... loading ...
دنیا کی پیدائش قدرت کا عظیم کرشمہ ہے۔ اہل دنیا کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سائنس کے ذریعے ایجادات ہوئیں۔ انسان میں نہ پہاڑوں کی سی مضبوطی ہے، نہ دریاووں کا سا شکوہ، نہ سمندروں کا سا جلال اور نہ شیر جیسا دبدبہ، بلکہ ان کے برعکس انسان کے پاس عقل کی طاقت ہے۔ اسے حواسِ خمسہ سے نوازا گیا ہے جن کی بدولت انسان نے مختلف علوم سیکھے اور آج یہ کمزور اور ناتواں مشتِ خاک کل عالم کو تابع فرمان کیے ہو ئے ہے۔ اپنے ارد گرد نظر ڈالیے قلم اور کاغذ سے لے کر گرجتے طیاروں اور تیزی سے چلتے ہو ئے ریلوے انجن تک سب سائنس کا کمال ہیں۔ مرے ذوق تسخیر فطرت کے آگے عناصر کا قلب و جگر کانپتا ہے سائنس نے دنیا کو بالکل بدل کر رکھ دیا ہے۔ زمانہ قدیم کا کوئی انسان آج اگر اس دنیا میں آجائے تو وہ کبھی نہ پہچان سکے کہ یہ وہی دنیا ہے جسے وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ سائنس اگر اسی رفتار سے ترقی کرتی رہی تو عنقریب وہ وقت بھی آئے گا جب سب کچھ بدل چکا ہو گا اور آج کے زمانے کی حیرت انگیز ایجادات بھی معمولی بن کر رہ جائیں گی۔
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں محوِحیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی سائنس نے ماحول کے ساتھ ہمارے طرزِِ فکر کو بھی بدل ڈالا ہے۔ زمانہ قدیم کا انسان جن چیزوں کی عبادت کرتا تھا آج سائنس کی بدولت وہ اس کی محکوم اور غلام بن چکی ہیں۔ پہلے چاند پر پہنچنے کی آرزو تھی اور اب سورج پر کمندیں ڈالی جارہی ہیں۔ ریل گاڑی، بس ، آبدوز ، بحری جہاز، میزائل ، ایٹم بم، ہائیڈروجن بم اور ہوا کی تسخیر وہ کرشمے ہیں جنہوں نے انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ ہم گھر بیٹھے دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں ہو نے والے تفریحی مشاغل اور روزمرہ کے معمولی اور غیر معمولی حالات سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔ ریڈیو، ٹیلی وژن اور اب انٹر نیٹ نے معلومات کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ سائنس نے انسان کو غیر معمولی طور پر طاقت ور بنا دیا ہے۔ اب وہ کسی شخص یا ریاست کو زیر کرنے کے لیے تیر و تلوار سے لیس ہو کر نہیں جاتا۔ جنگجو طیارے، میزائل اور ایٹم بم جیسے ہتھیار دشمن کی طاقت کو ریزہ ریزہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ نہ صرف دشمن کا خاتمہ کرتے ہیں بلکہ بھر پور تحفظ کا ذریعہ بھی ہیں۔
سائنس وہ چیز ہے جس نے فضا میں اپنا پرچم لہرا کر دنیا کے خشک و تر کا چپہ چپہ چھان مارا ہے۔ اور پھر اس کی تحقیق و جستجو نے انسان کو نئی زندگی سے روشناس کروایا ہے۔ انسانی جانوں کو موت کے پنجے سے دور رکھنے کے لیے طب کی دنیا میں انقلاب برپا ہوا ہے۔ میڈیکل سائنس کی مسیحائی کی بدولت اندھوں کو آنکھیں، بہروں کو کان، مایوس بیماروں کو شفا مل رہی ہے۔ طبی سائنس نے یہاں تک ترقی کر لی ہے کہ جسمِ انسانی کے اعضا تک تبدیل کر لیے جاتے ہیں۔ بہت سے مہلک اور لا علاج امراض کا علاج دریافت ہو چکا ہے۔ سائنس کی بدولت انسان کی زندگی بہت سہل ہو چکی ہے بجلی جیسی قوت آج انسان کی غلام ہے۔ اس نے زندگی کے بہت سے کام آسان کر دیے ہیں۔ روشنی ہو یا سرد اور گرم موسم، کھانا پکانا ہو یا کپڑے دھونا سب سہل ہو گئے ہیں۔ گھریلو آسائشوں سے لے کر فیکٹریوں اور کارخانوں تک سب بجلی کے مرہونِ منت ہیں۔ سائنس کے رنگ نرالے ہیں۔ بازیچہِ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہو تاہے شب و روز تماشا مرے آگے آج کمپیوٹر کی بدولت علوم و فنون سے لے کر خبر رسانی، پیغام رسانی ، معلومات کی ترسیل سب کچھ بہت آسان ہو گیا ہے۔
زراعت کا شعبہ سائنس کی بدولت آج ترقی کر چکا ہے۔ مصنوعی کھادوں اور مشینی آلات کی بدولت پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اناج کی ریل پیل نے گویا قحط کے خطرے کو ہمیشہ کے لیے ٹال دیا ہے۔ سائنس نے جہاں انسان کو چاند تک پہنچایا اور خلا کو مسخر کرنے کا ذریعہ بنی ہے ،وہیں انسان کے لیے تباہی اور ہلاکت کا سامان بھی لائی۔ آج تباہی کے ایسے سامان ہو گئے ہیں جن سے پل بھر میں جیتی جاگتی آبادیاں راکھ کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔ ایٹم بم ، ہائیڈوجن بم، اور میزائل انسانی زندگی کے لیے بہت بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ ایک فلاسفر کا قول ہے کہ ’’اس دور کے کیمیا گروں نے ایسا مرکب تیار کر لیا ہے جس کی قلیل مقدار کرہ ارض کو پل بھر میں بھڑکتے شعلوں میں تبدیل کر سکتی ہے اگر اس دور میں سائنس دانوں کو کسی اخلاقی ضابطے کا پابند نہ کیا گیا تو انسا ن کے لیے آئندہ دس سال انتہائی خطرناک ثابت ہوں گے۔ مشینوں سے بنی مصنو عات نے انسانوں کو ایک دوسرے سے بے نیاز کر دیا ہے۔ مروت اور لحاظ مٹتا جا رہا ہے۔ مشینی مصنو عات نے انسانوں کو پر تکلف اور مادی آسائشیں مہیا کر کے سہل پسند اور عیش پرست بنا دیا ہے۔ ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات کی بڑھتی ہو ئی سائنسی ترقی نے معاشرے میں بے روز گاری کو فروغ دیا ہے۔ انسان کی قدر و قیمت گھٹ گئی ہے۔
اب انسانوں کی بجائے مشینوں پر انحصار کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بے چینی اور اضطراب بڑھ گیا ہے۔ انسان پریشان اور جرائم کی طرف راغب ہو نے لگا ہے۔ احساسات اور جذبات کی قدر و قیمت نہ رہی تو انسان ان سے عاری ہو کر مشینی زندگی گزارنے لگے ہیں۔ ہماری روایات اور اقدار کو زنگ لگنے لگا۔ جو لمحہ فکریہ ہے۔ اس مشینی دور میں درکار ہیں پتھر کے جسم کارخانوں کے دھویں میں حل ہوا جاتا ہوں میں یہ درست ہے کہ سائنسی ترقی کی بدولت انسان کی اخلاقی اقدار پامال ہو گئیں۔ لیکن سارا الزام سائنس کو درست نہیں۔ اس کی ذمہ دار انسان کی غلط ذہنیت اور بیمار طرز فکر ہے جس نے دنیا کی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک دنیا کی باگ ڈور ایسے انسانوں کے ہاتھ میں رہے گی جو اخلاقی قدروں سے عاری ہیں اور جن کے نزدیک قانون کا اطلاق معنی نہیں رکھتا، اس وقت تک انسان کی سائنسی فتوحات اس کے لیے امن و سلامتی کا پیغام نہیں بنیں گی بلکہ انتشار اور ہلاکت کا سامان ہو ں گی۔ بنیادی طور پر کو ئی شے اچھی یا بری نہیں ہو تی بلکہ اس کا استعمال مثبت یا منفی ہو سکتا ہے۔ سائنس نے بھی انسانی زندگی کو آرام دہ بنا دیا ہے، یہ دنیا رنگ و بو کا گہوار بنی۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ سائنسی ایجادات کے استعمال کو منفی نہ بنایا جائے اور ان ایجادات کے مضر اثرات سے انسانیت کو بچایا جا ئے۔
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...