... loading ...
وقت ہو یا سمندر دونوں ہی بڑے بے رحم ہو تے ہیں ان کی فطرت میں لوٹ آ نا لکھا ہے لہذا لوٹتے ضرور ہیں مگر اللہ کی قدرت کے پیش نظر وہ سمندر جو کہ 50میل پیچھے چلا گیا ہے لوٹ کر نہیں آ یا مگر وقت ایک بار پھر لوٹ کر آ نا شروع ہو چکا ہے یہ غالبا 1839 کی بات ہے جب بر طانوی افواج نے سندھ پر قبضہ کیا اور یہاں مستقل سکونت پذیر ہو گئے، مستقل سکونت اختیار کر نے کے پیش نظر انہیں سب سے پہلے با زار کی ضرورت پیش آ ئی لہذا ان کے لیے صدر جسے کیمپ کا علا قہ کہا جا تا تھا میں ایک با زار قائم کر دیا گیا جسے کیمپ بازار کا نام دیا گیا، فوجیوں کی تیزی کے ساتھ آ مد کے بعد ان کی ضروریات بڑھیں لہذاان کے لیے اسی صدر کے علا قے میں 10نومبر 1884میں مارکیٹ کی بنیاد رکھی گئی اور ایک لا کھ 55ہزار کی لا گت سے 21مارچ 1889کو اسے مکمل کر لیا گیا اور کیونکہ اسی سال ملکہ وکٹوریا کی سلور جوبلی منا ئی جا رہی تھی لہذا اسے ملکہ کو تحفے کے طور پر پیش کر نے کے لیے مارکیٹ کا نام ہی ایمپریس ما رکیٹ رکھا گیا۔
یہ وہی جگہ تھی جہاں 1857میں انگریزوں کیخلاف بغاوت میں حصہ لینے والے 21ویں رجمنٹ کے مقامی سپا ہیوںجن میں مسلمان اور ہندو دونوں ہی شامل تھے کو گولیوں سے چھلنی کر کے شہید کر دیا گیا تھا۔ مارکیٹ کے افتتاح کے بعدیہاں 280اسٹا لز لگا ئے تھے ان پر سبزی ،گوشت ،پھل و زرعی اجناس کی فروخت کی جا نے لگی ،اس زما نے میں جب کرا چی کی آ با دی کل 13850 افرادپرمشتمل تھی اور لوگوں کی تنخواہیں بھی 2روپے سے 12رو پے ہو تی تھی، قیمتیں بھی مناسب تھیں یعنی کے ایک کورا روپے میں 28سیر گندم ،36سیر چا ول ،1من 2سیر دال چنا ،32سیر دال مونگ ملا کر تی تھی، مگریہ مارکیٹ مقامی افراد کے لیے شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتی تھی اور انہیں اس مارکیٹ میں خریداری کر نے کی بھی اجازت نہیں تھی
جب انگریز برصغیرچھوڑکر چلے گئے تب یہ مارکیٹ ایک طبقہ خاص کی خریداری کامرکزبن کر رہ گئی ۔رفتہ رفتہ یہاں پوش علا قوں کے لوگوں کے علاوہ متوسط اور غریب طبقے کے لوگ بھی یہاں اچھی اور سستی اشیا کی خریداری کر نے کے لیے آنے لگے اورشہرکی مصروف ترین مارکیٹ بن کررہ گئی اورآج بھی ہے ۔ اس مارکیٹ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں اشیائے خورنوش سے لے کرہرو ہ چیز دستیاب ہے جوکہیں نہیں ملتی ۔ قیمتیں کم ہونے کے باعث لوگ یہاں سے خریداری کوترجیح دینے لگے ۔ اس مارکیٹ میں جہاں اشیائے ضروریہ اورخورنوش وافرمقدارمیں دستیاب ہیں وہیں اس کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ دنیابھرکے نادرونایاب پرندے اورجانوربھی یہاں فروخت ہوتے ہیں ۔جنھیں خریدنے کے لیے شہریوں کی بڑی تعدادیہاں کارخ کرتی ہے ۔ آسٹریلین طوطے ‘کبوترہی نہیں دنیابھرکے رنگ برنگ پرندے یہاں موجودہیں۔ جب کہ اعلی نسل کے کتوں اوربلیوں کی فروخت کابھی یہ شہرکاواحدمرکزہے ۔
مگر جب ملک کی ترقی کے نام پر سی پیک منصوبے کا اعلان کیا گیا تو ایک بار پھر چین سے پاکستان آ نے والے چینیوں کی ایک بڑی تعداد نے اس مارکیٹ کا رخ کر نا شروع کر دیا اور عام دنوں کے علا وہ اتوار کو چھٹی والے روز قیمتی گاڑیوں میں چینی خاندانوں کی ایک بہت بڑی تعداداس مارکیٹ میں خریداری کر تے ہو ئے نظر آ تی ہے کیونکہ چینی لوگ مول تول کے بجا ئے دکانداروں کو منہ مانگی قیمتیں ادا کر دیتے ہیںجس کی وجہ سے دکانداروں نے بھی دام بڑھادیئے ۔ا س کے علاوہ یہاں کے دکاندار جو کہ عرصہ دراز تک مقامی لوگوں سے ہی کماتے رہے ہیں اب غیرملکی گاہکوں کی آمدباعث مقامی لوگوں کو منہ لگانا پسندنہیں کر تے اور چینیوں کی آ ئو بھگت میں لگے نظرآ تے ہیں اور جس دن اس مارکیٹ میں چینی باشندوں کی زیادہ تعداد نظر آتی ہے اس دن دکانداروں کی عید ہو تی ہے اور وہ دونوں ہا تھوں سے چینیوں کو لوٹنے میں مصروف ہو تے ہیں ۔
یہ چینی باشندے جو کہ اس مارکیٹ میں زیادہ تر زرعی اجناس سبزیاں اور پھل خریدنے کے لیے آ تے ہیں ان کی چیزوں کی خریداری کے ساتھ ساتھ چوکیوں پر لگا ئے گئے اسٹالز پر مر غی کے گوشت سمیت ان کے پنجے ،گر دن اور کلیجی بھی مہنگے داموں شوق سے خرید کر لے جا تے ہیں جس کے سبب اب ان اشیا کی خریداری بھی غریبوں کے لیے محال ہو چکی ہے، دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ہمارے یہاں کے کھا نے پینے کے شوقین جو کہ چھٹیوں والے دن بٹ ،اوجڑی اور پھیپھڑے کلیجی کھانا پسند کر تے ہیں اور اپنے خاندان کے افراد کی تعداد کے حوالے سے 2یا3کی خریداری کر تے ہیں چینی خاندان یہ اشیا انتہا ئی مہنگے داموں ڈبل قیمتوں کی ادائیگی کے ساتھ 10سے20کلو حاصل کر تے ہیں جس کے سبب اب یہ اشیا فروخت کر نے والوں نے مقامی افراد کو یہ اشیا فروخت کر نا بند کر دیئے ہیں اور وہ اسے کولڈاسٹوریج میں رکھ کر مہنگے داموں چینیوں کو فروخت کر تے ہیں۔ جس کے سبب ایک بار پھر 179سال بعد ایمپریس مارکیٹ بر طانوی دور کے اس مارکیٹ کی طرح بن گئی ہے جہاں مقامی افراد کو داخل ہی نہیں ہو نے دیا جا تا تھا گو کہ اب تک اس مارکیٹ میں مقامی لوگوں کا آنا جا نا تو نہیں رو کا جا سکا ہے لیکن روزانہ چینیوں کی بڑھتی ہو ئی تعداد دیکھ کر یہ بات یقین اور وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ آ نے والے وقتوں میں ایمپریس مارکیٹ صرف چینیوں کی مارکیٹ ہو گی اور مقامی افراد اس مارکیٹ میں ہو نے والی مصنوعی مہنگا ئی کے سبب یہاں کا رخ بھی کر نا چھوڑ دیں گے ۔
اگراس مارکیٹ کی بناوٹ کاجائزہ لیاجائے تویہ عمارت کبھی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ رہی ہوگی ۔ اس کے بلندٹاورپرنصب گھڑی دوردورسے نظرآتی ہے یقینا یہ یہاں گزرنے والو ں کووقت کااحساس دلانے کے لیے لگائی گئی ہوگی لیکن انتظامیہ کی غفلت کے باعث نہ صرف ایمپریس مارکیٹ اپناحسن کھوتی جارہی اوراس کے بلندٹاورپرنصب گھڑی کی سوئیاں ساکت ہوچکی ہیں۔اس کے باوجودایک باریہاں خریداری کے علاوہ سیرکے لیے بھی آیاجاسکتاہے ۔ مارکیت کے داخلی دروازے پرنصب تختی پراس کی تاریخ ہی نہیں اس کی غرض وغایات اورمکمل تعارف درج ہے۔
ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...
دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...
پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...
عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...
امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...
ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...
ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...
چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...
بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...
اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...
ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...
غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...