... loading ...
جمہوریہ مالدیپ ،چھوٹے بڑے تیرہ سو جزائر پر مشتمل بحرہند کے اندر ایک اسلامی ریاست ہے۔سمندر کے اندرپانچ سو دس(510)میل لمبا شمال سے جنوب اور اسی(80)میل چوڑا مشرق سے مغرب اس ملک کا کل رقبہ ہے۔ ’’مالی‘‘یہاں کا دارالحکومت ہے جو سری لنکا سے جنوب مغرب میں چار سو(400)میل کے فاصلے پر بنتا ہے ۔ دارالحکومت ہونے باعث حکومت کے مرکزی دفاتر،اعلی عدالتیں اور تعلیم کے بہترین ادارے یہاں موجود ہیں۔مالدیپ کے ان جزائر میں چھوٹے بڑے پہاڑی سلسلے بھی چلتے ہیںلیکن پھر بھی یہ جزائر سمندر کے برابر یا معمولی سے بلند ہیں اورکوئی جزیرہ بھی سطح سمندر سے چھ فٹ سے زیادہ اونچا نہیں ہے۔مون سون ہوائیں یہاں پر بارش کا سبب بنتی ہیں اور بارش کی سالانہ اوسط چوراسی(84) انچ تک ہی ہے جبکہ سالانہ اوسط درجہ حرارت 24 سے 30ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا ہے،گویا یہ ایک معتدل آب و ہوا کا بہترین قدرتی خطہ ہے۔بعض جزائر ریتلے ساحلوں پر مشتمل ہیں اور ان میں پام کے درخت اور صحرائی جھاڑیاں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔مچھلی یہاں کی اکثریتی خوراک ہے اورسمندری کچھوے بھی پکڑ کر کھائے جاتے ہیں لیکن زیادہ تر انکا تیل نکالا جاتا ہے جو یہاں کی بیماریوں میں روایتی طور پر بطور علاج کے استعمال کیا جاتا ہے۔ 2005 کے مطابق یہاں کی آبادی تین لاکھ کی تعداد کو چھورہی تھی۔
ایک اندازے کے مطابق پانچ سوسال قبل مسیح میں بدھ مذہب کے ماننے والے یہاں کے اولین باشندے تھے جنہوں نے ان جزائر کو سب سے پہلے انسانی بستیوں سے آباد کیا۔’’سنہالی‘‘اور ’’دراوڑی‘‘ قوم کے یہ لوگ سری لنکااور جنوبی ہندوستان سے یہاں وارد ہوئے تھے۔1153ء میں یہاں اسلام کا تعارف ہوااور مسلمانوں کے مشہور سیاح ’’ابن بطوطہ‘‘ نے 1340ء کے دوران یہاں کا سفر کیا اور اپنے سفر نامے میں ان جزائر کے حالات تفصیل سے لکھے ہیں،ابن بطوطہ چونکہ خود یہاں آیا اور کافی عرصہ تک یہاں پر مقیم بھی رہا اس لیے اسکی تحریریں اس علاقہ کے بارے میں اصل اور حقیقی ذریعہ تحقیق کی حیثیت رکھتی ہیں۔۔سولھویں صدی کے وسط میں یہاں پرتگالی بھی آن پہنچے ،سترہویں صدی میں سری لنکاپر قابض ڈچ حکمرانوں نے یہاں پر بھی حکومت کے جھولے لینے شرع کر دیے لیکن 1796میں ایک یورپی گروہ تاج برطانیاکے نام سے یہاں کی دولت پر نظر رکھنے پہنچ گیا اور انہوں نے سری لنکا پر قبضہ جماکر یہاں پر بھی اپنی افواج اتار دیں۔ 1932 تک جزائر مالدیپ کو جمہوریہ کے قریب تر لاکر برطانوی حکمرانوں نے بہت کچھ اختیارات مقامی حکمران خاندان کو منتقل کر دیے۔1953میں مملکت کوباقائدہ جمہوریہ قرار دے دیا گیا لیکن بادشاہی نظام پھر بھی قائم رہا ،یہاں تک کہ 1965میں مالدیپ نے برطانیا سے مکمل سیاسی آزادی حاصل کر لی اور 1968میں خاندانی بادشاہت کا بھی اختتام کر دیاگیا اور ملک کے عوام مکمل طور پر جمہورہت کی چھتری تلے آگئے۔29مارچ 1976تک برطانوی افواج یہاں رہیں اور اس اسی سال انہوں نے اس ملک کی سرزمین کو خیرآباد کہ دیا،چنانچہ یہ دن مالدیپ میں آزادی کے دن کی حیثیت سے منایا جاتا ہے۔
جزائر کی کثرت کی وجہ سے مالدیپ میں کوئی ایک قوم آباد نہیں ہے بلکہ یہاں ملے جلے قبائل آباد ہیں۔’’داوی‘‘یہاں کی مقامی اورقومی زبان ہے اور یہی دفتری زبان بھی ہے ۔ ’’داوی‘‘ہندوستان کی زبانوں سے ملتی جلتی زبان ہے۔اردواور انگریزی بھی کہیں کہیں بولی اور تقریبا َ ہر جگہ سمجھی جاتی ہے۔مالدیپ اس لحاظ سے ایک بہترین ملک ثابت ہوا کہ انہوں نے انگریزکے ساتھ اسکی زبان کو بھی ملک بدر کر دیا۔اسلام یہاں کا سرکاری اور قومی مذہب ہے ۔ ملائیشیا ، مڈگاسٹر ، انڈونیشیااور عرب ممالک کے تاجروں سمیت مملکت چین کے تجار بھی کثرت سے اور صدیوں سے ان جزائر میں آناجانا کرتے رہے جن کے اثرات آج بھی یہاں نظر آتے ہیں۔یہاں کے باسی چھوٹے چھوٹے گائوں بناکر رہتے ہیںاسکی وجہ اس مملکت کی جغرافیائی صورت حال ہے صرف بیس ایسے جزائر ہیں جن میں ایک ہزار سے زائد کی آبادی قیام پزیر ہے ،باقی تمام جزائر اس سے بھی کم آبادی پرمشتمل ہیں۔جنوبی جزائر میں پھر بھی زیادہ آبادی ہے جبکہ شمالی جزائر تو خالی خالی نظر آتے ہیں۔جنوبی ایشیا میں ہونے کے باعث مالدیپ ’’سارک‘‘ تنظیم کا رکن ہے اور مسلمان ملک ہونے کی وجہ سے یہ ملک او آئی سی کا بھی رکن ہے۔
معاشی لحاظ سے دنیاکے غریب ترین ممالک میں مالدیپ کا شمار ہوتا ہے ۔ مچھلی،سیاحت اورکشتی سازی پر اس ملک کی کل معیشت کا دارو مدار ہے۔فی کس آمدن یہاں دنیامیں سب سے کم سطح پر ہے۔ آبادی کی اکثریت مچھلی پکڑ کر پیٹ پالتی ہے،تربوزاور کھوپرے چنتی ہے اور ٹوکریاں بناکر اپنا روزگارتلاش کرتی ہے۔جہاں کہیں سرسبزجزائر ہیں وہاں سبزیاں بھی کاشت کی جاتی ہیںلیکن ایسا بہت کم ہے،سمندر کا ساحل سبزیوں کی کاشت اور پھلوں کے باغات کی اجازت کم ہی دیتاہے۔خوراک کے لیے جملہ اجزازیادہ تر درآمد کیے جاتے ہیں جو آبادی کی ضروریات کو پوراکرتے ہیں۔مچھلی کی صنعت سے کم و بیش ایک چوتھائی آبادی وابسطہ ہے۔اللہ تعالی کی شان ہے کہ سمندر سے محروم ممالک کو صنعتوں اور زراعت کے ذریعے اپنارزق میسر آجاتاہے اور جہاں یہ دونوں ممکن نہیں وہاں سمندر اپنا سینہ رزق کی وسعتوں کے ساتھ کھول دیتاہے اور انسان محنت اور جستجوکے ذریعے سمندر کے دامن سے اپنا رزق جھولیوں میں بھرلاتاہے۔دوسرے ممالک سے آئے ہوئے بڑے بڑے اداروں کے نمائندے اچھی اور مزیدار مچھلی کی نسلیں اچھے داموں یہاں سے خرید لیتے ہیں اور انہیں کھانے کے قابل بنانے کے لیے اپنے اپنے ممالک میں لے جاتے ہیں۔یہ تجارت یہاں کے لوگوں کے لیے اور حکومت کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوتی ہے اور قوم کو بڑے پیمانے پرزرمبادلہ بھی میسرآجاتاہے جس سے وہ اپنی ضروررت کی دیگر اشیا دوسرے ممالک سے خرید نے کے قابل ہو جاتے ہیں۔امریکا،سری لنکااور سنگاپور اس ملک کے تجارتی بھائیوال ہیں۔سردیوں کے ایام میں ’’مالی ‘‘کے ہوٹل سیاحوں سے بھر جاتے ہیں،یہ سیاح دوسرے ممالک سے آتے ہیں اور ساحلی مقام پر اچھے دن گزار کر مقامی لوگوں کی بیرونی کرنسی میں خدمت کرجاتے ہیں۔ہاتھوں سے بنائی جانے والی چیزیں یہاں کی بہت بڑی انڈسٹری ہے جس کی کھپت ملک میں ہی پوری ہوجاتی ہے۔’’مالدیپ‘‘چونکہ جزائر پر مشتمل ہے اس لیے کشتیاں ہی یہاں کے واحدذرائع نقل و حمل ہیں۔ملک کے اندر اور قریبی ممالک میں جانے کے لیے چھوٹے بڑے بحری جہازاستعمال ہوتے ہیں جبکہ ’’مالی‘‘کابین الاقوامی ہوائی اڈہ دوردراز کے ممالک کے لیے ہوائی خدمت فراہم کرتاہے اور ایک قومی ہوائی سروس بھی ہے جو دوسرے ممالک کے مسافروں کو اپنے ہوائی جہازوں میں لاد کر لاتی اور لے جاتی ہے۔
’’صدر‘‘ یہاں پر مملکت کا سربراہ ہوتاہے جسے شہریوں کی ایک کونسل’’مجلس‘‘نامزد کرتی ہے۔مامزد شدہ صدر قوم سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرتا ہے اور پانچ سالوں کے لیے کئی بار منتخب ہو سکتا ہے۔ ’’مجلس‘‘ کو پانچ سالوں کے لیے قوم منتخب کرتی ہے جس میں بیالیس اراکین ہوتے ہیں،دواراکین دارالحکومت سے لیے جاتے ہیں اور بیس بیس جزائر پر مشتمل ایک ایک یونٹ سے بھی ایک ایک نمائندہ لیاجاتا ہے ،کہیں جزائر کی تعداد بڑھ بھی جاتی ہے اور یہ آبادی پر منحصر ہوتاہے۔آٹھ اراکین کو صدر کی طرف سے نامزد کیاجاتاہے۔مجلس ایک طرح سے قومی اسمبلی ہوتی ہے اور یہ ملک کا واحد قانون ساز ادارہ ہے۔ججوں کی تقرری صدر مملکت کرتا ہے اور ججز اس بات کے پابند ہوتے ہیں کہ اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے کریں گے۔مالدیپ اس لحاظ سے خوش قسمت ملک ثابت ہوا ہے کہ اس نے انگریزکی زبان کے ساتھ ساتھ اسکے قانون کو بھی ملک بدر کر دیااور اسکی جگہ قرا?ن سنت کے قوانین کو مملکت میں رائج کیا۔
صحت کے معاملے میں مالدیپ کے لوگ اپنے روایتی طرز علاج پر یقین رکھتے ہیں۔اسپتال اگرچہ موجود ہیں لیکن وہاں مرد حضرات ہی جاتے ہیں اور خواتین بہت کم جاتی ہیں۔صدیوں کے آزمودہ نسخے وہاں بہت حد تک کامیاب ہیں اور لوگ اس سے شفایاب بھی ہوجاتے ہیں۔اوسط عمر اڑسٹھ (68) سال ہے۔تین طرح کی تعلیم دی جاتی ہے ،مکتب اسکولزجن میں قرآن مجید کی تعلیم دی جاتی ہے ،مقامی زبان کے اسکولز جن میں بنیادی تعلیم دی جاتی ہے اور انگریزی اسکولز جن کا نصاب غیر ملکی زبان پر مشتمل ہوتاہے۔اعلی تعلیم کے لیے طلبہ کو ملک سے باہر کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ملک میں شرح خواندگی 96%سے بھی زائد ہے۔معاشی لحاظ سے دنیاکا سب سے غریب ملک لیکن شرح خواندگی امیر ترین ملکوں کے برابر ہے۔ماضی قریب دسمبر2004میں یہاں پر سونامی نامی سمندری طوفان نے بے پناہ تباہی پھیلا دی تھی،مالدیپ کا دارالحکومت مالی بھی اس طوفان کابدترین شکار ہوا اور بہت سی جانوں کے ساتھ ساتھ بے شمار املاک بھی تباہی وبربادی کلا نشان بن گئیں۔
پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...
بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...
سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...
وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...
ایک وفاقی وزیر نے آگ بجھانے کے بجائے اسے مزید بھڑکایا، وہ وزیر اب تک معافی مانگنے کیلئے بھی تیار نہیں، کچھ وزیر ایسے مشورے دیتے ہیں کام میں مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں وزیراعظم جس نیت کے ساتھ اتحادیوں اور اپوزیشن کو انگیج کرتے ہیں اسے سراہتا ہوں، چاہتا ہوں وزیراعظم کامیاب ہوں تو صو...
عوامی ایکشن کمیٹی نے مظفرآباد کی طرف آج کا مارچ مؤخر کر دیا ، کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے،حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار رہی تو میں ثالثی نہیں کرواؤں گا عوامی ایکشن کمیٹی سے بات چیت ہونی چاہیے،خواجہ آصف کے اشتعال انگیزبیانات نے آگ بھڑکائی، حکومت کو کمی...
پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں امریکا اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہیں گی پاکستانیوں کی بازیابی کیلئے صومالیہ کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں،طاہر حسین اندرابی ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ مختلف ملکوں نے خطے میں قیامِ امن کیلئے کردار ادا کر...
ہلاک دہشتگردوں میں خلیل الرحمان، نعیم الدین کفایت اللہ شامل ہیں، حکام دہشت گردوں سے 6 کلاشنکوف، 3 دستی بم برآمد، فرار ساتھیوں کی تلاش جاری لوئر دیر کے علاقے برچڑئی تالاش میں پولیس اور خوارج کے مابین جھڑپ کے دوران 6 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق برچڑی پہاڑی میں دہشت گرد...
مودی سرکارکی بدترین خارجہ پالیسی، سنجیدہ سفارت کاری سوشل میڈیاپر تماشا بن گئی ناقص پالیسیوں کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار بھارت کا بائیکاٹ کر رہے ہیں،رپورٹ مودی کی عالمی سطح پر موجودگی کے باوجود بھارت کے سفارتی تعلقات کمزور ہونے لگے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بی جے پی کے کٹ...
دھماکا اس وقت پیش آیا جب مارچ میں ایرانی حملے کے بعد بند کی گئی تنصیبات کو دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا،دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی اس کا اثر مرکزی دوحا تک محسوس کیا گیا، وزیر توانائیقطر ہمارے 13 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن کا تعلق بھارت، پاکستان سے ہے، 66 افراد زخمی ہوئے ،راس...
کلائمٹ سپورٹ لیوی میں 50فیصد اضافہ ،عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی قیمتوں کا ریلیف عوام کو منتقل کرنے میں پٹرولیم لیوی بڑی رکاوٹ بن گئی،مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ایران امریکا جنگ بندی کے بعدپیٹرول 299روپے 58پیسے فی لیٹرمقرر،نئے بجٹ میں لیوی کا ہدف بڑھا کر پیٹرولیم قیمتوںکی مد می...