وجود

... loading ...

وجود

نریندرمودی کا 2022تک مسلمانوں سے پاک انڈیاپلان بے نقاب

پیر 26 مارچ 2018 نریندرمودی کا 2022تک مسلمانوں سے پاک انڈیاپلان بے نقاب

1925ء میں جب بھارتی شہر ناگپور میں مسلم دشمن تنظیم آر ایس ایس کی بنیاد پڑی تو اسی وقت سے مسلمانوں کو بے بس و لاچار کرنے کے لیے 100 سالہ منصوبہ بنا لیاگیا تھا جس کے مطابق وہ عمل کررہے ہیں۔ مسلمانوں کی بھارت سے پہچان مٹانے کے لیے سازشیں جاری ہیں اور سازشی ان کے حقوق سلب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سنگھ پریوار کی کوششیں صرف بی جے پی جیسی فرقہ پرست سیاسی جماعت کے ذریعے ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی ہر سیاسی جماعت میں اپنے نمائندوں کو شامل کرکے کی گئی ہیں۔

اس سے مسلمانوں کی ہمدرد کہلوانے والی کانگریس بھی الگ نہیں ہے۔ سال 2017ء میں بھارتی مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا جال بچھا دیا گیا اور انہیں مٹانے، تباہ وبرباد کرنے کے لیے ہر حربہ آزمایا جارہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے 2022ء￿ کے نیو انڈیا کا نعرہ لگادیا ہے جس میں نہ مسلمان ہونگے اور نہ ہی مسلم حکمرانوں کی بنائی ہوئی نشانیاں، بابری مسجد کے بعد اب اگلا ہدف تاج محل ہے جس کو لٹیروں کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔

یہاں فرقہ پرست وزیراعظم نریندر مودی سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ دارلحکومت دہلی میں واقع لال قلعہ جہاں بھارت کا پرچم نصب ہے اور ہر سال بھارتی وزیراعظم قومی دن کے موقع پر وہاں پرچم کشائی کرتے ہیں کیا اسے مہاتما گاندھی نے تعمیر کروایا تھا۔ وہ بھی مسلم عہد حکمرانی کی یاد دلاتا ہے۔ اسے بھی ختم کردیں۔ صرف تاج محل کو شیومندر قرار دینا کہاں کا انصاف ہے؟ 2022ء کے نیو انڈیا میں بھارت ایک ہندو راشٹربن کر سامنے آئے گا، اس کا نام نہاد سیکولر کردار بھی ختم کردیا جائے گا، یہ ڈھونگ محض دنیا کی آنکھوں میںدھول جھونکنے کے لیے رچایا گیا تھا۔

۔۔۔ سنگھ پریوار کی خفیہ دستاویزات کے سرورق پر درج ہے کہ ہندو دھرم سنسددوار ، الو مودیت دستاویز‘‘ اس کے آخری صفحے پر لکھا ہے کہ اس کی صرف دس ہزار کاپیاں ہی چھاپی گئی ہیں۔ خفیہ دستاویزات میں بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف سازشوں کا وسیع پلان بنایا گیا ہے کہ کس طرح آہستہ آہستہ ہندو اکثریتی طبقے میں مسلم مخالف زہر گھولا جائے گا کہ2022ء تک از خود عام ہندو بھی مسلمانوںکا نام ونشان مٹانے کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔

موجودہ حالات وواقعات بتاتے ہیں کہ اس مذموم مہم کا آغاز ہوچکا ہے۔ سنگھ پریوار کے دعویٰ کے مطابق آر ایس ایس کے پرچار کوں کی تعداد پانچ کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ خفیہ دستاویزات کی ابتداء جے شری رام سے کی گئی ہے اور لکھا ہے کہ ’’ہندو توکی پوتر نگر پریاگ‘‘ میں ہم راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ، وشو اہندوپریشد، بحرنگ دل اور اکھل بھارتیہ براہمن جیاسبھا‘‘ایک اجتماعی دھرم سلسلہ کی شکل میں متحد ہو کر یہ عہد کرتے ہیں کہ مستقبل میں ہماری واحد منظم کوشش اور مقصد ریزرویشن کا خاتمہ، بھارتیہ سمودھان کونشٹ کرنا، بودھ دھرم ، عیسائی دھرم اور مسلم دھرم کے بڑھتے ہوئے اثرات کا خاتمہ اور دلتوں میں پھوٹ ڈال کر ان کی ابھرتی قوت کا کچلنا ہوگا۔

اس کے لیے مندرجہ ذیل حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔

1۔ ریزرویشن برائے نام ہوگا اور ریزرویشن کے خاتمے کے لیے سپریم کورٹ میں نت نئی دلیلوں کے ساتھ عرضداشتیں قائم کی جارہی ہیں تاکہ ہندوفرقہ پرست جج ان کے حق میں فیصلہ دے سکیں۔

2۔ ناگپور میں موجود بودھ مذہب قبول کرانے کے واحد مرکز کو کمزور اور غیر موثر بنانے کے لیے آر ایس ایس کے صدر دفتر کو زیادہ وسعت دی جارہی ہے اور ممبروں کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے۔

15 اگست 2022ء تک وہاں بھگوا جھنڈا لہرادیا جائے گا۔

3۔ پورے ہندوستان میں امبیڈ کرکے بنائے گئے دستوع کی وجہ سے ہی دلت طاقتور ہورہے ہیں لہٰذا بی جے پی حکومت میں آئین پر نظر ثانی کی آڑ میں سیکولر دستور کو ہی بدل دیا جائے گا۔

4۔ بھارت میں رام راج کے قیام کے لیے ابودھیا میں رام مندر بنادیا جائے گا ، اس کے لیے ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا جائے گا اور ایک بار ’’شیلا نیاس‘‘ ہونے کے بعدآگے کی ذمہ داری کٹرو متعصب یوگی سرکار اور دھرم سنسد کی ہوگی۔

بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کے بعد ہر ریاست میں ایودھیا کے رام مندر جیسا ایک مندر لازمی بنایا جائے گا۔ ایودھیا میں رام مندر کا شیلا نیاس ہی بھارت میں رام راجیہ کے قیام کی بنیاد ہوگا۔

5۔ ہندو توا کی تعلیم پر زور دینے کے لیے تعلیمی اداروں میں جیوتش شاستر پڑھائے جائیں گے۔ آچاریائی طریقہ تعلیم لازمی ہوگا۔ ’’گائتری منتر اور سرسوتی وندنا‘‘ نصاب کا حصہ ہونگے اورسنسکرت کو قومی زبان یعنی راج بھاشا کا درجہ حاصل ہوگا۔اس سلسلے میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور وزارت تعلیم نے منظوری بھی دیدی ہے۔

6۔ ہندوراشٹریہ کے نفاذ کے لیے ہندو دھرم کا پروپیگنڈہ جاری ہے اور اس کے لیے ہندودیوی دیوتائوں کی کہانیوں پر مشتمل زیادہ سے زیادہ ٹی وی سریلز دکھائے جارہے ہیں اور جن میں برہمنوں کو پرماتما کا نمائندہ دکھایا جاتا ہے کہ برہمن کے ذریعے ہی ایشور تک پہنچا جا سکتا ہے۔
انہی مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے بھارتی ٹی وی چینلوں پر روزانہ صبح کے وقت ہندو مت کے کٹر لیڈر اور سادھو سنت کے پروچن نشر کیے جاتے ہیں۔ رامائن مہا بھارت کو نئے ڈھنگ سے دکھانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

دہشت گردی کی ساری ذمہ داری مسلمانوں پر ڈال کر انہیں کمزور کیا جائے گا۔ ملک میں غیر ہندو علاقوں میں مندر کثرت سے بنائے جائیں گے۔ بہرحال بھگوا حکومت سنگھ پریوار کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جس کے تحت تاج محل کو سیاحتی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔

تاریخ کو مسخ کیا جارہا ہے۔ اردو میڈیم ا سکول بند کردو اور اردو زبان پر پابندی لگادی جائے، وندے ماترم نہ پڑھنے والے کو ملک دشمن قرار دیا جائے ، ہندو فرقہ پرست ناتھورام گوڈ سے کے نام سے یادگار کا قیام، ایودھیا کے متنازعہ مقام پر 300 ملین امیرکی ڈالرز کے مصارف سے رام کا 300 فٹ بلند مجسمہ اور ممبئی کے قریب مراٹھا سردار شیوا جی کے 200 فٹ بلند مجسمے کی تنصیب سرفہرست ہیں۔

مودی حکومت میں مسلمانوں میں خوف کا یہ عالم ہے کہ شریعت میں مداخلت پر بھی مسلمان خاموش ہیں۔ دستوری عہدوں ، عدلیہ اور پالیسی سازاداروں سے بھی مسلمانوں کا صفایا کردیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی علیحدہ شناخت کو ختم کر کے انہیں ہندو ثابت کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی حالت برما کے مسلمانوں جیسی کردی جائے گی۔ اگرچہ برما کی طرح ان پر حملے نہیں کیے گئے لیکن ذہنی طو ر پر غلام بنانے کی تیاری ہے۔

پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مسلم نمائندگی برائے نام کردی گئی ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مسلم کردار چھین لیا گیا، مودی ، امبیت شاہ کے بعد یوگی کو بھی قومی سطح پر ابھارنے کا منصوبہ ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی نے اتر پردیش کو چند ماہ کے اندر ہندو توا رنگ میں رنگ دیا ہے کہ اب سیکولر طاقتوں کو سنبھلنے میں وقت لگ جائے گا۔ تاریخ سے مسلم مجاہدین آزادی کے کارناموں کو خذف کرنے کا سلسلہ جاری ہے اورسنگھ پریوار کے مورخین نئی تاریخ لکھ رہے ہیں اور بڑے پیمانے پر ہندو ، مسلم فسادات کی تیاری بھی کی جاچکی ہے۔

یعنی 2022ء تک گجرات فسادات کی طرز پرمسلم نسل کشی کی ہولناک منصوبہ بندی کرلی گئی ہے اور سارے ہندوستان کو مسلمانوں کے لیے گجرات بنادیا جائے گا۔ اگر اگجرات میں تین ہزار مسلمانوں کی نسل کشی سے 15 سال مودی کا اقتدار برقراررہ سکتا ہے تو پورے ہندوستان میں ہزاروں کیا ایک لاکھ دولاکھ مسلمانوں کی جانیں لے کر ہندوستان کو ہندوراشٹر بنانے میں بھلا کیا مضائقہ ہوسکتا ہے؟ معیشت بگڑ چکی ہے ، اس لیے مودی کی سیاست بھی بگڑ چکی ہے اور ایسے میں 2022 ء کے انیوانڈیا کا نعرہ ہندو فرقہ پرستی کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔

2019ء تک ہندوستان کو درجنوں گجرات فسادات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ ہر فساد کے بعد بی جے پی کو فائدہ ہوا ہے۔ مثلاََ بابری مسجد کی شہادت کے بعد لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کی نشستیں بڑھ گئیں۔ اسی طرح 1993ء میں ممبئی فساد کے بعد 1995ء میں بی جے پی اور شیوسینا پہلی بار اقتدار میں آئے۔ یہی صورتحال 2002ء کے گجرات فسادات کے بعد نریندر مودی کے ساتھ ہوئی۔

گجرات مسلم کش فسادات کے بعد مودی نہ صرف مسلسل تین بار گجرات کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے بلکہ وہ سارے ہندوستان کے ہندو دیوتا سمراٹ بن کر 2014ء میں بھارت کے وزیراعظم بن گئے۔ یعنی مسلم کش فسادات بی جے پی کے لیے اقتدار حاصل کرنے کا سب سے اہم ہتھیار ہیں۔ بھارتی منصف خوشونت سنگھ نے 2003ء میں اپنی مشہور کتاب’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ میں چودہ سال قبل اس کے ایک باب ’’سنگھ اور اس کے عفریت ‘‘ میں لکھا تھا کہ ’’ہر فاشٹ حکومت اپنی بقا کے لیے کچھ ایسے لوگوں یا گروہوں کی محتاج ہوتی ہے جنہیں وہ عوام میں عفریت بناکے پیش کرسکے پھر ان کے خلاف خوف وہراس اور نفرت پھیلانے کی ایک منظم پروپیگنڈہ مہم شروع کی جاتی ہے۔

سنگھ پریوار بائیں بازو کے مورخوں ، دانشوروں کو مغرب زدہ قرار دیکر ان کے خلاف بھی نفرت انگیزی پھیلا چکا ہے۔ کل ان خواتین کو بھی نشانہ بنایا جائے گا جو ساڑھی نہیں پہنتیں۔ وہ لوگ بھی ان کے شر کا شکار ہوسکتے ہیں جو یاترایوں کی زیارت کے لیے نہیں جاتے۔ آیوروید کے نجائے ایلوپیتھک طریقہ علاج سے اپنی بیماریوں کا علاج کرواتے ہیں اور مصافحہ کرتے وقت جے شری رام نہیں کہتے، ان میں سے کوئی ہوچاہے وہ ہندو ہی کیوں نہ ہو اب بھارت میں محفوظ نہیں۔
مذکورہ میگزین نے ایک اہم نقطے کی جانب اشارہ کیا ہے جس سے یہ بھی ظاہر ہورہا ہے کہ اب ہندوستانی مسلمانوں کی انتخابات کے حوالے سے بھی اہمیت ختم ہورہی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ ’’ اب یہ عالم ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت خود کو تمام معاملات میں حاشیے پر محسوس کررہی ہے اور یہ تبدیلی 2014ء میں مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد ہوئی ہے۔
اس کا ثبوت یوپی کے الیکشن کے نتائج اور بی جے پی کے ذریعہ کسی مسلمان کو امیدوار نہ بنائے جانے سے بھی ملا ہے ممکن ہے کہ آنے والے الیکشن میں بے جے پی یہ بھی اعلان کردے کہ مجھے مسلمانوں کے ووٹ کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ مسلمانوں کو خوف ودہشت کے احساسات کے تحت زندگی گزارنا پڑرہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں مودی حکومت خفیہ ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے۔ یوگی حکومت ہندو راشٹر کی ریہرسل کررہی ہے اس طرح مسلمانوں کو نہ صرف ذہنی اذیت پہنچائی جارہی ہے بلکہ اس کا یہ اشارہ ہے کہ ہندو راشٹر میں رہنے کاذہن بنالو۔
٭ ٭ ٭ ‎


متعلقہ خبریں


18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل وجود - جمعه 12 جون 2026

اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ وجود - جمعه 12 جون 2026

صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید وجود - جمعرات 11 جون 2026

ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

مضامین
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج وجود هفته 13 جون 2026
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج

بصارت سے آگے کا سفر وجود جمعه 12 جون 2026
بصارت سے آگے کا سفر

امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات وجود جمعه 12 جون 2026
امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات

ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟ وجود جمعه 12 جون 2026
ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟

آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر