائمر پیدا ہونے میں تکسیدی دباوٴ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچاوٴ۔۔۔۔ الزائمر کی بڑھوتری کو روکنے کے لیے اب تک کوئی علاج سامنے نہیں آیا۔ تاہم بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ متوازن خوراک، ورزش، دماغ کو متحرک رکھنے کی ایکسر سائز مثلا پزلزز وغیرہ کھیلنا اس مرض میں مفیدہے۔


متعلقہ خبریں


ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق وجود - بدھ 04 فروری 2026

پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...

ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق

محمود اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے کرانے کامطالبہ وجود - بدھ 04 فروری 2026

اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...

محمود اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے کرانے کامطالبہ

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل وجود - بدھ 04 فروری 2026

صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل

ملک بھر میں 195,000قومی شناختی کارڈز بلاک وجود - بدھ 04 فروری 2026

خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...

ملک بھر میں 195,000قومی شناختی کارڈز بلاک

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 03 فروری 2026

ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ

وزیراعظماور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات، امن کیلئے تعاون پر تیار وجود - منگل 03 فروری 2026

سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...

وزیراعظماور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات، امن کیلئے تعاون پر تیار

وزیراعظم سے ہماری کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی ،سہیل آفریدی وجود - منگل 03 فروری 2026

دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...

وزیراعظم سے ہماری کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی ،سہیل آفریدی

تاجرکواغوا کروانے کا الزام ، پیر محمد شاہ جواب دینے میں ناکامی پربے نقاب وجود - منگل 03 فروری 2026

14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...

تاجرکواغوا کروانے کا الزام ، پیر محمد شاہ جواب دینے میں ناکامی پربے نقاب

عمران خان کیلئے فارن فنڈنگ کیس میں نئی مشکل تیار وجود - منگل 03 فروری 2026

عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...

عمران خان کیلئے فارن فنڈنگ کیس میں نئی مشکل تیار

سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتے ہیں،وزیر اعظم وجود - منگل 03 فروری 2026

آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...

سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتے ہیں،وزیر اعظم

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی وجود - پیر 02 فروری 2026

گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار وجود - پیر 02 فروری 2026

کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار

مضامین
صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ وجود بدھ 04 فروری 2026
صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ

ناقابل شکست وجود بدھ 04 فروری 2026
ناقابل شکست

خون اور رنگ وجود منگل 03 فروری 2026
خون اور رنگ

سوشل میڈیا لت کا بچوں میں خطرناک استعمال اور نفسیاتی مسائل وجود منگل 03 فروری 2026
سوشل میڈیا لت کا بچوں میں خطرناک استعمال اور نفسیاتی مسائل

گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی وجود پیر 02 فروری 2026
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر