سپریم کورٹ اور محکمہ صحت تکلیف کیوں؟

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے عوام کے مفاد عامہ کے مسائل پراز خود نوٹس اندھیروں میں اجالا ہے ظاہر ہے سیاسی قیادت نے اپنی ذمہ داریوں کوایمان داری سے ادا کیاہوتا ۔قومی اداروں کوعوام کے بجائے اپنے لئے استعمال نہیں کیا ہوتا ،اورقومی اداروں کوچلانے کے لئے اقرباء پروری اورسفارش کے بجائے میرٹ کے مطابق چلانے کی کوششیں کی جاتی توعدالت کے قانونی اورآئینی اقدامات کو’’عدالتی مارشل لاء ‘‘جیسی اصطلاح استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی ججز اورجنرل کے احتساب کی بات کرنے والے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے سیاست جیسے خدمت کے کام کو تجارت بنایا اورکرپشن، کمیشن کے چکر میں قومی اورسرکاری اداروں کوتباہی کے دہانے پرپہنچادیا۔ آج جب8ویں آئینی ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ صوبوں کے زیرانتظام آچکاہے تمام صوبے صحت کے شعبے میں اپنی پانچ سالہ کارکردگی کا میزانیہ پیش کریں تومجموعی طورپر اس کا جواب یہ ہے کہ سرکاری اسپتالوں اورصحت کے اداروں کی جاری صورتحال ذرا سی بھی بہتر ہونے کے بجائے مزیدبد سے بدترہوئی ہے اورصدرآصف علی زرداری کے دورمیں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی اصلاحات کی آڑمیں اس خود مختار قومی ادارے کا جس طرح سے حلیہ بگاڑاگیا اورنجی میڈیکل کالجز کا جنگل قائم کرکے پروفیسر مسعود حمید اورڈاکٹر عاصم حسین نے جواربوں روپے کی کرپشن کی اسے پوچھنے کی نواز حکومت کوبھی توفیق نہیں ہوئی بلکہ خو دایف آئی اے کی جانب سے پی ایم ڈی سی میں ہونے والی تحقیقات کووفاقی وزیر مملکت سارہ افضل تارڑنے سردخانے کی نذرکروادیا لیکن ڈاکٹرعاصم حسین تواحتساب کے کٹہرے میں ہیں لیکن پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت احتساب کے عمل کی تکمیل سے پہلے ہی ڈاکٹر عاصم حسین کومسیحائے قوم تسلیم کرانے کے لئے سرگرم ہے اورپروفیسر مسعود حمید احتساب سے ماوراہیں ۔ اس کے باوجود چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے محکمہ صحت کے اسپتالوں اورطبی اداروں کی تباہی کے بارے میں از خود نوٹس لینا کیا غیرقانونی اقدام تصور ہوگا۔ جبکہ آئین کی پاسداری کا حلف اٹھانے والوں نے آئین کوہی روند کرملک میں مغلیہ سلطنت کا ماحول بنانے کا بیڑہ اٹھالیا ہو توجمہوریت اورآئین کوتحفظ دینے کے لئے عدالت اگر کچھ کررہی ہے تواس کی آئینی اورقانونی حیثیت اور اقدامات کوچیلنج کیاجارہا ہے جوکھلم کھلا بغاوت اور غداری کے دائرے میں یہ عمل آتاہے لوگوں کو بنیادی تعلیم اورصحت کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے اورجب حکومت یہ ذمہ داری ادا نہ کرے بلکہ آج تک کسی بھی حکومت کی ترجیحات میں صحت اورتعلیم جیسے شعبے سرے سے نہیں رہے جبکہ ابھی سپریم کورٹ صحت کے حوالے سے صرف دوصوبوں پنجاب اورسندھ تک پہنچ سکاہے خیبرپختون خواہ اور بلوچستان ابھی باقی ہیں توپہلے توصوبے صحت کی سہولیات عوام کووعدوں کے مطابق فراہم نہیں کررہے اب ان کی فراہمی کیلئے عدالت عظمیٰ نے اپنا کردارادا کرنا شرو ع کیاہے توصحت کے چوروں نے خود چورچور کا شور مچاکرعوام کے سامنے اپنے آپ کو مزید بے نقاب کرلیاہے۔

Electrolux