وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

23مارچ ۔۔۔ غزوۂ احد کا دن

جمعه 23 مارچ 2018 23مارچ ۔۔۔ غزوۂ احد کا دن

کم قارئین اس بات سے واقف ہوں گے کہ اسلامی تاریخ میں بھی 23مارچ کا ایک خاص اہمیت حاصل ہے،جس طرح ہماری قومی تاریخ میں یہ دن ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔یوم پاکستان کی وجہ سے اس دن کو سرکاری طور پر منایا جاتا ہے۔مشہور شخصیات کو ان کی خدمات کے اعتراف میں مختلف سول وفوجی ایوارڈ واعزازات دیے جاتے ہیں۔وطن سے محبت اور پاک دھرتی سے وفا کا مختلف انداز میں اظہار کیا جاتا ہے۔

دینی واسلامی نقطۂ نظر سے 23مارچ کی کیا اہمیت ہے؟آئیے!یہ جاننے کی کوشش کریں ۔یوں تو اسلامی تاریخ سے وابستہ ایام کو قمری تاریخوں کے مطابق منایا جاتا ہے،کیوں کہ ہمارے دین ومذہب نے ہمیں سن وسال کا جو حساب عطا کیا ہے،وہ قمری حساب ہے،نہ کہ شمسی،لیکن اس کے باوجود شمسی حساب بھی مسلم ممالک بالخصوص وطن عزیز میں نہ صرف رائج ہے،بلکہ زیادہ استعمال بھی اسی کا ہے،اس لیے ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ اسلام کی شان دار تاریخ سے وابستہ واقعات کو جس طرح قمری تاریخوں کے حساب سے جانا جاتا ہے اور ان کے تذکرے کیے جاتے ہیں ،اسی طرح شمسی تاریخوں کے مطابق بھی ان کے تذکرے کیے جائیں،تاکہ ہماری نوجوان نسل ،جوقمری تاریخ سے تقریباًنابلد ہے،ان واقعات کو شمسی تاریخوں کے حساب سے ہی سہی،اپنے درمیان دہرائے اور یاد رکھے۔

اس جذبے کے تحت راقم نے جب اسلامی تاریخ کے اہم واقعات کی شمسی تاریخوں کا جائزہ لیا،تو یہ دیکھ کر خوش گوار حیرت ہوئی کہ کفر واسلام کا دوسرا اور فیصلہ کن غزوہ ،جسے تاریخ جنگ احد کے نام سے جانتی ہے،بھی ۲۳ مارچ کو ہوا تھا۔یہ ۷ شوال بروز دو شنبہ ۳ / ہجری بمطابق23 مارچ 625 ء کا دن تھا،جب اُحد پہاڑی کے پاس وہ مشہور جنگ ہوئی ،جس کو ’’غزوۂ اُحد ‘‘کہتے ہیں ۔اس جنگ کی قیادت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمائی اور مدینہ منورہ میں اپناخلیفہ حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمایا۔ اسلام کا جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔جب کہ کفار کی کمانڈ ابوسفیان کے پاس تھی،جو اب تک اسلام کی دولت سے محروم تھے۔واضح رہے کہ ابوسفیان نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا اور حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہلائے۔

جنگ کی وجہ یہ تھی کہ کفارِ مکہ نے تین ہزار فوج کی جمعیت لے کر غزوۂ بدر کا بدلہ لینے کے لیے مدینہ پر حملہ کیا تھا ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی اطلاع سے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی ،تو مشورے کے بعد اللہ کے نام پر سات سو مسلمان مقابلے کے لیے نکلے ۔ اول اول منافقین کا سردارعبداللہ بن ابیّ بھی تین سو کی فوج لیکر مسلمانوں کے ساتھ چلا ، مگر پھر غداری کی اور راستے ہی سے واپس ہوگیا ۔

مسلمان بے سروسامانی میں تھے اور کافروں کے پاس سات سو زرہیں ، دو سو گھوڑے ، تین ہزار اونٹ تھے اور ان کے جوشِ جنگ کی یہ حالت تھی کہ چودہ عورتیں بھی جنگی ترانہ پڑھنے اور لڑنے والوں کو جوش دلانے کے لیے ساتھ آئی تھیں ۔ چناں چہ فوجیں ترتیب دی گئیں ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ پچاس آدمیوں کا اسلامی فوج کی پشت کی طرف اُحد پہاڑی پر بٹھادیا،تا کہ اس طرف سے حملہ نہ ہوسکے ۔آپ نے انھیں وصیت بھی فرمائی تھی کہ جنگ کا جو بھی نتیجہ اور میدان کا جو بھی نقشہ ہو،وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں۔ اول اول مسلمانوں کو فتح ہوئی اور غنیمت کا ما ل لینا بھی شروع کردیا ،جب گھاٹی پر مامور تیر اندازوں نے یہ صورت حال دیکھی تو ان میں اختلافِ رائے ہوگیا ۔بعض نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم حالتِ جنگ کے ساتھ خاص تھا۔اب جب فتح ہوچکی ،تو ہمیں بھی نئی خدمت یعنی مال غنیمت جمع کرنے میں حصہ لینا چاہیے ۔جب کہ امیر لشکر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ اور بعض دوسرے حضرات کا کہنا تھا کہ نہیں ،ہمیں یہی رہنا چاہیے ۔پہلے والے لوگوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی۔کفار نے جب گھاٹی خالی دیکھی تو پلٹ کر حملہ کردیا،امیر سمیت وہاں موجود صحابہ کو شہید کرکے میدان میں پہنچ گئے ۔

یہاں ایک تاریخی غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے،جو پید اتو اسلام دشمن مستشرقین نے کی تھی،لیکن بعض مسلمان مصنفین ودانش ور بھی اس غلطی کا شکار ہوگئے۔وہ یہ کہ قرآن مجید میں جہاں غزوۂ احد کی شکست کے اسباب بیان ہوئے ہیں،وہاں گھاٹی سے اترنے والے صحابہ کرامؓ کو ’’طالب دنیا‘‘کہا گیا ہے۔اس سے یہ حضرات اس غلط فہمی کا شکار ہوئے ،کہ ان گھاٹی سے اترنے والے حضرات نے یہ سمجھا ،کہ اگر ہم اب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اور اپنے ساتھیوں اور امیر کی رائے کے مطابق گھاٹی پر ہی رہے اور میدان میں جاکر مال غنیمت نہ سمیٹا،تو ہم مال غنیمت سے محروم رہ جائیں گے۔یہ کہہ کر ان مصنفین ودانش وروں نے گویا یہ مغالطہ دینے کی کوشش کی ،کہ ان صحابہ کرامؓ کی نظر میں (نعوذباللہ!)اللہ کے نبی اور امیر کے حکم کی وہ اہمیت نہیں تھی ،جو مال غنیمت کی تھی،اور جس سے محرومی کا انھیں ڈر تھا۔یہ بات قطعی درست نہیں ۔اسلام کے نظام جنگ کی ادنیٰ سی بھی سمجھ بوجھ رکھنے والے سے یہ بات مخفی نہیں ،کہ جنگ کے خاتمے کے بعد مال غنیمت امیر کے پاس جمع کیا جاتا ہے،جو تمام شرکائے جنگ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ایسا نہیں ہوتا،کہ جس کے ہاتھ جو چیز آئے وہ اس کی ۔بلکہ مال غنیمت میں سے ادنیٰ سے ادنیٰ چیز چھپانے پر بھی احادیث میں سخت ترین وعیدیں آئی ہیں۔اس سے صاف واضح ہوجاتا ہے ،کہ ان حضرات کا مطمح نظر مال غنیمت یا دنیا کا حصول نہیں تھا،بلکہ ان حضرات نے اپنی رائے میں یہ سمجھا کہ جنگ میں ان کے ذمے جو ایک خدمت لگائی گئی تھی،وہ فتح کی صورت میں مکمل ہو چکی ، اب نئی خدمت مال غنیمت جمع کرنے کی ہے،سو ان حضرات نے نیکی میں آگے بڑھنے کے جذبے سے اس نئی خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کردیا۔یہ ان کی اجتہادی غلطی تھی۔امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام صحابہ مجتہد ہیں،اورمجتہد کی رائے غلط ہو،تب بھی اسے اجر ہی ملتا ہے۔رہی یہ بات،کہ جب ایسا تھا،توقرآن میں اسے ’’طلب دنیا‘‘کیوں کہا گیا؟اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تربیت کا ایک انداز ہے۔انھیں سرزنش کی جارہی ہے،کہ نبی کے حکم اور امیرکی اطاعت کے خلاف تم نے اپنی طرف سے اطاعت ونیکی کا جو راستا تجویز کیا ہے،سمجھ لو،یہ نری دنیاداری ہے،کیوں کہ اس میں نبی اور امیرکی منشا شامل نہیں۔جیسے بڑی سے بڑی ریاضت بھی اس وقت بے ثمرہوجاتی ہے،جب اس میں نبی کا سنت طریقہ موجود نہ ہو۔

آمدم برسر مطلب!مسلمانوں کے لیے یہ افتاد غیر متوقع تھی ۔ان کے سنبھلنے تک جنگ کا نقشہ بدل گیا ۔فتح شکست میں تبدیل ہوئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوگئے ،آپ کا دندان مبارک شہید ہوگیا ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک کافر عبداللہ بن قمیہ نے موقع پاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر تلوار سے حملہ کردیا ،جس کی وجہ سے چہرۂ انور میں خَود کی دو کڑیاں گھس گئیں، جن کو ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اپنے دانتوں سے نکالا ، ان کے دو دانت بھی شہید ہوگئے ۔ کفار تیر برسا رہے تھے جن کو صحابہ کا ہجوم اپنے اوپر لے رہا تھا ۔ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ حملوں کے سامنے کمر کیے ہوئے تھے ۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بازوؤں پر تیروں اور تلواروں کے حملے لے رہے تھے ۔آپؓ کا بازو شل ہوگیا اور ستر زخم بدن مبارک پر آئے ۔ یہ سب کچھ ہورہا تھا مگر رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر اب بھی یہی تھا:اے اللہ !میری قوم کو ہدایت فرما ، وہ مجھے پہچانتے نہیں ۔

اس جنگ میں بائیس یا تیئیس کفار قتل ہوئے اور ستّرمسلمان شہید ہوئے، جن میں علم بردار حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، ان کے بعد جھنڈا حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے سنبھالا ۔


متعلقہ خبریں


ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس'آصف زرداری کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور وجود - پیر 08 مارچ 2021

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں نیب کی جانب سے دائر ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظورکر لی گئی جبکہ وکلاء کی ہڑتال کے باعث کیس کی سماعت 15مارچ تک ملتوی کردی گئی۔ پیر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد اعظم خان نے نیب ریفرنس کی سماعت کی تونیب پراسیکیوٹر اور نیب کے گواہان عدالت میں پیش ہوئے تاہم مقدمہ میں نامزد، ملزمان سابق صدر آصف علی زرداری، عبدالغنی مجید اور ندیم بھٹو عدالت پیش نہ ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری اور دیگر ک...

ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس'آصف زرداری کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

سربراہ براڈ شیٹ کمیشن کو سپریم کورٹ جج کے برابر تنخواہ و مراعات دینے کا فیصلہ وجود - پیر 08 مارچ 2021

براڈ شیٹ معاملے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید کو سپریم کورٹ کے جج کے برابر تنخواہ اور مراعات دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ۔ وفاقی حکومت نے براڈ شیٹ معاملے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید کو سپریم کورٹ کے جج کے برابر تنخواہ اور مراعات دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلے میں کابینہ ڈویژن نے سمری بھی وفاقی کابینہ کو بھجوا دی ہے ۔سمری میں کابینہ سے وفاقی کابینہ سے جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید کو سپریم کورٹ کے جج کے برابر تنخ...

سربراہ براڈ شیٹ کمیشن کو سپریم کورٹ جج کے برابر تنخواہ و مراعات دینے کا فیصلہ

شہباز شریف کی بیٹی، داماد کو اشتہاری قرار دینے کا تحریری حکم جاری وجود - پیر 08 مارچ 2021

لاہور کی احتساب عدالت نے شہباز شریف کی بیٹی رابعہ عمران اور داماد کو اشتہاری قرار دینے کا تحریری حکم جاری کر دیا۔احتساب عدالت کے جج امجد نذیر چوہدری نے تحریری حکم جاری کیا، حکم میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق رابعہ عمران اور عمران علی ایک ماہ میں عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے ، دونوں کے پیش نہ ہونے پر عدالت رابعہ عمران اور عمران علی کو اشتہاری قرار دیتی ہے ۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت تفتیشی افسر کو حکم دیتی ہے کہ دونوں کی جائیدادوں کی تفصیلات آئندہ سماعت پر جمع کرائی جائیں۔

شہباز شریف کی بیٹی، داماد کو اشتہاری قرار دینے کا تحریری حکم جاری

55 فیصد پاکستانیوں کی رائے، کورونانے معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ، گیلپ سروے وجود - پیر 08 مارچ 2021

گیلپ اینڈ گیلانی کے ایک حالیہ سروے کے مطابق55 فیصد پاکستانیوں کے مطابق کورونا وائرس نے پاکستان کی معیشت پر بہت گہرے منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ سروے میں ملک بھر سے شماریاتی طور پر منتخب خواتین و حضرات سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ ''برائے مہربانی بتائیں کہ آپ کے خیال میں کورونا وائرس سے پاکستان کی معیشت پر کس حد منفی اثرات پڑے ہیں۔ یعنی بہت زیادہ کچھ حد تک بہت کم یا بالکل نہیں؟ اس سوال کے جواب میں پچپن فیصد جوابدہندگان کے مطابق کورونا وائرس سے پاکستان کی معیشت پر بہت زیادہ منفی اث...

55 فیصد پاکستانیوں کی رائے، کورونانے معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ، گیلپ سروے

میگھن مرکل کا تہلکہ خیز انٹرویو، برطانوی شاہی خاندان میں ہلچل وجود - پیر 08 مارچ 2021

برطانوی شاہی خاندان کی بہو میگھن مرکل نے کہا ہے کہ یہ دعویٰ غلط ہے کہ شہزادی کیٹ میری وجہ سے غمزدہ ہوئی۔ درحقیقت میں نشانہ بنی، شہزادی کیٹ نے معافی مانگی۔ غلطی تسلیم کی اور مجھے پھول بھی پیش کئے۔ میگھن مرکل نے اوپرا ونفرے کو تہلکہ خیز انٹرویو دیتے ہوئے شاہی خاندان کے راز افشا کر دیئے اور کہا کہ انہیں شاہی خاندان کا حصہ بننے کے بعد خاموش کروا دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ انہیں شاہی خاندان کی جانب سے تحفظ نہیں ملا۔ ان کی اور ہیری کی شادی باضابطہ تقریب سے تین دن پہلے ہوچکی تھی۔ان...

میگھن مرکل کا تہلکہ خیز انٹرویو، برطانوی شاہی خاندان میں ہلچل

صوبہ ہلمند کی سابق خاتون پولیس سربراہ قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ، خاوند ہلاک وجود - پیر 08 مارچ 2021

افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند میں مسلح افراد کے حملے میں خواتین پولیس کی سابق سربراہ شدید زخمی ہوگئی ہیں اور ان کے خاوند ہلاک ہوگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گورنر ہلمند کے ترجمان عمرژواک نے کہا کہ نامعلوم مسلح افراد نے صوبائی دارالحکومت لشکرگاہ میں پولیس افسر جوڑے پر فائرنگ کی ۔صوبائی پولیس سربراہ کے دفتر سے تعلق رکھنے والے ایک افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلح افراد نے اس حملے میں خاتون پولیس افسر کو نشانہ بنایا تھا مگر گولیاں لگنے سے ان کے خاوند...

صوبہ ہلمند کی سابق خاتون پولیس سربراہ قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ، خاوند ہلاک

60 سال کے افراد کی کورونا ویکسینیشن کا 10 مارچ سے آغاز ہوگا وجود - پیر 08 مارچ 2021

وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے اعلان کیا ہے کہ 60 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی ویکسینیشن 10 مارچ سے شروع ہوگی۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ایک ٹوئٹ میں اسد عمر نے لکھا کہ بدھ 10 مارچ سے 60 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی ویکسینیشن شروع کی جائے گی اور یہ ویکسینینش عمر کو دیکھتے ہوئے کی جائے گی۔انہوں نے عمر کے لحاظ سے ویکسینینش کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رجسٹر ہونے والے معمر ترین شخص کو ...

60 سال کے افراد کی کورونا ویکسینیشن کا 10 مارچ سے آغاز ہوگا

پاکستان ، افغانستان نے باضابطہ مذاکرات کیلئے مشترکہ گروپ بنالیا، افغان صدارتی نمائندہ وجود - پیر 08 مارچ 2021

پاکستان کیلئے افغانستان کے صدر کے نمائندہ خصوصی عمر دائود زئی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان نے امن عمل پر باضابطہ مذاکرات کیلئے مشترکہ گروپ بنایا ہے جس کی سربراہی دونوں ممالک کے خصوصی نمائندے کر رہے ہیں ، انہوںنے پاکستانی فوجی ترجمان کے اس بیان کا خیر مقدم کیا جس میں انہوں نے کہا تھا پاکستان افغانستان میں طالبان کے دوبارہ کنٹرول کی حمایت نہیں کرتا اور یہ کہ افغانستان کا موجودہ ریاستی ڈھانچہ آسانی سے ختم نہیں کیا جاسکتا ،امید ہے افغان صدر اشرف غنی رمضان سے پہلے پاکستان کا...

پاکستان ، افغانستان نے باضابطہ مذاکرات کیلئے مشترکہ گروپ بنالیا، افغان صدارتی نمائندہ

امریکی ماہرین نے کورونا وائرس کی تشخیص کرنے والا ماسک تیار کر لیا وجود - پیر 08 مارچ 2021

ماہرین نے کورونا وائرس کی تشخیص کرنے والا ماسک تیار کر لیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کے ماہرین نے ایسے سنسر بنائے ہیں جو کسی بھی ماسک پر لگانے سے ماسک پہنے شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو سکے گی۔کورونا وائرس سے متاثرہ شخص جب سانس لے گا تو اس کے ماسک پر لگی سنسر چپ کا رنگ تبدیل ہوجائے گا۔ جس سے کورونا وائرس کی تصدیق ہو گی۔ماہرین نے ماسک پر رنگ بدلنے والی ایسی پتریاں لگائی ہیں جو کسی شخص کے سانس یا لعاب میں کووڈ 19 کا باعث بننے والے کر...

امریکی ماہرین نے کورونا وائرس کی تشخیص کرنے والا ماسک تیار کر لیا

افغانستان میں فوجی چیک پوسٹ پر حملہ، سات اہلکار ہلاک وجود - پیر 08 مارچ 2021

افغانستان کے صوبے بلخ میں فوجی پوسٹ پر مسلح افراد نے دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں سات اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ۔افغان میڈیا کے مطابق بلخ کے ضلع چمتل میں فوجی چیک پوسٹ پر طالبان نے حملہ کردیا، حملہ اتنا اچانک تھا کہ فوجی اہلکاروں کو سنبھلنے کا موقع نہیں مل سکا تاہم فوجی اہلکاروں کی جانب سے بھی مزاحمت دکھائی گئی۔دو طرفہ جھڑپ ایک گھنٹے تک جاری رہی جس کے دوران 7 افغان فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے جب کہ 10 سے زائد زخمی ہیں۔ حملہ آور کارروائی کے بعد سرکاری اسلحہ اور افغان فوج کی...

افغانستان میں فوجی چیک پوسٹ پر حملہ، سات اہلکار ہلاک

عالمی عدالت کی تحقیقات، اسرائیل مشکل سے دوچار وجود - پیر 08 مارچ 2021

بین الاقوامی فوج داری عدالت کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف صہیونی فوج کے وحشیانہ جنگی جرائم کی تحقیقات شروع ہونے کے بعد صہیونی ریاست کی لیڈر شپ مشکلات سے دوچار ہو چکی ہے ،اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق دی ہیگ میں قائم عالمی فوج داری عدالت کی طرف سے اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات شروع ہونے کے بعد وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور وزیر دفاع بینی گینٹز نے یورپی ممالک سے مدد کی درخواست کی ہے ،وزیر اعظم اور وزیر دفاع نے یورپی حکام کو مکتوب ارسال کیے ہیں جن میں ان سے دی ہیگ میں قائم عالمی ع...

عالمی عدالت کی تحقیقات، اسرائیل مشکل سے دوچار

بھارت ہمارے بھگوڑے پولیس والے واپس کردے ، میانمار وجود - پیر 08 مارچ 2021

میانمار نے بھارتی حکومت سے کہا ہے کہ وہ میانمار سے بھاگ کر بھارت پہنچنے والے آٹھ پولیس اہلکار واپس اس کے حوالے کردے ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ذرائع نے بتایاکہ ان سکیورٹی اہلکاروں کے بارے میں خیال ہے کہ انہوں نے فوجی جنتا کے احکامات ماننے سے انکار کردیا تھا۔ بھارتی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں میانمار کے پچاس کے قریب شہری بھارت میں پناہ لینے داخل ہوئے جبکہ مزید کم از کم 85 لوگ انتظار میں ہیں۔ میانمار میں اقتدار پر قبضے کے بعد فوجی حکومت عوامی مظاہرے کچلنے کی کوشش میں مصروف ہے اور...

بھارت ہمارے بھگوڑے پولیس والے واپس کردے ، میانمار