وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

سائنس کے کرشمے

پیر 26 مارچ 2018 سائنس کے کرشمے

دنیا کی پیدائش قدرت کا عظیم کرشمہ ہے۔ اہل دنیا کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سائنس کے ذریعے ایجادات ہوئیں۔ انسان میں نہ پہاڑوں کی سی مضبوطی ہے، نہ دریاووں کا سا شکوہ، نہ سمندروں کا سا جلال اور نہ شیر جیسا دبدبہ، بلکہ ان کے برعکس انسان کے پاس عقل کی طاقت ہے۔ اسے حواسِ خمسہ سے نوازا گیا ہے جن کی بدولت انسان نے مختلف علوم سیکھے اور آج یہ کمزور اور ناتواں مشتِ خاک کل عالم کو تابع فرمان کیے ہو ئے ہے۔ اپنے ارد گرد نظر ڈالیے قلم اور کاغذ سے لے کر گرجتے طیاروں اور تیزی سے چلتے ہو ئے ریلوے انجن تک سب سائنس کا کمال ہیں۔ مرے ذوق تسخیر فطرت کے آگے عناصر کا قلب و جگر کانپتا ہے سائنس نے دنیا کو بالکل بدل کر رکھ دیا ہے۔ زمانہ قدیم کا کوئی انسان آج اگر اس دنیا میں آجائے تو وہ کبھی نہ پہچان سکے کہ یہ وہی دنیا ہے جسے وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ سائنس اگر اسی رفتار سے ترقی کرتی رہی تو عنقریب وہ وقت بھی آئے گا جب سب کچھ بدل چکا ہو گا اور آج کے زمانے کی حیرت انگیز ایجادات بھی معمولی بن کر رہ جائیں گی۔

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں محوِحیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی سائنس نے ماحول کے ساتھ ہمارے طرزِِ فکر کو بھی بدل ڈالا ہے۔ زمانہ قدیم کا انسان جن چیزوں کی عبادت کرتا تھا آج سائنس کی بدولت وہ اس کی محکوم اور غلام بن چکی ہیں۔ پہلے چاند پر پہنچنے کی آرزو تھی اور اب سورج پر کمندیں ڈالی جارہی ہیں۔ ریل گاڑی، بس ، آبدوز ، بحری جہاز، میزائل ، ایٹم بم، ہائیڈروجن بم اور ہوا کی تسخیر وہ کرشمے ہیں جنہوں نے انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ ہم گھر بیٹھے دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں ہو نے والے تفریحی مشاغل اور روزمرہ کے معمولی اور غیر معمولی حالات سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔ ریڈیو، ٹیلی وژن اور اب انٹر نیٹ نے معلومات کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ سائنس نے انسان کو غیر معمولی طور پر طاقت ور بنا دیا ہے۔ اب وہ کسی شخص یا ریاست کو زیر کرنے کے لیے تیر و تلوار سے لیس ہو کر نہیں جاتا۔ جنگجو طیارے، میزائل اور ایٹم بم جیسے ہتھیار دشمن کی طاقت کو ریزہ ریزہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ نہ صرف دشمن کا خاتمہ کرتے ہیں بلکہ بھر پور تحفظ کا ذریعہ بھی ہیں۔

سائنس وہ چیز ہے جس نے فضا میں اپنا پرچم لہرا کر دنیا کے خشک و تر کا چپہ چپہ چھان مارا ہے۔ اور پھر اس کی تحقیق و جستجو نے انسان کو نئی زندگی سے روشناس کروایا ہے۔ انسانی جانوں کو موت کے پنجے سے دور رکھنے کے لیے طب کی دنیا میں انقلاب برپا ہوا ہے۔ میڈیکل سائنس کی مسیحائی کی بدولت اندھوں کو آنکھیں، بہروں کو کان، مایوس بیماروں کو شفا مل رہی ہے۔ طبی سائنس نے یہاں تک ترقی کر لی ہے کہ جسمِ انسانی کے اعضا تک تبدیل کر لیے جاتے ہیں۔ بہت سے مہلک اور لا علاج امراض کا علاج دریافت ہو چکا ہے۔ سائنس کی بدولت انسان کی زندگی بہت سہل ہو چکی ہے بجلی جیسی قوت آج انسان کی غلام ہے۔ اس نے زندگی کے بہت سے کام آسان کر دیے ہیں۔ روشنی ہو یا سرد اور گرم موسم، کھانا پکانا ہو یا کپڑے دھونا سب سہل ہو گئے ہیں۔ گھریلو آسائشوں سے لے کر فیکٹریوں اور کارخانوں تک سب بجلی کے مرہونِ منت ہیں۔ سائنس کے رنگ نرالے ہیں۔ بازیچہِ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہو تاہے شب و روز تماشا مرے آگے آج کمپیوٹر کی بدولت علوم و فنون سے لے کر خبر رسانی، پیغام رسانی ، معلومات کی ترسیل سب کچھ بہت آسان ہو گیا ہے۔

زراعت کا شعبہ سائنس کی بدولت آج ترقی کر چکا ہے۔ مصنوعی کھادوں اور مشینی آلات کی بدولت پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اناج کی ریل پیل نے گویا قحط کے خطرے کو ہمیشہ کے لیے ٹال دیا ہے۔ سائنس نے جہاں انسان کو چاند تک پہنچایا اور خلا کو مسخر کرنے کا ذریعہ بنی ہے ،وہیں انسان کے لیے تباہی اور ہلاکت کا سامان بھی لائی۔ آج تباہی کے ایسے سامان ہو گئے ہیں جن سے پل بھر میں جیتی جاگتی آبادیاں راکھ کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔ ایٹم بم ، ہائیڈوجن بم، اور میزائل انسانی زندگی کے لیے بہت بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ ایک فلاسفر کا قول ہے کہ ’’اس دور کے کیمیا گروں نے ایسا مرکب تیار کر لیا ہے جس کی قلیل مقدار کرہ ارض کو پل بھر میں بھڑکتے شعلوں میں تبدیل کر سکتی ہے اگر اس دور میں سائنس دانوں کو کسی اخلاقی ضابطے کا پابند نہ کیا گیا تو انسا ن کے لیے آئندہ دس سال انتہائی خطرناک ثابت ہوں گے۔ مشینوں سے بنی مصنو عات نے انسانوں کو ایک دوسرے سے بے نیاز کر دیا ہے۔ مروت اور لحاظ مٹتا جا رہا ہے۔ مشینی مصنو عات نے انسانوں کو پر تکلف اور مادی آسائشیں مہیا کر کے سہل پسند اور عیش پرست بنا دیا ہے۔ ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات کی بڑھتی ہو ئی سائنسی ترقی نے معاشرے میں بے روز گاری کو فروغ دیا ہے۔ انسان کی قدر و قیمت گھٹ گئی ہے۔

اب انسانوں کی بجائے مشینوں پر انحصار کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بے چینی اور اضطراب بڑھ گیا ہے۔ انسان پریشان اور جرائم کی طرف راغب ہو نے لگا ہے۔ احساسات اور جذبات کی قدر و قیمت نہ رہی تو انسان ان سے عاری ہو کر مشینی زندگی گزارنے لگے ہیں۔ ہماری روایات اور اقدار کو زنگ لگنے لگا۔ جو لمحہ فکریہ ہے۔ اس مشینی دور میں درکار ہیں پتھر کے جسم کارخانوں کے دھویں میں حل ہوا جاتا ہوں میں یہ درست ہے کہ سائنسی ترقی کی بدولت انسان کی اخلاقی اقدار پامال ہو گئیں۔ لیکن سارا الزام سائنس کو درست نہیں۔ اس کی ذمہ دار انسان کی غلط ذہنیت اور بیمار طرز فکر ہے جس نے دنیا کی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک دنیا کی باگ ڈور ایسے انسانوں کے ہاتھ میں رہے گی جو اخلاقی قدروں سے عاری ہیں اور جن کے نزدیک قانون کا اطلاق معنی نہیں رکھتا، اس وقت تک انسان کی سائنسی فتوحات اس کے لیے امن و سلامتی کا پیغام نہیں بنیں گی بلکہ انتشار اور ہلاکت کا سامان ہو ں گی۔ بنیادی طور پر کو ئی شے اچھی یا بری نہیں ہو تی بلکہ اس کا استعمال مثبت یا منفی ہو سکتا ہے۔ سائنس نے بھی انسانی زندگی کو آرام دہ بنا دیا ہے، یہ دنیا رنگ و بو کا گہوار بنی۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ سائنسی ایجادات کے استعمال کو منفی نہ بنایا جائے اور ان ایجادات کے مضر اثرات سے انسانیت کو بچایا جا ئے۔


متعلقہ خبریں


امریکا نے ڈبلیو ایچ او سے باضابطہ طور پر دستبردار ہونے کا نوٹس جمع کرادیا وجود - جمعرات 09 جولائی 2020

امریکا نے عالمی ادارہ صحت سے باضابطہ طورپر دست بردار ہونے کیلئے نوٹس سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوٹریس کو پہنچا دیا جس کی تصدیق وائٹ ہاوس نے کردی ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ دست برداری کے لئے ایک سال پہلے نوٹس دیا جاتا ہے ۔ اس لئے امریکا 6 جولائی 2021 تک ڈبلیو ایچ او سے علیحدگی اختیار نہیں کرسکتا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل میں الزام لگایا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کورونا وائرس کے پھیلاو سے متعلق بروقت اور شفاف معلومات دینے م...

امریکا نے ڈبلیو ایچ او سے باضابطہ طور پر دستبردار ہونے کا نوٹس جمع کرادیا

سعوی عرب،الاحسا رنگا رنگ اور خوش ذائقہ پھلوں اور سبزیوں کا مرکزقرار وجود - جمعرات 09 جولائی 2020

سعودی عرب کی مشرقی گورنری الاحسا کو مملکت میں پھلوں اور سبزیوں کی ٹوکری قرار دے دیاگیا۔عرب ٹی وی کے مطابق الاحسا کی زرعی پیداوار پورے ملک میں پسند کی جاتی ہے ۔ شدید گرمی کے باوجود الاحسا میں انواع واقسام کے پھل اور سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں۔ ان میں زرد تربوزم سیاہ توت، کھجور، انجیر، سبز لیمن اور ان گنت سبزیاں کاشت کی جاتی اور پورے ملک میں سپلائی کی جاتی ہیں۔الاحسا گورنری میں کاشت کی جانے والی سبزیاں اور پھل اپنے اعلی معیار کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔ مقامی بازاروں میں الاحسا میں ک...

سعوی عرب،الاحسا رنگا رنگ اور خوش ذائقہ پھلوں اور سبزیوں کا مرکزقرار

اقوام متحدہ کی تفتیش کار کی ٹرمپ پر تنقید، قاسم سلیمانی کے قتل کی مذمت وجود - جمعرات 09 جولائی 2020

اقوام متحدہ کی تفتیش کار اگنس کالامارڈ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم سے ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کی شدید مذمت کی ہے ۔عرب ٹی وی کے مطابق کالا مارڈ نے کہا کہ گذشتہ جنوری میں عراق میں امریکی فوج کی کارروائی کے دوران ایرانی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی اور نو دیگر افراد کی ہلاکت ایک غیرقانونی اقدام اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھی۔کالامارڈ نے مزید کہا کہ امریکا بغداد ہوائی اڈے سے نکلنے والے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قافلے پر حملے جواز پ...

اقوام متحدہ کی تفتیش کار کی ٹرمپ پر تنقید، قاسم سلیمانی کے قتل کی مذمت

مہاجرین کی گرفتاری کے تنازع پرملائیشیا کی الجزیرہ ٹی وی سے تحقیقات وجود - جمعرات 09 جولائی 2020

ملائیشیا کی پولیس نے کہا ہے کہ وہ الجزیرہ نیوز چینل کے صحافیوں کو غیرقانونی تارکین وطن کی گرفتاری سے متعلق ایک دستاویزی فلم تیار کرنے کے معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کریں گے ۔ حکام نے الجزیرہ ٹی وی کی اس دستاویزی فلم کو ملائشیا کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا ہے ۔مہاتیر محمد کے وزارت عظمی کے عہدے سے استعفے کے بعد ملائیشیا اور قطر کے درمیان تعلقات میں کشیدگی آئی ہے ۔خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ الجزیرہ کہ متنازع دستاویزی فلم غیر قانونی تارکین وطن کی کوالالمپور می...

مہاجرین کی گرفتاری کے تنازع پرملائیشیا کی الجزیرہ ٹی وی سے تحقیقات

لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

لندن کے جنوبی علاقے میں پولیس اہلکاروں نے سیاہ فام نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بلیک لائیوز میٹر کے نام سے وائرل کردی گئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق واقعہ لندن کے علاقے کرائیڈن میں پیش آیا جہاں اہلکار وں نے نوجوان کو دھکے دئیے اور لاتیں مارکر فٹ پاتھ پر گرادیا،گرفتاری کے باوجود نوجوان کو مکے مارے گئے ۔ پولیس کو شبہ تھا کہ نوجوان کے پاس تیز دھار آلہ ہے تاہم اس کے قبضے سے کچھ بھی برآمد نہیں کیا جاسکا۔

لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں وجود - جمعه 03 جولائی 2020

قومی ادارہ صحت نے عیدالاضحی کے موقع پر کانگو بخار کے ممکنہ خدشے کے پیش نظر اسکی روک تھام اور کنٹرول سے متعلق ایڈوائزری جاری کر دی ہے ،اس ایڈوائزری کے علاوہ قومی ادارہ صحت نے موسمی بیماریوں سے آگاہی کے حوالے سے اپنا 48 واں سہہ ماہی انتباہی مراسلہ بھی جاری کیا ہے ۔کانگو ہیمرجک بخار(سی سی ایچ ایف)جسے مختصرا کانگو بخار کہا جاتا ہے ایک خطرناک قسم کے وائرس سے پھیلتا ہے ۔ایڈوائزری کے مطابق، عیدالاضحی سے قبل قربانی کے جانوروں کی نقل و حرکت میں اضافے کی وجہ سے کانگو بخار کا خطرہ نمایا...

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں بچہ بتارہا ہے کہ کس طرح اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے نانا کو گو لیاں مار کر شہید کیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کے سامنے ظالم بھارتی فوج نے 60 سالہ بزرگ شہری کو نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر شہید کردیا تھا۔ ننھا بچہ اپنے نانا کی لاش کے اوپر بیٹھ کر بے بسی سے روتا رہا لیکن کسی نے اسے دلاسہ نہ دیا۔بچے کی بے بسی نے پوری دنیا کو ہلا ڈالا ہے اور اس کی ن...

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان وجود - جمعه 03 جولائی 2020

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ملک میں آن لائن پلیٹ فارمز پر کنٹرول بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنی جماعت اے کے پی کے ارکان سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن نے یوٹیوب، ٹویٹر اور نیٹ فلکس جیسے میڈیا سے فحاشی اور بداخلاقی کے خاتمے کی خواہش ظاہر کی۔ خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ایردوآن کے خاندان خاص طور سے ان کی بیٹی کو توہین کا نشانہ بنایا گیا ہے جن کے ہاں حال ہی میں چوتھے بچے کی پیدائش ہوئی۔ اس الزام میں 11 مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ...

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام وجود - جمعه 03 جولائی 2020

بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام ہو گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سلامتی کونسل کے بیان میں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشتگردی میں ملوث عناصر، انکے سہولت کاروں، معاونین اور حامیوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ، بیان کا مطالبہ چین نے کیا تھا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی سفارتکاری کو منہ کی کھانا پڑی، مودی حکومت کے ہزار جتن اور کوششوں کے باوجود اقوام متحدہ کی سلامتی ک...

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی وجود - هفته 27 جون 2020

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 97 لاکھ 10 ہزار سے زائد ہو گئی ہے ۔ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 52 لاکھ 79 ہزار سے زائد ہوگئی ہے ۔ دنیا بھرمیں کورونا سے متاثرہ 57 ہزار 619 افراد کی حالت تشویشناک ہے ۔امریکہ میں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے بڑھ گئی ہے ۔ امریکہ میں 25 لاکھ چار ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ۔برازیل امریکہ کے بعد 12 لا...

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک وجود - هفته 27 جون 2020

بھارتی ریاست بہار اور اترپردیش میں آسمانی بجلی گرنے سے صرف ایک دن میں خواتین اور بچوں سمیت تقریبا 130 افراد ہلاک ہوگئے ۔بجلی گرنے سے ایک دن میں ہلاک ہونے والوں کی اب تک کی یہ سب سے بڑی تعداد بتائی جارہی ہے ۔ درجنوں دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے ۔سرکاری رپورٹوں کے مطابق بہار کے متعدد اضلاع میں بجلی گرنے سے کم از کم 97 افراد کی موت ہوگئی۔ بہار ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر لکشمیشور رائے نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ برسوں میں ری...

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار وجود - جمعرات 25 جون 2020

یورپی یونین نے کورونا وبا کے سبب امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار کرلیا، پابندی کے اطلاق کا حتمی فیصلہ یکم جولائی تک کرلیا جائے گا۔امریکی اخبار کے مطابق یورپی حکام ان ممالک کی فہرست تیار کررہے ہیں جنہیں محفوظ قراردیا جاسکتا ہے اور جن کے شہریوں کو موسم گرما میں سیاحت کی اجازت دی جاسکتی ہے ، اس بارے میں مسودہ تیار کرلیا گیا ہے ۔فی الحال امریکا بھی ان ممالک میں شامل ہے جو غیر محفوظ تصور کیے گئے ہیں، یورپی حکام کا خیال ہیک ہ امریکا کوروناوبا کو پھیلنے سے روکنے می...

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار