وجود

... loading ...

وجود
جمعه 02 جنوری 2026

روس امریکا تنازع، بالادستی کی جنگ

منگل 03 اپریل 2018 روس امریکا تنازع، بالادستی کی جنگ

ایک طرف روس وامریکا میں ٹھن گئی ہے اور ایک دوسرے کے سفارتکار نکالے جا رہے ہیں،دوسری طرف بھارت بھی امریکا کے بل بوتے پر خود کو علاقے کی قوت فوقیہ( سپر پاور) سمجھ بیٹھا ہے اور پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دینے پر اْترا ہوا ہے۔ روس کبھی سوویت یونین کے نام سے دنیا کی دو بڑی طاقتوں میں سے ایک تھااور روس و امریکا میں طویل سرد جنگ ہوتی رہی۔افغانستان میں مجاہدین کے ہاتھوں شکست کھا کر سوویت یونین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر اپنے خول میں سمٹ گیا اور ایک بار پھر روس کہلایا۔ اس کی شکست میں امریکا کا بھی ہاتھ تھا جس نے براہ راست تصادم کے بجائے افغانستان میں مجاہدین کی جر?ت و ہمیت کو اپنا سہارا بنایا۔ روس کو خوب معلوم ہے کہ اس کی شکست کے پیچھے امریکا تھاچنانچہ وہ اس بات کو بھولا نہیں ہے اور روسی حکمران اور عوام ایک بار پھر اپنے ماضی کے احیاکی کوشش میں ہیں۔ اس وقت روسیوں کوصدر پیوٹن کی صورت میں ایک بیدار مغز حکمران مل گیا ہے جس سے امریکا اور اس کے حواری یورپی ممالک خوف زدہ ہیں چنانچہ برطانیہ میں پیش آنے والے ایک عام سے واقعہ کو بنیاد بنا کر سفارتی محاذ پر روس کے خلاف اعلان جنگ کر دیا گیا ہے۔

امریکا برطانیا میں روسی جاسوس اور روس میں امریکی اور یورپی ممالک کے جاسوسوں کی موجودگی کوئی نئی بات نہیں ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا علم سب کو ہے۔ چنانچہ برسوں سے ایسا ہو رہا ہے کہ جاسوس پکڑے جاتے رہے ہیں اور بارہا ان کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔ یہ بھی کوئی راز نہیں کہ دنیا بھر میں جاسوسی کا جال پھیلانے میں برطانیہ سر فہرست تھا اب اس کی جگہ امریکا اور اس کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے لے لی ہے۔ عالم عرب میں انتشار وا فتراق برپا کرنے کے لیے برطانیہ کے مشہور جاسوس لارنس آف عربیہ نے مسلمان بن کر کام کیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ عربوں میں قومیت کا زہر پھیلانے میں کامیاب ہو گیا۔ یہی کام امریکا کر رہا ہے جسے مسلمانوں ہی میں سے غدار دستیاب ہو جاتے ہیں بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلم ممالک کے کئی حکمران بھی سی آئی اے کے تنخواہ دار تھے اور ہیں۔ یہ کس کو نہیں معلوم کہ اسرائیل پورے عالم اسلام کا کھلا دشمن ہے اور اس کی پشت پر امریکا ہے۔ اب اگر کوئی عرب ملک اسرائیل کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دے یا اسرائیل کے حامی گروہوں سے میل ملاقات کرے تواس کا کیا مطلب لیا جائے؟ سعودی سفارتخانے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سعودی ولی عہد نے امریکا میں یہودی ربیوں اور یہودی اداروں کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔

عالم اسلام کے بیشتر حکمران محض امریکا کی خوشنودی کے لیے اسرائیل کو گلے لگانے کے لیے بے چین رہتے ہیں۔ ایک آمر جنرل پرویز مشرف نے بھی یہ فلسفہ پیش کیا تھا کہ مسلمانوں اور یہودیوں میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ ہم سلام کہتے ہیں اور وہ شلوم۔ واہ کیا مناسبت تلاش کی گئی۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہودی اسحاق ؑکی اولاد ہیں اور مسلمان ان کے بھائی اسماعیل ؑکی۔ یوں دونوں عم زاد ہوئے۔ لیکن فلسطین میں کیا ہورہاہے، کیا یہ دو بھائیوں کی لڑائی ہے۔ جہاں تک روس اور امریکا و یورپ کے نئے تنازع کا تعلق ہے تو اس کا آغاز سابق روسی جاسوس سرگئی اسکرپل کی برطانیا میں زہریلی گیس سے ہلاکت سے شروع ہوا۔ اس پر واشنگٹن نے روس کے 60 سفارتکاروں کو اپنے ملک سے نکال دیا۔ اس کے جواب میں روس نے بھی 60 امریکی سفارتکاروں کو ملک بدر کردیا۔ لیکن صرف امریکا ہی نہیں برطانیا اور کچھ یورپی ممالک نے بھی روسی سفارتکاروں کو نکال دیا۔ جس پر روسی وزیر خارجہ نے انتباہ کیا ہے کہ ان ممالک کے ساتھ بھی ایسا ہی برتاؤ کیا جائے گا۔ چنانچہ 18 یورپی سفارتکار نکالے جارہے ہیں۔ سینیٹ پیٹرز برگ میں امریکی سفارتخانہ بند کرادیا گیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ روس نے خود کو مزید تنہا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ یہ صورتحال ایک اور سرد جنگ کی طرف جارہی ہے اور دنیا ایک بار پھردو حصوں میں تقسیم ہوسکتی ہے۔ لیکن امریکا کا یہ گمان صحیح نہیں ہے کہ روس نے خود کو مزید تنہا کرلیا ہے۔ اس سے پہلے روسی کمیونزم اور امریکی و یورپی کیپٹل ازم یا سرمایہ داری نظام کی جنگ تھی لیکن سوویت یونین کے خاتمے کے ساتھ کمیونزم یا اشتراکیت کا فلسفہ بھی دم توڑ گیا۔

سید مودودی کی پیشگوئی کے مطابق کمیونزم ماسکو میں دم توڑے گا اور سرمایہ داری نظام واشنگٹن میں۔ پیشگوئی کا دوسرا حصہ بھی پورا ہوکر رہے گا لیکن اس کو کچھ سرمایہ دار مسلم ممالک نے سہارا دے رکھا ہے۔ بھارت پہلے ماسکو کا کاسہ لیس تھا اب امریکا کی گود میں ہے۔ پاکستان کو فیصلہ کرنا ہے کہ کس طرف کا رخ کرنا قومی مفاد میں ہوگا۔ امریکا کی طویل خدمت اور چاپلوسی کے جواب میں تو صرف دھمکیاں ہی ملی ہیں اور کہا گیا ہے کہ پاکستان ٹھیک ہوجائے ورنہ بہت برا حشر ہوگا۔ امریکا کی خوشامد کرکے حکمرانوں نے پاکستان کا جو حشر کردیا ہے اس سے برا اور کیا ہوگا۔ امریکا کی شہ پر بھارت پاکستان اور چین کو آنکھیں دکھارہا ہے جس پر ترجمان دفتر خارجہ نے انتباہ کیا ہے کہ بھارت کو طے شدہ وقت اور مقام پر سبق سکھائیں گے۔ فائر بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کسی مہم جوئی کا باعث بن سکتی ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔


متعلقہ خبریں


وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکا کراچی اور سندھ کے دورے کا اعلان(عمران خان کا پیغام لے کر آرہا ہوں، سہیل آفریدی وجود - جمعه 02 جنوری 2026

اسٹریٹ موومنٹ کیلئے 9 جنوری کو کراچی اور سندھ والو تیاری پکڑو، تمام پارٹی کے دوستوں سے جمعہ کے دن ملاقات ہوگی، لوگو! یاد رکھو اب ہمارے لیے کوئی طارق بن زیاد یا محمد بن قاسم نہیں آئے گا ظالم کیخلاف کھڑا ہونا ہے،اب پوری قوم کو نکلنا ہوگا ان کی گولیاں ختم ہو جائیں ہمارے سینے ختم ن...

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکا کراچی اور سندھ کے دورے کا اعلان(عمران خان کا پیغام لے کر آرہا ہوں، سہیل آفریدی

امریکی تاریخ کا منفرد لمحہ،ظہران ممدانی قرآن پر حلف اٹھا کرمیئر بن گئے وجود - جمعه 02 جنوری 2026

ظہران ممدانی نے حلف برداری کے دوران اپنا ہاتھ قرآن پاک پر رکھا،غیر ملکی میڈیا نیویارک کے شہریوں کی خدمت ان کیلئے زندگی کا سب سے بڑا اعتمار ہے،خطاب امریکا کے سب سے بڑے شہر نیویارک کے نو منتخب میٔرظہران ممدانی نے یکم جنوری 2026 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا اور وہ نیویارک کی تا...

امریکی تاریخ کا منفرد لمحہ،ظہران ممدانی قرآن پر حلف اٹھا کرمیئر بن گئے

نئے سال کی خوشیاں ماتم میں تبدیل،سوئٹزرلینڈ میں خوفناک دھماکا40 افراد ہلاک وجود - جمعه 02 جنوری 2026

علی الصبح تقریباً ڈیڑھ بجے ایک مشہوربار میں آگ لگنے سے تقریبا 100 افراد زخمی ہوئے نئے سال کی تقریبات جاری تھیں اور بڑی تعداد میں سیاح موجود تھے،ترجمان سوئس پولیس سوئٹزرلینڈ کے معروف اور لگژری اسکی ریزورٹ شہر کرانس مونٹانا میں ایک بار میں ہونے والے زور دار دھماکے کے نتیجے میں...

نئے سال کی خوشیاں ماتم میں تبدیل،سوئٹزرلینڈ میں خوفناک دھماکا40 افراد ہلاک

سعودی عرب کا یمنی بندرگاہ پر فضائی حملہ،متحدہ عرب امارات کا فوجی آپریشن بند،فوجی واپس بلانے کا اعلان وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

کارروائی یمن کے علیحدگی پسند گروہ کیلئے اسلحے کی کھیپ پہنچنے پر کی گئی،امارات کی جانب سے علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت سعودی عرب کی قومی سلامتی کیلئے براہِ راست خطرہ ہے،سعودی حکام یمن میں انسداد دہشتگردی کیلئے جاری اپنے باقی ماندہ آپریشن فوری طور پر ختم کررہے ہیں، واپسیشراکت دار...

سعودی عرب کا یمنی بندرگاہ پر فضائی حملہ،متحدہ عرب امارات کا فوجی آپریشن بند،فوجی واپس بلانے کا اعلان

ایف بی آر اقدامات ، تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال،دھرنے کی دھمکی وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

پوائنٹ آف سیل کا کالا قانون واپس نہ لیا گیا تو 16 جنوری سے آغاز کرینگے، ملک بھر کے تمام چوراہے اور کشمیر ہائی وے کو بند کردیا جائے گا،وزیراعظم ہماری شکایات دور کریں، صدر آبپارہ چوک سے ایف بی آر دفتر تک احتجاجی ریلی،شرکاء کو پولیس کی بھاری نفری نے روک لیا، کرپشن کے خاتمہ کے ل...

ایف بی آر اقدامات ، تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال،دھرنے کی دھمکی

بااختیار بلدیاتی نظام کیلئے ملک گیر عوامی ریفرنڈم ہوگا،حافظ نعیم وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

ریفرنڈم کے بعد پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کیخلاف صوبائی اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے پاکستان اپنی فوج حماس اور فلسطینیوں کے مقابل کھڑی نہ کرے، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں پندرہ جنوری کو ملک گ...

بااختیار بلدیاتی نظام کیلئے ملک گیر عوامی ریفرنڈم ہوگا،حافظ نعیم

یوٹیوبر رجب بٹ ، وکلا کی لڑائی ؛ سٹی کورٹ میں ہڑتال وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

مظاہرین کا ایم اے جناح روڈ پر دھرنا ، ایف آئی آر کو فوری واپس لینے کا مطالبہ جب تک ہماری ایف آئی آر درج نہیں ہوتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا،احتجاجی وکلاء (رپورٹ:افتخار چوہدری)کراچی ایم اے جناح روڈ پر وکلاء کے احتجاج کے باعث شاہراہ کئی گھنٹوں سے بند ۔احتجاج یوٹیوبر رجب بٹ ک...

یوٹیوبر رجب بٹ ، وکلا کی لڑائی ؛ سٹی کورٹ میں ہڑتال

عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں کرینگے،سلمان اکرم راجا وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

محمود اچکزئی کا یہی موقف ہے بانی کیساتھ ملاقاتیں بحال کئے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے مذاکرات کیلئے بھیک کا لفظ غلط لفظ ہے،پی ٹی آئی اور اچکزئی ایجنڈے میں کوئی فرق نہیں پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرسکتے تو مذاکرات کی ک...

عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں کرینگے،سلمان اکرم راجا

بی ایل اے بچوں کو ہتھیار بنانے لگا،کمسن بچی کو خود کش بمبار بنانے کی کوشش ناکام وجود - منگل 30 دسمبر 2025

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا، دہشت گردوں کا نیا نشانہ ہمارے بچے ہیں،سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے بلوچ بچی بلوچستان سے ہے، اس کی مختلف لوگوں نے ذہن سازی کی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا، رابطہ ...

بی ایل اے بچوں کو ہتھیار بنانے لگا،کمسن بچی کو خود کش بمبار بنانے کی کوشش ناکام

پنجاب حکومت اخلاقی اور ذہنی پستی کا شکار ہے، میرے دورے میں نفرت آمیز رویہ اختیار کیا، سہیل آفریدی کا مریم نواز کواحتجاجی خط وجود - منگل 30 دسمبر 2025

میرے کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی،اسے اسمگلنگ اور منشیات سے جوڑا گیا، یہ سب پنجاب حکومت کی زیر نگرانی ہوا، انتظامی حربے استعمال کرنے کا مقصد تضحیک کرنا تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پنجاب حکومت نے کابینہ ارکان کو تشدد کا نشانہ بنایا ،لاہورکے شہریوں کو تکلیف دی گئی، قومی یکجہت...

پنجاب حکومت اخلاقی اور ذہنی پستی کا شکار ہے، میرے دورے میں نفرت آمیز رویہ اختیار کیا، سہیل آفریدی کا مریم نواز کواحتجاجی خط

عمران اور بشریٰ نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا وجود - منگل 30 دسمبر 2025

اسلام آباد ہائیکورٹ نیبانی تحریک انصافعمران خان کی اپیل پر ڈائری نمبر24560 لگا دیا عدالت نے وعدہ معاف گواہ کے بیان پر انحصار کیا جو نہیں کیا جا سکتا تھا، دائراپیل میں مؤقف بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا۔تفصیلات...

عمران اور بشریٰ نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا

فیض حمید نے فوجی عدالت کی سزا کیخلاف اپیل دائر کردی وجود - منگل 30 دسمبر 2025

اپیل رجسٹرار کورٹ آف اپیلز، اے جی برانچ، چیف آف آرمی اسٹاف کو جمع کرائی گئی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کیلئے 40 دن کا وقت تھا، وکیل میاں علی اشفاق کی تصدیق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے ملٹری کورٹ سے سنائی گئی اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی ...

فیض حمید نے فوجی عدالت کی سزا کیخلاف اپیل دائر کردی

مضامین
کشمیر 'خاموش اور اُداس' ہے :کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی رپورٹ میں انکشاف وجود جمعه 02 جنوری 2026
کشمیر 'خاموش اور اُداس' ہے :کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی رپورٹ میں انکشاف

بھارت کی ریاستی دہشت گردی وجود جمعه 02 جنوری 2026
بھارت کی ریاستی دہشت گردی

شیطان باہر نہیں اندر ہو تا ہے ! وجود جمعه 02 جنوری 2026
شیطان باہر نہیں اندر ہو تا ہے !

مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے! وجود جمعرات 01 جنوری 2026
مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے!

بھارتی مسلمان غیر محفوظ وجود جمعرات 01 جنوری 2026
بھارتی مسلمان غیر محفوظ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر