وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ایک سلجھی ہوئی شاعرہ کی سلجھی ہوئی شاعری

اتوار 15 اپریل 2018 ایک سلجھی ہوئی شاعرہ کی سلجھی ہوئی شاعری

یہ دسمبر 2008ء کی بات ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت دو روزہ قومی اہل قلم کانفرنس کے اختتام پر ایک مشاعرہ منعقد ہوا۔ مشاعرہ قومی سطح کا ہو تو شاعروں کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اسی سے زیادہ تھے بہت سے چھوٹے بڑے شہروں کے شعرا طے شدہ پروگرام کے مطابق اپنے اپنے ’’ حلقہ داد رساں‘‘ کے ساتھ شریک بزم تھے۔ ایسے میں کراچی کی ایک منحنی سی نوجوان خاتون کو کسی فیاضانہ تعارف کے بغیر حمیرا راحت کے نام سے اسٹیج پر بلایا گیا۔ خاتون نے بڑی سادگی کے ساتھ دھیمی آواز میں (جوان کی جسامت سے میل کھارہی تھی) تحت اللفظ اپنا مصرع آواز کی لہروں پر بکھیر دیا۔ اسے اٹھانے والا کوئی نہ تھا لیکن اس کی ضرورت بھی نہیں پیش آئی کیونکہ مصرع برقی رو کی طرح سامعین کو جھنجھوڑگیا اور پوراہال واہ واہ سبحان اللہ کی آوازوں سے گونج اٹھا۔ حمیرا کہہ رہی تھیں۔

ہر ایک خواب کی تعبیر تھوڑی ہوتی ہے
اور جب انہوں نے بڑے بھولے انداز میں شعر مکمل کیا:
محبتوں کی یہ تقدیر تھوڑی ہوتی ہے
تو کئی سو افراد سے بھرا ہوا ہال پوری طرح ان کے قابو میں آچکا تھا اور ساری لابیاں دم توڑ چکی تھیں۔ حمیرا پڑھتی رہیں:
پلک پہ ٹھہرے ہوئے اشک سے کہا میں نے
ہر ایک درد کی تشہیر تھوڑی ہوتی ہے
سفر یہ کرتے ہیں اک دل سے دوسرے دل تک
دکھوں کے پائوں میں زنجیر تھوڑی ہوتی ہے
دعا کو ہاتھ اٹھائو تو دھیان میں رکھنا
ہر ایک لفظ میں تاثیر تھوڑی ہوتی ہے

حمیرا نے غزل ختم کی تو مجمع نے ’’ ونس مور‘‘ کی صدائیں بلند کیں ( جو دراصل ’’ ون مور‘‘ کا بدل ہوتی ہیں)لیکن چونکہ وہاں شاعروں کی بہتات کے باعث پانچ سے زیادہ شعر پڑھنے پر پابندی تھی لہٰذا یہ UNASSUMING (سادہ لوح) قسم کی شاعرہ اطمینان سے مشاعرہ لْوٹ کر لوٹ آئی۔

کراچی سے تعلق ہونے کے باوجود یہ میرا حمیرا راحت سے پہلا باقاعدہ تعارف تھا جو تادیر یاد رہے گا۔ اب جوان محترمہ کا تازہ ترین (دوسرا) مجموعہ کلام ’’ تحیر مشق‘‘ منظر عام پر آیا ہے تو میں نے اس میں انہیں کھوج نکالنے کی کوشش کی۔ میں نے کتاب کورسے کور تک پڑھی۔ مجھے ان کی شاعری میں ٹھہرائو، تحمل، استقامت اور کسی حد تک خودسری کے عناصر ملے اور کہیں بھی صنفی بنیاد پر کسی بھی احساس کمتری، خود ترسی یا خودسپردگی کا شائبہ بھی نظر نہیں آیا۔ یہ اشعار میرے اس مشاہدے کی تصدیق کریں گے:

یہ ناز ہے، کوئی ناداں میرا دوست نہیں
ہے مجھ کو فخر کہ دشمن ذہین رکھتی ہوں
٭
بناتی ہوں یہاں پر خود ہی میں قانون اپنے
تمہاری حکمرانی سے کہیں آگے کھڑی ہوں
٭
مرے نزدیک آ کر دھیان سے سن
مرے اندر سمندر بولتا ہے
٭
تھی زخم زخم مگر خود کو ٹوٹنے نہ دیا
سمندروں سے سوا حوصلہ چٹان میں تھا

شاعرہ کے اعتماد کا یہ عالم ہے کہ اپنی (مفروضہ) بے بضاعتی میں بھی بے نیازی کا پہلونکال لیتی ہے:
اب ستارہ ہوں نہ شبنم نہ گلاب
اب کبھی دیکھ تو آ کر مجھ کو

یہ اعتماد اس وقت اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے جب وہ ظاہری اسباب کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کہتی ہے:
چھت کے ہوتے ہوئے بھی چھائوں سے محروم ہوںمیں
ایک برگد مری انگنائی میں رکھ دے کوئی

حزنیہ مضامین کے اظہار میں بھی حمیرانے اپنی انفرادیت کو برقرار رکھا ہے:
کرب، اداسی، درد، جدائی، شام
آنگن میرا اور پرائی شام
٭
دنیا کبھی نہ جان سکی مرے کرب کو
پلکوں کو تیرے غم میں بھگونے کے باوجود

اب ذرا آرائش حسن میں ’’ نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا‘‘ کا یہ انداز دیکھیے:
کسی حرف ستائش کی طلب دل میں نہیں ہے
میں خود اپنے لیے سجنا سنورنا چاہتی ہوں

ہجرو وصال کی کیفیات حمیرا کے ہاں اکثر ساتھ ساتھ چلتی ہیں:
ہجر کی شب ہو یا ساعت وصل ہو
اس میں ہر شخص کا تجربہ اور ہے
٭
وصل اور ہجر کی حدوں سے پرے
جسم اور جان سے نکل آئی

خواہشات اور آرزوئوں کا بیان اردو شاعری میں قدما سے لے کر موجودہ عہد کے شعرا تک کے یہاں پایا جاتا ہے اور اس کی بنیاد نفسیات کے اس اصول پر ہے کہ آرزوئیں، خواہشیں اور تمنائیں لامحدود ہیں۔ دل ان سے کبھی خالی نہیں رہتا۔

حمیرا بجا طور پرکہتی ہیں:
آج تک کوئی بھی نہ جان سکا
آرزو کی اڑان کتنی ہے

’’ تحیر عشق‘‘ میں اکثر مقامات پر دور حاضر کے چند حقائق کی عکاسی ملتی ہے۔ کوئی بھی GENUINE شاعر ان کی طرف سے پہلو تہی کرکے دل میں اتر جانے والا شعر تخلیق نہیں کرسکتا۔ حمیراکے یہ اشعار منہ سے بول رہے ہیں:

ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہیں ہم لیکن
تم میرے لہجے کے دکھ سے ناواقف ہو
٭
میں اپنا سر جھکا دیتی ہوں ہر اک ظلم کے آگے
بہو ہوں، چولہا پھٹنے کی خبر، بننے سے ڈرتی ہوں
٭
ہے چلن کتنا عجب یہ کہ مرے عہد میں لوگ
بیج بوتے نہیں مٹی میں ثمر مانگتے ہیں

اور یہ شعر دیکھیے، معلوم ہوتا ہے خاص متاثرین سوات کے لیے کہا گیا ہے:
رستا بھی کٹھن اور مسافت بھی عجب تھی
اپنے ہی وطن میں مری ہجرت بھی عجب تھی

’’ دیوان غالب‘‘ کے پہلے شعر (نقش فریادی …) کی طرح سراج اورنگ آبادی کی ایک مشہور غزل (خبرِ تحیر عشق …) کا مطلع بھی شعری مجموعوں کے ناموںکے ضمن میں شعرا کا HOT FAVOURITE رہا ہے۔ کئی ایک کتابوں کے نام اس کے مختلف اجزا سے مستعار ہیں۔ زیر نظر مجموعہ بھی اس کی ایک مثال ہے۔ اس میں ایک پوری غزل اسی زمین میں موجود ہے جو بہت جاندار اور اثر انگیز ہے۔ ایک شعر بطور نمونہ حاضر ہے:

کسی عکس میں اسے ڈھالتے کبھی آئینے سے نکالتے
یہی آرزو تھی جو عمر بھر مرے طاق دل میں دھری رہی

عمومی طور پر شاعرہ میر سے بہت متاثر نظر آتی ہے۔ کئی اشعار میں میر سے عقیدت کا اظہار کیا گیا ہے مثلاً:

کیوں یہ اداسی دل آنگن میں آ کر بیٹھ گئی
کیوں تیرے شعروں میں بول رہا ہے میر کا دکھ
٭
اسے بھی زندگی کرنی پڑے گی میر جیسی
سخن سے گر کوئی رشتہ نبھانا چاہتا ہے

انہوں نے تقریباً دو درجن کے قریب نظمیں بھی لکھی ہیں اورسب کی سب مضامین کی تازگی اور اسلوب کی انفرادیت کی آئینہ دار ہیں۔ ان میں طنز بھی ہے اور کہیں کہیں معاشی، معاشرتی، سیاسی اور ادبی رجحانات پر کٹیلا تبصرہ بھی۔ بعض نفیس بیانیہ اور تاثراتی رنگ لیے ہوئے ہیں جنہیں بہت دل گداز پیرایے میں لکھا گیا ہے۔’’ تنقیدی نشست ‘‘کے عنوان سے ایک نظم میں اس دورکے ادبی منظرنامے کی جھلک صاف دیکھی جاسکتی ہے دو حصوں پر مشتمل اس نظم کے پہلے حصے میں شہر کے ایک معروف شاعر نے اپنی نظم اہل بصیرت ناقدین کے سامنے پیش کی ہے۔ یہ سرد مہری کے ساتھ سنی جاتی ہے اور بعدازاں (شاعر کی دل شکنی کی غرض سے) اس غریب کو چند بقراطی مشوروں سے نوازا جاتا ہے۔ اسی نظم اوراسی نشست کے دوسرے حصے میں کوئی صاحب اپنی غزل سناتے ہیں تو شروع ہی سے ان پر دادو تحسین کے ڈونگر یبرسنے لگتے ہیں۔غزل کے ہر لفظ میں معانی و مفہوم کا سمندر دریافت کرلیا جاتا ہے اور بالآخر انہیں میر اور غالب کے شانہ بہ شانہ لاکھڑا کیا جاتا ہے۔ غزل انتہائی روح پر ور ماحول میں اختتام پذیر ہوجاتی ہے تو شاعرہ قوسین میں اپنے قاری کو مطلع کرتی ہے ’’یہ غزل جو بہت قابل داد ٹھہری، یہ معروف شاعر کی تھی۔ آپ امریکا سے آئی ہیں۔‘‘

رقم الحروف ایسے متعدد ادب کش مناظر کا چشم دید گواہ ہے۔ اسے اس ’’اعتراف جرم ‘‘میں بھی کوئی تامل نہیں کہ وہ ایسے بہت سے عصرانوں اور عشائیوں میں شرکت کا شرف حاصل کرچکا ہے جوان بدیسی شاعروں پر بصد عجزوانکسار نچھاور کیے جاتے ہیں۔ بہر حال میں چونکہ شاعر نہیں ہوں اس لیے یہ حقائق ریکارڈ پر لاتے وقت ہر قسم کے احساس محرومی سے آزاد ہوں۔ محترمہ حمیرا

راحت اچھی طرح سوچ لیں کہ یہ نظم لکھ کر انہوں نے امریکا میں مشاعرہ پڑھنے کے اپنے امکانات اگر معدوم نہیں تو مدھم ضرور کرلیے ہیں۔
حمیرا کا کلام پڑھ لیا اوران کے اس موقف کا قائل ہوگیا:
خواہش کی لو ، شوق کی شدت، کار ہنر سچ بولتا ہے
شاعر چاہے جھوٹ ہی بولے شعر مگر سچ بولتا ہے
یہی بات قتیل شفائی نے اس طرح کہی تھی:
لاکھ پردوں میں رہوں بھید مرے کھولتی ہے شاعری سچ بولتی ہے
میں نے دیکھا ہے کہ جب میری زباں ڈولتی ہے شاعری سچ بولتی ہے
’’ تحیرعشق‘‘بلاشبہ ایک ایسا شعری مجموعہ ہے جو اپنے قاری کی فکر کو جلا بخشتا ہے یہ ایک سلجھی ہوئی شاعرہ کا سلجھا ہوا کلام ہے جس میں کوئی ابہام یا ایہام نہیں۔ شاعرہ نے جو کچھ کہا ہے پورے CONTICTION کے ساتھ کہا ہے اس لیے وہ ایک عام انسان کے تجربات و مشاہدات سے قریب تر ہے جہاں کہیں اس کالہجہ قدرے تند ہوا ہے وہاں بھی بین السطور اس کا خلوص صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ کتاب اس حقیقت کی بھی مظہر ہے کہ حمیرا غزل اور نظم دونوں اصناف میں یکساں روانی ، سلاست اور بڑی حد تک بلاغت کے ساتھ اپنے آپ کو EXPRESS کرسکتی ہیں۔ کتاب کی پیشکش بھی لائق ستائش ہے میں امید کرتا ہوں کہ شائقین ادب اور ناقدین فن اسے ہاتھوں ہاتھ لیں گے۔


متعلقہ خبریں


پاکستان میں اہل اسلام عقیدت سے عید منارہے ہیں وجود - جمعرات 13 مئی 2021

پاکستان میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اہل اسلام آج انتہائی عقیدت سے عید الفطر منارہے ہیں۔ قبل ازیں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئر مین عبد الخبیر آزاد نے اعلان کیا ہے کہ یکم شوال کا چاند نظر آگیا ہاور عید الفطر جمعرات کو ہوگی ۔ واضح رہے کہ یہ پاکستان میں اکیس سال کے بعد ایک ہی روز عید منانے کا موقع آیا ہے جب تمام صوبوں میں ایک ہی روز سب مل کر عید منارہے ہیں۔ بدھ کو عید الفطر کی رویت کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں چیئرمین مولاناعبدالخبیرآزاد ک...

پاکستان میں اہل اسلام عقیدت سے عید منارہے ہیں

وزیر اعظم اور شاہ سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ،فلسطین کی تازہ صورتحال پر اظہار تشویش وجود - جمعرات 13 مئی 2021

وزیر اعظم عمران خان اور سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبد العزیز کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں فلسطین کی تازہ صورتحال پر اظہار تشویش کیا گیا ۔بدھ کو ہونے والے رابطے میں وزیر اعظم نے مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں پر اسرائیلی بہیمانہ حملے کی مذمت کی ۔وزیر اعظم نے کہاکہ اسرائیلی حملے انسانی اقدار اور بین الاقوامی قانون سے انحراف ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب کی خود مختاری سکیورٹی کیلئے پاکستان کے عزم کا اظہار کیا ۔وزیر اعظم عمران خان نے حرمین شریفین کے دفاع کے عزم کا بھی اظ...

وزیر اعظم اور شاہ سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ،فلسطین کی تازہ صورتحال پر اظہار تشویش

فلسطین کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج پھر طلب وجود - جمعرات 13 مئی 2021

فلسطین کی کشیدہ صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس (آج) پھر طلب کرلیا گیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں تشدد بڑھنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔یورپی پارلیمنٹ نے بھی اسرائیل سے فلسطینیوں پر حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کو بیدخل کرکے یہودی آباد کار بسانا چاہتی ہے ۔ امریکی وزیرخارجہ نے اسرائیل ہم منصب کوٹیلی فون کرکے کشیدگی ختم کرنیکا پیغام دیا ہے ۔عرب لیگ نے غزہ پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں کی مذم...

فلسطین کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج پھر طلب

ترک صدر کا وزیراعظم کو فون، مسئلہ فلسطین کیلئے ملکر کام کرنے پر اتفاق وجود - جمعرات 13 مئی 2021

ترک صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے فلسطین پر اسرائیلی جارحیت و بربریت پر گفتگو کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کو ترک صدررجب طیب اردوان نے ٹیلی فون کیا جس میں اسرائیلی بربریت اور جارحیت پر دونوں رہنماں نے تبادلہ خیال کیا۔دونوں رہنماوں نے اسرائیلی جارحیت و بربریت کی مذمت کی اور اتفاق کیا کہ مسلم ممالک کو مل کر اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے ۔رہنماوں نے اس نکتے پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ فلس...

ترک صدر کا وزیراعظم کو فون، مسئلہ فلسطین کیلئے ملکر کام کرنے پر اتفاق

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں عیدالفطر آج منائی جائے گی وجود - جمعرات 13 مئی 2021

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں عیدالفطر آج جمعرات کو منائی جائے گی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق قطر ، فلسطین ، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور ملائیشیا میں بھی عید الفطر جمعرات کو ہو گی ۔اس کے علاوہ برطانیہ اور فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک میں بھی عیدالفطر 13مئی کو منائی جائے گی۔خیال رہے کہ سعودی عرب میں بھی گزشتہ روز عید الفطر کا چاند نظر نہیں آیا تھا جس کے بعد اعلان کیا گیا تھا کہ عید الفطر بروز جمعرات منائی جائے گی۔افغانستا ن میں بھی شوال کا چاند نظر آیاجس کے ...

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں عیدالفطر آج منائی جائے گی

بھارت اور بنگلادیش میں شوال کاچاندنظرنہیں آیا، عید جمعہ کو ہوگی وجود - جمعرات 13 مئی 2021

بھارت اور بنگادیش میں شوال کاچاندنظرنہیں آیا جس کے بعدان ممالک میں عیدالفطر 14 مئی بروز جمعہ منائی جائے گی۔بھارت کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا کہ ملک بھر سے چاند نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی۔مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے مطابق بھارت میں عیدالفطرجمعہ 14مئی کو ہوگی۔ بھارت میں شاہی امام مسجد احمد بخاری نے اعلان کیا ہے کہ چاند نظر نہیں آیا ہے لہذا عیدالفطر جمعہ کے دن منائی جائے گی۔قواعد و ضوابط کے مطابق بھارت میں شاہی امام مسجد چاند نظر آنے یا نہ آنے کا اعلان کرتے ہیں...

بھارت اور بنگلادیش میں شوال کاچاندنظرنہیں آیا، عید جمعہ کو ہوگی

افغانستان سے غیر ملکی افواج کا منظم اور ذمہ دار انہ انخلا ء کرایا جائے ،چین وجود - جمعرات 13 مئی 2021

چین نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے منظم اور ذمہ دار انداز میں انخلا پر زور دیا ہے تاکہ عجلت میں ایسی کوئی کارروائی نہ کی جائے جس سے امن اور سلامتی عمل متاثر اور اس میں مداخلت ہو۔وزارت خارجہ کی ترجمانHua Chunyingنے بیجنگ میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں وسیع اور تمام فریقوں پر مشتمل سیاسی نظام کیلئے کوششیں کرنی چاہئیں تاکہ تمام نسلی گروپ اور دھڑے سیاسی نظام میں شامل ہوں۔انہوں نے کہا کہ چین افغانستان میں امن و استحکام کے فروغ میں امداد دینے کیلئے تیار ہے ۔

افغانستان سے غیر ملکی افواج کا منظم اور ذمہ دار انہ انخلا ء کرایا جائے ،چین

اسرائیل فلسطین کشیدگی بڑھ کر جنگ کی طرف جاسکتی ہے ، اقوام متحدہ کا انتباہ وجود - جمعرات 13 مئی 2021

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل فلسطین کشیدگی بڑھ کر جنگ کی طرف جاسکتی ہے ۔اقوام متحدہ کے مشرق وسطی امن عمل کے نمانئدہ خصوصی ٹور وینیس لینڈ کا کہنا ہے کہ فلسطین میں لگی آگ کو فوری روکا جائے ، ہم جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ کی قیمت تباہ کن ہوگی، غزہ میں کشیدگی کی قیمت عام لوگ چکا رہے ہیں، اقوام متحدہ صورتحال بہتر کرنے کے لیے تمام فریقین سے رابطے میں ہے ، تشدد کو اب روکا جائے ۔دوسری جانب اسرائیلی فوج...

اسرائیل فلسطین کشیدگی بڑھ کر جنگ کی طرف جاسکتی ہے ، اقوام متحدہ کا انتباہ

طالبان نے افغان دارالحکومت کابل کے مضافاتی ضلع پرقبضہ کرلیا وجود - جمعرات 13 مئی 2021

افغانستان کے طالبان نے افغان دارالحکومت کابل کے مضافات میں ایک ضلع پرقبضہ کرلیا۔افغان حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے نرکھ ضلع کے پولیس ہیڈ کوارٹر سے پسپائی اختیار کی۔اْدھر طالبان ترجمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ طالبان نے ضلع نرکھ پر گزشتہ روز قبضہ کیا۔ترجمان کے مطابق طالبان نے پولیس ہیڈکوارٹراور ایک فوجی بیس پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے ۔ دوسری جانب افغان سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ضلع پر قبضہ چھڑانے کیلئے آپریشن شروع کردیا گیا ۔

طالبان نے افغان دارالحکومت کابل کے مضافاتی ضلع پرقبضہ کرلیا

پی ڈی ایم رہنماؤں کا عید کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ وجود - بدھ 12 مئی 2021

حزب اختلاف کی جماعتوں کے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنماؤں نے عید کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیاہے ۔ٹیلی فونک بات چیت میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کے خلاف فیصلہ کن راؤنڈ کے لیے مولانا فضل الرحمان عید کے بعد پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتیں کریں گے ۔گفتگو کے دوران حکومت کی جانب سے شہباز...

پی ڈی ایم رہنماؤں کا عید کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ

ہماری کوئی لڑائی نہیں تھی ،راولپنڈی سے صلح ہوگئی ہے ، محمد زبیر وجود - بدھ 12 مئی 2021

مسلم لیگ (ن )کے رہنما و سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ ہماری کوئی لڑائی نہیں تھی ،راولپنڈی سے صلح ہوگئی ہے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق محمدزبیر نے کہا کہ سیزفائر یاصلح کے بارے میں نہیں پتہ لیکن ہمارے تعلقات اچھے ہیں ہم جب مطمئن ہوں گے تواس کاباقاعدہ بتائیں گے بھی۔محمدزبیر نے کہا کہ میری ملاقاتیں ہوتی تھیں توکبھی ڈیل یاکوئی ریلیف نہیں مانگا، کسی کوبھی حب الوطنی کی ضرورت نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان جذباتی شخص ہیں استعفے دینے پڑے تووہ اسمبلی توڑدیں گے ملک میں انارکی نہیں...

ہماری کوئی لڑائی نہیں تھی ،راولپنڈی سے صلح ہوگئی ہے ، محمد زبیر

پاکستان کی غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت وجود - بدھ 12 مئی 2021

پاکستان نے غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کرائے ۔ ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہاکہ اسرائیل کے فضائی حملوں کے نتیجے میں بچوں سمیت متعدد بے گناہ فلسطینی جاں بحق اور زخمی ہوئے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ رمضان کے مقدس مہینے میں مسجد اقصی پر حملے قابل مذمت اقدام ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اسرائیلی افواج کی جانب سے فلسطینیوں پر طاقت کے استعمال سے کئی اموات اور افراد زخمی ہوئے ہیں ۔...

پاکستان کی غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت