وجود

... loading ...

وجود

روس امریکا تنازع، بالادستی کی جنگ

منگل 03 اپریل 2018 روس امریکا تنازع، بالادستی کی جنگ

ایک طرف روس وامریکا میں ٹھن گئی ہے اور ایک دوسرے کے سفارتکار نکالے جا رہے ہیں،دوسری طرف بھارت بھی امریکا کے بل بوتے پر خود کو علاقے کی قوت فوقیہ( سپر پاور) سمجھ بیٹھا ہے اور پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دینے پر اْترا ہوا ہے۔ روس کبھی سوویت یونین کے نام سے دنیا کی دو بڑی طاقتوں میں سے ایک تھااور روس و امریکا میں طویل سرد جنگ ہوتی رہی۔افغانستان میں مجاہدین کے ہاتھوں شکست کھا کر سوویت یونین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر اپنے خول میں سمٹ گیا اور ایک بار پھر روس کہلایا۔ اس کی شکست میں امریکا کا بھی ہاتھ تھا جس نے براہ راست تصادم کے بجائے افغانستان میں مجاہدین کی جر?ت و ہمیت کو اپنا سہارا بنایا۔ روس کو خوب معلوم ہے کہ اس کی شکست کے پیچھے امریکا تھاچنانچہ وہ اس بات کو بھولا نہیں ہے اور روسی حکمران اور عوام ایک بار پھر اپنے ماضی کے احیاکی کوشش میں ہیں۔ اس وقت روسیوں کوصدر پیوٹن کی صورت میں ایک بیدار مغز حکمران مل گیا ہے جس سے امریکا اور اس کے حواری یورپی ممالک خوف زدہ ہیں چنانچہ برطانیہ میں پیش آنے والے ایک عام سے واقعہ کو بنیاد بنا کر سفارتی محاذ پر روس کے خلاف اعلان جنگ کر دیا گیا ہے۔

امریکا برطانیا میں روسی جاسوس اور روس میں امریکی اور یورپی ممالک کے جاسوسوں کی موجودگی کوئی نئی بات نہیں ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا علم سب کو ہے۔ چنانچہ برسوں سے ایسا ہو رہا ہے کہ جاسوس پکڑے جاتے رہے ہیں اور بارہا ان کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔ یہ بھی کوئی راز نہیں کہ دنیا بھر میں جاسوسی کا جال پھیلانے میں برطانیہ سر فہرست تھا اب اس کی جگہ امریکا اور اس کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے لے لی ہے۔ عالم عرب میں انتشار وا فتراق برپا کرنے کے لیے برطانیہ کے مشہور جاسوس لارنس آف عربیہ نے مسلمان بن کر کام کیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ عربوں میں قومیت کا زہر پھیلانے میں کامیاب ہو گیا۔ یہی کام امریکا کر رہا ہے جسے مسلمانوں ہی میں سے غدار دستیاب ہو جاتے ہیں بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلم ممالک کے کئی حکمران بھی سی آئی اے کے تنخواہ دار تھے اور ہیں۔ یہ کس کو نہیں معلوم کہ اسرائیل پورے عالم اسلام کا کھلا دشمن ہے اور اس کی پشت پر امریکا ہے۔ اب اگر کوئی عرب ملک اسرائیل کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دے یا اسرائیل کے حامی گروہوں سے میل ملاقات کرے تواس کا کیا مطلب لیا جائے؟ سعودی سفارتخانے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سعودی ولی عہد نے امریکا میں یہودی ربیوں اور یہودی اداروں کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔

عالم اسلام کے بیشتر حکمران محض امریکا کی خوشنودی کے لیے اسرائیل کو گلے لگانے کے لیے بے چین رہتے ہیں۔ ایک آمر جنرل پرویز مشرف نے بھی یہ فلسفہ پیش کیا تھا کہ مسلمانوں اور یہودیوں میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ ہم سلام کہتے ہیں اور وہ شلوم۔ واہ کیا مناسبت تلاش کی گئی۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہودی اسحاق ؑکی اولاد ہیں اور مسلمان ان کے بھائی اسماعیل ؑکی۔ یوں دونوں عم زاد ہوئے۔ لیکن فلسطین میں کیا ہورہاہے، کیا یہ دو بھائیوں کی لڑائی ہے۔ جہاں تک روس اور امریکا و یورپ کے نئے تنازع کا تعلق ہے تو اس کا آغاز سابق روسی جاسوس سرگئی اسکرپل کی برطانیا میں زہریلی گیس سے ہلاکت سے شروع ہوا۔ اس پر واشنگٹن نے روس کے 60 سفارتکاروں کو اپنے ملک سے نکال دیا۔ اس کے جواب میں روس نے بھی 60 امریکی سفارتکاروں کو ملک بدر کردیا۔ لیکن صرف امریکا ہی نہیں برطانیا اور کچھ یورپی ممالک نے بھی روسی سفارتکاروں کو نکال دیا۔ جس پر روسی وزیر خارجہ نے انتباہ کیا ہے کہ ان ممالک کے ساتھ بھی ایسا ہی برتاؤ کیا جائے گا۔ چنانچہ 18 یورپی سفارتکار نکالے جارہے ہیں۔ سینیٹ پیٹرز برگ میں امریکی سفارتخانہ بند کرادیا گیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ روس نے خود کو مزید تنہا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ یہ صورتحال ایک اور سرد جنگ کی طرف جارہی ہے اور دنیا ایک بار پھردو حصوں میں تقسیم ہوسکتی ہے۔ لیکن امریکا کا یہ گمان صحیح نہیں ہے کہ روس نے خود کو مزید تنہا کرلیا ہے۔ اس سے پہلے روسی کمیونزم اور امریکی و یورپی کیپٹل ازم یا سرمایہ داری نظام کی جنگ تھی لیکن سوویت یونین کے خاتمے کے ساتھ کمیونزم یا اشتراکیت کا فلسفہ بھی دم توڑ گیا۔

سید مودودی کی پیشگوئی کے مطابق کمیونزم ماسکو میں دم توڑے گا اور سرمایہ داری نظام واشنگٹن میں۔ پیشگوئی کا دوسرا حصہ بھی پورا ہوکر رہے گا لیکن اس کو کچھ سرمایہ دار مسلم ممالک نے سہارا دے رکھا ہے۔ بھارت پہلے ماسکو کا کاسہ لیس تھا اب امریکا کی گود میں ہے۔ پاکستان کو فیصلہ کرنا ہے کہ کس طرف کا رخ کرنا قومی مفاد میں ہوگا۔ امریکا کی طویل خدمت اور چاپلوسی کے جواب میں تو صرف دھمکیاں ہی ملی ہیں اور کہا گیا ہے کہ پاکستان ٹھیک ہوجائے ورنہ بہت برا حشر ہوگا۔ امریکا کی خوشامد کرکے حکمرانوں نے پاکستان کا جو حشر کردیا ہے اس سے برا اور کیا ہوگا۔ امریکا کی شہ پر بھارت پاکستان اور چین کو آنکھیں دکھارہا ہے جس پر ترجمان دفتر خارجہ نے انتباہ کیا ہے کہ بھارت کو طے شدہ وقت اور مقام پر سبق سکھائیں گے۔ فائر بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کسی مہم جوئی کا باعث بن سکتی ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔


متعلقہ خبریں


بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

الیکشن کمیشن نے ایم کیو ایم پاکستان کو شوکاز جاری کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

الیکشن کمیشن نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)پاکستان کو شوکاز جاری کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 26 اکتوبر 2026 کو شوکاز جاری کیا گیا ہے، ایم کیو ایم پاکستان انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کے قانونی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے، سیاسی جماعت نے مقررہ توسیعی مدت 15 اکتوبر 2026...

الیکشن کمیشن نے ایم کیو ایم پاکستان کو شوکاز جاری کر دیا

آئی ایم ایف کا شارٹ فال پر اظہار تشویش، ہنگامی ٹیکس اقدامات کی تجویز وجود - منگل 03 نومبر 2026

عالمی مالیاتی ادارے کا 15 ہزار 264 ارب کا سالانہ ٹیکس وصولی کا ہدف پورا کرنے پر زور آئی ایم ایف نے ٹیکس ریونیو میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شارٹ فال پورا کرنے کے لیے ہنگامی ٹیکس اقدامات کی تجویز دے دی ہے۔نجی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ عالمی مالیا...

آئی ایم ایف کا شارٹ فال پر اظہار تشویش، ہنگامی ٹیکس اقدامات کی تجویز

سانحہ پمز کا ریکارڈ طلب، کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہوگی، ہائیکورٹ وجود - منگل 03 نومبر 2026

عدالت عالیہ نے سانحہ پمز کی ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست خارج کرنے کا جسٹس آف پیس کا حکم معطل کردیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے سانحہ پمز میں بچوں کی اموات کا مقدمہ درج کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے انکوائری رپورٹ سمیت مکمل ریکارڈ...

سانحہ پمز کا ریکارڈ طلب، کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہوگی، ہائیکورٹ

شہباز شریف کی ذہانت کا دنیا کے معروف سائنسدان نیوٹن سے موازنہ، بیان سوشل میڈیا پر وائرل وجود - منگل 03 نومبر 2026

شہباز شریف کا بس چلے تو کابینہ کے 55 وزیروں میں سے 52 یا 53 فارغ ہوں گے اور 2 یا 3 ہی بچیں گے، حذیفہ رحمان وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان نے وزیراعظم کی ذہانت کا موازنہ معروف سائنسدان آئزک نیوٹن سے کیا ہے۔نجی ٹی وی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیرا عظم کا...

شہباز شریف کی ذہانت کا دنیا کے معروف سائنسدان نیوٹن سے موازنہ، بیان سوشل میڈیا پر وائرل

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر