وجود

... loading ...

وجود

سائنس کے کرشمے

پیر 26 مارچ 2018 سائنس کے کرشمے

دنیا کی پیدائش قدرت کا عظیم کرشمہ ہے۔ اہل دنیا کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سائنس کے ذریعے ایجادات ہوئیں۔ انسان میں نہ پہاڑوں کی سی مضبوطی ہے، نہ دریاووں کا سا شکوہ، نہ سمندروں کا سا جلال اور نہ شیر جیسا دبدبہ، بلکہ ان کے برعکس انسان کے پاس عقل کی طاقت ہے۔ اسے حواسِ خمسہ سے نوازا گیا ہے جن کی بدولت انسان نے مختلف علوم سیکھے اور آج یہ کمزور اور ناتواں مشتِ خاک کل عالم کو تابع فرمان کیے ہو ئے ہے۔ اپنے ارد گرد نظر ڈالیے قلم اور کاغذ سے لے کر گرجتے طیاروں اور تیزی سے چلتے ہو ئے ریلوے انجن تک سب سائنس کا کمال ہیں۔ مرے ذوق تسخیر فطرت کے آگے عناصر کا قلب و جگر کانپتا ہے سائنس نے دنیا کو بالکل بدل کر رکھ دیا ہے۔ زمانہ قدیم کا کوئی انسان آج اگر اس دنیا میں آجائے تو وہ کبھی نہ پہچان سکے کہ یہ وہی دنیا ہے جسے وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ سائنس اگر اسی رفتار سے ترقی کرتی رہی تو عنقریب وہ وقت بھی آئے گا جب سب کچھ بدل چکا ہو گا اور آج کے زمانے کی حیرت انگیز ایجادات بھی معمولی بن کر رہ جائیں گی۔

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں محوِحیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی سائنس نے ماحول کے ساتھ ہمارے طرزِِ فکر کو بھی بدل ڈالا ہے۔ زمانہ قدیم کا انسان جن چیزوں کی عبادت کرتا تھا آج سائنس کی بدولت وہ اس کی محکوم اور غلام بن چکی ہیں۔ پہلے چاند پر پہنچنے کی آرزو تھی اور اب سورج پر کمندیں ڈالی جارہی ہیں۔ ریل گاڑی، بس ، آبدوز ، بحری جہاز، میزائل ، ایٹم بم، ہائیڈروجن بم اور ہوا کی تسخیر وہ کرشمے ہیں جنہوں نے انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ ہم گھر بیٹھے دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں ہو نے والے تفریحی مشاغل اور روزمرہ کے معمولی اور غیر معمولی حالات سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔ ریڈیو، ٹیلی وژن اور اب انٹر نیٹ نے معلومات کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ سائنس نے انسان کو غیر معمولی طور پر طاقت ور بنا دیا ہے۔ اب وہ کسی شخص یا ریاست کو زیر کرنے کے لیے تیر و تلوار سے لیس ہو کر نہیں جاتا۔ جنگجو طیارے، میزائل اور ایٹم بم جیسے ہتھیار دشمن کی طاقت کو ریزہ ریزہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ نہ صرف دشمن کا خاتمہ کرتے ہیں بلکہ بھر پور تحفظ کا ذریعہ بھی ہیں۔

سائنس وہ چیز ہے جس نے فضا میں اپنا پرچم لہرا کر دنیا کے خشک و تر کا چپہ چپہ چھان مارا ہے۔ اور پھر اس کی تحقیق و جستجو نے انسان کو نئی زندگی سے روشناس کروایا ہے۔ انسانی جانوں کو موت کے پنجے سے دور رکھنے کے لیے طب کی دنیا میں انقلاب برپا ہوا ہے۔ میڈیکل سائنس کی مسیحائی کی بدولت اندھوں کو آنکھیں، بہروں کو کان، مایوس بیماروں کو شفا مل رہی ہے۔ طبی سائنس نے یہاں تک ترقی کر لی ہے کہ جسمِ انسانی کے اعضا تک تبدیل کر لیے جاتے ہیں۔ بہت سے مہلک اور لا علاج امراض کا علاج دریافت ہو چکا ہے۔ سائنس کی بدولت انسان کی زندگی بہت سہل ہو چکی ہے بجلی جیسی قوت آج انسان کی غلام ہے۔ اس نے زندگی کے بہت سے کام آسان کر دیے ہیں۔ روشنی ہو یا سرد اور گرم موسم، کھانا پکانا ہو یا کپڑے دھونا سب سہل ہو گئے ہیں۔ گھریلو آسائشوں سے لے کر فیکٹریوں اور کارخانوں تک سب بجلی کے مرہونِ منت ہیں۔ سائنس کے رنگ نرالے ہیں۔ بازیچہِ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہو تاہے شب و روز تماشا مرے آگے آج کمپیوٹر کی بدولت علوم و فنون سے لے کر خبر رسانی، پیغام رسانی ، معلومات کی ترسیل سب کچھ بہت آسان ہو گیا ہے۔

زراعت کا شعبہ سائنس کی بدولت آج ترقی کر چکا ہے۔ مصنوعی کھادوں اور مشینی آلات کی بدولت پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اناج کی ریل پیل نے گویا قحط کے خطرے کو ہمیشہ کے لیے ٹال دیا ہے۔ سائنس نے جہاں انسان کو چاند تک پہنچایا اور خلا کو مسخر کرنے کا ذریعہ بنی ہے ،وہیں انسان کے لیے تباہی اور ہلاکت کا سامان بھی لائی۔ آج تباہی کے ایسے سامان ہو گئے ہیں جن سے پل بھر میں جیتی جاگتی آبادیاں راکھ کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔ ایٹم بم ، ہائیڈوجن بم، اور میزائل انسانی زندگی کے لیے بہت بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ ایک فلاسفر کا قول ہے کہ ’’اس دور کے کیمیا گروں نے ایسا مرکب تیار کر لیا ہے جس کی قلیل مقدار کرہ ارض کو پل بھر میں بھڑکتے شعلوں میں تبدیل کر سکتی ہے اگر اس دور میں سائنس دانوں کو کسی اخلاقی ضابطے کا پابند نہ کیا گیا تو انسا ن کے لیے آئندہ دس سال انتہائی خطرناک ثابت ہوں گے۔ مشینوں سے بنی مصنو عات نے انسانوں کو ایک دوسرے سے بے نیاز کر دیا ہے۔ مروت اور لحاظ مٹتا جا رہا ہے۔ مشینی مصنو عات نے انسانوں کو پر تکلف اور مادی آسائشیں مہیا کر کے سہل پسند اور عیش پرست بنا دیا ہے۔ ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات کی بڑھتی ہو ئی سائنسی ترقی نے معاشرے میں بے روز گاری کو فروغ دیا ہے۔ انسان کی قدر و قیمت گھٹ گئی ہے۔

اب انسانوں کی بجائے مشینوں پر انحصار کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بے چینی اور اضطراب بڑھ گیا ہے۔ انسان پریشان اور جرائم کی طرف راغب ہو نے لگا ہے۔ احساسات اور جذبات کی قدر و قیمت نہ رہی تو انسان ان سے عاری ہو کر مشینی زندگی گزارنے لگے ہیں۔ ہماری روایات اور اقدار کو زنگ لگنے لگا۔ جو لمحہ فکریہ ہے۔ اس مشینی دور میں درکار ہیں پتھر کے جسم کارخانوں کے دھویں میں حل ہوا جاتا ہوں میں یہ درست ہے کہ سائنسی ترقی کی بدولت انسان کی اخلاقی اقدار پامال ہو گئیں۔ لیکن سارا الزام سائنس کو درست نہیں۔ اس کی ذمہ دار انسان کی غلط ذہنیت اور بیمار طرز فکر ہے جس نے دنیا کی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک دنیا کی باگ ڈور ایسے انسانوں کے ہاتھ میں رہے گی جو اخلاقی قدروں سے عاری ہیں اور جن کے نزدیک قانون کا اطلاق معنی نہیں رکھتا، اس وقت تک انسان کی سائنسی فتوحات اس کے لیے امن و سلامتی کا پیغام نہیں بنیں گی بلکہ انتشار اور ہلاکت کا سامان ہو ں گی۔ بنیادی طور پر کو ئی شے اچھی یا بری نہیں ہو تی بلکہ اس کا استعمال مثبت یا منفی ہو سکتا ہے۔ سائنس نے بھی انسانی زندگی کو آرام دہ بنا دیا ہے، یہ دنیا رنگ و بو کا گہوار بنی۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ سائنسی ایجادات کے استعمال کو منفی نہ بنایا جائے اور ان ایجادات کے مضر اثرات سے انسانیت کو بچایا جا ئے۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ وجود - منگل 27 جنوری 2026

کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان وجود - منگل 27 جنوری 2026

5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط وجود - منگل 27 جنوری 2026

وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی فنڈزکی عدم ادائیگی مالی بحران کاباعث بن رہی ہے،وزیراعلیٰ وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب کے مقابلے میں صرف 604 ارب ملے،لکھے گئے خط کا متن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو خط ارسال ...

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی وجود - پیر 26 جنوری 2026

پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا اور معاملہ رکھوں گا،مکینوں کا ازخود جانے کا دعویٰ جھوٹ ہے، مکینوں سے پوچھیں گے، بات جھوٹی ہوئی تو ہم خود انہیں واپس لائیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مجھے ہٹانے کیلئے تین آپشن ، گورنر راج ، نااہل ورنہ مجھے مار دیا جائے،کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانی...

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار وجود - پیر 26 جنوری 2026

کم سے کم درجہ حرارت 8.5ڈگری سینٹی گریڈجبکہ پارہ سنگل ڈیجٹ میں ریکارڈ کیاگیا شمال مشرقی سمت سے 20تا 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع، محکمہ موسمیات کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جس کے سبب شہر میں اتوارکو بھی پارہ سنگل ڈیجٹ میں ری...

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق وجود - پیر 26 جنوری 2026

مزید ایک لاش کا ڈی این اے،متاثرہ عمارت کے ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری دہلی کالونی کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا، متاثرہ خاندان شاپنگ کیلئے پلازہ گیا تھا (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شن...

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار وجود - پیر 26 جنوری 2026

گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو ہونا غیرقانونی ہے تو انکوائری کرکے الگ سے مقدمہ کریں انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، میڈیا سے گفتگو متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم)پاکستان کے سینئررہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو...

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع وجود - اتوار 25 جنوری 2026

پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

مضامین
تمل وقار وتشخص سے چھیڑ چھاڑ مہنگا پڑسکتا ہے! وجود منگل 27 جنوری 2026
تمل وقار وتشخص سے چھیڑ چھاڑ مہنگا پڑسکتا ہے!

بھارتی مسلمانوں کا قتل عام وجود منگل 27 جنوری 2026
بھارتی مسلمانوں کا قتل عام

ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟ وجود پیر 26 جنوری 2026
ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت وجود پیر 26 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت

صبر یا جبر وجود پیر 26 جنوری 2026
صبر یا جبر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر