وجود

... loading ...

وجود

ماں کا دودھ نومولود کی بھرپو ر نشوونما

منگل 27 مارچ 2018 ماں کا دودھ نومولود کی بھرپو ر نشوونما

نومولود بچوں کے لئے اپنی ماں کے دودھ سے بڑھ کر مکمل اور بھرپور غذا کوئی نہیں ہو سکتی ہے ۔ ماں اور بچے کے درمیا ن جو ایک مضبوط تعلق اور رشتہ ہوتا ہے اس میں مزید اضافہ ماں کے دودھ سے ہوتا ہے ۔ ماں کا دودھ بچے کے لئے بہتر ین غذا ہوتی ہے پیدائش کے ابتدائی چند دنوں میں فراہم ہونے والے اس قدرتی دودھ یا غذا اس لحاظ سے بھی منفرد اور فائدہ مند ہوتی ہے کہ اس میں مدافتی سفید خلیات ) White Blood Cells ( بھی کثیر تعداد میں موجود ہوتے ہیں اور اس بھر پور غذا میں پروٹین کی مقدار نارمل دودھ سے دس گنا زیادہ ہوتی ہے ۔ جس سے بچے کے ہونے والی جسمانی نشوونما اور ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملتی ہے ۔ بچے کی بھر پور نشوونما کے لئے جو ضروری امائنو ایسڈ درکار ہوتے ہیں وہ سب مناسب مقدار میں ماں کے دودھ میں موجود ہوتے ہیں ۔ ماں کے دودھ میں چکنائی زیادہ تر غیر سیرشدہ فیٹی ایسڈز پر مشتمل ہوتی ہے جو آسانی سے ہضم ہو کر جزوبدن بن جاتی ہیں ۔ ماں کے دودھ میں موجود وٹامن A بچے کی آنکھوں کے لئے اور وٹامن D اس کی ہڈیوں کی نشوونما کے لئے بے حد ضروری ہوتے ہیں ۔

ماں کا دودھ جو کہ بچے کی بہترین غذا ہوتی ہے اس میں قدرتی غذائیت مناسب مقدار میں موجود ہوتی ہے جو بچوں کی صلاحیتوں کو ٹھیک طریقے سے پروان چڑھانے میں بے حد معاون ثابت ہوتے ہیں ۔ماں کے دودھ ہر طرح کے جراثیم سے پاک غذا ہوتی ہے اس میں وہ تمام اجزاء مثلاََ پروٹین ، چکنائی اور نمکیات وغیرہ اس ترتیب سے موجود ہوتے ہیں جو بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔

ایک تحقیق کے مطابق ماں کا دودھ بچوں کو مستقبل میں امراض قلب سے محفوظ رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔ تین ماہ یا اس سے زائد عرصے تک ماں کے دودھ پر پلنے والے بچوں میں درمیانی عمر میں ذیابطیس اور دیگر میٹابولزم سے متعلق امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ماں کے دودھ سے بچے کے خون میںسی ری ایکٹو (C-Reactive) پروٹین کی مقدار کم ہوتی ہے جو شریانوں کو نقصان پہچانے کا سبب بنتا ہے ۔

ماں کا دودھ پینے والے نومولود بچوں میں الرجی کے امکانات دوسرے بچوں کی بہ نسبت سات گنا کم ہوتے ہیں ۔کیونکہ ماں کے دودھ میں الرجی کی مخصوص اینٹی باڈیز بہت زیادہ موجود ہوتی ہیں جس کی وجہ سے یہ بچے دمہ، اور دیگر الرجی کی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ دودھ کا ایک مخصوص جزو آنتوں میں Lactive Acid پیدا کرتا ہے جو جراثیم کش ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے بچے کے مقعد Anus ) ( کے اردگرد جلد کی خارش جسے Nappy Rash کہتے ہیں ، سے بچے محفوظ رہتے ہیں ۔

ماں کے دودھ میں موجود ڈ ا ئی سیکرائیڈ (Disacchride) فیکٹر کی خصوصیات کی وجہ سے دودھ نہ صرف منہ سے نہیں چپکتا ہے بلکہ جراثیم کی افزائش بھی نہیں ہونے دیتا ۔لہذا یہ بچے دانتوں ، گردن ، ناک اور کان کی بہت سے بیماریوں اور انفیکشن سے محفوظ رہتے ہیں ۔ ایک ریسرچ کے مطابق ماں کے دودھ میں ایسے نشاستے موجود ہوتے ہیں جن کی وجہ سے بچے عمونیا، خون کے انفیکشن اور گردن توڑ بخار سے محفوظ رہتے ہیں ۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی ایک رپورٹ کے مطابق ماں کے دودھ میں شوگر کے 200 اجزاء پائے جاتے ہیں جو بچے کی صحت کے لئے انتہائی مفید ہوتے ہیں ۔ ماں کے دودھ میں موجود شوگر کے یہ اجزاء وقت اور دودھ پیتے بچے کی عمر کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور اس کی دودھ پینے کی عمر کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہیں ۔

ایک ریسرچ کے مطابق ماں کے دودھ پر پرورش پانے والے بچے ذہین اور پر اعتماد ہوتے ہیں ۔ میڈیکل ریسرچ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ماں کا دودھ پینے والے بچے اپنے لڑکپن میں تعلیمی امتحانات میں د یگر دودھ استعمال کرنے والے اپنے سا تھیوں کے مقابلے میں زیادہ نمبر لیتے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ ماں کی آ غوش میں نومولود بچے کو نہ صرف ذہنی آ سودگی اور سکون حاصل نہیں ہوتا ہے بلکہ ماں کے مثبت ہارمونز بھی اس کی صحت پر بہت خوشگوار اثرات مرتب کرتے ہیں ۔ اور یہ ماں اور بچے کے درمیان ایک مضبوط اور گہرے تعلق اور رشتے کی بنیاد بنتا ہے ۔

دورِ جدید کی اکثر ماڈرن مائوں میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ دودھ پلانے سے ان کی جسمانی خوبصورتی ماند پڑجاتی ہے جس کے باعث وہ نومولود بچوں کو اپنا دودھ پلانے سے گریز کرتی ہیں ۔ جبکہ طبی و سائنسی تحقیق کے مطابق معاملہ اس کے با لکل برعکس ہے ۔ لہذا ایسا سوچنے سے بھی گریز کریں کیونکہ ماں کا دودھ نہ صرف بچے کیلئے بے حد ضروری اور فائدہ مند ہے بلکہ مائوں کے جسم میں موجود زائد چربی اور کیلوریز بھی بچے میں منتقل کرنے کا باعث بنتا ہے اور مائوں کا وزن قدرتی طور پر برقرار رہتا ہے۔ جوخواتین چھ ماہ تک بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں ان میں ہر قسم کے کینسر سے موت کا خطرہ 10 فیصد تک کم ہو جاتا ہے ۔ جبکہ ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بھی 17 فیصد تک گھٹ جاتا ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق دودھ پلانے والی مائوں میں چھاتی کے سرطان کے ساتھ ساتھ بچہ دانی کے کینسر اور خون کی کمی جیسے امراض کا خطرہ بھی بہت کم ہو جاتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے دودھ پلانے کے دوران اچھے اور مثبت ہارمونز خارج ہوتے ہیں جس سے مائوں میں ڈپریشن ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ مائیں جواپنے بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں ان میں مینو پاز(Meno Pause) کے بعد او سیٹو پو رو سس کا خطرہ کم ہوتا ہے ۔ کیونکہ جب ماں اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے اس دوران اس کے جسم میں کیلشیم زیادہ مناسب طریقے سے جذ ب ہو رہا ہوتا ہے ۔ماں کا دودھ پینے والے بچوں میں اچانک موت کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

ایک ریسرچ کے مطابق دودھ پینے والے بچوں میں ویکسین کے لئے ایک بہتر اینٹی باڈی ر سپا نس موجود ہوتا ہے ۔

ماں کے دودھ پر پلنے والے بچوں میں دیگر بچوں کے مقابلے میں موٹاپے کی شرح کم ہوتی ہے ۔ریسرچ کے مطابق ماں کا دودھ پینے والے بچوں میں موٹاپے کی شرح 15 سے 30 فیصد کم ہوتی ہے ۔جس کی وجہ مختلف فائدہ مند بیکٹیریا ہو سکتے ہیں جو چربی کو اسٹور نہیں ہونے دیتے ہیں ۔

پاکستان میں ہر سال تقریباََ پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کا ایک تہائی حصہ بلواسطہ یا بلاواسطہ غذائی قلت کے باعث انتقال پا جاتا ہے جس میں سے تقریباََ دو تہائی بچے ماں کے دودھ کے نامناسب طریقوں کی بناء پر یا غیر فراہمی کی وجہ سے پیدائش کے ابتدائی سال میں ہی موت کی آغوش میں سو جاتے ہیں ۔ پاکستان میں بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی شرح تقریباََ 38 فیصد ہے جو انتہائی تشویشناک صوتحال ہے ۔ مناسب اور موزوں ماں کا دودھ ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور بچوں کی زندگی کے لئے ایک اہم ذریعہ ہے جس میں تمام غذائی ضروریات جو

ا ن کی نشوونما کے لئے لازم ہیں ایک خاص مقدار میں موجود ہوتے ہیں ۔اور یہ انہیں مختلف بیماریوں سے بھی بچانے کے ساتھ ساتھ ماں اور بچے کے درمیان محبت کے رشتے کو بھی تقویت دیتا ہے ۔

اپنے بچے کوایک بہتر مستقبل ، اس کی بہتر نشوونما اور بیماریوں سے بچائوں کے لئے ہر بچے کو دنیا میں آنے کے بعد ایک صحت مند ماحول میں پروان چڑھنے کے تمام تر مواقع فراہم کریں تاکہ وہ ملک کی خوشحالی میں اپنا حصہ احسن طریقے سے سرانجام دے سکے اور ایک صحت مند زندگی کی طرف چلیں کیونکہ ایک صحت مند بچہ ہی ایک صحت مند قوم کی بنیادہوتا ہے ۔


متعلقہ خبریں


ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف وجود - جمعه 30 اکتوبر 2026

ایران پر دباؤ ڈالنے اور مراعات دینے کی حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہیں ہوگی، بیان ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں۔ ایران کی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایکس پر بی...

ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

مضامین
عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر