وجود

... loading ...

وجود

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ

اتوار 01 اپریل 2018 کراچی کی ایمپریس مارکیٹ

وقت ہو یا سمندر دونوں ہی بڑے بے رحم ہو تے ہیں ان کی فطرت میں لوٹ آ نا لکھا ہے لہذا لوٹتے ضرور ہیں مگر اللہ کی قدرت کے پیش نظر وہ سمندر جو کہ 50میل پیچھے چلا گیا ہے لوٹ کر نہیں آ یا مگر وقت ایک بار پھر لوٹ کر آ نا شروع ہو چکا ہے یہ غالبا 1839 کی بات ہے جب بر طانوی افواج نے سندھ پر قبضہ کیا اور یہاں مستقل سکونت پذیر ہو گئے، مستقل سکونت اختیار کر نے کے پیش نظر انہیں سب سے پہلے با زار کی ضرورت پیش آ ئی لہذا ان کے لیے صدر جسے کیمپ کا علا قہ کہا جا تا تھا میں ایک با زار قائم کر دیا گیا جسے کیمپ بازار کا نام دیا گیا، فوجیوں کی تیزی کے ساتھ آ مد کے بعد ان کی ضروریات بڑھیں لہذاان کے لیے اسی صدر کے علا قے میں 10نومبر 1884میں مارکیٹ کی بنیاد رکھی گئی اور ایک لا کھ 55ہزار کی لا گت سے 21مارچ 1889کو اسے مکمل کر لیا گیا اور کیونکہ اسی سال ملکہ وکٹوریا کی سلور جوبلی منا ئی جا رہی تھی لہذا اسے ملکہ کو تحفے کے طور پر پیش کر نے کے لیے مارکیٹ کا نام ہی ایمپریس ما رکیٹ رکھا گیا۔

یہ وہی جگہ تھی جہاں 1857میں انگریزوں کیخلاف بغاوت میں حصہ لینے والے 21ویں رجمنٹ کے مقامی سپا ہیوںجن میں مسلمان اور ہندو دونوں ہی شامل تھے کو گولیوں سے چھلنی کر کے شہید کر دیا گیا تھا۔ مارکیٹ کے افتتاح کے بعدیہاں 280اسٹا لز لگا ئے تھے ان پر سبزی ،گوشت ،پھل و زرعی اجناس کی فروخت کی جا نے لگی ،اس زما نے میں جب کرا چی کی آ با دی کل 13850 افرادپرمشتمل تھی اور لوگوں کی تنخواہیں بھی 2روپے سے 12رو پے ہو تی تھی، قیمتیں بھی مناسب تھیں یعنی کے ایک کورا روپے میں 28سیر گندم ،36سیر چا ول ،1من 2سیر دال چنا ،32سیر دال مونگ ملا کر تی تھی، مگریہ مارکیٹ مقامی افراد کے لیے شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتی تھی اور انہیں اس مارکیٹ میں خریداری کر نے کی بھی اجازت نہیں تھی

جب انگریز برصغیرچھوڑکر چلے گئے تب یہ مارکیٹ ایک طبقہ خاص کی خریداری کامرکزبن کر رہ گئی ۔رفتہ رفتہ یہاں پوش علا قوں کے لوگوں کے علاوہ متوسط اور غریب طبقے کے لوگ بھی یہاں اچھی اور سستی اشیا کی خریداری کر نے کے لیے آنے لگے اورشہرکی مصروف ترین مارکیٹ بن کررہ گئی اورآج بھی ہے ۔ اس مارکیٹ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں اشیائے خورنوش سے لے کرہرو ہ چیز دستیاب ہے جوکہیں نہیں ملتی ۔ قیمتیں کم ہونے کے باعث لوگ یہاں سے خریداری کوترجیح دینے لگے ۔ اس مارکیٹ میں جہاں اشیائے ضروریہ اورخورنوش وافرمقدارمیں دستیاب ہیں وہیں اس کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ دنیابھرکے نادرونایاب پرندے اورجانوربھی یہاں فروخت ہوتے ہیں ۔جنھیں خریدنے کے لیے شہریوں کی بڑی تعدادیہاں کارخ کرتی ہے ۔ آسٹریلین طوطے ‘کبوترہی نہیں دنیابھرکے رنگ برنگ پرندے یہاں موجودہیں۔ جب کہ اعلی نسل کے کتوں اوربلیوں کی فروخت کابھی یہ شہرکاواحدمرکزہے ۔

مگر جب ملک کی ترقی کے نام پر سی پیک منصوبے کا اعلان کیا گیا تو ایک بار پھر چین سے پاکستان آ نے والے چینیوں کی ایک بڑی تعداد نے اس مارکیٹ کا رخ کر نا شروع کر دیا اور عام دنوں کے علا وہ اتوار کو چھٹی والے روز قیمتی گاڑیوں میں چینی خاندانوں کی ایک بہت بڑی تعداداس مارکیٹ میں خریداری کر تے ہو ئے نظر آ تی ہے کیونکہ چینی لوگ مول تول کے بجا ئے دکانداروں کو منہ مانگی قیمتیں ادا کر دیتے ہیںجس کی وجہ سے دکانداروں نے بھی دام بڑھادیئے ۔ا س کے علاوہ یہاں کے دکاندار جو کہ عرصہ دراز تک مقامی لوگوں سے ہی کماتے رہے ہیں اب غیرملکی گاہکوں کی آمدباعث مقامی لوگوں کو منہ لگانا پسندنہیں کر تے اور چینیوں کی آ ئو بھگت میں لگے نظرآ تے ہیں اور جس دن اس مارکیٹ میں چینی باشندوں کی زیادہ تعداد نظر آتی ہے اس دن دکانداروں کی عید ہو تی ہے اور وہ دونوں ہا تھوں سے چینیوں کو لوٹنے میں مصروف ہو تے ہیں ۔

یہ چینی باشندے جو کہ اس مارکیٹ میں زیادہ تر زرعی اجناس سبزیاں اور پھل خریدنے کے لیے آ تے ہیں ان کی چیزوں کی خریداری کے ساتھ ساتھ چوکیوں پر لگا ئے گئے اسٹالز پر مر غی کے گوشت سمیت ان کے پنجے ،گر دن اور کلیجی بھی مہنگے داموں شوق سے خرید کر لے جا تے ہیں جس کے سبب اب ان اشیا کی خریداری بھی غریبوں کے لیے محال ہو چکی ہے، دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ہمارے یہاں کے کھا نے پینے کے شوقین جو کہ چھٹیوں والے دن بٹ ،اوجڑی اور پھیپھڑے کلیجی کھانا پسند کر تے ہیں اور اپنے خاندان کے افراد کی تعداد کے حوالے سے 2یا3کی خریداری کر تے ہیں چینی خاندان یہ اشیا انتہا ئی مہنگے داموں ڈبل قیمتوں کی ادائیگی کے ساتھ 10سے20کلو حاصل کر تے ہیں جس کے سبب اب یہ اشیا فروخت کر نے والوں نے مقامی افراد کو یہ اشیا فروخت کر نا بند کر دیئے ہیں اور وہ اسے کولڈاسٹوریج میں رکھ کر مہنگے داموں چینیوں کو فروخت کر تے ہیں۔ جس کے سبب ایک بار پھر 179سال بعد ایمپریس مارکیٹ بر طانوی دور کے اس مارکیٹ کی طرح بن گئی ہے جہاں مقامی افراد کو داخل ہی نہیں ہو نے دیا جا تا تھا گو کہ اب تک اس مارکیٹ میں مقامی لوگوں کا آنا جا نا تو نہیں رو کا جا سکا ہے لیکن روزانہ چینیوں کی بڑھتی ہو ئی تعداد دیکھ کر یہ بات یقین اور وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ آ نے والے وقتوں میں ایمپریس مارکیٹ صرف چینیوں کی مارکیٹ ہو گی اور مقامی افراد اس مارکیٹ میں ہو نے والی مصنوعی مہنگا ئی کے سبب یہاں کا رخ بھی کر نا چھوڑ دیں گے ۔

اگراس مارکیٹ کی بناوٹ کاجائزہ لیاجائے تویہ عمارت کبھی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ رہی ہوگی ۔ اس کے بلندٹاورپرنصب گھڑی دوردورسے نظرآتی ہے یقینا یہ یہاں گزرنے والو ں کووقت کااحساس دلانے کے لیے لگائی گئی ہوگی لیکن انتظامیہ کی غفلت کے باعث نہ صرف ایمپریس مارکیٹ اپناحسن کھوتی جارہی اوراس کے بلندٹاورپرنصب گھڑی کی سوئیاں ساکت ہوچکی ہیں۔اس کے باوجودایک باریہاں خریداری کے علاوہ سیرکے لیے بھی آیاجاسکتاہے ۔ مارکیت کے داخلی دروازے پرنصب تختی پراس کی تاریخ ہی نہیں اس کی غرض وغایات اورمکمل تعارف درج ہے۔


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر