وجود

... loading ...

وجود

شائقین کیا کر سکتے ہیں کیا نہیں؟ ضروری معلومات

اتوار 25 مارچ 2018 شائقین کیا کر سکتے ہیں کیا نہیں؟ ضروری معلومات

پاکستان سپر لیگ تھری کا رنگا رنگ میلہ آج تمام ترجلوے دکھاکراختتام پذیرہوجائے گا، پلے آف مرحلے کے دومیچز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے پہلے پلے آف میں پشاورزلمی نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکوسننی خیزمقابلے میں ایک رن سے ہرایاتودوسرے پلے آف میں بھی کراچی کنگزکے خلاف جیت نے پشاورزلمی کے قدم چومے۔ اب ٹورنامنٹ کافائنل آج کراچی میں کھیلا جارہاہے اب گراؤنڈ کیسے پہنچا جائے؟ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے یہاں ہم آپ کو تمام مراحل سے آگاہ کررہے ہیں۔
گاڑی کہاں پارک کریں؟
ٹکٹ رکھنے والے شائقین کے لیے اسٹیڈیم سے کچھ فاصلے پر سات مقامات پر پارکنگ کے انتظامات کیے گئے ہیں جن میں گراؤنڈ نزد حکیم سعید پارک، اردو یونیورسٹی گراؤنڈ، اتوار بازار گراؤنڈ (بالمقابل بیت المکرم مسجد)، غریب نواز فٹ بال گراؤنڈ (نزد ملینیئم مال)، کے ایم سی گراؤنڈ، کے ڈی اے کلب اور چائنا گراؤنڈ (کشمیر روڈ) شامل ہیں۔گاڑی پارک کرنے کے بعد آپ کی تلاشی لی جائے گی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کا اسٹاف آپ کے ٹکٹوں کی تصدیق کرے گا۔
شٹل سروس کہاں ڈراپ کرے گی؟
پارکنگ سے اسٹیڈیم کے فاصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام پارکنگ ایریاز سے شٹل سروس فراہم کی جارہی ہے جو آپ کو آغا خان اسپتال، بحریہ یونیورسٹی یا ایکسپو سینٹر ڈراپ کرے گی۔
ڈراپ زونز سے اسٹیڈیم کیسے جائیں؟
تمام ڈراپ زونز سے اسٹیڈیم تک کا فاصلہ 200 سے 300 میٹر ہے جو ا?پ کو پیدل طے کرنا ہوگا تاہم بزرگوں اور معزور شہریوں کو خصوصی بسوں کے ذریعے اسٹیڈیم لے کر جایا جائے گا۔
اسٹیڈیم کتنے بجے پہنچا جائے؟
اسٹیڈیم کے دروازے اور شٹل سروس کا آغاز 12 بجے ہوگا جبکہ اسٹیڈیم کے دروازے 5 بجے بند کردیے جائینگے۔ 6 بجے کے قریب کھلاڑیوں کو اسٹیڈیم پہنچایا جائیگا جبکہ 7 بجے میچ کا ا?غاز اور 11 بجے اس کا اختتام متوقع ہے۔
کھانے پینے کا انتظام
اسٹیڈیم میں باہر سے کھانے کی کوئی بھی چیز لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ صرف اسٹیڈیم میں موجود اسٹالز سے کھانے پینے کی چیزیں خریدی جاسکتی ہیں۔
ضروری ہدایات
اپنا موبائل فون مکمل چارج کرکے اپنے ساتھ ضرور رکھیں۔ اگر ممکن ہو تو ایک اضافی فون بھی رکھ لیں۔اسٹیڈیم میں آپ کو طویل عرصہ گزارنا ہوگا، لہذا موسم کے مطابق ا?رام دہ کپڑے پہنیں، بھڑکیلے کپڑے پہننے سے گریز کریں اور اس بات کو مدنظر رکھیں کہ نیشنل اسٹیڈیم میں چھت موجود نہیں ہے۔
اپنا قومی شناختی کارڈ اپنے ساتھ ضرور رکھیں۔
فون چارج کرنے کے لیے پاور بینک ساتھ نہ رکھیں۔باہر سے کسی قسم کی کھانے پینے کی اشیائء اسٹیڈیم ساتھ نہ لائیں۔کسی بھی قم کا ا?تشی سامان، اسلحہ، چھری چاقو، ناخن تراش یا کسی بھی تیز دھار آلے کو ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ماچس، لائٹر، کاغذی پلیٹ، ریڈیو وغیرہ کو بھی ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔قومی پرچم اور ٹیم کے علامتی پرچموں کے علاوہ کسی دوسرے پرچم کو اسٹیڈیم لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔کوئی بھی ایسی چیز جو گراؤنڈ میں پھینکی جاسکے یا کھلاڑیوں یا تماشائیوں کے لیے خطرے کا باعث بن سکے، لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
سیکیورٹی انتظامات
رینجرز اہلکار نیشنل اسٹیڈیم کے اندر جبکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اسٹیڈیم کے باہر تعینات ہوں گے۔ اسٹیڈیم کے اردگرد 8500 پولیس اہلکار سیکیورٹی فراہم کریں گے جبکہ 1600 اہلکار ٹریفک جام سے بچنے کے لیے لوگوں کو شہر کے مختلف حصوں میں معاونت فراہم کریں گے۔اسٹیڈیم کی سیکیورٹی بنیادی طور پر رینجرز کے حوالے ہوگی تاہم اسٹیڈیم کے باہر سیکیورٹی کے چار حصار موجود ہوں گے۔
ٹریفک پلان
پی ایس ایل فائنل کے لیے سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر مخصوص شاہراہوں کو عام ٹریفک کے لیے بند کیا جائے گا۔پہلا ڈائی ورڑن کارساز روڈ کا ٹرننگ پوائنٹ ہے جو یونی روسٹی روڈ سے دائیں جانب مڑ کر اسٹیڈیم کی طرف جاتا ہے، یہ روڈ عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا جائے گا اس لیے عوام سے اپیل ہے کہ وہ راشد منہاس روڈ سے مڑ کر گلشن اقبال اور لیاقت آباد 10 نمبر کی طرف جائیں۔ڈالمیا روڈ بھی عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا جائے گا اور حسن اسکوائر سے اسٹیڈیم کی طرف آنے والا پل بھی عام ٹریفک کے لیے بند رہے گا۔نیو ٹاؤن سے بھی عام ٹریفک کا داخلہ بند ہوگا لیکن اسٹیڈیم روڈ پر واقع نجی اسپتالوں کے لیے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف، مریضوں اور ایمبولینسوں کو داخلے کی اجازت ہوگی۔شارع فیصل پر دو طرفہ ٹریفک چلتی نظر آئے گی، شاہراہ قائدین، راشد منہاس روڈ بھی مکمل طور کھلا رہے گا اور شاہراہ پاکستان پر بھی ٹریفک مکمل طور پر بحال ہوگی۔


متعلقہ خبریں


امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب وجود - بدھ 11 مارچ 2026

بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط وجود - بدھ 11 مارچ 2026

نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع وجود - بدھ 11 مارچ 2026

پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 10 مارچ 2026

ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند وجود - منگل 10 مارچ 2026

سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند

مضامین
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود جمعرات 12 مارچ 2026
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں!

کشمیریوں سے امتیازی سلوک وجود جمعرات 12 مارچ 2026
کشمیریوں سے امتیازی سلوک

سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے!

منٹو کا انسانیت پر ایمان وجود بدھ 11 مارچ 2026
منٹو کا انسانیت پر ایمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر