وجود

... loading ...

وجود

سائنس کے کرشمے

پیر 26 مارچ 2018 سائنس کے کرشمے

دنیا کی پیدائش قدرت کا عظیم کرشمہ ہے۔ اہل دنیا کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سائنس کے ذریعے ایجادات ہوئیں۔ انسان میں نہ پہاڑوں کی سی مضبوطی ہے، نہ دریاووں کا سا شکوہ، نہ سمندروں کا سا جلال اور نہ شیر جیسا دبدبہ، بلکہ ان کے برعکس انسان کے پاس عقل کی طاقت ہے۔ اسے حواسِ خمسہ سے نوازا گیا ہے جن کی بدولت انسان نے مختلف علوم سیکھے اور آج یہ کمزور اور ناتواں مشتِ خاک کل عالم کو تابع فرمان کیے ہو ئے ہے۔ اپنے ارد گرد نظر ڈالیے قلم اور کاغذ سے لے کر گرجتے طیاروں اور تیزی سے چلتے ہو ئے ریلوے انجن تک سب سائنس کا کمال ہیں۔ مرے ذوق تسخیر فطرت کے آگے عناصر کا قلب و جگر کانپتا ہے سائنس نے دنیا کو بالکل بدل کر رکھ دیا ہے۔ زمانہ قدیم کا کوئی انسان آج اگر اس دنیا میں آجائے تو وہ کبھی نہ پہچان سکے کہ یہ وہی دنیا ہے جسے وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ سائنس اگر اسی رفتار سے ترقی کرتی رہی تو عنقریب وہ وقت بھی آئے گا جب سب کچھ بدل چکا ہو گا اور آج کے زمانے کی حیرت انگیز ایجادات بھی معمولی بن کر رہ جائیں گی۔

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں محوِحیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی سائنس نے ماحول کے ساتھ ہمارے طرزِِ فکر کو بھی بدل ڈالا ہے۔ زمانہ قدیم کا انسان جن چیزوں کی عبادت کرتا تھا آج سائنس کی بدولت وہ اس کی محکوم اور غلام بن چکی ہیں۔ پہلے چاند پر پہنچنے کی آرزو تھی اور اب سورج پر کمندیں ڈالی جارہی ہیں۔ ریل گاڑی، بس ، آبدوز ، بحری جہاز، میزائل ، ایٹم بم، ہائیڈروجن بم اور ہوا کی تسخیر وہ کرشمے ہیں جنہوں نے انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ ہم گھر بیٹھے دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں ہو نے والے تفریحی مشاغل اور روزمرہ کے معمولی اور غیر معمولی حالات سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔ ریڈیو، ٹیلی وژن اور اب انٹر نیٹ نے معلومات کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ سائنس نے انسان کو غیر معمولی طور پر طاقت ور بنا دیا ہے۔ اب وہ کسی شخص یا ریاست کو زیر کرنے کے لیے تیر و تلوار سے لیس ہو کر نہیں جاتا۔ جنگجو طیارے، میزائل اور ایٹم بم جیسے ہتھیار دشمن کی طاقت کو ریزہ ریزہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ نہ صرف دشمن کا خاتمہ کرتے ہیں بلکہ بھر پور تحفظ کا ذریعہ بھی ہیں۔

سائنس وہ چیز ہے جس نے فضا میں اپنا پرچم لہرا کر دنیا کے خشک و تر کا چپہ چپہ چھان مارا ہے۔ اور پھر اس کی تحقیق و جستجو نے انسان کو نئی زندگی سے روشناس کروایا ہے۔ انسانی جانوں کو موت کے پنجے سے دور رکھنے کے لیے طب کی دنیا میں انقلاب برپا ہوا ہے۔ میڈیکل سائنس کی مسیحائی کی بدولت اندھوں کو آنکھیں، بہروں کو کان، مایوس بیماروں کو شفا مل رہی ہے۔ طبی سائنس نے یہاں تک ترقی کر لی ہے کہ جسمِ انسانی کے اعضا تک تبدیل کر لیے جاتے ہیں۔ بہت سے مہلک اور لا علاج امراض کا علاج دریافت ہو چکا ہے۔ سائنس کی بدولت انسان کی زندگی بہت سہل ہو چکی ہے بجلی جیسی قوت آج انسان کی غلام ہے۔ اس نے زندگی کے بہت سے کام آسان کر دیے ہیں۔ روشنی ہو یا سرد اور گرم موسم، کھانا پکانا ہو یا کپڑے دھونا سب سہل ہو گئے ہیں۔ گھریلو آسائشوں سے لے کر فیکٹریوں اور کارخانوں تک سب بجلی کے مرہونِ منت ہیں۔ سائنس کے رنگ نرالے ہیں۔ بازیچہِ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہو تاہے شب و روز تماشا مرے آگے آج کمپیوٹر کی بدولت علوم و فنون سے لے کر خبر رسانی، پیغام رسانی ، معلومات کی ترسیل سب کچھ بہت آسان ہو گیا ہے۔

زراعت کا شعبہ سائنس کی بدولت آج ترقی کر چکا ہے۔ مصنوعی کھادوں اور مشینی آلات کی بدولت پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اناج کی ریل پیل نے گویا قحط کے خطرے کو ہمیشہ کے لیے ٹال دیا ہے۔ سائنس نے جہاں انسان کو چاند تک پہنچایا اور خلا کو مسخر کرنے کا ذریعہ بنی ہے ،وہیں انسان کے لیے تباہی اور ہلاکت کا سامان بھی لائی۔ آج تباہی کے ایسے سامان ہو گئے ہیں جن سے پل بھر میں جیتی جاگتی آبادیاں راکھ کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔ ایٹم بم ، ہائیڈوجن بم، اور میزائل انسانی زندگی کے لیے بہت بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ ایک فلاسفر کا قول ہے کہ ’’اس دور کے کیمیا گروں نے ایسا مرکب تیار کر لیا ہے جس کی قلیل مقدار کرہ ارض کو پل بھر میں بھڑکتے شعلوں میں تبدیل کر سکتی ہے اگر اس دور میں سائنس دانوں کو کسی اخلاقی ضابطے کا پابند نہ کیا گیا تو انسا ن کے لیے آئندہ دس سال انتہائی خطرناک ثابت ہوں گے۔ مشینوں سے بنی مصنو عات نے انسانوں کو ایک دوسرے سے بے نیاز کر دیا ہے۔ مروت اور لحاظ مٹتا جا رہا ہے۔ مشینی مصنو عات نے انسانوں کو پر تکلف اور مادی آسائشیں مہیا کر کے سہل پسند اور عیش پرست بنا دیا ہے۔ ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات کی بڑھتی ہو ئی سائنسی ترقی نے معاشرے میں بے روز گاری کو فروغ دیا ہے۔ انسان کی قدر و قیمت گھٹ گئی ہے۔

اب انسانوں کی بجائے مشینوں پر انحصار کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بے چینی اور اضطراب بڑھ گیا ہے۔ انسان پریشان اور جرائم کی طرف راغب ہو نے لگا ہے۔ احساسات اور جذبات کی قدر و قیمت نہ رہی تو انسان ان سے عاری ہو کر مشینی زندگی گزارنے لگے ہیں۔ ہماری روایات اور اقدار کو زنگ لگنے لگا۔ جو لمحہ فکریہ ہے۔ اس مشینی دور میں درکار ہیں پتھر کے جسم کارخانوں کے دھویں میں حل ہوا جاتا ہوں میں یہ درست ہے کہ سائنسی ترقی کی بدولت انسان کی اخلاقی اقدار پامال ہو گئیں۔ لیکن سارا الزام سائنس کو درست نہیں۔ اس کی ذمہ دار انسان کی غلط ذہنیت اور بیمار طرز فکر ہے جس نے دنیا کی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک دنیا کی باگ ڈور ایسے انسانوں کے ہاتھ میں رہے گی جو اخلاقی قدروں سے عاری ہیں اور جن کے نزدیک قانون کا اطلاق معنی نہیں رکھتا، اس وقت تک انسان کی سائنسی فتوحات اس کے لیے امن و سلامتی کا پیغام نہیں بنیں گی بلکہ انتشار اور ہلاکت کا سامان ہو ں گی۔ بنیادی طور پر کو ئی شے اچھی یا بری نہیں ہو تی بلکہ اس کا استعمال مثبت یا منفی ہو سکتا ہے۔ سائنس نے بھی انسانی زندگی کو آرام دہ بنا دیا ہے، یہ دنیا رنگ و بو کا گہوار بنی۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ سائنسی ایجادات کے استعمال کو منفی نہ بنایا جائے اور ان ایجادات کے مضر اثرات سے انسانیت کو بچایا جا ئے۔


متعلقہ خبریں


ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید وجود - جمعه 24 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا

مضامین
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ وجود هفته 25 اپریل 2026
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ

امریکا ٹوٹ جائے گا۔۔۔ وجود هفته 25 اپریل 2026
امریکا ٹوٹ جائے گا۔۔۔

علامہ اقبال اک فکری معمار اور روحانی مصلح وجود هفته 25 اپریل 2026
علامہ اقبال اک فکری معمار اور روحانی مصلح

پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں وجود جمعه 24 اپریل 2026
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں

ایران جنگ میں بھارتی تنہائی وجود جمعه 24 اپریل 2026
ایران جنگ میں بھارتی تنہائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر