وجود

... loading ...

وجود

کیا ’’ایم ایم اے‘‘ 2002ء والی انتخابی کامیابی کا دور واپس لاسکتی ہے ؟

پیر 26 مارچ 2018 کیا ’’ایم ایم اے‘‘ 2002ء والی انتخابی کامیابی کا دور واپس لاسکتی ہے ؟

کافی تگ و دو کے بعد بالآخر متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) بحال ہو گئی ہے، اصولی اتفاق تو شاید اسی وقت ہو گیا تھا جب جماعت اسلامی نے سید منور حسن کی جگہ سراج الحق کو اپنا امیر منتخب کر لیا تھا، سابق امیر جماعت کو اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بلکہ روڑا تصور کیا جاتا تھا، ان کی امارت کے دوران کتنی ہی مرتبہ کوششیں ہوئیں لیکن اس اتحاد کی بحالی ممکن نہ ہوئی، پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس اتحاد نے اپنی تشکیل سے لے کر تحلیل تک کس قسم کی سیاست کی پھر یہ غفرلہ، کیوں کر ہو گیا اور سیاسی موت مر جانے کے باوجود اسے بحال کرنا کیوں ضروری تھا اور ’’اصولی اتفاق‘‘ کے باوجود پہلے بحالی اور پھر عہدیداروں کے انتخاب میں اتنا وقت کیونکر لگ گیا۔ ایم ایم اے کی تشکیل 2002ء کے انتخاب سے پہلے ہوئی تھی جو اس عالم میں ہو رہے تھے کہ 2001ء کے نائن الیون کے بعد امریکی اور نیٹو افواج افغانستان میں موجود تھیں، افغانستان کی طالبان حکومت کا خاتمہ ہو چکا تھا اور پاکستان سے بہت سے لوگوں کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا جا چکا تھا اور ان کے بدلے میں ڈالر وصول کیے جا چکے تھے۔ (ملاحظہ ہو سابق صدر پرویز مشرف کی کتاب ’’اِن دی لائن آف فائر‘‘ کا پہلا انگریزی ایڈیشن) یہ لوگ تو تفتیش کے لیے گوانتا ناموبے چلے گئے اور بہت سے بعد میں رہا بھی ہو گئے۔ اسلام آباد میں طالبان حکومت کے سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کو بھی امریکیوں نے گرفتار کر لیا حالانکہ وہ سفیر تھے، انہیں سفارتی تحفظات بھی حاصل تھے، لیکن انہیں بھی گوانتاناموبے لے جایا گیا۔ تفتیش کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے اپنی گرفتاری کی کہانی لکھی جو اپنے وقت کی بیسٹ سیلر ثابت ہوئی، وہ اب بھی کابل میں رہتے ہیں۔

پاکستان سے جانے والے کئی صحافی وہاں ان سے ملاقات کرتے رہتے ہیں۔ ان حالات میں جب پاکستان کے اندر انتخابات ہوئے تو صوبہ سرحد میں رائے عامہ کے جذبات افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کی وجہ سے سخت مشتعل تھے۔ انتخابات سے پہلے جو جائزے سامنے آئے، ان میں اگرچہ ایم ایم اے کی کامیابی کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا گیا تھا لیکن جو لوگ پشاور کے قصہ خوانی بازار، نمک منڈی، ہشت نگری اور پرانے شہر کے لوگوں سے ملتے تھے، انہیں یہ اندازہ تھا کہ ایم ایم اے صوبے میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے گی، اس وقت تک پرائیویٹ ٹی وی چینلوں کا اتوار بازار نہیں لگا ہوا تھا اور نہ ہی شاہد مسعود جیسے نابغے چینلوں پر یہ دعوے کرتے پائے جاتے تھے کہ اگر ان کی خبر غلط ثابت ہو تو انہیں پھانسی پر لٹکا دیا جائے، زمینی حقائق پر نظر رکھنے والوں کو البتہ اچھی طرح اندازہ تھا کہ ایم ایم اے کافی نشستیں جیت جائے گی۔ نتیجے کے مطابق قومی اسمبلی میں ایم ایم اے دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری، پہلے نمبر پر اگرچہ مسلم لیگ (قائداعظم) تھی لیکن اس کے پاس بھی اکثریت نہیں تھی۔ اس لیے حکومت سازی سے پہلے بہت سی توڑ پھوڑ کرنی پڑی۔ پیپلزپارٹی کے دو ٹکڑے کیے گئے، سارے آزاد مسلم لیگ (ق) کی جھولی میں ڈالے گئے، پھر بھی میر ظفر اللہ جمالی ایک ووٹ کی اکثریت سے وزیراعظم بن سکے۔ ایم ایم اے قومی اسمبلی میں موثر ترین اپوزیشن جماعت تھی تو صوبے میں اس نے اپنی حکومت بنائی جس کے وزیر اعلیٰ اکرم درانی تھے۔جنرل پرویز مشرف نے ایم ایم اے کے تعاون سے آئین میں سترھویں ترمیم منظور کرائی، جس کے ذریعے بہت سی شقوں میں اضافہ و تبدیلی کی گئی اورسب سے اہم بات یہ کہ صدر کا اسمبلی توڑنے کا وہ اختیار دوبارہ بحال کر دیا گیا جو نوازشریف نے دوسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد تیرھویں ترمیم کے ذریعے ختم کر دیا تھا۔ یہ اختیار اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے دوبارہ ختم کر دیا گیا۔

ایم ایم اے نے صوبے میں حکومت تو بنالی لیکن اس کا سفر زیادہ ہموار اور خوش گوار نہیں تھا، جلد ہی اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کے درمیان اختلاف سامنے آنے لگے جو بڑھتے چلے گئے حتیٰ کہ ایسی خبریں آنے لگیں کہ شاید اتحاد ٹوٹ جائے۔ اتحاد تو لشٹم پشٹم چلتا رہا لیکن 2005ء کے بلدیاتی انتخابات دونوں جماعتوں نے الگ الگ لڑے۔ عجیب طرفہ تماشا تھا کہ جو جماعتیں صوبائی حکومت میں اکٹھی تھیں وہ شہری حکومتیں بنانے کے لیے خم ٹھونک کر ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئی تھیں، نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا چاہئے تھا یعنی دونوں ہار گئیں۔ اس کے بعد یہ کشمکش چل نکلی کہ وزیراعلیٰ اسمبلی توڑ دیں اور وزارت سے مستعفی ہو جائیں لیکن یہ نوبت نہ آئی اور حکومت نے اپنی مدت پوری کی، پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ ایم ایم اے بھی ختم، صوبائی حکومت بھی ختم، 2008ء میں نیا سیاسی منظر سامنے آ گیا۔

اب دس سال بعد ایم ایم اے بحال ہوئی ہے تو پوچھا جا رہا ہے کہ کیا وہ دور واپس آ جائے گا، ایک لفظ میں اس کا جواب تو یہ ہے کہ ’’نہیں‘‘۔ اب ہوگا کیا اگلی سطور میں جائزہ لیتے ہیں۔ اتحاد کا اتنا فائدہ تو ضرور ہوگا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی، کے پی کے میں باہمی مقابلے پر نہ ہونے کی وجہ سے فائدہ اٹھائیں گی، اگر دونوں جماعتیں الگ الگ انتخاب لڑتیں اور اپنے اپنے امیدوار کھڑے کرتیں تو دونوں ہار جاتیں اور کوئی تیسرا فریق فائدہ اٹھا جاتا، اس عامل کی وجہ سے دونوں جماعتوں کو فائدہ ہوگا، باقی تین جماعتیں جمعیت اہلحدیث، جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) اور تحریک جعفریہ ہیں۔ مولانا سمیع الحق کی جماعت، جے یو آئی (س) اب کی بار اس کا حصہ نہیں بنی اور اس نے تحریک انصاف سے اتحاد کر رکھا ہے۔ 2002ء کے بعد ایم ایم اے اگر باہمی اختلافات کا شکار نہ ہوتی اور اپنے اتحاد کا دائرہ کار وسیع کرتی تو شاید اگلے انتخابات میں اپنی پوزیشن بہتر کر سکتی، لیکن ایسا نہ ہوا اور ترقی معکوس ہوئی، اب ایسے عالم میں یہ اتحاد بحال ہوا ہے جب دو دوسری مذہبی جماعتیں بھی انتخاب کے میدان میں اتر آئی ہیں۔ ایک تو تحریک لبیک ہے، جس کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی ہیں جو بہت جارحانہ سیاست کر رہے ہیں اور جن کا خیال ہے کہ ان کے نمائندے اگلے انتخابات میں پارلیمینٹ میں پہنچ جائیں گے، دوسری جماعت ملی مسلم لیگ ہے جو اہل حدیث مکتب فکر کی نمائندہ ہے۔ دونوں جماعتوں نے کئی ضمنی انتخابات میں حصہ لیا اور جماعت اسلامی کے امیدوار سے زیادہ ووٹ حاصل کیے، اگرچہ ان کا کوئی امیدوار کامیاب تو نہ ہو سکا لیکن ووٹروں کا ان معنوں میں بھلا ہو گیا کہ ملی مسلم لیگ کا انتخابی نشان ’’انرجی سیور‘‘ بہت سے گھروں میں روشنی دینے لگا، دونوں جماعتوں کو اگر اگلے انتخابات میں زیادہ کامیابی نہیں بھی ہوتی تو بھی یہ کئی کامیاب امیدواروں کی راہ تو کھوٹی کر سکتی ہیں۔ اس لیے یہ بھی ’’کامیابی‘‘ ہی کی ایک قسم ہے، مین سٹریم پارٹیوں میں ہر مکتب فکر کے لوگ شامل ہو جاتے ہیں، ان جماعتوں میں مسلک کی تخصیص نہیں ہوتی، اس لیے ووٹر ان جماعتوں کی طرف راغب ہوتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف وجود - جمعه 30 اکتوبر 2026

ایران پر دباؤ ڈالنے اور مراعات دینے کی حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہیں ہوگی، بیان ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں۔ ایران کی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایکس پر بی...

ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

مضامین
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش

تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر