نوازشریف بھی جوتاکلب کے ممبربن گئے ،تین سابق وزرائے اعظم کے ہم رکاب

سیاست وہ اہم پیشہ ہے جس کے فرائض کی انجام دہی کے دوران عدم برداشت کا پہلو بہت ضروری ہوتا ہے لیکن بعض اوقات عوام کی جانب سے عدم براداشت کے باعث سیاستدانوں کو جوتے کھانے پڑ جاتے ہیں۔ ان دنوں ملک میں وفاقی وزرائاور سینئر رہنماؤں پر جوتے اور سیاہی سے حملے کے واقعات سامنے آرہے ہیں لیکن یہ کوئی خاص بات نہیں اس سے قبل بھی پاکستان میں متعدد سیاست دانوں پو جوتے سے وار ہو چکے ہیں۔ اس حوالے سے تازہ ترین واقعہ جامعہ نعیمیہ میں اس وقت پیش آیاجب ایک شخص نے دوران تقریرسابق وزیراعظم میاں نوازشریف کوجوتادے مارا۔نوجوان کی اس حرکت پرتقریب میں بھگدڑمچ گئی تاہم ملزم کوگرفتارکرلیاگیا۔پولیس نے صرف جوتاپھنکنے والے ملزم کوہی گرفتارنہیں کیااس کے دوساتھیوں کوبھی گرفتارکیاہے دونوں ملزما ن کے خلاف پولیس نے اپنی مدعیت میں مقدمہ در ج کیاجنھیں عدالت نے چودہ روز ہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔مقدمہ تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں اے ایس آئی اکبر کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں 16ایم پی او،506اور 355کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

تینوں ملزمان منور حسین،عبد الغفور اور محمد ساجد کو گزشتہ روز ہتھکڑیاں لگا کر سخت سکیورٹی میں جوڈیشل مجسٹریٹ زرتاشہ بگٹی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے جامعہ نعیمیہ آمد پرنواز شریف پر جوتا پھینکا جس پر ملزمان کو موقع سے گرفتار کیا گیا۔ملزمان کے خلاف تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے ملزمان سے مزید تفتیش نہیں کرنی لہٰذا انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوایا جائے۔ جس پر عدالت نے تینوں ملزمان کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔ملزم کی پیشی کے وقت کینٹ کچہری لاہور میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔

سوال یہ پیداہوتا کہ خوداپنے خیال کے ملک ک ے مقبول ترین لیڈرنوازشریف پران کے اپنے حلقہ انتخاب میں قائم دارالعلوم جامعہ نعیمیہ میں جوتاکیوں پھینکاگیاتواس حوالے معلوم ہواہے کہ جامعہ نعیمیہ کے طلبا اور اساتذہ تقریب میں نواز شریف یا مریم نواز کی آمد کے خلاف تھے۔ جامعہ نعیمیہ کے کئی اساتذہ نے اسی وجہ سے تقریب میں شرکت بھی نہیں کی۔ ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف پر ایک سے زائد جوتے پھینکے گئے لیکن کئی جوتے اسٹیج تک پہنچ ہی نہیں سکے۔اطلاعات کے مطابق جامعہ کے اساتذہ اور طلبا کئی مرتبہ نعیمی صاحب کو کسی بھی تقریب میں نواز شریف یا مریم نواز کو مدعو کرنے سے متعلق منع کرچکے تھے اساتذہ اور طلبا ختم نبوتﷺ میں ترمیم پر نواز شریف کو ذمے دار سمجھتے ہیں۔ان کے منع کرنے کے باوجود مولانا راغب نعیمی نے نواز شریف کو دعوت دی۔ این اے 120 کے ضمنی الیکشن کے وقت بھی جب نواز شریف اور مریم نواز نے یہاں آنے کی کوشش کی تھی تب بھی طلبا کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا تھا جس کے بعد انہیں بلایا نہیں گیا تھا۔

میڈیا چینل ذرائع نے بتایا کہ جوتا پھینکنے کے بعد نواز شریف کے خلاف اور ختم نبوت ﷺ قانون کے حق میں نعرے بازی بھی کی گئی اس حوالے تین افرادکوگرفتاربھی کیاگیا ۔ کسی بھی شخص کے مدعی بننے پرآمادہ نہ ہونے کی وجہ سے پولیس نے خوداپنی مدعیت میں مقدمہ درج کیا۔

یہی نہیں اس واقعے سے ایک روزقبل جب وفاقی وزیرخارجہ خواجہ آصف بھی اپنے آبائی شہراورحلقہ انتخاب میں ورکرزکنونشن میں خطا ب کے لیے اسٹیج پرموجودتھے توایک شخص نے ان کے چہرے پرسیاہی پھینک دی جس سے خواجہ آصف کاچہرہ اورلباس سیاہ ہوگیا۔ اس حوالے سے سینئرصحافی اور اینکرپرسن حامد میر نے کہنا ہے کہ نوازشریف پرجوتا اورخواجہ آصف پرسیاہی پھینکنے والے دونوں تحریک لبیک کے ممبر ہیں، جوتا پھینکنے والے 4لڑکے ہیں جن میں ابھی تین پکڑے گئے ہیں ،یہ چاروں لڑکے 6سال پہلے اس مدرسے سے فارغ ہوچکے ہیں ،نوازشریف پرجوتا پھینکے جانے والا واقعہ قابل مذمت ہے۔انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جامعہ نعیمیہ میں ہرسال سالانہ تقریب ہوتی ہے۔میں بھی ہرسال وہاں جاتا ہوں۔لیکن مجھے پچھلے سال اندازہ ہوگیا تھا کہ کچھ ہونے والا ہے کیونکہ پچھلے سال نوازشریف کے ساتھ اسٹیج پرمیں بھی موجود تھا۔جب پچھلی صفوں میں ممتاز قادری کے حق میں نعرے لگنے شروع ہوگئے۔انہوں نے کہاکہ خواجہ آصف پرسیاسی پھینکنے والا اور جس نے آج نوازشریف پرجوتا پھینکا یہ 4لڑکے ہیں جن میں دو پکڑے گئے ہیں جبکہ 2ابھی نہیں پکڑے جاسکے۔

یہ چاروں لڑکے 6سال پہلے اس مدرسے سے فارغ ہوچکے ہیں ، اور لاہور کی ایک مسجد میں پڑھاتے بھی ہیں۔یہ دونوں مولوی خادم حسین کی مذہبی جماعت لے ممبر بھی ہیں۔جبکہ مولوی خادم حسین رضوی کاکہناہے کہ نوازشریف نے ختم نبوت قانون میں تبدیلی کروائی ہے۔

کچھ دن قبل وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال نارووال میں ہونے والے ورکرز کنونشن میں شریک تھے تواس دوران ایک شخص نے وفاقی وزیر پر جوتا پھینکا. جوتا ان کے ہاتھ پر لگایہ واقعہ اس وقت پیش آیا، جب وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اسٹیج پر پہنچے ہی تھے اس شخص نے جوتا اچھال دیا۔. جوتا پھینکنے والے نوجوان بلال حارث کو پولیس نے حراست میں لیا لیکن وزیر داخلہ کے کہنے پرنوجوا ن کورہا کر دیا گیا۔یہی نہیں چندروزقبل ایک تقریب کے دوران پرویزرشید پربھی جوتاپھینکاگیاتھا۔

جوتاکھانے والوں میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشیداحمد‘سندھ کے سابق وزیراعلی ارباب غلام رحیم پرسندھ اسمبلی میں جوتوں سے حملہ کیاگیا۔ اس کے علاوہ سابق صدرجنرل پرویزمشرف پربھی ایک انٹرویوکے دوران جوتااچھالا جاچکا ہے ۔سیاستدانوں پرجوتوں سے حملہ ہوناپاکستان میں نئی با ت ضرورہوسکتی ہے لیکن دنیابھرمیں ایسے واقعات عالمی منظرپرنظرآتے رہے ہیں ۔ جوتاپھینکے جانے کاسب سے زیادہ مشہورواقعہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کا ہے جن پرر 2008 میں عراق میں ایک تقریب کے دوران صحافی کی جانب سے جوتا پھینکا گیا جس سے وہ بال بال بچ گئے تھے لیکن وہ صحافی جس کانام منتظرالزیدی تھا دنیابھرمیں اپنی جرات کے باعث شہرت پاگیا۔ اس واقعے کواتنی پذیرائی ملی کہ سیاسی محفلوں میں دنوں تک اس واقعے کاچرچارہااورویڈیوگیم بھی بنادیاگیا۔

سابق آسٹریلوی وزیر اعظم جان ہاروڈ پر اس وقت ایک شخص نے ان کی جانب جوتا اچھالا جب وہ نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے۔ سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن پر لاس ایگاس میں تقریب کے دوران ایک خاتون نے جوتے سے حملہ کیا تھا۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈکمیرون اورٹونی بلیئربھی عوام کے ہاتھوں جوتوں کانشانہ بن چکے ۔ یورپی سیاستدانوں کے علاوہ بھارتی سیاست دان بھی جوتوں کے حملوں کی زدمیں رہے ۔سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ ‘سابق بھارتی وزیرداخلہ چدم برم ‘عا م آدمی پارٹی کے سربراہ اروندکیجروال بھی مخالفین کے ہاتھوں جوتے کھاچکے ہیں ۔ بلکہ عام آدمی پارٹی کے سربراہ کویہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ ان پرایک سے زائد بارجوتوں سے حملے کے علاو ہ ان پربھرے مجمے میں تھپڑوں کی بارش بھی کی جاچکی ہے ۔مقبوضہ کشمیرکے سابق کٹھ پتلی وزیراعلی عمرعبداللہ پربھی جوتوںکے وارہوچکے ہیں ۔

Electrolux