وجود

... loading ...

وجود

موسم گرماآتے ہی کے الیکٹرک نے کراچی پرقہرڈھاناشروع کردیا

جمعه 30 مارچ 2018 موسم گرماآتے ہی کے الیکٹرک نے کراچی پرقہرڈھاناشروع کردیا

موسم گرماکے آتے ہی کے الیکٹرک نے شہر قائد پر قہر ڈھانا شروع کر دیا ۔ مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ نوگھنٹے سے تجاوز کر گیا۔ بجلی کی طلب بڑھنے کی وجہ سے کے الیکٹرک کا سسٹم بیٹھنے لگا۔ مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 9 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے جب کہ مستثنی علاقوں میں بھی بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے۔ کراچی کاکوئی علاقہ چاہے وہ ڈیفنس ہو یا سرجانی ‘گلشن اقبال ہویااورنگی ٹائون بے رحمانہ لوڈشیڈنگ سے محفوظ نہیں ۔کئی علاقوں کی صورت حال نہایت ابترہے ۔ شدید گرمی اور اوپر سے بجلی کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کا جینا محال کردیا ہے۔ پنکھے، اے سی بند ہونے کے باعث چھوٹے بچے خصوصا زیادہ پریشان ہیں۔ اسکولوں میں بھی تعلیمی عمل میں خلل پڑ رہا ہے تودفاترمیں بھی کام متاثر ہو رہا ہے ۔ بجلی کی بندش کی وجہ سے مختلف علاقوں میں پانی کی قلت بھی شروع ہوگئی ہے۔ پاکستان کے معاشی حب میں کاروباری اورتجارتی سرگرمیاں تقریبامعدوم ہوکررہ گئی ہیں ۔ لوڈشیڈنگ کے حوالے سے کے الیکٹر ک انتظامیہ کاگیس سپلائی میں کمی کے حوالے سے وہی پراناروناجاری ہے ۔حیرت اس بات پرہے کہ پور ے سال اووربلنگ کے نام پرغریب عوام کاخون نچوڑنے والی کمپنی نے بھاری سرمایہ جمع کرنے سواکوئی بھی کام ایسانہیں کیاجس سے وہ موسم گرما میں اپنے صارفین کوغیراعلانیہ لوڈشیڈنگ سے محفوظ رکھ سکیں ۔ ابھی ابتدائے گرمی میں یہ صورت حال ہے تویقینا آنے والے دنوں میں جب گرمی پورے عروج پرہوگی َ‘سورج آگ برسارہاہوگا۔ہیٹ ویوکاخطرہ منڈلا رہا ہو گا تو کے الیکٹرک صارفین کوکیسے ریلیف فراہم کرے گی ۔

موجودہ صورت کراچی کے شہریوں کے لیے نئی نہیں ہے ۔ کئی دہائیو ںسے عوام کے الیکٹرک اورسابقہ کے ا ی ایس سی کے ظلم کاشکار ہیں ۔ اس حوالے سے اعلی حکام کی جانب سے بیانات توجاری کیے جاتے پرکے الیکٹرک حکام سے سختی سے بازپرس نہیں کی جاتی ۔ کوئی اس عفریت نماادارے سے یہ پوچھنے کے لیے تیارنہیں کہ وہ بھاری بلوں کی وصولی کے باوجودعوام کومسلسل بجلی فراہم کرنے سے قاصرکیوں ہے ۔ کیوں وہ حکومت کے کیے گئے معاہدے کے باوجوداب تک اپنے پیداواری یونٹ فعال نہیں کرسکی ۔ ہربار گرمی کی آمد سے قبل لوڈشیڈنگ کم سے کم کرنے کے دعوے کرنے کے باوجودموسم گرماآتے ہی صورت حال قابوسے باہرکردی جاتی ہے ۔ لوڈشیڈنگ سے ہرطبقے کے لوگ متاثرہوتے ہیں ۔ سب سے زیادہ فرق ا ن لوگوں کوپڑتاہے جوکچی بستیوں میں یاکرائے کے چھوٹے مکانات میں رہتے ہیں۔ایک جانب توشدیدگرمی ان کی اوران کے بچوں کی جان کے درپے نظرآتی ہے تودوسری جانب بجلی کی بندش انھیں مزید جھنجھلاہٹ میں مبتلا کردیتی ہے اورروزگارالگ متاثرہوتا۔ایسے میں جب یہ لوگ سڑکوں پرآکراحتجاج کرتے ہیں توامن وامان کامسئلہ پیداہوتا ہے اورپولیس وقانون نافذکرنے والے اداروں کے عناصرانھیں اٹھاکرتھانوں میں بندکردیتے ہیں ۔

افسو س کامقام یہ ہے کہ عوامی ہمدردی کی دعویدارپیپلزپارٹی جس نے مرکز میں بھی حکومت کی اورسندھ میں مسلسل تقریبانوسال سے برسراقتدارہے نے بھی کسی دورحکومت میں کے الیکٹرک کے سرکش گھوڑ ے کولگام ڈالنے کی کوشش نہیں کی ۔ کم وپیش یہی حال موجودہ وفاقی حکومت کابھی ۔ ن لیگ کے سربراہ نوازشریف نے پنجاب بھرمیں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے بڑ ے دعو ے کیے ۔ اورکئی مقامات پربجلی بنانے کی پیدوارکے یونٹ بھی لگائے ۔ لیکن انھوں نے بھی کراچی میں لوڈشیڈنگ کی صورت حال سے بخوبی واقف ہونے کے باوجودکبھی کے الیکٹرک سے نہ خودبازپرس کی زحمت کی اورنہ ان کی کابینہ میں شامل پانی وبجلی کے وزراء کواس مسئلے کے حل کی ہدایت کی ۔وزارت عظمی سے نکالے جانے کے باوجودبھی میاں نوازشریف صاحب ’’مجھے کیوں نکالا‘‘مہم میں مصروف ہیں اوران کی پارٹی کے حکمران بھی ان کے ساتھ احتجاج میں کسی نہ کسی طورشریک رہنے میں مصروف ہیں ۔ وفاقی وزرائے کی بات توچھوڑیں خودوزیراعظم شاہدخاقان عباسی بھی اسی کام میں مصروف نظرآتے ہیں ۔کسی کوبھی عوامی مسائل کے حل کی کوئی فکرنہیں۔

کراچی کی سب سے بڑی جماعت ہونے کی دعویدارایم کیوایم جواب ایم کیوایم پاکستان بن چکی کے رہنماجوآج کل توذاتی لڑائی میں مصروف ہیں لیکن جب یہ ایک ہی جگہ جمع تھے تب بھی انھوں نے ماسوائے لوڈشیڈنگ کے خلا ف احتجاج احتجاج کھیلنے کے کچھ نہیں کیا۔ اب تومعاملہ ہی مختلف ہے ۔کراچی جوملک کاسب سے بڑاشہر ہے ۔ جسے ماضی میں عروس البلادکہاجاتا تھا اب اندھیروں کی نگری میں تبدیل ہوچکاہے ۔کسی گلی محلے میں نکل جائیں عوام کاسب سے بڑامسئلہ لوڈشیڈنگ ہی نظرآئے گااوردوسرابڑامسئلہ پانی کی قلت ۔ شہرقائدکے باسیوں کوہی نہیں ملک بھرکے عوام کواس بات سے کوئی سروکارنہیں کہ نوازشریف کو وزارت عظمی سے یاڈاکٹرفاروق ستار کو کنوینر شپ سے کیوں نکالاگیا۔ نہ ہی لوگوں کواس بات سے غرض ہے کہ آئندہ حکومت بلاول بھٹو بنائیں گے یاعمران خان کانیاپاکستان بنے گا۔

یہی نہیں ایم ایم اے کی بحالی بعد مذہبی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پرجمع نظرآتی ہیں ۔ لیکن ان کی جانب سے بھی لوڈشیڈنگ جیسے سنگین مسئلے پرکوئی آوازبلندہوتی نظرنہیں آرہی ماسوائے جماعت اسلامی کے جس نے کچھ عرصے قبل کے الیکٹرک کی جانب اووربلنگ کے خلاف بھرپوراحتجاج کیاتھا۔ اورعدالتوں میں بھی اس مسئلے کواٹھایاتھا۔ لیکن موجودہ صورت حال میں ابھی تک وہاں سے کوئی آوازسنائی نہیں دے رہی ۔

ایم کیوایم کودیوارسے لگائے جانے اورایم کیوایم پاکستان کی دھڑے بندی سے فائدہ اٹھاکرکراچی فتح کرنے کے خواب دیکھنے والی مختلف سیاسی جماعتیں جن میںپاکستان پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف قابل ذکرہیں ۔ کراچی کے عوام سے ووٹ لینے کے لیے سرتوڑکوششو ں میں مصروف ہیں لیکن یہاں کے باسیوں کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کررہیں ۔ پیپلزپارٹی جوصوبائی حکمران بھی نے اب تک اپنی کارکردگی سے عوام کومایوس ہی کیاہے۔رہ گئی بات تحریک انصاف کی توبے شک وہ سندھ میں برسراقتدارنہیں لیکن پانی وبجلی جیسے سنگین مسائل پرآوازتواٹھاسکتی ہے ۔

جہاں تک تعلق ہے ااہالیان کراچی کاتوبلاشبہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں اوررہنمائوںسے زیادہ اعلی عدلیہ کی جانب دیکھ رہے ہیں ان کویقین ہے کہ جلد یابدیرعزت مآب جناب چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثارصاحب کراچی میں جاری غیراعلانیہ بے رحمانہ طویل ترین لوڈشیڈنگ کاازخودنوٹس لے کرکے الیکٹرک کے ذمے داران سے جواب طلبی کریں گے ۔


متعلقہ خبریں


ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف وجود - جمعه 30 اکتوبر 2026

ایران پر دباؤ ڈالنے اور مراعات دینے کی حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہیں ہوگی، بیان ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں۔ ایران کی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایکس پر بی...

ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

مضامین
عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر