سوال کا سوال !!

محمد طاہر
ماجرا

دسترخوانی قبیلے سے کھٹی ڈکار کی طرح سوال اُٹھا ہے کہ سب اپنے کام کے علاوہ دوسروں کے کام سنبھالنے پر کیوں تُلے رہتے ہیں۔ اس سوال پر اگر اس قبیلے کے ایک ایک فرد کے اعمال کو تولا جائے تو شاید ہی کوئی پورا اُترے۔ مگر پھر بھی یہ سوال کا سوال ہے۔

سوال علم کی شاہ کلید ہے،اتنا ہی نہیں کسی بھی مسئلے کی دُھند سوال سے ہی چَھٹتی ہے۔ مگر سوال کا ایک میرٹ(وصف) ہوتا ہے۔علم کی دنیا میں اہمیت جواب کی نہیں سوال کی ہوتی ہے۔ معلم نے نکتہ تعلیم کیا کہ سوال پہاڑ کی چوٹیوں اور جواب پہاڑ کے دامن کی طرح ہوتے ہیں۔ پہاڑوں میں اختلاف چوٹیوں کا نہیں اس کے دامن کا ہوتا ہے۔ خوب ،بہت خوب! گویا جواب تو بدلتے ہیں یہ سوال ہیں جو کھڑے رہتے ہیں۔ سوال ایک اور بھی کھڑا ہے۔ کیا یہ سوال موقع محل کا ہے۔کیایہ سوال ہر دور میں ان معجز زبانوں اور قلم کمانوں سے نکلا ہے؟یا یہ سوال محض شریفوں کی بارگاہ میں سجدہ ریزی کا نتیجہ ہے۔

اگر یہ غلط بھی ہوتا تو اس سوال کی عزت ہوتی ۔ مگر یہ سوال کہاں، ایک موقع ہے۔ شریفوں کے اصطبل میں گھوڑوں کی طرح جُتے رہنے کا ایک موقع ، تاکہ چارہ ملتا رہے۔سب اپنا کام کیوں نہیں کرتے ،دوسروں کے کام میں کیوں مداخلت کرتے ہیں؟ اس سے زیادہ سطحی بات پاکستان کے سیاسی وصحافتی افق کے متعلق کہی نہیں جاسکتی تھی۔ آدمی اپنے ہی ذہانت کی تکریم کے مرض میں مبتلا ہو تو وہ خلط ِ مبحث سے چسکا لیتا ہے۔اپنے اُٹھائے سوال پر اِتراتا ہے۔ اُسے باسی کڑھی کی طرح اُبالتاہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ سوال نہیں خلطِ مبحث ہے۔ مسئلہ نظام کا نہیں جمہوریت تو اپنی جگہ ہے ۔ حکومت بھی مسلم لیگ نون کی برقرار ہے۔ اِسے اپنی مدت کا کوئی خطرہ بھی درپیش نہیں۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ نوازشریف سے اُن کی جائیدادوں کے متعلق سوال پوچھا گیا ۔ اُن کی اندھی دولت کو بینا ہاتھوں سے ٹٹولا گیا ۔ اس پر سوال یہ اُٹھتا ہے کہ یہ سب کچھ حصولِ دولت کے جائز ذرائع سے ہے یا نہیں؟ اس کے بجائے سوال یہ گھڑ لیا گیا ہے کہ ہر کوئی اپنا کام کیوں نہیں کرتا؟اس کے اندر ہی دو باتیں تسلیم شدہ حالت میں موجود ہیں۔

اول:فوج نظام حکومت پر ہاتھ صاف کرتی رہتی ہے۔
دوم: عدلیہ حدود سے آگے بڑھ گئی ہے۔

فوج اپنا کیا کام کرے؟اور عدلیہ کی حدود کیا ہے؟ یہ دونوں سوال نوازشریف کی تین دہائیوں پر محیط عرصۂ سیاست واقتدار میں اسی حالت میں موجود تھے۔ مگر دسترخوانی قبیلے نے کبھی یہ سوال نہیں اُٹھائے۔ اُنہیں عدالتوں کی طرف سے ہر وہ متجاوز حدود گوارا بلکہ پسند تھی جو نوازشریف کے حق میں جاتی تھی۔ ان میراثیوں کو فوج کی طرف سے نوازشریف کی سرپرستی کے دوران اس سوال نے نہیں ستایا۔اگر جنرل جیلانی اپنا کام کرتے تو نوازشریف پنجاب کے وزیر خزانہ نہ بنتے۔ اگر جنرل ضیاء الحق دوسروں کے کام نہ سنبھالتے تو نوازشریف پنجاب کی سیاست میں نہ اُبھرتے۔ اگر فوج اپنے کام ہی سنبھالے رکھتی تو آئی جے آئی سے نوازشریف کو تقویت نہ ملتی۔ نوازشریف کا مجسم وجود دوسرے کے کاموں کو سنبھالنے کا نتیجہ ہے۔مگریہ سوال نوازشریف کے خلاف کبھی نہیں اُٹھایا گیا۔ جب عدلیہ کو دو نیم کیا گیا۔ انصاف کی سب سے بڑی بارگاہ کو دو حصوں میں منقسم کرکے ایک عدالت میں دو چیف جسٹس بٹھا دیے گئے ۔ جسٹس سعید الزماں صدیقی اور جسٹس سجاد علی شاہ ایک دوسرے کے احکام کے خلاف حکم امتناعی جاری کررہے تھے تو کسی نے دوسرے کے کاموں میں ٹانگ اڑانے کا سوال نہیں اُٹھایا۔ نوازشریف اپنی پوری سیاست میں کبھی حدود آشنا رہے مگر اُن کے دسترخوان کی ہڈیاں چچورنے والے دوسروں کی حدود پر سوال اُٹھا رہے ہیں ۔ اگراس سوال کو فوج اور عدلیہ کے خلاف ایک بیانیہ کی منفعت بخش مدد کے لیے پوچھنے کے بجائے پاکستان کی تاریخ میں بلاامتیاز کردیا جاتا تو اس کا انطباق خود نوازشریف پر سب سے زیادہ ہوتا۔

کیانوازشریف نے ہمیشہ اپنا کام کیا اور کسی دوسرے کے کام میں مداخلت نہیں کی؟آخر کیوں ایک وزیراعظم فوجی سربراہ کو بی ایم ڈبلیو دینے کی ہمت کرتاہے؟ آخر کیوں ایک وزیراعظم کو اپنی شاہانہ قیام گاہ پر دشمن ملک کے وزیراعظم کو بغیر کسی سرکاری پروگرام کے گھر کی تقریب میں بلانے کی ضرورت پیش آتی ہے؟تین جوانب سے دشمن سے نبردآزما حالات میں ملک کے اندر ڈان لیکس کیوں ہوتی ہے؟ دنیا کا کوئی حکمران اپنی حکومت کو ذاتی دوستیوں اور منفعتوں کے لیے استعمال نہیں کرتا، اگر ایسا ہو تو سوال اُٹھتے ہیں۔ مگر شریف خاندان کے باب میں اس کی اجازت نہیں ۔ یہاں گنگا اُلٹی بہتی ہے۔یہاں سوال نوازشریف سے نہیں نظام سے پوچھے جائیں گے۔ ایک آدمی کے لیے یہ پورا ملک چھوٹا پڑ گیا ہے۔ یہ سوال نہیں معدے کی گڑ گڑ ہے۔

ہر کوئی اپنا کام کیوں نہیں کرتا دوسرے کے کام کیوں سنبھالتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس نوع کے سوال کا روئے سخن فوج کی طرف ہوتا ہے۔ فوج کوئی آسمانی مخلوق تو نہیں۔ پھر طاقت کے محور میں ایسی درازیاں بلکہ دست درازیاں بہت فطری ہوتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ سوال اُٹھانے والوں نے کون سا کام چھوڑا ہے ؟وہ کہاں اپنے کام تک محدود رہے۔ صحافت کا آسمانی نغمہ گنگناتے ہوئے کتنے ہی تاجر بنے۔ ان کی افکار کی رادھاؤں نے نومن تیل بھی برآمد کیا اور حرص کا ناچ بھی خوب ناچا۔ ساتھ ہی امید لگائی کہ اُن کی عزت ناقابل چیلنج رہے۔ اُن کی دستار سلامت رہے اور شملہ نیچے نہ گرے۔ انہیں سب سے سوال کرنے کا شوق ہے مگر کیا مجال کے اپنے حصے کے کسی سوال کا جواب دیں۔ نسل درنسل وارداتوں کا ایک سلسلہ جاری ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ عام گھروں میں دولت اور جائیدادیں تقسیم ہوتی ہیں یہ اپنی نسلوں کو وارداتوں کے انداز وتیورورثے میں منتقل کرتے ہیں۔ کیاپوت کپوت اور کیا پوت سپوت!!

اگر نوازشریف نے تین دہائیوں کی سیاست میں اپناکام کیا ہوتا اور دوسرے کے کام نہ سنبھالے ہوتے تو آج پاکستان میں یہ سوال ہی نہ اُٹھتا۔ گاہے حیرت ہوتی ہے یہ لوگ ہمیں اتنا سادہ کیسے سمجھ لیتے ہیں۔زرہ حضرت علیؓ کی ہے یا یہودی کی؟ ا س کا تعین قاضی نے کیا تھا خود حضرت علیؓ نے نہیں ۔ لوگ اُس وقت بھی بہت تھے ،جو حدود کا سوال کرتے تھے۔ کیا حضرت عمرؓ سے کرتے کا حساب مانگنے والی خاتون نے دوسرے کے کام میں مداخلت کی تھی؟مسئلہ حقِ اقتدار کا نہیں، لازمۂ احتساب کا ہے۔ اسرائیل کا وزیراعظم روز ہی پوچھ تاچھ کے عمل سے گزررہا ہے۔ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف روس سے مراسم کی تحقیقات ختم ہونے کانام نہیں لے رہی۔ گزشتہ روز زیمبیا کی مرکزی حزب اختلاف کی جماعت یونائٹیڈ پارٹی فار نیشنل ڈیولپمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ صدر ادگار لونگو کے خلاف مواخذے کی تحریک کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ابھی فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی کو گرفتار کیا گیا،اُن پر 2007 ء کے انتخابات میں لیبیا کے صدر معمر قذافی سے بھاری رقوم لینے کے الزامات ہیں۔سرکوزی کو 20؍ مارچ کی صبح عدالت میں پیش ہونے پر گرفتار کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ سرکوزی 2007ء سے 2012ء تک فرانس کے صدر رہے۔ سرکوزی کو جولائی 2014ء میں بھی اپنے اثرورسوخ کے غلط استعمال پر حراست میں لے کر تفتیش کی گئی تھی۔کوئی سوال نہیں اُٹھا کہ سب اپنا کام کیوں نہیں کرتے۔دوسروں کے کام میں مداخلت کیوں کرتے ہیں۔مسئلہ جمہوریت کا نہیں اپنے گندے پوتڑوں اور غلیظ دھندوں کا ہے جو چھٹتے نہیں چھوٹ رہے۔ اور جس کے احتساب کے تمام دروازے ایک کے بعد ایک بند کردیے گئے۔ سیاسی اور حکومتی طاقت کو اس کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ فطری بات تھی اگر گندے دھندوں کو جمہوریت کی آڑ میں تحفظ دیا جائے گا تو جمہوریت کی تکریم بھی لوگ مشکل سے ہی کریں گے۔

یہ ذہنوں کو یرغمال بنانے کے ایام ہیں۔ ایک کے بعد دوسرے حملے میں ایک بارپھر اپنی تحویل میں لینے کی آخر آخر کوششوں کے دن۔ حیرت ہے کہ بکنے والے خریدار بناکر میدان میں اُتارے گئے۔اور وہ ہماری فکرچاٹنے پر اُتارو ہیں۔گزشتہ تین دہائیوں سے ہمارے ذہنوں کو لوٹ کر شریفوں کے دسترخوان پر بیٹھے موٹے پیٹوں کے لشکر سمجھتے ہیں کہ اس دفعہ بھی وہ کامیاب ہوں گے! سوال پر سوال وہ اُٹھائے جاتے ہیں۔ مگر یہ سوال کا سوال ہے۔ سوالیوں کے سوال نہیں ہوتے، دستر خوانی کی عزت نہیں ہوتی اور وارداتیے کی دلیل نہیں ہوتی۔زیادہ وقت نہیں گزرے گا جب ان سے پوچھنے کا بھی وقت آجائے گاکہ سوال جس جگہ بھی ہو، اصل بات یہ ہے کہ تم اپنی جگہ پر ہو یا نہیں۔

Electrolux
محمد طاہر ایک پیشہ ور صحافی، تجزیہ کار، کالم نگار اور روزنامہ جرأت کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ وہ ذرائع ابلاغ کی برقی اور طبعی تمام شکلوں سے وابستہ ہیں۔ اُن سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔