وجود

... loading ...

وجود

عزم جیت گیا

جمعرات 29 مارچ 2018 عزم جیت گیا

معترض اور نقاد جو بھی کہیں اور کہتے ہیں، لیکن روشن حقیقت یہ ہے کہ حکومت، آئینی اداروں اور عوام نے مل کر دہشت گردی کو شکست دی اور ان کا عزم جیت گیا ہے۔ بلاشبہ وفاق سے دونوں صوبائی حکومتوں اور افواج پاکستان کی طرف سے زبردست تگ و دو کی گئی۔ اخراجات بھی ہوئے لیکن ان کے مقابلے میں لاہور اور کراچی میں پلے آف اور فائنل میچ منعقد کروانے میں جو کامیابی حاصل ہوئی اور جس طرح بھاری ترین تعداد میں عوام نے پورے قومی جذبے اور ذوق و شوق سے حصہ لیا وہ اپنی مثال آپ ہے اور یہ ثابت کرنے کے لیے بھی کافی ہے کہ مصائب اور پریشانیاں اپنی جگہ لیکن یہ قوم خوفزدہ ہو کر بلوں میں گھس کر بیٹھنے والی نہیں ہے۔ اسے مواقع ملنا چاہیں۔

لاہور اور پھر کراچی میں ٹریفک کے مسائل کی وجہ سے شہریوں کو پریشانی ضرور ہوئی جو خندہ پیشانی سے برداشت کر لی گئی۔ لاہور کے دونوں پلے آف میچ بڑے سنسنی خیز تھے اور ان میں ملکی اور غیر ملکی کھلاڑیوں نے بھرپور کھیل کا مظاہرہ کیا، حتیٰ کہ جو میچ کراچی اور پشاور زلمی کے درمیان ہوا وہ تو بارش سے بھی متاثر ہوا تھا اور چار چار اوور کم کا کھیل ہوا تاہم بڑا دلچسپ میچ تھا، قابل ذکر کارکردگی کا مران اکمل کی تھی۔

کراچی میں فائنل پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیموں کے درمیان ہوا۔ دونوں ٹیموں کے سربراہ (کپتان) غیر ملکی تھے، پشاور زلمی کے کپتان تو ویسٹ انڈیز کے ڈیرن سیمی ہیں، تاہم اسلام آباد یونائیٹڈ کی قیادت جنوبی افریقہ کے آل راؤنڈر ڈومینی کے حصے آئی تھی، دونوں نے حق ادا کیا اور اب ہر دو کہتے ہیں کہ پاکستان میں کرکٹ کے کھیل کا بند دروازہ کھل گیا ہے۔ دونوں ٹیموں میں شامل جو غیر ملکی کھلاڑی پاکستان آنے اور کھیلنے پر آمادہ ہوئے وہ بھی انتظامات اور پاکستانیوں کے حسن سلوک سے بہت متاثر ہوئے اور ہر ایک نے مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا ہے۔

پاکستان کی وفاقی کے ساتھ ساتھ پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتیں بھی تحسین کی حق دار ہیں جنہوں نے میچوں کے انعقاد کو یقینی اور شاندار بنانے میں دن رات ایک کیے، ہر صوبے کی انتظامیہ اور پولیس کے علاوہ دوسرے متعلقہ ادارے بھی مبارکباد ہی کے مستحق ہیں جبکہ رینجرز اور فوج کا بھی شکریہ کہ ان کی طرف سے ایسی دلچسپی لی گئی کہ اب مثالیں دی جا رہی ہیں، حتیٰ کہ لاہور میں ہیلی کاپٹروں کے ساتھ گراؤنڈ خشک کرنے کا جو نیا تجربہ کیا گیا اس کی بھی عالمی کرکٹ میں دھوم مچ گئی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ بھی تحسین اور مبارک کا مستحق ہے جس نے وعدہ کیا تو اسے نبھانے کے لیے تگ و دو بھی کی زیادہ سے زیادہ غیرملکی کھلاڑیوں کو پاکستان آنے پر آمادہ کیا، اب جو نتائج برآمد ہوئے ہیں ان کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ جو غیر ملکی کھلاڑی نہیں آئے وہ اب سوچ رہے ہوں گے کہ انہوں نے نہ جا کر غلطی ہی کی اور اب یہ بھی یقین ہے کہ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے جو اعلان کیا کہ پی ایس ایل کے چوتھے ایڈیشن کے آدھے میچ پاکستان میں ہوں گے یقیناً ہوں گے اور آئندہ زیادہ غیر ملکی کھلاڑی پاکستان آئیں گے کہ اچھے انتظامات، مہمان نوازی، عوامی جوش اور حفاظتی انتظامات نے یہ تاثر بھی چھوڑا ہے کہ پاکستان اب محفوظ ملک ہے اور پاکستان کا یہ دعویٰ سچ ہے کہ دہشت گردی پر قابو پا لیا گیا اور بچے کھچے دہشت گردوں کا بھی صفایا کر دیا جائے گا۔

فائنل میچ دلچسپ تھا بلکہ انگریزی ترکیب کے مطابق ’’تھرلنگ‘‘ ثابت ہوا، پشاور زلمی نے اننگز کا آغا زکیا، ان کو یقین تھا کہ کامران، اکمل اور آندرے فلیچر کی اوپننگ جوڑی اچھا سٹارٹ دے کر میچ جتوانے میں معاون ہوگی لیکن بدقسمتی آڑے آئی، کامران اکمل دباؤ میں اپنی وکٹ اور ساتھ ہی ریویو بھی ضائع کر بیٹھے جس کی وجہ سے آندرے فلیچر کے غلط ایل پی ڈبلیو کے لیے تیسرے امپائر سے مدد نہ لی جا سکی۔ یقیناًوہ لاہور کی بہترین اننگ کے بعد ہمدردوں کے حمائتی بیانات اور ان کے جواب میں مکی آرتھر اور وقار یونس کی بری تنقید سے بھی مایوس ہوئے ہوں گے جنہوں نے ان کی شاندار کارکردگی کو بھی نظر انداز کر دیا تھا، حالانکہ اگر وہ اچھا نہیں کہہ سکتے تھے تو اس موقع پر برا بھی نہ کہتے، بہرحال کامران اکمل نے آصف کا ایک کیچ بھی چھوڑا اور پھر میچ بالکل ہاتھ سے نکل گیا اس کے باوجود وہ ٹورنامنٹ کے بہترین بلے باز تھے۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے باؤلروں کو بھی داد دینا چاہیے جنہوں نے زلمی والوں کو 14.7 تک محدود رکھا اور پھر رونکی، آصف اور صاحبزادے کی بیٹنگ بھی کام آئی اور اختتام سے پہلے ہی میچ کا فیصلہ ان کے حق میں ہو گیا۔

ہار جیت کھیل کا حصہ ہے، تاہم پی ایس ایل کے ان میچوں کے انعقاد نے یقیناًبہتر اور مثبت اثرات چھوڑے ہیں جو عالمی سطح پر بھی مفید ہوں گے۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم ٹی 20سیریز کے لیے تو پاکستان آ رہی ہے۔ توقع کرنا چاہیے کہ مزید ٹیمیں بھی اب آنا شروع کر دیں گی۔ اس ایونٹ کا اب دوسرے کھیلوں مثلاً ہاکی، فٹبال وغیرہ پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔


متعلقہ خبریں


ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق وجود - بدھ 04 فروری 2026

پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...

ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق

محمود اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے کرانے کامطالبہ وجود - بدھ 04 فروری 2026

اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...

محمود اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے کرانے کامطالبہ

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل وجود - بدھ 04 فروری 2026

صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل

ملک بھر میں 195,000قومی شناختی کارڈز بلاک وجود - بدھ 04 فروری 2026

خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...

ملک بھر میں 195,000قومی شناختی کارڈز بلاک

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 03 فروری 2026

ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ

وزیراعظماور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات، امن کیلئے تعاون پر تیار وجود - منگل 03 فروری 2026

سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...

وزیراعظماور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات، امن کیلئے تعاون پر تیار

وزیراعظم سے ہماری کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی ،سہیل آفریدی وجود - منگل 03 فروری 2026

دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...

وزیراعظم سے ہماری کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی ،سہیل آفریدی

تاجرکواغوا کروانے کا الزام ، پیر محمد شاہ جواب دینے میں ناکامی پربے نقاب وجود - منگل 03 فروری 2026

14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...

تاجرکواغوا کروانے کا الزام ، پیر محمد شاہ جواب دینے میں ناکامی پربے نقاب

عمران خان کیلئے فارن فنڈنگ کیس میں نئی مشکل تیار وجود - منگل 03 فروری 2026

عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...

عمران خان کیلئے فارن فنڈنگ کیس میں نئی مشکل تیار

سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتے ہیں،وزیر اعظم وجود - منگل 03 فروری 2026

آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...

سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتے ہیں،وزیر اعظم

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی وجود - پیر 02 فروری 2026

گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار وجود - پیر 02 فروری 2026

کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار

مضامین
صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ وجود بدھ 04 فروری 2026
صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ

ناقابل شکست وجود بدھ 04 فروری 2026
ناقابل شکست

خون اور رنگ وجود منگل 03 فروری 2026
خون اور رنگ

سوشل میڈیا لت کا بچوں میں خطرناک استعمال اور نفسیاتی مسائل وجود منگل 03 فروری 2026
سوشل میڈیا لت کا بچوں میں خطرناک استعمال اور نفسیاتی مسائل

گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی وجود پیر 02 فروری 2026
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر