وجود

... loading ...

وجود

نریندرمودی کا 2022تک مسلمانوں سے پاک انڈیاپلان بے نقاب

پیر 26 مارچ 2018 نریندرمودی کا 2022تک مسلمانوں سے پاک انڈیاپلان بے نقاب

1925ء میں جب بھارتی شہر ناگپور میں مسلم دشمن تنظیم آر ایس ایس کی بنیاد پڑی تو اسی وقت سے مسلمانوں کو بے بس و لاچار کرنے کے لیے 100 سالہ منصوبہ بنا لیاگیا تھا جس کے مطابق وہ عمل کررہے ہیں۔ مسلمانوں کی بھارت سے پہچان مٹانے کے لیے سازشیں جاری ہیں اور سازشی ان کے حقوق سلب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سنگھ پریوار کی کوششیں صرف بی جے پی جیسی فرقہ پرست سیاسی جماعت کے ذریعے ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی ہر سیاسی جماعت میں اپنے نمائندوں کو شامل کرکے کی گئی ہیں۔

اس سے مسلمانوں کی ہمدرد کہلوانے والی کانگریس بھی الگ نہیں ہے۔ سال 2017ء میں بھارتی مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا جال بچھا دیا گیا اور انہیں مٹانے، تباہ وبرباد کرنے کے لیے ہر حربہ آزمایا جارہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے 2022ء￿ کے نیو انڈیا کا نعرہ لگادیا ہے جس میں نہ مسلمان ہونگے اور نہ ہی مسلم حکمرانوں کی بنائی ہوئی نشانیاں، بابری مسجد کے بعد اب اگلا ہدف تاج محل ہے جس کو لٹیروں کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔

یہاں فرقہ پرست وزیراعظم نریندر مودی سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ دارلحکومت دہلی میں واقع لال قلعہ جہاں بھارت کا پرچم نصب ہے اور ہر سال بھارتی وزیراعظم قومی دن کے موقع پر وہاں پرچم کشائی کرتے ہیں کیا اسے مہاتما گاندھی نے تعمیر کروایا تھا۔ وہ بھی مسلم عہد حکمرانی کی یاد دلاتا ہے۔ اسے بھی ختم کردیں۔ صرف تاج محل کو شیومندر قرار دینا کہاں کا انصاف ہے؟ 2022ء کے نیو انڈیا میں بھارت ایک ہندو راشٹربن کر سامنے آئے گا، اس کا نام نہاد سیکولر کردار بھی ختم کردیا جائے گا، یہ ڈھونگ محض دنیا کی آنکھوں میںدھول جھونکنے کے لیے رچایا گیا تھا۔

۔۔۔ سنگھ پریوار کی خفیہ دستاویزات کے سرورق پر درج ہے کہ ہندو دھرم سنسددوار ، الو مودیت دستاویز‘‘ اس کے آخری صفحے پر لکھا ہے کہ اس کی صرف دس ہزار کاپیاں ہی چھاپی گئی ہیں۔ خفیہ دستاویزات میں بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف سازشوں کا وسیع پلان بنایا گیا ہے کہ کس طرح آہستہ آہستہ ہندو اکثریتی طبقے میں مسلم مخالف زہر گھولا جائے گا کہ2022ء تک از خود عام ہندو بھی مسلمانوںکا نام ونشان مٹانے کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔

موجودہ حالات وواقعات بتاتے ہیں کہ اس مذموم مہم کا آغاز ہوچکا ہے۔ سنگھ پریوار کے دعویٰ کے مطابق آر ایس ایس کے پرچار کوں کی تعداد پانچ کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ خفیہ دستاویزات کی ابتداء جے شری رام سے کی گئی ہے اور لکھا ہے کہ ’’ہندو توکی پوتر نگر پریاگ‘‘ میں ہم راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ، وشو اہندوپریشد، بحرنگ دل اور اکھل بھارتیہ براہمن جیاسبھا‘‘ایک اجتماعی دھرم سلسلہ کی شکل میں متحد ہو کر یہ عہد کرتے ہیں کہ مستقبل میں ہماری واحد منظم کوشش اور مقصد ریزرویشن کا خاتمہ، بھارتیہ سمودھان کونشٹ کرنا، بودھ دھرم ، عیسائی دھرم اور مسلم دھرم کے بڑھتے ہوئے اثرات کا خاتمہ اور دلتوں میں پھوٹ ڈال کر ان کی ابھرتی قوت کا کچلنا ہوگا۔

اس کے لیے مندرجہ ذیل حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔

1۔ ریزرویشن برائے نام ہوگا اور ریزرویشن کے خاتمے کے لیے سپریم کورٹ میں نت نئی دلیلوں کے ساتھ عرضداشتیں قائم کی جارہی ہیں تاکہ ہندوفرقہ پرست جج ان کے حق میں فیصلہ دے سکیں۔

2۔ ناگپور میں موجود بودھ مذہب قبول کرانے کے واحد مرکز کو کمزور اور غیر موثر بنانے کے لیے آر ایس ایس کے صدر دفتر کو زیادہ وسعت دی جارہی ہے اور ممبروں کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے۔

15 اگست 2022ء تک وہاں بھگوا جھنڈا لہرادیا جائے گا۔

3۔ پورے ہندوستان میں امبیڈ کرکے بنائے گئے دستوع کی وجہ سے ہی دلت طاقتور ہورہے ہیں لہٰذا بی جے پی حکومت میں آئین پر نظر ثانی کی آڑ میں سیکولر دستور کو ہی بدل دیا جائے گا۔

4۔ بھارت میں رام راج کے قیام کے لیے ابودھیا میں رام مندر بنادیا جائے گا ، اس کے لیے ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا جائے گا اور ایک بار ’’شیلا نیاس‘‘ ہونے کے بعدآگے کی ذمہ داری کٹرو متعصب یوگی سرکار اور دھرم سنسد کی ہوگی۔

بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کے بعد ہر ریاست میں ایودھیا کے رام مندر جیسا ایک مندر لازمی بنایا جائے گا۔ ایودھیا میں رام مندر کا شیلا نیاس ہی بھارت میں رام راجیہ کے قیام کی بنیاد ہوگا۔

5۔ ہندو توا کی تعلیم پر زور دینے کے لیے تعلیمی اداروں میں جیوتش شاستر پڑھائے جائیں گے۔ آچاریائی طریقہ تعلیم لازمی ہوگا۔ ’’گائتری منتر اور سرسوتی وندنا‘‘ نصاب کا حصہ ہونگے اورسنسکرت کو قومی زبان یعنی راج بھاشا کا درجہ حاصل ہوگا۔اس سلسلے میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور وزارت تعلیم نے منظوری بھی دیدی ہے۔

6۔ ہندوراشٹریہ کے نفاذ کے لیے ہندو دھرم کا پروپیگنڈہ جاری ہے اور اس کے لیے ہندودیوی دیوتائوں کی کہانیوں پر مشتمل زیادہ سے زیادہ ٹی وی سریلز دکھائے جارہے ہیں اور جن میں برہمنوں کو پرماتما کا نمائندہ دکھایا جاتا ہے کہ برہمن کے ذریعے ہی ایشور تک پہنچا جا سکتا ہے۔
انہی مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے بھارتی ٹی وی چینلوں پر روزانہ صبح کے وقت ہندو مت کے کٹر لیڈر اور سادھو سنت کے پروچن نشر کیے جاتے ہیں۔ رامائن مہا بھارت کو نئے ڈھنگ سے دکھانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

دہشت گردی کی ساری ذمہ داری مسلمانوں پر ڈال کر انہیں کمزور کیا جائے گا۔ ملک میں غیر ہندو علاقوں میں مندر کثرت سے بنائے جائیں گے۔ بہرحال بھگوا حکومت سنگھ پریوار کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جس کے تحت تاج محل کو سیاحتی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔

تاریخ کو مسخ کیا جارہا ہے۔ اردو میڈیم ا سکول بند کردو اور اردو زبان پر پابندی لگادی جائے، وندے ماترم نہ پڑھنے والے کو ملک دشمن قرار دیا جائے ، ہندو فرقہ پرست ناتھورام گوڈ سے کے نام سے یادگار کا قیام، ایودھیا کے متنازعہ مقام پر 300 ملین امیرکی ڈالرز کے مصارف سے رام کا 300 فٹ بلند مجسمہ اور ممبئی کے قریب مراٹھا سردار شیوا جی کے 200 فٹ بلند مجسمے کی تنصیب سرفہرست ہیں۔

مودی حکومت میں مسلمانوں میں خوف کا یہ عالم ہے کہ شریعت میں مداخلت پر بھی مسلمان خاموش ہیں۔ دستوری عہدوں ، عدلیہ اور پالیسی سازاداروں سے بھی مسلمانوں کا صفایا کردیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی علیحدہ شناخت کو ختم کر کے انہیں ہندو ثابت کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی حالت برما کے مسلمانوں جیسی کردی جائے گی۔ اگرچہ برما کی طرح ان پر حملے نہیں کیے گئے لیکن ذہنی طو ر پر غلام بنانے کی تیاری ہے۔

پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مسلم نمائندگی برائے نام کردی گئی ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مسلم کردار چھین لیا گیا، مودی ، امبیت شاہ کے بعد یوگی کو بھی قومی سطح پر ابھارنے کا منصوبہ ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی نے اتر پردیش کو چند ماہ کے اندر ہندو توا رنگ میں رنگ دیا ہے کہ اب سیکولر طاقتوں کو سنبھلنے میں وقت لگ جائے گا۔ تاریخ سے مسلم مجاہدین آزادی کے کارناموں کو خذف کرنے کا سلسلہ جاری ہے اورسنگھ پریوار کے مورخین نئی تاریخ لکھ رہے ہیں اور بڑے پیمانے پر ہندو ، مسلم فسادات کی تیاری بھی کی جاچکی ہے۔

یعنی 2022ء تک گجرات فسادات کی طرز پرمسلم نسل کشی کی ہولناک منصوبہ بندی کرلی گئی ہے اور سارے ہندوستان کو مسلمانوں کے لیے گجرات بنادیا جائے گا۔ اگر اگجرات میں تین ہزار مسلمانوں کی نسل کشی سے 15 سال مودی کا اقتدار برقراررہ سکتا ہے تو پورے ہندوستان میں ہزاروں کیا ایک لاکھ دولاکھ مسلمانوں کی جانیں لے کر ہندوستان کو ہندوراشٹر بنانے میں بھلا کیا مضائقہ ہوسکتا ہے؟ معیشت بگڑ چکی ہے ، اس لیے مودی کی سیاست بھی بگڑ چکی ہے اور ایسے میں 2022 ء کے انیوانڈیا کا نعرہ ہندو فرقہ پرستی کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔

2019ء تک ہندوستان کو درجنوں گجرات فسادات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ ہر فساد کے بعد بی جے پی کو فائدہ ہوا ہے۔ مثلاََ بابری مسجد کی شہادت کے بعد لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کی نشستیں بڑھ گئیں۔ اسی طرح 1993ء میں ممبئی فساد کے بعد 1995ء میں بی جے پی اور شیوسینا پہلی بار اقتدار میں آئے۔ یہی صورتحال 2002ء کے گجرات فسادات کے بعد نریندر مودی کے ساتھ ہوئی۔

گجرات مسلم کش فسادات کے بعد مودی نہ صرف مسلسل تین بار گجرات کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے بلکہ وہ سارے ہندوستان کے ہندو دیوتا سمراٹ بن کر 2014ء میں بھارت کے وزیراعظم بن گئے۔ یعنی مسلم کش فسادات بی جے پی کے لیے اقتدار حاصل کرنے کا سب سے اہم ہتھیار ہیں۔ بھارتی منصف خوشونت سنگھ نے 2003ء میں اپنی مشہور کتاب’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ میں چودہ سال قبل اس کے ایک باب ’’سنگھ اور اس کے عفریت ‘‘ میں لکھا تھا کہ ’’ہر فاشٹ حکومت اپنی بقا کے لیے کچھ ایسے لوگوں یا گروہوں کی محتاج ہوتی ہے جنہیں وہ عوام میں عفریت بناکے پیش کرسکے پھر ان کے خلاف خوف وہراس اور نفرت پھیلانے کی ایک منظم پروپیگنڈہ مہم شروع کی جاتی ہے۔

سنگھ پریوار بائیں بازو کے مورخوں ، دانشوروں کو مغرب زدہ قرار دیکر ان کے خلاف بھی نفرت انگیزی پھیلا چکا ہے۔ کل ان خواتین کو بھی نشانہ بنایا جائے گا جو ساڑھی نہیں پہنتیں۔ وہ لوگ بھی ان کے شر کا شکار ہوسکتے ہیں جو یاترایوں کی زیارت کے لیے نہیں جاتے۔ آیوروید کے نجائے ایلوپیتھک طریقہ علاج سے اپنی بیماریوں کا علاج کرواتے ہیں اور مصافحہ کرتے وقت جے شری رام نہیں کہتے، ان میں سے کوئی ہوچاہے وہ ہندو ہی کیوں نہ ہو اب بھارت میں محفوظ نہیں۔
مذکورہ میگزین نے ایک اہم نقطے کی جانب اشارہ کیا ہے جس سے یہ بھی ظاہر ہورہا ہے کہ اب ہندوستانی مسلمانوں کی انتخابات کے حوالے سے بھی اہمیت ختم ہورہی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ ’’ اب یہ عالم ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت خود کو تمام معاملات میں حاشیے پر محسوس کررہی ہے اور یہ تبدیلی 2014ء میں مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد ہوئی ہے۔
اس کا ثبوت یوپی کے الیکشن کے نتائج اور بی جے پی کے ذریعہ کسی مسلمان کو امیدوار نہ بنائے جانے سے بھی ملا ہے ممکن ہے کہ آنے والے الیکشن میں بے جے پی یہ بھی اعلان کردے کہ مجھے مسلمانوں کے ووٹ کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ مسلمانوں کو خوف ودہشت کے احساسات کے تحت زندگی گزارنا پڑرہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں مودی حکومت خفیہ ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے۔ یوگی حکومت ہندو راشٹر کی ریہرسل کررہی ہے اس طرح مسلمانوں کو نہ صرف ذہنی اذیت پہنچائی جارہی ہے بلکہ اس کا یہ اشارہ ہے کہ ہندو راشٹر میں رہنے کاذہن بنالو۔
٭ ٭ ٭ ‎


متعلقہ خبریں


ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق وجود - بدھ 04 فروری 2026

پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...

ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق

محمود اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے کرانے کامطالبہ وجود - بدھ 04 فروری 2026

اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...

محمود اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے کرانے کامطالبہ

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل وجود - بدھ 04 فروری 2026

صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل

ملک بھر میں 195,000قومی شناختی کارڈز بلاک وجود - بدھ 04 فروری 2026

خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...

ملک بھر میں 195,000قومی شناختی کارڈز بلاک

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 03 فروری 2026

ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ

وزیراعظماور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات، امن کیلئے تعاون پر تیار وجود - منگل 03 فروری 2026

سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...

وزیراعظماور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات، امن کیلئے تعاون پر تیار

وزیراعظم سے ہماری کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی ،سہیل آفریدی وجود - منگل 03 فروری 2026

دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...

وزیراعظم سے ہماری کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی ،سہیل آفریدی

تاجرکواغوا کروانے کا الزام ، پیر محمد شاہ جواب دینے میں ناکامی پربے نقاب وجود - منگل 03 فروری 2026

14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...

تاجرکواغوا کروانے کا الزام ، پیر محمد شاہ جواب دینے میں ناکامی پربے نقاب

عمران خان کیلئے فارن فنڈنگ کیس میں نئی مشکل تیار وجود - منگل 03 فروری 2026

عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...

عمران خان کیلئے فارن فنڈنگ کیس میں نئی مشکل تیار

سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتے ہیں،وزیر اعظم وجود - منگل 03 فروری 2026

آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...

سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتے ہیں،وزیر اعظم

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی وجود - پیر 02 فروری 2026

گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار وجود - پیر 02 فروری 2026

کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار

مضامین
صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ وجود بدھ 04 فروری 2026
صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ

ناقابل شکست وجود بدھ 04 فروری 2026
ناقابل شکست

خون اور رنگ وجود منگل 03 فروری 2026
خون اور رنگ

سوشل میڈیا لت کا بچوں میں خطرناک استعمال اور نفسیاتی مسائل وجود منگل 03 فروری 2026
سوشل میڈیا لت کا بچوں میں خطرناک استعمال اور نفسیاتی مسائل

گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی وجود پیر 02 فروری 2026
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر