... loading ...
نومبر کے چوتھے جمعے کو امریکا میں بلیک فرائی ڈے کہا جاتا ہے۔ یا دوسرے لفظوں میںآپ اسے کالا جمعہ کہہ سکتے ہیں۔ کالا اس لیے کہ لوگ نصف شب ہی اسٹوروں کے سامنے قطار بنا کرکھڑے ہو جاتے ہیں اور اسٹور کھلنے کاانتظار کرنے لگتے ہیں تاکہ اپنی پسند کی چیزاس قیمت پر حاصل کرسکیں جو انہیں سال بھر دوبارہ شاید پھر اس قیمت پر نہ ملے۔ معاشی ماہرین بلیک فرائی ڈے یا کالے جمعے کی یہ توجیح پیش کرتے ہیں کہ یہ سال کا وہ دن ہے جب تاجروں کے کھاتے کالی سیاسی روشنائی سے لکھے جاتے ہیں۔ اکائونٹس کے شعبے میں، جب کاروباری کھاتے ہاتھ سے لکھنے کا رواج تھا (پاکستان اور اکثر ترقی پذیر ملکوں میں زیادہ تر کھاتے اب بھی منشی ہاتھ سے ہی لکھتے ہیں)، منافع کا اندراج کالی روشنائی سے جب کہ نقصان کو سرخ رنگ سے لکھا جاتا تھا۔ بلیک فرائی ڈے کی تاریخ کچھ زیادہ پرانی نہیں ہے۔ تاریخ دان اس کی کڑیاں 1924ء سے جوڑتے ہیں جب امریکا میں گھریلو ضرورت کی مصنوعات فروخت کرنے والی اسٹوروں کی ایک بڑی چین’’مے سی‘‘ نے تھینکس گوونگ کے موقع پر نیویارک میں ایک بڑی پریڈ کا ا?غاز کیاتھا۔ یہ پریڈ تب سے ہر سال بڑے جوش و خروش ہوتی ہے، جسے لاکھوں لوگ سڑکوں کے کنارے کھڑے ہوکر اور کروڑوں اپنے گھروں میں ٹیلی ویڑن پر دیکھتے ہیں۔ اسی دوران کسی موقع پر’’ مے سی‘‘نے پریڈ کا اگلے دن، یعنی جمعے پر بڑے پیمانے کی سیل کا اعلان کیا۔ اکثر اس سے متفق ہیں کہ یہی بلیک فرائی ڈے کا ا?غاز تھا اور پھر بھلا پیسہ کمانے کی دوڑ میں دوسرے اسٹور اور تاجر بھی کہاں پیچھے رہنے والے تھے، چنانچہ چند ہی برسوں میں تھینکس گوونگ کے بعد کا جمعہ امریکا میں ارزاں نرخوں پر چیزوں کی خریدو فروخت کا سب سے بڑا دن بن گیا۔
بلیک فرائی ڈے کو باضابطہ طور پر کرسمس کی خریداری کا نقطہ آغاز بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس دن کی لوٹ سیل کے بعد کرسمس کی روایتی سیل شروع ہو جاتی ہے جو کرسمس ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ کیونکہ اکثر لوگوں کو نئے سال کے تحفے تحائف کی خریداری بھی کرنی ہوتی ہے۔ سیل کا یہ سلسلہ یکم جنوری گذرنے پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کے بعد دکاندار ان بچی کچی چیزوں کو اونے پونے داموں نکالنے کی کوشش کرتے ہیں جنہیں وہ کرسمس اور سال نو کی سیل میں بیچ نہیں سکے تھے۔ جنوری گذرنے کے ساتھ ہی بازاروں اور مارکیٹوں کی رونقیں ماند پڑنے لگتی ہیں۔ اسٹوروں میں سیل کے دنوں میں بھرتی کیے جانے اضافی ملازموں کو فارغ کردیاجاتا ہے اور لوگ بھی اپنی خریداریوں کو سامنے رکھ کر جمع تفریق کرکے اآنے والے مہینوں میں بچت کے منصوبے بنانے لگے ہیں اور پھر گویا امریکا میں زندگی اپنے معمول پر ا?جاتی ہے۔ بلیک فرائی ڈے کے موقع پر اکثر اسٹور اپنے معمول کے وقت یعنی صبح نو بجے کی بجائے اس سے چار گھنٹے قبل پانچ بجے ہی کھل جاتے ہیں۔ بلکہ کئی اسٹور تو اس سے بھی پہلے اپنے دروازے صارفین کے لیے کھول دیتے ہیں۔ اکثر اسٹور اس موقع پر پہلے آنے والے کچھ گاہکوں کے لیے تحائف اور انعامات بھی رکھتے ہیں۔ کچھ اسٹور پہلے 10 یا 15 یا کچھ زیادہ گاہکوں کو الیکٹرانک کی مقبول چیزیں نصف قیمت پر یا بعض اوقات کوڑیوں کے مول دیتے ہیں۔ اور بعض مشہور برانڈ اپنی نئی مصنوعات بھی بلیک فرائی ڈے پر فروخت کے لیے پیش کرتے ہیں۔ بلیک فرائی ڈے کے یہی پہلو لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں اور وہ سردی اور موسم کی پروا کیے بغیر اسٹور کھلنے سے گھنٹوں پہلے قظاروں میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔
صارفین کے لیے بعض چیزوں میں اتنی کشش ہوتی ہے، کہ ان کی خرید کے لیے اسٹوروں کے سامنے دو دو تین تین دن پہلے قطاریں لگ جاتی ہیں۔ اس دوران چاہے بارش ہو یا برف باری یا بھلے سے طوفان ہی کیوں نہ آجائے۔ مجال ہے کہ قطار میں کھڑا کوئی شخص اپنی جگہ چھوڑے۔ ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لییوہ چھوٹے سائز کے خیمے ، برساتیاں، کھانے پینے اور ضرورت کی دوسری چیزیں اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ لمبے دنوں کی قطاروں میں کھڑے ہونے والے بالعموم اکیلے نہیں ہوتے بلکہ انہیں ضرورت کی چیزوں کی فراہمی اور دلجوئی کے لیے دوست یا خاندان کے دو تین افراد بھی ساتھ ہوتے ہیں۔ گویا یہ صرف خریداری ہی نہیں ہوتی ، ایک طرح کی مہم جوئی بھی ہوتی ہے۔ بلیک فرائی ڈے پر کچھ خریدنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوتا۔ طویل جہدوجہد کے بعد اسٹور میں داخل ہونیکیبعدبھی پریشانی کا دور ختم نہیں ہوتا، بلکہ صبر آزما لمحات اس کے بعد شروع ہوتے ہیں اور آپ کو پتا چلتا ہے کہ آپ کی پسندیدہ چیز کا سٹاک ختم ہوگیا ہے یا اگر وہ آپ کو مل بھی جائے تو اس کی قیمت چکانے کے لیے پھر ایک بڑی قطار آپ کی منتظر ہوتی ہے۔ چندبرسوں سے انٹرنیٹ بھی بلیک فرائی ڈے کی دوڑ میں شامل ہوگیا ہے۔ ایمیزان اور کئی بڑے اسٹور ویب پر محدود مقدار میں چند خاص مصنوعات فروخت کے لیے پیش کرتے ہیں۔یہ فروخت ٹھیک نصب شب شروع ہوتی ہے اور تعداد پوری ہونے پر سیل پر فروخت بند ہوجاتی ہے۔ اکثر لوگ گھنٹوں پہلے ان کی ویب سائٹ پر جاکر، مطلوبہ معلومات انٹر کرنے کے بعد بارہ بجنے کا انتظار کرنے لگتے ہیں تاکہ جیسے ہی گھڑی کی دونوں سوئیاں بارہ کے ہندسے باہم شیر و شکر ہوں، وہ کلک کردیں۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ ایک ساتھ ہزاروں افراد کلک کرتے ہیں،اور ان کی خوش قسمتی کا فیصلہ کرتاہے کمپنی کا کمپیوٹر، جس کے اندر دل ہوتا ہے نہ جذبات۔ بلیک فرائی ڈے کا سب سے اہم اور نمایاں پہلو، جو اآپ کو ہمارے ہاں شاید کم ہی دکھائی دے، یہ ہے کہ لوگ گھنٹوں بڑے سکون کے ساتھ اسٹور کے باہر قطار میں کھڑے رہتے ہیں۔ ان میں سے اکثر کو تو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی باری آنے تک یا تو مطلوبہ چیز ختم ہوجائے گی یا پھر وہ انہیں پہلے 10 یا 15 گاہکوں کی خصوصی رعایتی قیمت پر نہیں ملے گی، لیکن اس کے باوجود نہ تو دھکم پیل ہوتی ہے۔ نہ گریبان پکڑے جاتے ہیں، نہ گالی گلوچ اور دھینگامشتی ہوتی ہے ، حتیٰ کہ وہاں نظم وضبط کے لیے کوئی پولیس اہل کار بھی موجود نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسانظارہ ہے جس کی یا توآپ خواہش کرسکتے ہیں یا جسے صرف امریکا میں بلیک فرائی ڈے پر دیکھ سکتے ہیں۔
٪Ʃܨƨ崰ߚƧ싀Ʀ⡐ग़ʚ頀
دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا...
مریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ،پہلے مرحلے میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جبکہ دوسرے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی تیسرے میں 30 روزہ مذاکراتی دور میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک آبنائے ہرمز ک...
بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے ،شہباز شریف اسلام آباد میں معرکہ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔اسلا...
ایران میں قیمت 6 روپے فی لیٹر،بنگلہ دیش میں 288 روپے میں دستیاب سری لنکا 370 ،بھارت 302 ،چین میں360 روپے فی لیٹرمیں فروخت حکومت نے رواں ہفتے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحرا...
پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...
9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...
ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...
حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...
اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...
2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے، وزیر خیبر پختونخوا بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،خطاب وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاک...
یو اے ای سے پاکستان کے کسی خاص طبقے کو ڈی پورٹ نہیں کیا جارہا، وزارت داخلہ اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو یہ ملکی قوانین کے مطابق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خ...
بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...