وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کراچی کی ادبی ڈائری

اتوار 15 اپریل 2018 کراچی کی ادبی ڈائری

ایس ایم معین قریشی کی 25ویں کتاب کی تقریب رونمائی
معروف ادیب، کالم نویس اور مزاح نگار ایس ایم معین قریشی کی 25ویں کتاب ’’کتنے آدمی تھے؟‘‘ کی تقریب پذیرائی گزشتہ دنوں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں منعقد ہوئی جس کی مجلس صدارت میں لیفٹیننٹ جنرل معین الدین حیدر، سردار یاسین ملک،عبدالحسیب خان اور میاں زاہد حسین شامل تھے۔ مہمان خصوصی محترمہ مہتاب اکبر راشدی تھیں اور معروف افسانہ نگار و کالم نویس محترمہ نسیم انجم اور معروف مزاح نگار محمد اسلام نے اظہارِ خیال کیا۔

نظامت کے فرائض معروف شاعرہ محترمہ نزہت عباسی نے انجام دیے۔
اس تقریب پروقار کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کے نواسے نے کیا۔ بعد از تلاوتِ کلام قرآن مجید، نعت رسول مقبول مس سارہ قریشی نے پیش کی جو صبیح الدین صبیح رحمانی کی لکھی ہوئی تھی۔ معروف شاعرہ پروفیسر رضیہ سبحان قریشی اور طنز و مزاح کی شاعرہ محترمہ روبینہ تحسین بینا نے صاحب کتاب ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کو گل دستے پیش کیے۔

’’کتنے آدمی تھے؟‘‘ ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کی 25ویں مزاحیہ مضامین کی کتاب ہے اس سے قبل ان کی 13 طنز و مزاحیہ کتابیں انگریزی زبان میں شایع ہو چکی ہیں اور اُردو زبان میں 11 کتابیں زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر نہ صرف منصہ شہود پر جلوہ گر ہو چکی ہیں بلکہ قارئین شعر و سخن، ناقدینِ فن و ہنر اور مشاہیران اُردو ادب سے داد و تحسین بھی وصول کر چکی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج ناقدینِ فن وہنرنے ان کا مقام متعین کر لیا ہے۔ مشتاق احمد یوسفی کے بعد ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کا نام کراچی میں سب سے بڑا ہے جو انتہائی سنجیدگی سے عمدہ طنز و مزاحیہ تحریر میں لکھ رہے ہیں۔ حمایت علی شاعر نے کہا تھا کہ مشفق خواجہ اور مشتاق احمد یوسفی کے بعد ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی مزاحیہ ادب کا سب سے اہم نام ہے۔ اگر ہم زندہ مزاح نگاروں کی بات کریں تو ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی دوسرا بڑا اور اہم نام قرار پاتا ہے۔ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کو’’ کوہسار نمک‘‘ کے خطاب سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

’’کتنے آدمی تھے؟‘‘ میں 59 مزاحیہ مضامین شامل اشاعت کیے گئے ہیں۔ جن میں ایک مضمون جس گدھے میں جان ہوگی وہ گدھا رہ جائے گا۔ معین قریشی لکھتے ہیں کہ انسان کو گدھا کہنے سے انسان پر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ گدھے کا استحقاق بری طرح مجروح ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی نے اپنا منتخب مضمون پڑھا تو شرکائے محفل کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا ان کے ہر جملے پر قہقہے بلند ہو رہے تھے اور تالیوں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔

اور مجھے خوش گوار حیرت ہوئی کہ جس معاشرے میں کتاب مفت لینے کا رواج ہو اور اعزازی کاپی نہ دینے پر قد آور ادبی شخصیات ناراض ہو جاتی ہوں وہاں ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کی کتاب کتنے آدمی تھے؟ Hot-Cake کی طرح فروخت ہو رہی تھی یہاں تک کہ معین قریشی صاحب نے اپنے اہلِ خانہ کو بھی کہا کہ یہاںسے رعایتی قیمت پر کتاب خریدی لو ورنہ گھر پر میں پوری قیمت پر کتاب دوں گا۔ تقریباً 100 سے زیادہ کتابیں آدھے پروگرام میں میرے سامنے فروخت ہو چکی تھیں۔

1۔ کراچی پریس کلب کی تنقیدی نشست کا انعقاد۔
2۔ سخاوت علی نادر کی غزل اور نغمانہ شیخ کا افسانہ ضرورت تنقید کے لیے پیش کیے گئے۔
3۔ زیب اذکار ادبی کمیٹی کے لیے فعال کردار ادا کررہے ہیں۔ احمد سعید فیض آبادی
4۔ نغمانہ شیخ کا افسانہ معاشرہ کی ترجمانی کرتا ہے۔ صبا اکرام
5۔ سخاوت علی نادر کی غزل مرصع اور مکمل غزل ہے جس میں رنگ تغزل نمایاں ہے۔ رونق حیات
گزشتہ ہفتے کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے زیر اہتمام ایک تنقیدی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت معروف شاعر جناب رونق حیات صاحب نے کی جبکہ مہمان خصوصی نامور نقاد صبا اکرام تھے۔ نشست میں معروف شاعر سخاوت علی نادر کی غزل اور محترمہ نغمانہ شیخ صاحبہ کا افسانہ ’’ ضرورت‘‘ تنقید کے لیے رکھا گیا تھا۔ نغمانہ شیخ صاحبہ نے اپنا افسانہ پڑھ کر سنایا جس کے مختلف پہلوئوں پر ناقدین نے تنقید کی اور اپنی رائے دی۔ بحیثیت مجموعی افسانے کو بہترین افسانہ قرار دیا گیا جبکہ رحمان نشاط صاحب نے افسانے کے منفی پہلوئوں کو اجاگر کیا۔ بعدازاں سخاوت علی نادر نے اپنی غزل منفرد لب لہجہ میں تنقید کے لیے پیش کی نادر کی غزل کو خاطر خواہ پذیرائی ملی۔ ادبی کمیٹی کے روح رواں جناب زیب اذکار نے کہا کہ سخاوت علی نادر کی غزل تنقیدی بصیرت کے تعلق سے ایک اہم غزل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سخاوت علی نادر صاحب اسلوب شاعر ہیں ان کی غزل میں وہ تمام تقاضے موجود ہیں جو ایک اچھی غزل میں ہونا چاہیے۔ مجید رحمانی نے کہا کہ سخاوت علی نادر کو انہوں نے کئی مشاعروں میں سنا ہے وہ بہت تیزی سے ادب میں اپنا مقام بنارہے ہیںان کی غزل ایک مرصع اور کامیاب غزل ہے اور اس میں تنقید کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ حامد علی سید نے سخاوت علی نادر کی غزل کو شاندار قرار دیا۔ احمد سعید فیض آباد نے کہا کہ نادر کی غزل ایک مکمل اور مرصع غزل ہے۔ انہوں نے مطلع اور مقطع کی تعریف کی۔
تقریب میں جن مقررین اور ناقدین نے اظہار خیال کیا اس میں حامد علی سید، مجید رحمانی، الطاف احمد ، زیب اذکار، شکیل احمد ستی، طاہر سلیم سوز، موسیٰ کلیم، نغمانہ شیخ کے صاحب زادے صمد اور بہو مہوش ، رحمان نشاط، احمد سعید فیض آبادی، ظفر عادل، اے خیام، خورشید عالم، سعد الدین سعد، عتیق احمد ، نبیل نجمی اور وقار زیدی شامل تھے۔
تقریب کے اختتام پر پھولوں کا تبادلہ کیا گیا سخاوت علی نادر نے افسانہ نگار نغمانہ شیخ، الطاف احمد نے ادبی کمیٹی کے روح رواں زیب اذکار کو مجید رحمانی نے مہمان خصوصی صبا اکرام کو نغمانہ شیخ نے سخاوت علی نادر کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔
پروگرام کی نظامت موسیٰ کلیم نے اپنے دلچسپ لب و لہجے میں انجام دی۔ پروگرام کے اختتام پر مہمانوں کی توضع پر تکلف ناشتے سے کی گئی۔

اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیراہتمام ڈاکٹر اسلم فرخی کی یاد میں سیمینار اور مشاعرہ منعقد کیا گیا جس کی صدارت اُردو زبان کے نامور شاعر ڈاکٹر جاوید منظر اور مہمان خاص حیات رضوی امروہوی،نصیر سومرو اور کشور عدیل جعفری تھے اس موقع پر ڈاکٹر جاوید منظرنے اپنے صدارتی خطاب کہا کہ اُردوکے نثری ادب میں خاکہ نگاری کی روایت خاصی قدیم ہے اور اس کے ابتدائی نقوش قدیم تذکروں میںدیکھے جاسکتے ہیں۔ اُردو ادب میں خاکہ نگاری میں جو کام ہواہے اور ہورہاہے وہ بہت متنوع اور وقیع ہے ۔ خاکہ نہ تو وقیع ہوتا اور نہ سیرت خاکہ سرگزشت بھی نہیں ہوتا خاکہ ہے کیا ۔یہ ایک ایسے انسان کی جھلک ہوتی ہے۔جسے خاکہ نگار ہمارے سامنے ایک مخصوص فضا اور آہنگ میں پیش کرنا چاہتے ہیں وہ ہمیں انسان کی جھلک اس طرح دکھاتا ہے کہ ہم اس سے ذہنی اور روحانی قربت محسوس کرتے ہیں خاکہ نگاری انسان شناسی اور تخلیقی صلاحیت کے خوبصورت امتزاج سے وجود میں آتی ہے۔ حیات رضوی امروہوی نے کہاکہ ڈاکٹر اسلم فرخی ۲۳؍ اکتومبر۱۹۲۳ء کو لکھنؤمیں پیدا ہوئے ان کا سابق وطن فتح گڑھ ضلع فرخ آباد تھا ڈاکٹر صاحب نے ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جو صدیوں سے علم و ادب کا گہوارا تھا ان کے خاندان کے ہر شخص کو شعرو سخن سے لگاؤرہا ہے ڈاکٹر اسلم فرخی کا شمار ملک کے ممتاز دانشوروں میں ہوتا ہے۔ انہوںنے ادبی زندگی کا آغازشاعری کے ساتھ کیا وہ غزلیں بھی لکھتے ہے اور نظمیں بھی لیکن پھر بھی اپنے آپ کوشاعر نہیںکہتے تھے وہ فرماتے تھے نہ شاعری میری شناخت بنی اور نہ تحقیق میری پہچان خاکہ نگاری کے علاوہ وہ کام ہے جو میںنے حضرت سلطان المثائخ کے حوالے سے کیا ہے۔اکادمی ادبیات پاکستان کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرونے کہا کہ اسلم فرخی کا شمار ملک کے ممتاز دانشوروں میں ہوتا ہے۔ اسلم فرخی کا اصل حوالہ حضرت نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی ہیں جن کے بارے میں وہ ۶ کتابیں لکھ چکے ہیں ۔ فرخی صاحب اولیاء اللہ سے غیر معمولی عقیدت بھی رکھتے ہیں اسی وجہ سے ہی ڈاکٹر صاحب نے کئی چھوٹی چھوٹی کتابیں بھی لکھیں ہیں آپ نے ۱۶ ؍سے زائد کتابیں بھی لکھی ہیں۔ آج ملکی ایک بہت بڑی شخصیت جو ہمارے درمیاں موجود نہیں ہے لیکن روحانی طور پر ہمارے ساتھ ہیں ان کی یاد میں مشاعرہ کا آغاز کیا جاتاہے۔ جن شعرائے اکرام نے اپنا کلام پیش کیا ان میں ڈاکٹرجاوید منظر، حیات رضوی امروہوی، نصیر سومرو، کشور عدیل جعفری، سید منیف اشعر ، شگفتہ شفیق، فہمیدہ مقبول، اظہر بانبھن، فرح دیبا، سیدہ ماہین زاہد، تنویر حسن سخنور، ڈاکٹر لبنیٰ عکس ، عشرت حبیب، عرفان علی عابدی، دلشاد احمد دہلوی، سید اوسط علی جعفری، ذوالفقار حیدر پرواز، محمد رفیق مغل، نشاط غوری، ڈاکٹر شابانہ زیدی، رخسانہ زیدی، صدیقی راز ایڈووکیٹ،ناظم سلطانہ، محمد یونس، اقبال افسر غوری، سید زاہدحسن، ذوالفقار حسیانی، تاج علی رعنا، زارا صنم، سیف الرحمٰن سیفی، سید اوج ترمذی، شامل تھے آخر میں قادربخش سومرو نے آئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔


متعلقہ خبریں


امریکا نے ڈبلیو ایچ او سے باضابطہ طور پر دستبردار ہونے کا نوٹس جمع کرادیا وجود - جمعرات 09 جولائی 2020

امریکا نے عالمی ادارہ صحت سے باضابطہ طورپر دست بردار ہونے کیلئے نوٹس سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوٹریس کو پہنچا دیا جس کی تصدیق وائٹ ہاوس نے کردی ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ دست برداری کے لئے ایک سال پہلے نوٹس دیا جاتا ہے ۔ اس لئے امریکا 6 جولائی 2021 تک ڈبلیو ایچ او سے علیحدگی اختیار نہیں کرسکتا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل میں الزام لگایا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کورونا وائرس کے پھیلاو سے متعلق بروقت اور شفاف معلومات دینے م...

امریکا نے ڈبلیو ایچ او سے باضابطہ طور پر دستبردار ہونے کا نوٹس جمع کرادیا

سعوی عرب،الاحسا رنگا رنگ اور خوش ذائقہ پھلوں اور سبزیوں کا مرکزقرار وجود - جمعرات 09 جولائی 2020

سعودی عرب کی مشرقی گورنری الاحسا کو مملکت میں پھلوں اور سبزیوں کی ٹوکری قرار دے دیاگیا۔عرب ٹی وی کے مطابق الاحسا کی زرعی پیداوار پورے ملک میں پسند کی جاتی ہے ۔ شدید گرمی کے باوجود الاحسا میں انواع واقسام کے پھل اور سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں۔ ان میں زرد تربوزم سیاہ توت، کھجور، انجیر، سبز لیمن اور ان گنت سبزیاں کاشت کی جاتی اور پورے ملک میں سپلائی کی جاتی ہیں۔الاحسا گورنری میں کاشت کی جانے والی سبزیاں اور پھل اپنے اعلی معیار کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔ مقامی بازاروں میں الاحسا میں ک...

سعوی عرب،الاحسا رنگا رنگ اور خوش ذائقہ پھلوں اور سبزیوں کا مرکزقرار

اقوام متحدہ کی تفتیش کار کی ٹرمپ پر تنقید، قاسم سلیمانی کے قتل کی مذمت وجود - جمعرات 09 جولائی 2020

اقوام متحدہ کی تفتیش کار اگنس کالامارڈ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم سے ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کی شدید مذمت کی ہے ۔عرب ٹی وی کے مطابق کالا مارڈ نے کہا کہ گذشتہ جنوری میں عراق میں امریکی فوج کی کارروائی کے دوران ایرانی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی اور نو دیگر افراد کی ہلاکت ایک غیرقانونی اقدام اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھی۔کالامارڈ نے مزید کہا کہ امریکا بغداد ہوائی اڈے سے نکلنے والے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قافلے پر حملے جواز پ...

اقوام متحدہ کی تفتیش کار کی ٹرمپ پر تنقید، قاسم سلیمانی کے قتل کی مذمت

مہاجرین کی گرفتاری کے تنازع پرملائیشیا کی الجزیرہ ٹی وی سے تحقیقات وجود - جمعرات 09 جولائی 2020

ملائیشیا کی پولیس نے کہا ہے کہ وہ الجزیرہ نیوز چینل کے صحافیوں کو غیرقانونی تارکین وطن کی گرفتاری سے متعلق ایک دستاویزی فلم تیار کرنے کے معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کریں گے ۔ حکام نے الجزیرہ ٹی وی کی اس دستاویزی فلم کو ملائشیا کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا ہے ۔مہاتیر محمد کے وزارت عظمی کے عہدے سے استعفے کے بعد ملائیشیا اور قطر کے درمیان تعلقات میں کشیدگی آئی ہے ۔خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ الجزیرہ کہ متنازع دستاویزی فلم غیر قانونی تارکین وطن کی کوالالمپور می...

مہاجرین کی گرفتاری کے تنازع پرملائیشیا کی الجزیرہ ٹی وی سے تحقیقات

لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

لندن کے جنوبی علاقے میں پولیس اہلکاروں نے سیاہ فام نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بلیک لائیوز میٹر کے نام سے وائرل کردی گئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق واقعہ لندن کے علاقے کرائیڈن میں پیش آیا جہاں اہلکار وں نے نوجوان کو دھکے دئیے اور لاتیں مارکر فٹ پاتھ پر گرادیا،گرفتاری کے باوجود نوجوان کو مکے مارے گئے ۔ پولیس کو شبہ تھا کہ نوجوان کے پاس تیز دھار آلہ ہے تاہم اس کے قبضے سے کچھ بھی برآمد نہیں کیا جاسکا۔

لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں وجود - جمعه 03 جولائی 2020

قومی ادارہ صحت نے عیدالاضحی کے موقع پر کانگو بخار کے ممکنہ خدشے کے پیش نظر اسکی روک تھام اور کنٹرول سے متعلق ایڈوائزری جاری کر دی ہے ،اس ایڈوائزری کے علاوہ قومی ادارہ صحت نے موسمی بیماریوں سے آگاہی کے حوالے سے اپنا 48 واں سہہ ماہی انتباہی مراسلہ بھی جاری کیا ہے ۔کانگو ہیمرجک بخار(سی سی ایچ ایف)جسے مختصرا کانگو بخار کہا جاتا ہے ایک خطرناک قسم کے وائرس سے پھیلتا ہے ۔ایڈوائزری کے مطابق، عیدالاضحی سے قبل قربانی کے جانوروں کی نقل و حرکت میں اضافے کی وجہ سے کانگو بخار کا خطرہ نمایا...

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں بچہ بتارہا ہے کہ کس طرح اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے نانا کو گو لیاں مار کر شہید کیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کے سامنے ظالم بھارتی فوج نے 60 سالہ بزرگ شہری کو نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر شہید کردیا تھا۔ ننھا بچہ اپنے نانا کی لاش کے اوپر بیٹھ کر بے بسی سے روتا رہا لیکن کسی نے اسے دلاسہ نہ دیا۔بچے کی بے بسی نے پوری دنیا کو ہلا ڈالا ہے اور اس کی ن...

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان وجود - جمعه 03 جولائی 2020

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ملک میں آن لائن پلیٹ فارمز پر کنٹرول بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنی جماعت اے کے پی کے ارکان سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن نے یوٹیوب، ٹویٹر اور نیٹ فلکس جیسے میڈیا سے فحاشی اور بداخلاقی کے خاتمے کی خواہش ظاہر کی۔ خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ایردوآن کے خاندان خاص طور سے ان کی بیٹی کو توہین کا نشانہ بنایا گیا ہے جن کے ہاں حال ہی میں چوتھے بچے کی پیدائش ہوئی۔ اس الزام میں 11 مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ...

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام وجود - جمعه 03 جولائی 2020

بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام ہو گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سلامتی کونسل کے بیان میں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشتگردی میں ملوث عناصر، انکے سہولت کاروں، معاونین اور حامیوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ، بیان کا مطالبہ چین نے کیا تھا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی سفارتکاری کو منہ کی کھانا پڑی، مودی حکومت کے ہزار جتن اور کوششوں کے باوجود اقوام متحدہ کی سلامتی ک...

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی وجود - هفته 27 جون 2020

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 97 لاکھ 10 ہزار سے زائد ہو گئی ہے ۔ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 52 لاکھ 79 ہزار سے زائد ہوگئی ہے ۔ دنیا بھرمیں کورونا سے متاثرہ 57 ہزار 619 افراد کی حالت تشویشناک ہے ۔امریکہ میں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے بڑھ گئی ہے ۔ امریکہ میں 25 لاکھ چار ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ۔برازیل امریکہ کے بعد 12 لا...

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک وجود - هفته 27 جون 2020

بھارتی ریاست بہار اور اترپردیش میں آسمانی بجلی گرنے سے صرف ایک دن میں خواتین اور بچوں سمیت تقریبا 130 افراد ہلاک ہوگئے ۔بجلی گرنے سے ایک دن میں ہلاک ہونے والوں کی اب تک کی یہ سب سے بڑی تعداد بتائی جارہی ہے ۔ درجنوں دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے ۔سرکاری رپورٹوں کے مطابق بہار کے متعدد اضلاع میں بجلی گرنے سے کم از کم 97 افراد کی موت ہوگئی۔ بہار ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر لکشمیشور رائے نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ برسوں میں ری...

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار وجود - جمعرات 25 جون 2020

یورپی یونین نے کورونا وبا کے سبب امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار کرلیا، پابندی کے اطلاق کا حتمی فیصلہ یکم جولائی تک کرلیا جائے گا۔امریکی اخبار کے مطابق یورپی حکام ان ممالک کی فہرست تیار کررہے ہیں جنہیں محفوظ قراردیا جاسکتا ہے اور جن کے شہریوں کو موسم گرما میں سیاحت کی اجازت دی جاسکتی ہے ، اس بارے میں مسودہ تیار کرلیا گیا ہے ۔فی الحال امریکا بھی ان ممالک میں شامل ہے جو غیر محفوظ تصور کیے گئے ہیں، یورپی حکام کا خیال ہیک ہ امریکا کوروناوبا کو پھیلنے سے روکنے می...

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار