وجود

... loading ...

وجود

نریندرمودی کا 2022تک مسلمانوں سے پاک انڈیاپلان بے نقاب

پیر 26 مارچ 2018 نریندرمودی کا 2022تک مسلمانوں سے پاک انڈیاپلان بے نقاب

1925ء میں جب بھارتی شہر ناگپور میں مسلم دشمن تنظیم آر ایس ایس کی بنیاد پڑی تو اسی وقت سے مسلمانوں کو بے بس و لاچار کرنے کے لیے 100 سالہ منصوبہ بنا لیاگیا تھا جس کے مطابق وہ عمل کررہے ہیں۔ مسلمانوں کی بھارت سے پہچان مٹانے کے لیے سازشیں جاری ہیں اور سازشی ان کے حقوق سلب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سنگھ پریوار کی کوششیں صرف بی جے پی جیسی فرقہ پرست سیاسی جماعت کے ذریعے ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی ہر سیاسی جماعت میں اپنے نمائندوں کو شامل کرکے کی گئی ہیں۔

اس سے مسلمانوں کی ہمدرد کہلوانے والی کانگریس بھی الگ نہیں ہے۔ سال 2017ء میں بھارتی مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا جال بچھا دیا گیا اور انہیں مٹانے، تباہ وبرباد کرنے کے لیے ہر حربہ آزمایا جارہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے 2022ء￿ کے نیو انڈیا کا نعرہ لگادیا ہے جس میں نہ مسلمان ہونگے اور نہ ہی مسلم حکمرانوں کی بنائی ہوئی نشانیاں، بابری مسجد کے بعد اب اگلا ہدف تاج محل ہے جس کو لٹیروں کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔

یہاں فرقہ پرست وزیراعظم نریندر مودی سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ دارلحکومت دہلی میں واقع لال قلعہ جہاں بھارت کا پرچم نصب ہے اور ہر سال بھارتی وزیراعظم قومی دن کے موقع پر وہاں پرچم کشائی کرتے ہیں کیا اسے مہاتما گاندھی نے تعمیر کروایا تھا۔ وہ بھی مسلم عہد حکمرانی کی یاد دلاتا ہے۔ اسے بھی ختم کردیں۔ صرف تاج محل کو شیومندر قرار دینا کہاں کا انصاف ہے؟ 2022ء کے نیو انڈیا میں بھارت ایک ہندو راشٹربن کر سامنے آئے گا، اس کا نام نہاد سیکولر کردار بھی ختم کردیا جائے گا، یہ ڈھونگ محض دنیا کی آنکھوں میںدھول جھونکنے کے لیے رچایا گیا تھا۔

۔۔۔ سنگھ پریوار کی خفیہ دستاویزات کے سرورق پر درج ہے کہ ہندو دھرم سنسددوار ، الو مودیت دستاویز‘‘ اس کے آخری صفحے پر لکھا ہے کہ اس کی صرف دس ہزار کاپیاں ہی چھاپی گئی ہیں۔ خفیہ دستاویزات میں بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف سازشوں کا وسیع پلان بنایا گیا ہے کہ کس طرح آہستہ آہستہ ہندو اکثریتی طبقے میں مسلم مخالف زہر گھولا جائے گا کہ2022ء تک از خود عام ہندو بھی مسلمانوںکا نام ونشان مٹانے کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔

موجودہ حالات وواقعات بتاتے ہیں کہ اس مذموم مہم کا آغاز ہوچکا ہے۔ سنگھ پریوار کے دعویٰ کے مطابق آر ایس ایس کے پرچار کوں کی تعداد پانچ کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ خفیہ دستاویزات کی ابتداء جے شری رام سے کی گئی ہے اور لکھا ہے کہ ’’ہندو توکی پوتر نگر پریاگ‘‘ میں ہم راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ، وشو اہندوپریشد، بحرنگ دل اور اکھل بھارتیہ براہمن جیاسبھا‘‘ایک اجتماعی دھرم سلسلہ کی شکل میں متحد ہو کر یہ عہد کرتے ہیں کہ مستقبل میں ہماری واحد منظم کوشش اور مقصد ریزرویشن کا خاتمہ، بھارتیہ سمودھان کونشٹ کرنا، بودھ دھرم ، عیسائی دھرم اور مسلم دھرم کے بڑھتے ہوئے اثرات کا خاتمہ اور دلتوں میں پھوٹ ڈال کر ان کی ابھرتی قوت کا کچلنا ہوگا۔

اس کے لیے مندرجہ ذیل حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔

1۔ ریزرویشن برائے نام ہوگا اور ریزرویشن کے خاتمے کے لیے سپریم کورٹ میں نت نئی دلیلوں کے ساتھ عرضداشتیں قائم کی جارہی ہیں تاکہ ہندوفرقہ پرست جج ان کے حق میں فیصلہ دے سکیں۔

2۔ ناگپور میں موجود بودھ مذہب قبول کرانے کے واحد مرکز کو کمزور اور غیر موثر بنانے کے لیے آر ایس ایس کے صدر دفتر کو زیادہ وسعت دی جارہی ہے اور ممبروں کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے۔

15 اگست 2022ء تک وہاں بھگوا جھنڈا لہرادیا جائے گا۔

3۔ پورے ہندوستان میں امبیڈ کرکے بنائے گئے دستوع کی وجہ سے ہی دلت طاقتور ہورہے ہیں لہٰذا بی جے پی حکومت میں آئین پر نظر ثانی کی آڑ میں سیکولر دستور کو ہی بدل دیا جائے گا۔

4۔ بھارت میں رام راج کے قیام کے لیے ابودھیا میں رام مندر بنادیا جائے گا ، اس کے لیے ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا جائے گا اور ایک بار ’’شیلا نیاس‘‘ ہونے کے بعدآگے کی ذمہ داری کٹرو متعصب یوگی سرکار اور دھرم سنسد کی ہوگی۔

بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کے بعد ہر ریاست میں ایودھیا کے رام مندر جیسا ایک مندر لازمی بنایا جائے گا۔ ایودھیا میں رام مندر کا شیلا نیاس ہی بھارت میں رام راجیہ کے قیام کی بنیاد ہوگا۔

5۔ ہندو توا کی تعلیم پر زور دینے کے لیے تعلیمی اداروں میں جیوتش شاستر پڑھائے جائیں گے۔ آچاریائی طریقہ تعلیم لازمی ہوگا۔ ’’گائتری منتر اور سرسوتی وندنا‘‘ نصاب کا حصہ ہونگے اورسنسکرت کو قومی زبان یعنی راج بھاشا کا درجہ حاصل ہوگا۔اس سلسلے میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور وزارت تعلیم نے منظوری بھی دیدی ہے۔

6۔ ہندوراشٹریہ کے نفاذ کے لیے ہندو دھرم کا پروپیگنڈہ جاری ہے اور اس کے لیے ہندودیوی دیوتائوں کی کہانیوں پر مشتمل زیادہ سے زیادہ ٹی وی سریلز دکھائے جارہے ہیں اور جن میں برہمنوں کو پرماتما کا نمائندہ دکھایا جاتا ہے کہ برہمن کے ذریعے ہی ایشور تک پہنچا جا سکتا ہے۔
انہی مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے بھارتی ٹی وی چینلوں پر روزانہ صبح کے وقت ہندو مت کے کٹر لیڈر اور سادھو سنت کے پروچن نشر کیے جاتے ہیں۔ رامائن مہا بھارت کو نئے ڈھنگ سے دکھانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

دہشت گردی کی ساری ذمہ داری مسلمانوں پر ڈال کر انہیں کمزور کیا جائے گا۔ ملک میں غیر ہندو علاقوں میں مندر کثرت سے بنائے جائیں گے۔ بہرحال بھگوا حکومت سنگھ پریوار کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جس کے تحت تاج محل کو سیاحتی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔

تاریخ کو مسخ کیا جارہا ہے۔ اردو میڈیم ا سکول بند کردو اور اردو زبان پر پابندی لگادی جائے، وندے ماترم نہ پڑھنے والے کو ملک دشمن قرار دیا جائے ، ہندو فرقہ پرست ناتھورام گوڈ سے کے نام سے یادگار کا قیام، ایودھیا کے متنازعہ مقام پر 300 ملین امیرکی ڈالرز کے مصارف سے رام کا 300 فٹ بلند مجسمہ اور ممبئی کے قریب مراٹھا سردار شیوا جی کے 200 فٹ بلند مجسمے کی تنصیب سرفہرست ہیں۔

مودی حکومت میں مسلمانوں میں خوف کا یہ عالم ہے کہ شریعت میں مداخلت پر بھی مسلمان خاموش ہیں۔ دستوری عہدوں ، عدلیہ اور پالیسی سازاداروں سے بھی مسلمانوں کا صفایا کردیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی علیحدہ شناخت کو ختم کر کے انہیں ہندو ثابت کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی حالت برما کے مسلمانوں جیسی کردی جائے گی۔ اگرچہ برما کی طرح ان پر حملے نہیں کیے گئے لیکن ذہنی طو ر پر غلام بنانے کی تیاری ہے۔

پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مسلم نمائندگی برائے نام کردی گئی ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مسلم کردار چھین لیا گیا، مودی ، امبیت شاہ کے بعد یوگی کو بھی قومی سطح پر ابھارنے کا منصوبہ ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی نے اتر پردیش کو چند ماہ کے اندر ہندو توا رنگ میں رنگ دیا ہے کہ اب سیکولر طاقتوں کو سنبھلنے میں وقت لگ جائے گا۔ تاریخ سے مسلم مجاہدین آزادی کے کارناموں کو خذف کرنے کا سلسلہ جاری ہے اورسنگھ پریوار کے مورخین نئی تاریخ لکھ رہے ہیں اور بڑے پیمانے پر ہندو ، مسلم فسادات کی تیاری بھی کی جاچکی ہے۔

یعنی 2022ء تک گجرات فسادات کی طرز پرمسلم نسل کشی کی ہولناک منصوبہ بندی کرلی گئی ہے اور سارے ہندوستان کو مسلمانوں کے لیے گجرات بنادیا جائے گا۔ اگر اگجرات میں تین ہزار مسلمانوں کی نسل کشی سے 15 سال مودی کا اقتدار برقراررہ سکتا ہے تو پورے ہندوستان میں ہزاروں کیا ایک لاکھ دولاکھ مسلمانوں کی جانیں لے کر ہندوستان کو ہندوراشٹر بنانے میں بھلا کیا مضائقہ ہوسکتا ہے؟ معیشت بگڑ چکی ہے ، اس لیے مودی کی سیاست بھی بگڑ چکی ہے اور ایسے میں 2022 ء کے انیوانڈیا کا نعرہ ہندو فرقہ پرستی کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔

2019ء تک ہندوستان کو درجنوں گجرات فسادات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ ہر فساد کے بعد بی جے پی کو فائدہ ہوا ہے۔ مثلاََ بابری مسجد کی شہادت کے بعد لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کی نشستیں بڑھ گئیں۔ اسی طرح 1993ء میں ممبئی فساد کے بعد 1995ء میں بی جے پی اور شیوسینا پہلی بار اقتدار میں آئے۔ یہی صورتحال 2002ء کے گجرات فسادات کے بعد نریندر مودی کے ساتھ ہوئی۔

گجرات مسلم کش فسادات کے بعد مودی نہ صرف مسلسل تین بار گجرات کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے بلکہ وہ سارے ہندوستان کے ہندو دیوتا سمراٹ بن کر 2014ء میں بھارت کے وزیراعظم بن گئے۔ یعنی مسلم کش فسادات بی جے پی کے لیے اقتدار حاصل کرنے کا سب سے اہم ہتھیار ہیں۔ بھارتی منصف خوشونت سنگھ نے 2003ء میں اپنی مشہور کتاب’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ میں چودہ سال قبل اس کے ایک باب ’’سنگھ اور اس کے عفریت ‘‘ میں لکھا تھا کہ ’’ہر فاشٹ حکومت اپنی بقا کے لیے کچھ ایسے لوگوں یا گروہوں کی محتاج ہوتی ہے جنہیں وہ عوام میں عفریت بناکے پیش کرسکے پھر ان کے خلاف خوف وہراس اور نفرت پھیلانے کی ایک منظم پروپیگنڈہ مہم شروع کی جاتی ہے۔

سنگھ پریوار بائیں بازو کے مورخوں ، دانشوروں کو مغرب زدہ قرار دیکر ان کے خلاف بھی نفرت انگیزی پھیلا چکا ہے۔ کل ان خواتین کو بھی نشانہ بنایا جائے گا جو ساڑھی نہیں پہنتیں۔ وہ لوگ بھی ان کے شر کا شکار ہوسکتے ہیں جو یاترایوں کی زیارت کے لیے نہیں جاتے۔ آیوروید کے نجائے ایلوپیتھک طریقہ علاج سے اپنی بیماریوں کا علاج کرواتے ہیں اور مصافحہ کرتے وقت جے شری رام نہیں کہتے، ان میں سے کوئی ہوچاہے وہ ہندو ہی کیوں نہ ہو اب بھارت میں محفوظ نہیں۔
مذکورہ میگزین نے ایک اہم نقطے کی جانب اشارہ کیا ہے جس سے یہ بھی ظاہر ہورہا ہے کہ اب ہندوستانی مسلمانوں کی انتخابات کے حوالے سے بھی اہمیت ختم ہورہی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ ’’ اب یہ عالم ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت خود کو تمام معاملات میں حاشیے پر محسوس کررہی ہے اور یہ تبدیلی 2014ء میں مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد ہوئی ہے۔
اس کا ثبوت یوپی کے الیکشن کے نتائج اور بی جے پی کے ذریعہ کسی مسلمان کو امیدوار نہ بنائے جانے سے بھی ملا ہے ممکن ہے کہ آنے والے الیکشن میں بے جے پی یہ بھی اعلان کردے کہ مجھے مسلمانوں کے ووٹ کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ مسلمانوں کو خوف ودہشت کے احساسات کے تحت زندگی گزارنا پڑرہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں مودی حکومت خفیہ ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے۔ یوگی حکومت ہندو راشٹر کی ریہرسل کررہی ہے اس طرح مسلمانوں کو نہ صرف ذہنی اذیت پہنچائی جارہی ہے بلکہ اس کا یہ اشارہ ہے کہ ہندو راشٹر میں رہنے کاذہن بنالو۔
٭ ٭ ٭ ‎


متعلقہ خبریں


ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف وجود - جمعه 30 اکتوبر 2026

ایران پر دباؤ ڈالنے اور مراعات دینے کی حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہیں ہوگی، بیان ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں۔ ایران کی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایکس پر بی...

ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

مضامین
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش

تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر