وجود

... loading ...

وجود

ملتان سلطانزکی شاندارکارکردگی کوگہن لگ گیا

جمعرات 15 مارچ 2018 ملتان سلطانزکی شاندارکارکردگی کوگہن لگ گیا

پاکستان سپر لیگ کے تیسرے سیزن کے سنسنی خیزمرحلے میں داخل ہوچکے ہیں ‘یوں توتمام ٹیمیں ہی اس ٹورنامنٹ میں شاندارنظرآئیں لیکن لاہورقلندرنے پچھلے دونوں سیزن کی طرح اس باربھی اپنے مداحو ںکومایوس کیالیکن اپنے آخری دومیچزمیں لگاتارجیت نے یقیناً لاہور قلندرکے مداحوں کوضرورنہال کیاہوگالیکن ان کی یہ خوشی اس لحاظ سے عارضی ہے کہ اگرلاہورقلندراپنی کارکردگی کاتسلسل جاری رکھتے ہوئے اگلامیچ جیت بھی لے توبھی اس کی پلے آف مرحلے تک رسائی ناممکن ہے۔ ٹورنامنٹ میں اگردیگرٹیموں کی کارکردگی کاجائز ہ لیاجائے توماضی میں شانداررہنے والی اسلا م آبادیونائیٹڈ اورکوئٹہ گلیڈیٹراس باربھی پوائنٹ ٹیبل پرنمبرایک اوردوپوزیشن پرقابض ہیں ۔ کراچی کنگزبھی اب تک اچھاکھیلی ہے اورپوائنٹ ٹیبل پراس کانمبرتیسراہے اورپلے آف مرحلے میں رسائی کے لیے اسے باقی ماندہ دومیچزمیں سے کسی ایک میں لازمی فتح درکارہے ۔ رہی بات ملتان سلطانزکی توبلاشبہ ٹورنامنٹ میں شامل ہونے والی نئی ٹیم ہونے کے باوجوداس کی ابتدادھماکے داررہی لیکن آخری مراحل میں وہ اپنی کارکردگی کاتسلسل برقرارنہ رکھ سکی اورآخری لیگ میچ میں اسلام آبادیونائیٹڈ کے مقابلے میں چاروں شانے چت ہوگئی ۔

یہاں ملتان سلطانزکی اب تک کی کارکردگی کاجائزہ پیش کیاجارہاہے ۔سیزن کے افتتاحی مقابلے میں ہی ملتان نے دفاعی چیمپیئن کے چھکے چھڑا دیے۔ 7 وکٹوں کی شاندار کامیابی ابھی ذہنوں پر حاوی ہی تھی کہ ملتان نے لاہور قلندرز کے خلاف بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں میں جاندار کارکردگی بھی دکھا ڈالی اور اس بار پورے 43 رنز سے مقابلہ جیتا۔

2 بھاری فتوحات کے بعد ملتان کی ٹیم ثابت کر رہی تھی کہ وہ مخالف ٹیموں کے لیے تر نوالہ ثابت نہیں ہوگی۔ لگ بھی ایساہی رہا تھا کہ قسمت بھی سلطانوں کے ساتھ ہے اور کارکردگی تو دیکھیں، ابتدائی 6 مقابلوں میں صرف ایک شکست اور 9 پوائنٹس کے ساتھ سب سے نمایاں۔لیکن اچانک اس کی کارکردگی میں زوال آناشروع ہوا پوائنٹس ٹیبل پر سب سے اوپر رہنے والی ملتان سلطانز بالآخر گرتے گرتے یہاں پر آ پہنچی ہے کہ اب اس کے اگلے مرحلے تک جانے کا تمام تر انحصار دوسرے مقابلوں کے نتائج پر ہے۔

پہلے ملتان نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ہاتھوں ایک سنسنی خیز مقابلے میں شکست کھائی کہ جہاں نوجوان حسان خان نے آخری اوور میں چھکا لگا کر کوئٹہ کو کامیابی دلائی۔بس یہی مقابلہ تھا جس کے بعد ملتان کے اوسان خطا ہوگئے۔ یہاں تک کہ اْس کو اگلے مقابلے میں ٹورنامنٹ کی مسلسل شکست کھانے والی ٹیم لاہور قلندرز کے خلاف بھی شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ ان 2 میچز سے ملنے والے زخموں پر، کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف شکستوں نے خوب نمک چھڑکا اور یوں مسلسل 4 ناکامیوں کے ساتھ ملتان اب دعاؤں کے آسرے پر ہے۔

شائقین کوحیرت اس بات پرہے کہ آخر 2 دن میں ایسا کیا ماجرا ہوگیا کہ ملتان کی ٹیم اِس حال کو پہنچ گئی؟ درحقیقت کامیابی خامیوں کو چھپا دیتی ہے اور ناکامی ہر چھوٹا موٹا عیب نمایاں کر دیتی ہے۔ اس لیے ناکامی رحمت بھی ہے لیکن ہے یہ کڑوا گھونٹ، جسے پینا بڑا مشکل کام ہے۔ اب تو حالات ملتان سلطانز کے قابو سے بھی باہر ہوچکے ہیں۔ انہیں انتظار کرنا ہے پشاور زلمی اور کراچی کنگز کے باقی 2، 2 میچز کا، کیونکہ اب یہی مقابلے بتائیں گے کہ پلے ۔ آف میں کون کون سی ٹیمیں پہنچیں گی؟

بہر حال ، ملتان کے زوال کی وجوہات پر غور کرتے ہیں۔ سب سے پہلی وجہ جس کی طرف بہت کم دھیان دیا گیا، اور وہ یہ تھی کہ پہلے مقابلے سے لے کر آخری میچ تک ملتان نے ٹیم میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں کی بلکہ تمام ہی اہم کھلاڑیوں کو سارے میچز کھلائے۔ کمار سنگاکارا، کپتان شعیب ملک، کیرون پولارڈ، عمران طاہر، سہیل تنویر، صہیب مقصود اور احمد شہزاد یہاں تک کہ محمد عرفان تک کو بھی تمام 10 مقابلوں میں کھلایا گیا۔بلاشبہ یہ آٹھوں کھلاڑی بہت اہم ہیں لیکن یاد رکھیں کہ وسائل کا درست استعمال ہی مسلسل اور آخر تک فتوحات کا ضامن ہے۔ پھر ایسی لیگ میں تو مزید احتیاط کی ضرورت تھی کہ جہاں مسلسل 2 دنوں میں 2 میچز بھی کھیلے گئے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ چند کھلاڑیوں کو تو تمام میچز کھیلنا ہی پڑیں گے لیکن 8 کھلاڑیوں کی ہر مقابلے میں شرکت سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف 3 نشستوں پر معمولی تبدیلیاں کی گئیں۔

اس کے بعد تو نتیجہ یہی نکلے گا کیونکہ ابتدائی کامیابیوں کے بعد بیشتر کھلاڑی تھکاوٹ کا شکار ہوئے اور پھر مسلسل 4 میچز ہار گئے۔ محمد عرفان ہی کو دیکھ لیں، ابتدائی 4 مقابلوں میں انہوں نے 7 وکٹیں حاصل کیں اور کامیابی میں اہم کردار ادا کیا لیکن آخری 4 میچوں میں وکٹوں کی تعداد صرف ایک ہے۔ جب احمد شہزاد پے در پے ناکام ہو رہے تھے تب شان مسعود کو آزمانے کی ’غلطی‘ تک نہیں کی گئی۔ حالانکہ شان بہترین فارم کے ساتھ پی ایس ایل 3 میں آئے تھے۔ انہوں نے حال ہی میں ختم ہونے والے ریجنل ون ڈے کپ میں کئی کمال کی اننگز کھیلیں، جیسا کہ سیمی فائنل میں راولپنڈی کے خلاف 182 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز۔ ان کی آخری 5 اننگز سے اندازہ لگا لیں، 128 ناٹ آئوٹ، 90، 71، 182 ناٹ آئوٹ اور 51 لیکن اس کے باوجود انہیں ایک مقابلہ بھی نہیں کھلایا گیا۔

اْبھرتے ہوئے کھلاڑی کے طور پر ملتان نے پورے سیزن میں صرف ایک کھلاڑی کو موقع دیا، یعنی سیف بدر کو۔ جن کی صرف 4 مرتبہ بیٹنگ آئی، ان میں سے بھی 2 بار صفر پر آؤٹ ہوئے۔ ایک بار سیف کو گیند بھی تھمائی گئی، 2 اوورز پھینکے اور ایک وکٹ لی۔ اس کے علاوہ وہ صرف فیلڈ میں دوڑتے اور کیچز پکڑنے کی کوشش کرتے اور چھوڑتے ہوئے نظر آئے۔یہی نہیںغالباً ملتان سلطانز پورے سیزن کی واحد ٹیم ہوگی جو پورے سیزن میں صرف ایک اسپنر کے ساتھ کھیلی۔ عمران طاہر ڈرافٹ میں بھی ملتان کا پہلا انتخاب تھے اور وہی اْن کا آخری انتخاب بھی دکھائی دیے۔ ڈومیسٹک کرکٹ کا وسیع تجربہ رکھنے والے کاشف بھٹی کو ان کا ساتھ دینے کے لیے ایک بار بھی طلب نہیں کیا گیا۔ کچھ یہی حال باجوڑ ایجنسی کے محمد عرفان کا دکھائی دیا جنہیں ایک بار بھی اپنی لیگ اسپن باؤلنگ آزمانے نہیں دیا گیا۔

مسلسل 4 اور کل 5 شکستوں کے ساتھ اب ملتان کی تمام تر امیدیں آئندہ مقابلوں سے وابستہ ہیں۔ ملتانیوں کی دعائیں ہیں کہ آج جب کراچی کنگز اور پشاور زلمی کا مقابلہ ہو تو کراچی دفاعی چیمپیئن کو شکست دے۔ یوں نہ صرف کراچی خود پلے-آف مرحلے تک جائے بلکہ اپنے ساتھ ملتان کو بھی لے جائے۔ اس صورت میں پشاور زلمی اور لاہور قلندرز پہلے ہی مرحلے میں باہر ہوجائیں گے۔لیکن اگر ایسا نہیں ہوا، یعنی پشاور زلمی نے کراچی کو ہرا دیا تو پھر ملتان اور کراچی دونوں کو پشاور کے آخری میچ کا انتظار کرنا ہوگا کہ جہاں اْن کا مقابلہ لاہور قلندرز سے ہے۔ اگر پشاور زلمی یہ میچ بھی جیت گیا تو پھر راؤنڈ کے آخری مقابلے پر نگاہیں ہوں گی جہاں کراچی کنگز کو اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف لازمی کامیابی درکار ہوگی اور شکست ہوئی تو معاملہ نیٹ رن ریٹ پر چلا جائے گا۔

کراچی اور ملتان میں سے جس کا نیٹ رن ریٹ اچھا ہوگا وہ پلے-آف مرحلے میں جائے گا۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اب بھی ملتان سلطانز دوڑ سے باہر نہیں ہوئی، بس یہ ہے کہ اب وہ قسمت اپنے زورِ بازو سے نہیں بدل سکتی کیونکہ اْس کے حصے کے 10 میچز مکمل ہوچکے ہیں۔ اب جو ہوگا، وہ دوسرے کریں گے اور ملتان اْن کے رحم و کرم پر ہے۔

جہاں تک تعلق ہے کراچی کنگزکاتواس بار اس کی کارکردگی پہلے کھیلے گئے دوٹورنامنٹس کے مقابلے میں خاصی بہترہے اوراس کے کھلاڑی گرائونڈمیں جان مارتے ہوئے بھی نظرآرہے ہیں کسی طورحریف کے لیے ترنوالہ ثابت ہونے کوتیارنہیں ۔لیکن بائولنگ کے مقابلے میں بیٹنگ کسی حدتک کمزورضرورنظرآتی ہے ۔اب آئندہ چنددنوں میں پلے آف مرحلے میں پہنچنے والی ٹیموں کافیصلہ ہوجائے گا۔کراچی کے شائقین کوامیدہے کہ وہ پاکستان سپرلیگ لیگ کے نیشنل اسٹیڈیم میں ہونے والی تاریخی فائنل میں اپنی ٹیم کوکھیلتے ہوئے دیکھیں۔

羊挸*$€缀丠缂ʼ缈羀羃炀羊挸ð,&€缀丠缂ʼǤ普


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر