وجود

... loading ...

وجود

نیک اولاداﷲکا عظیم انعام

جمعه 23 مارچ 2018 نیک اولاداﷲکا عظیم انعام

نیک اولا د اﷲتعالیٰ کا عظیم انعام ہے اولادصالح کے لیے اﷲتعالیٰ کے پیارنبی حضرت زکریاعلیہ السلام نے بھی دعاکی ،چنانچہ قرآن پاک میں ہے، ترجمہ: ’’اے میرے رب مجھے پاک اولادعطافرما‘‘۔(ال عمران) اور خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی آنے والی نسلوں کو نیک بنانے کی یوں دعا مانگی۔ترجمہ: ’’اے میرے رب مجھے نماز قائم کرنے والارکھ اور میری اولاد کو‘‘ (سورۂ ابراہیم) یہی وہ نیک اولاد ہے جو دنیا میں اپنے والدین کے لیے راحتِ جان اورآنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان بنتی ہے۔ نیک اولاد بچپن میں اپنے والدین کے لیے دل کا سرور، جوانی میں آنکھوں کا نور اور والدین کے بوڑھے ہو جانے پر ان کی خدمت کرکے سہارا بنتی ہے۔پھر جب یہ والدین دنیا سے گزر جاتے ہیں تو یہ سعادت مند اولاد اپنے والدین کے لیے بخشش کا سامان بنتی ہے۔

جیساکہ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:’’جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔سوائے تین کاموں کہ ان کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ (۱) صدقہ جاریہ(۲) وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے(۳) نیک اولاد جو اس کے حق میں دعائے خیر کرے۔(مسلم) ایک اور مقام پر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں آدمی کا مقام(درجہ) بڑھا دیا جاتا ہے تووہ کہتا ہے:’’میرے حق میں یہ کس طرح ہوا؟ تو جواب ملتا ہے ، اس لیے کہ تمہارا بیٹا تمہارے لیے مغفرت طلب کرتا ہے (ابن ماجہ)۔ تفسیر کبیر میں ایمان افروز ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک قبر پر گزرے تو عذاب ہو رہاتھا، کچھ وقفہ گزرنے کے بعد پھر گزرے توملاحظہ فرمایا کہ نور ہی نور ہے اور وہاں رحمت الٰہی کی بارش ہو رہی تھی۔ آپ علیہ السلام بہت حیران ہوئے اور بارگاہ الٰہی میں عرض کی کہ مجھے اس راز پر مطلع فرمائیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہوا:’’اے عیسیٰ! یہ سخت گنہگار تھا، اس وجہ سے عذاب میں گرفتار تھا، لیکن اس نے بیوی حاملہ چھوڑی تھی۔ اس کا لڑکا پیدا ہوا اور آج اس کو مکتب (مدرسہ) بھیجا گیا۔ استاد نے اسے بسم اللہ پڑھائی، مجھے حیاآئی کہ میں زمین کے اندر اس شخص کو عذاب دوں جس کا بچہ زمین پر میرا نام لے رہا ہے۔ یقیناوہی اولاد اُخروی طور پر نفع بخش ثابت ہوگی جو نیک اور صالح ہو اور یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اولاد نیک یابد بنانے میں والدین کی تربیت کو بڑا دخل ہو تا ہے۔

موجودہ حالت میں اخلاقی قدروں کی پامالی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ نیکیاں کرنا بے حد دشور اور ارتکاب گناہ بہت آسان ہو چکا ہے۔ تکمیل ضروریات اور حصولِ سہولیات کی جدوجہد نے انسان کو فکر آخرت سے یکسر غافل کر دیا ہے۔ ان نامساعد حالات کاایک بڑا سبب والدین کااپنی اولادکی تربیت سے یکسر غافل ہوناہے کیونکہ فردسے افراداور افرادسے معاشرہ بنتاہے تو جب فردکی تربیت صحیح خطوط پرنہیں ہوگی تو اس کے مجموعہ سے تشکیل پانے والا معاشرہ زبوحالی سے کس طرح محفوظ رہ سکتا ہے ۔جب والدین کامقصد حیات حصول دولت ،آرام طلبی ،وقت گذاری اورعیش کرنابن جائے تووہ اپنی اولادکی کیاتربیت کریں گے اورجب تربیت اولادسے لاپرواہی کے اثرات سامنے آتے ہیں تو والدین ہرکس وناکس کے سامنے اپنی اولادکے بگڑنے کارونا روتے ہیں،عموماًدیکھا گیا ہے کہ بگڑتی ہوئی اولادکے والدین اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پرعائد کرکے خودکو بری الذمہ سمجھتے ہیں مگر یا درکھیئے اولاد کی تربیت صرف ماںیامحض باپ کی نہیں بلکہ دونوں کی ذمے داری ہے۔اﷲتعالیٰ نے ارشادفرمایا ۔ترجمہ ’’اے ایمان والو!اپنی جانواور اپنے گھروالوں کواس آگ سے بچاؤجس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اس پر سخت طاقتورفرشتے مقررہیں جو اﷲکاحکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہووہی کرتے ہیں ‘‘(سورہ تحریم)جب نبی کریم ﷺنے یہ آیت مبارکہ صحابہ کرام رضی اﷲتعالیٰ عنہم کے سامنے تلاوت فرمائی تو وہ عرض گذارہوئے !یارسول اﷲﷺہم اپنے اہل وعیال کوآتش جہنم سے کس طرح بچاسکتے ہیں ؟سرکارِمدینہ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا !تم اپنے اہل وعیال کو ان چیزوں کاحکم دوجو اﷲتعالیٰ کومحبوب ہیں اور ان کاموں سے روکو جو رب تعالیٰ کو ناپسند ہیں۔(الدرالمنشور)

اﷲتعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک اور جگہ ارشادفرمایا ۔ترجمہ ’’اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیتے رہواور خودبھی اس کے پابند رہو۔(سورہ طہ ٰ)سورہ نساء میں ارشادباری تعالیٰ ہے ترجمہ ’’اﷲتعالیٰ تم کو حکم کرتا ہے تمہاری اولادکے حق میں ،اس سلسلے میں حضورعلیہ السلام نے ارشادفرمایا مرے اپنے گھر کا رکھو الا ہے اوراس سے اس کی رعیت کے بارے میں بازپرس ہوگی اور عورت اپنے شوہر کے گھرکی رکھوالی ہے اور اس سے اسکی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔(بخاری )ایک اور حدیث میں حضور علیہ السلام نے ارشادفرمایا ،اپنی اولاد کوتین چیزیں سکھاؤ،اپنے نبی کریم (ﷺ)کی محبت اور ان کے اہل بیت کی محبت اور قرآن کی تلاوت (طبرانی ) قرآن کریم کی ان توجیہات اور ارشادنبویہ کی رہنمائی کی وجہ سے ہردورمیں تربیت کرنے والے حضرات نے بچوں کی تربیت کا خوب اہتمام کیااور ان کی تعلیم ورہنمائی اور کج روی کودورکرنے کا خیال رکھا،بلکہ والدین اور ذمہ دارلوگ اپنے بچوں وغیر ہ کی تعلیم وتربیت کے لیے ایسے اساتذہ ومعلمین کا انتخاب کیاکرتے تھے جو علم وادب کے لحاظ سے بلند وارفع ہوں،تاکہ وہ بچے کوصحیح عقیدہ واخلاق سکھائیں اور اسلام کی تعلیم کے فریضہ کوبحسن خوبی اداکرسکیں،اور اسی طرح بچوں کورسول اﷲﷺکے غزوات (جنگوں)اورصحابہ کرام ررضی اﷲتعالیٰ عنہم کی سیرت اور عظیم مسلمان قائدوں کی سوانح اور تاریخ میں رقمطرازبہادری کے عظیم کارناموں کی بھی تعلیم دی جائے،اور اس کا رازیہ ہے تاکہ بچہ پہلے زمانے کے لوگوں کی پیروی کرے ان کی جدوجہد وبہادری وجہادکے کارناموں میں ان کے نقش قدم پرچلے اور شعوراور عزت وافتخارکے اعتبارسے ان بچوں کااپنی تاریخ سے تعلق ہو۔حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو رسول اﷲﷺکے غزوات اور جنگیں اسی طرح یادکرایا کرتے تھے جس طرح انہیں قرآن کریم کی سورتیں یادکراتے تھے،امام غزالی نے ’’احیاء العلوم‘‘میں یہ وصیت کی ہے کہ بچے کو قرآن کریم اور احادیث نبویہ اور نیک لوگوں کے واقعات اور دینی احکام کی تعلیم دی جائے۔

علمائے تربیت واخلاق کے یہاں یہ مسلم امورمیں سے ہے کہ بچہ جب پیداہوتا ہے توفطرتاًتوحید اور ایمان باﷲپرپیداہوتا ہے اور اصل اعتبارسے اس میں طہارت وپاکیزگی اور برائیوں سے دوری ہوتی ہے اور اسکے بعداس کواگر گھر میں اچھی اور عمدہ تربیت اور معاشرہ میں اچھے نیک ساتھی اور صحیح اسلامی تعلیمی ماحول میسرآجائے تو وہ بلاشبہ راسخ الایمان ہوتاہے اور اعلیٰ اخلاق اور بہترین تربیت میں بڑھتاپلتاہے۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد وجود - پیر 23 فروری 2026

حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن وجود - پیر 23 فروری 2026

خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری وجود - اتوار 22 فروری 2026

یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم وجود - اتوار 22 فروری 2026

عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے وجود - هفته 21 فروری 2026

آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا وجود - هفته 21 فروری 2026

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف وجود - هفته 21 فروری 2026

میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف

مضامین
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت وجود منگل 24 فروری 2026
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت

آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠ وجود منگل 24 فروری 2026
آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠

سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ وجود منگل 24 فروری 2026
سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ

فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر وجود منگل 24 فروری 2026
فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر

کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں! وجود پیر 23 فروری 2026
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر